Jump to content
News Ticker
  • Welcome to Fundayforum.com
  • Please Register Your ID For More Access.

Search the Community

Showing results for tags 'نہیں'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 25 results

  1. نہیں خالی رقیب تیرا کوئی بھی وار گیا میں وہ شخص ہوں جو کائنات ہار گیا فصل گل میری زیست کی مرجھاگئی بس خزاں ہے جب سے موسم بہار گیا اک میں ہی نا بن سکا اس کا کبھی وہ میرا ہی رہا جس سمت میرا یار گیا سمجھ پایانہ میری پیار کی سچائی وہ اسے بتلانے میں دنیا سے میں بیمار گیا چین آیا نا مجھے بعد اسکے جانے کے اڑ گئی نیند میری میرا سب قرار گیا اے دنیا چھوڑ اب مجھے میرے حال پر مجھے تو چھوڑ میرا مالک و مختار گیا جڑوں سے کھود کے نکالا گیا ہے مجھکو چھڑایا مجھ سے پھر ہر ایک دوار گیا میری تو عید اسے دیکھنے سے ہوتی تھی بعد اسکے محرم کی طرح ہر تہوار گیا تباہی دیکھنے میری ایک شہر امڈ آیا بڑی ہی دور تک شاید میرا غبار گیا
  2. اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا مقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کا اب کوچ کرو یارو صحرا سے کہ سنتے ہیں صحرا میں اب آئندہ محمل نہیں آنے کا واعظ کو خرابے میں اک دعوت حق دی تھی میں جان رہا تھا وہ جاہل نہیں آنے کا بنیاد جہاں پہلے جو تھی وہی اب بھی ہے یوں حشر تو یاران یک دل نہیں آنے کا بت ہے کہ خدا ہے وہ مانا ہے نہ مانوں گا اس شوخ سے جب تک میں خود مل نہیں آنے کا گر دل کی یہ محفل ہے خرچہ بھی ہو پھر دل کا باہر سے تو سامان محفل نہیں آنے کا وہ ناف پیالے سے سرمست کرے ورنہ ہو کے میں کبھی اس کا قائل نہیں آنے کا
  3. لگتا تو یوں ہے جیسے سمجھتا نہیں ہے وہ معصوم جتنا لگتا ہے اتنا نہیں ہے وہ مجھ میں بسا ہوا بھی ہے وہ سر سے پیر تک اور کہہ رہا ہے یہ بھی کہ میرا نہیں ہے وہ کر دونگا موم باتوں میں سوز و گداز سے جذبات کی تپش سے مبرا نہیں ہے وہ واضح یہ کر چکا ہے یقیں دل کے وہم پر میرا ہے صرف اور کسی کا نہیں ہے وہ رہتا ہے اس کے ساتھ ہمیشہ مرا خیال تنہایوں میں رہ کے بھی تنہا نہیں ہے وہ ہوگا غلط بیان میں مجبوریوں کا ہاتھ حق بات ورنہ یہ ہے کہ جھوٹا نہیں ہے وہ ٹھہرا وہ پھول، بوسے لبوں کے ملے اسے پتوں کی طرح پیروں میں آیا نہیں ہے وہ مرنے کے بعد آیا ہے کرنے مرا علاج مانا کہ چارہ گر ہے. مسیحا نہیں ہے وہ جاوید رات دن ہے ترا انتظار اسے کہنے کو تیرے پیار کا بھوکا نہیں ہے وہ ڈاکٹر جاوید جمیل
  4. تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا لکھ نماز ، کروڑاں سجدے پھُوڑی اُتّے مَتھے بَھجدے ذکر جَلی وِچ تسبی رولی پر عیباں دی گنڈھ نہ کھولی منبر تے لمیاں تقریراں پاپی مَن دِیاں سو تفسیراں ڈھینچوں سِکھیا عقل دا کھوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا گھت مُصلّی، خیریں سَلّا چِلّے کیتے پڑھ پڑھ اللہ گلّاں دا کھڈکار نگلّا من ریہا جَھلّے دا جَھلّا عقل نے کِیتا کم اولّا اپنے سِر وِچ ماریا کھّلا پاپاں دے وِچ ہو گیا سوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا ویکھن والے ویکھ نہ سَکّے نظراں دِتّے سو سو دَھکّے کَن وچارے سُن سُن تَھکّے بولن والے ہوٹھ نہ اَکّے اَج تَن تیرتھ، کل تن مَکّے کِسے وی تھائیں مِلے نہ سکّے ٹیں ٹیں کردا فقہ دا طوطا !!... تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا
  5. رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے یہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خواب وہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے پھر دل میں تیری یاد کے ، منظر ھیں فروزاں ایسے میں کوئی ، دیکھنے والا بھی نہیں ھے ھمراہ بھی خواھش سے ، نہیں رھتا ھمارے اور بامِ رفاقت سے ، اُترتا بھی نہیں ھے اِس عمر کے صحرا سے ، تری یاد کا بادل ٹلتا بھی نہیں ، اور برستا بھی نہیں ھے نوشی گیلانی
  6. کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں صد شُکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں اگر حالات وہاں،دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچہء جاناں میں، کیا ایسے بھی حالات نہیں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا،وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے،اس جاں کی تو کوئی بات نہیں میدانِ وفا دربار نہیں ، یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں گر بازی عشق کی بازی ہے،جو چاہو لگا دو ڈر کیسا گرجیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں (فیض احمد فیض)
  7. ‎نگاہ پھیر کے،،،،،،،، عذرِ وصال کرتے ہیں ‎مجھے وہ الٹی چھری سے حلال کرتے ہیں ‎زبان قطع کرو،،،،،،،،، دل کو کیوں جلاتے ہو ‎اِسی سے شکوہ، اسی سے سوال کرتے ہیں ‎نہ دیکھی نبض، نہ پوچھا مزاج بھی تم نے ‎مریضِ غم کی،،، یونہی دیکھ بھال کرتے ہیں ‎میرے مزار کو وہ ٹھوکوں سے ٹھکرا کر ‎فلک سے کہتے ہیں یوں پائمال کرتے ہیں ‎پسِ فنا بھی،،،، میری روح کانپ جاتی ہے ‎وہ روتے روتے جو آنکھوں کو لال کرتے ہیں ‎اُدھر تو کوئی نہیں جس سے آپ ہیں مصروف ‎اِدھر کو دیکھیے،،،،،،، ہم عرض حال کرتے ہیں ‎یہی ہے فکر کہ ہاتھ آئے تازہ طرزِ ستم ‎یہ کیا خیال ہے،، وہ کیا خیال کرتے ہیں ‎وہاں فریب و دغا میں کمی کہاں توبہ ‎ہزار چال کی،، وہ ایک چال کرتے ہیں ‎نہیں ہے موت سے کم اک جہان کا چکر ‎جنابِ خضر،،،،، یونہی انتقال کرتے ہیں ‎چھری نکالی ہے مجھ پر عدو کی خاطر سے ‎پرائے واسطے،،،،،،،،،،، گردن حلال کرتے ہیں ‎یہاں یہ شوق، وہ نادان، مدعا باریک ‎انھیں جواب بتا کر،،، سوال کرتے ہیں ‎ہزار کام مزے کے ہیں داغ،،،، الفت میں ‎جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
  8. ﮨﺮ ﺷَﺨﺺ ﮐﯽ ﻗِﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒٌﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻣﻘﺪٌﺭ ﮐﺎ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﺟﺲ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻘﺪٌﺭ ﮐﺎ ﺗﻤﺎﺷﮧ ﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﺍﺏ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻗُﺮﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺍﻟُﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮬﻮﺍ ﻣﯿﮟ اس ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻓُﺮﺻﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ
  9. میں چاہنے والوں کو مخاطب نہیں کرتا اور ترک تعلق کی میں وضاحت نہیں کرتا میں اپنی جفاؤں پہ نادم نہیں ہوتا میں اپنی وفاؤں کی تجارت نہیں کرتا خوشبو کسی تشہیر محتاج نہیں ہوتی سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا احساس کی سولی پہ لٹک جاتا ہوں اکثر میں جبر مسلسل کی شکائیت نہیں کرتا میں عظمت انسان کا قائل تو ہوں محسن لیکن کبھی بندوں کی میں عبادت نہیں کرتا محسن نقوی
  10. وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتے اگر گمان میں انگار قبر آ جاتا پروین شاکر
  11. Zarnish Ali

    سفر تنہا نہیں کرتے

    سفر تنہا نہیں کرتے سنو ایسا نہیں کرتے جسے شفاف رکھنا ہو اُسے میلا نہیں کرتے تیری آنکھیں اجازت دیں تو ہم کیا نہیں کرتے بہت اُجڑے ہوئے گھر پر بہت سوچا نہیں کرتے سفر جس کا مقدر ہو اُسے روکا نہیں کرتے جو مل کر خود سے کھو جائے اسے رسوا نہیں کرتے یہ اُونچے پیڑ کیسے ہیں کہیں سایہ نہیں کرتے کبھی ہسنے سے ڈرتے ہیں کبھی رویا نہیں کرتے تیر آنکھوں کو پڑھتے ہیں تجھے دیکھا نہیں کرتے چلو تم راز ہو اپنا تمہیں افشا نہیں کرتے سحر سے پوچھ لو محسن ہم سویا نہیں کرتے محسن نقوی
  12. ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں بےاماں تھے، اماں کے تھے ہی نہیں ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر ہم تیری داستاں کے تھے ہی ںہیں ان کو آندھی میں ہی بکھرنا تھا بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں اب ہمارا مکان کس کا ہے؟ ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں ہو تیری خاکِ آستاں پہ سلام ہم تیرے آستاں کے تھے ہی نہیں ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں جون ایلیا
  13. اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا اس جسم کی میں جاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا تو آج میرے گھر میں جو مہماں ہے عید ہے تو گھر کا میزباں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کھولی تو ہے زبان مگر اس کی کیا بساط میں زہر کی دکاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کیا ایک کاروبار تھا وہ ربط جسم و جاں کوئی بھی رائیگاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کتنا جلا ہوا ہوں بس اب کیا بتاؤں میں عالم دھواں دھواں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا دیکھا تھا جب کہ پہلے پہل اس نے آئینہ اس وقت میں وہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا وہ اک جمال جلوہ فشاں ہے زمیں زمیں میں تا بہ آسماں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا میں نے بس اک نگاہ میں طے کر لیا تجھے تو رنگ بیکراں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا گم ہو کے جان تو مری آغوش ذات میں بے نام و بے نشاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا ہر کوئی درمیان ہے اے ماجرا فروش میں اپنے درمیاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا
  14. ﮐﯿﺎﻭﺍﻗﻌﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ؟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ۔۔۔۔۔ ﺳﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺧﻮﺷﻨﻤﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﯿﺎﮨﮯ؟؟؟ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ،ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﻂ ﻣﺮﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ،ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻋﺰﯾﺰ ﻭ ﺍﻗﺎﺭﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮ۔۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﮐﺲ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﮐﻮﻥ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ،ﺍﭘﻨﺎﺋﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭩﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ؟؟؟ ﯾﮧ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﻓﻘﻂ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔۔۔۔ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺑﯿﺸﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﮨﻮﻧﮧ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮔﮭﺮﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ، ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻣﮑﻤﻞ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺗﻮ ﺍﺻﻞ ﺟﻤﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ،ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  15. سفر منزل شب یاد نہیں لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں اولین قرب کی سرشاری میں کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں دل میں ہر وقت چبھن رہتی ہے تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار یاد آئیں بھی تو سب یاد نہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ احباب کو ہم یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں یاد ہے سیر چراغاں ناصر دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں
  16. اس نہیں کا کوئی علاج نہیں روز کہتے ہیں آپ آج نہیں کل جو تها آج وہ مزاج نہیں اس تلوان کا کچھ علاج نہیں کهوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹهرا در ہم داغ کا رواج نہیں دل لگی کیجئے رقیبوں سے اس طرح کا مرا مزاج نہیں عشق ہے بادشاہ عالم گیر گر چہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں حور سے پوچھتا ہوں جنت میں اس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں صبر بھی دل کو داغ دے لیں گے ابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں داغ دہلوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  17. ﻭﮦ ﺫﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻟﯽ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﮔﯿﻠﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺎﻃﺮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮨﯽ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﮯ !!.....ﻭﮦ ﺯﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻟﯽ ﻋﺎﻃﻒ ﺳﻌﯿﺪ
  18. میں نے کہا وہ پیار کے رشتے نہیں رہے کہنے لگی کہ تم بهی تو ویسے نہیں رہے۔۔ پُوچها کہاں گئے میرے یارانِ خوش خیال ؟ کہنے لگی کہ وہ بهی تمہارے نہیں رہے۔۔ گو آج تک دیا نہیں تم نے مجهے فریب پر یہ بهی سچ ہے تم کبهی میرے نہیں رہے۔۔ بولی کُریدتے ہو تم اُس ڈهیر کو جہاں بس راکه رہ گئی ہے شرارے نہیں رہے۔۔ پوچها تمہیں کبهی نہیں آیا میرا خیال ؟ کیا تم کو یاد یار پُرانے نہیں رہے ؟ کہنے لگی میں ڈهونڈتی تیرا پتہ مگر جن پر نشاں لگے تهے وہ نقشے نہیں رہے۔۔۔ تیرے بغیر شہرِ سُخن سنگ ہو گیا ہونٹوں پہ اب وہ ریشمی لہجے نہیں رہے۔۔ جن سے اُتر کے آتی دبے پاؤں تیری یاد خوابوں میں بهی وہ کاسنی زینے نہیں رہے۔۔ میں نے کہا جو ہو سکے کرنا ہمیں معاف تم جیسا چاہتی تهی ہم ایسے نہیں رہے۔۔ اب یہ تیری رضا ہے کہ جو چاہے سو کرے ورنہ کسی کے کیا کہ ہم اپنے نہیں رہے
  19. ﻭﮦ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ! ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺗﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺯﺍﮨﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﺁﻓﺲ ﮐﯿﻨﭩﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﭼﺎﺋﮯ ﭘﯽ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﻤﮧ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺑﺠﮭﮯ ﺑﺠﮭﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﯾﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ’’ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺝ ﻣﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺱﺟﻤﻠﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ :ﻧﻘﺎﮨﺖ ﺍﺗﺮ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ’’ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺑﺪ ﺗﻤﯿﺰ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺿﺪ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﺨﺮﮮ، ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﮯ۔۔۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﮐﻼﺱ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻧﮩﺎﯾﺎ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ، ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ﯾﺎ ﺟﻮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺴﻤﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﮯ ﮨﻮﮞ۔ﺑﺎﭖ ﮐﺎﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺻﺮﻑ ﻧﺎﻡ ﮨﯽ ﻣﻼ۔ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﭘﯿﺎﺭ۔ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﭘﺮﺍﺋﻤﺮﯼ، ﻣﮉﻝ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﭩﺮﮎ ﺗﮏ ﯾﮩﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ، ﮐﺎﭘﯿﺎﮞ، ﺑﺴﺘﮧ ﻏﺮﺽ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺻﺒﺢ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﻠﯿﻘﮯ ﺳﮯ ﺑﺴﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺴﺘﮧ ﺑﮍﯼ ﻧﻔﺎﺳﺖ ﺳﮯ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻻﮐﮫ ﺑﺎﺭ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮐﮧ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺳﻮﻧﺎ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺻﺒﺢ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﺗﻮﻟﺐ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮫ ﮐﺎ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺑﺪﻻ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﮩﻞ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮐﻤﺒﻞ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺮﺩﯼ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﮨﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﭼﮍ ﺭﮨﯽ۔۔۔ ﺍﯾﮏ 11 ﺳﮯ 13 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺗﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﭼﻼﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﻼﺋﯽ ﻣﺸﯿﻦ ﺳﮯﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﮐﺜﺮ ﮔﮭﯽ ﻟﮕﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺳﻮﮐﮭﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮨﻮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﻮﮌﺍ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺳﻼﺋﯽ ﻣﺸﯿﻦ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﺮﺗﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮍ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺳﮯ ﮨﭧ ﮐﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻼﺋﯽ ﻣﺸﯿﻦ ﮐﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﺩﻭﺭﺍﻧﯿﮧ 16 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻠﮧ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺠﮭﮯ 1500 ﺭﻭﭘﯿﮧ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍُﺳﯽ ﺭﺍﺕ 2 ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﺮﺁﻣﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﭧ ﭘﭧ ﮨﻮﺗﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ ﺫﺭﺍ ﻣﺰﯾﺪ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﭩﯽ ﮔﮭﭩﯽ ﺳﺴﮑﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ۔ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﺑﺮﺁﻣﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﻮﭨﮯ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﺎ ﭼﺸﻤﮧ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﻣﺸﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﺎﮔﮧ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮭﯽ ﮔﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻣﺎﮞ؟؟؟ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﭼﻮﻧﮏ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺳﺠﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺻﺎﻑ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔۔۔ ﻭﮦ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺛﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺻﺒﺢ ﺗﮏ ﺩﻭ ﺳﻮﭦ ﺳﻼﺋﯽ ﮐﺮﺩﻭ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﮬﺎﮔﺎ ﺳﻮﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﻝ ﺭﮨﺎ۔۔۔ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﺴﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔۔۔ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﺎ۔ ﺍُﺩﮬﺮ ﺍﯾﻒ۔ﺍﮮ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺩﮬﺮ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﺎﻝ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔ ﻓﻮﺭﯼ ﺷﮑﺮ ﭘﺎﺭﮮ ﻻ ﮐﺮ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﭩﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭘﺎﺅﮞ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﻟﭩﮑﺎﺋﮯ ﮨﯽ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﭨﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺧﻼﻑ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺁﺝ ﻧﮧ ﺟﻮﺗﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﮮ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ : ’’ ﻣﺎﮞ، ﻣﺎﮞ ، ﻣﺎﮞ ﺍﭨﮫ ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ، ﻣﺎﮞ ﮞ ﮞ ﮞ ‘‘ ﭼﯿﺦ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺭﻭﯾﺎ، ﮨﺰﺍﺭ ﻣﻨﺘﯿﮟ ﺍﻭ ﺭ ﺗﺮﻟﮯ ﮐﯿﮯ ﻣﮕﺮ ﺷﺎﯾﺪ ﻣﺎﮞ ﺍﺏ ﮐﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ۔ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﺎﺭِ ﻏﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﺧﻮﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻧﮧ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺳﺎﺋﺶ ﻭ ﺳﮑﻮﮞ ﺩﯾﺎ ’’ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺗﮭﯽ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ‘‘ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺯﺍﮨﺪ ﮐﮯ ﺩﻭﻣﻮﭨﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺭﺧﺴﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﮩﮧ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭ ﺻﺤﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﻮﺵ ﺭﮐﮭﮯ۔ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﺌﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺻﺒﺮ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ۔ ﺁﻣﯿﻦ
  20. یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں یہ درد تو نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں یہی بہت ہے کہ تم دیکھتی ہو ساحل سے کہ سفینہ ڈوب رہا ہے تو کوئی بات نہیں رکھا تھا آئینہ دل میں چھپا کے تم کو وہ گھر چھوڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں تم نے ہی آئینہ دل میرا بنایا تھا تم نے ہی توڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں بالآخر زیست کے قابل بنا ہوں میں بڑی مشکل سے پتھر دل بنا ہوں میں وہ آئے ہیں سراپائے مجسم بن کر میں گھبرا کر مجسمہ دل بنا ہوں جہاں مقتول ہی ٹھہرے ہیں مجرم یہی کچھ سوچ کے قاتل بنا ہوں میں بڑا محتاط ہوں تیری محفل میں تیری جانب سے سو غافل بنا ہوں میں میں کھا کر ٹھوکریں تیری گلیوں کی بڑا مرشد بڑا کامل بنا ہوں میں کوئی سمجھے گا کیا مجھ کو خود اپنے لیے مشکل بنا ہوں میں یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں یہ درد تو نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں
  21. ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺭﺍﺳﺘﮯﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﻮﮞ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻣﻨﺰﻝ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﻤﻨﺪﺭِ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﻭﺳﻌﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﻓﻘﻂ ﺳﺎﺣﻞ ﭘﮧ ﻗﯿﺎﺱ ﺁﺭﺋﯿﺎﮞ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﺱ ﻣﺘﺎﻉِ ﺧﻮﺩﯼ ﺗﻮ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺑﮑﮭﺮﻧﺎ ﺁﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺁﮦ ﻓﻠﮏ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻢ ﺧﺎﮎ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻓﻨﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺫﺍﺕ ﭘﺮ ﻏﺮﻭﺭ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
  22. ﻋﺰﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﭼﺎﮬﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮈﻭﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮬﮯ ﻣﻨﺰﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﮌﻧﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮬﮯ ﺑﮭﻮﻟﻨﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﺶ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﮐُﭽﮫ ﺣﺴﯿﻦ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﯽ ﮐُﭽﮫ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺤﺮﯾﺮﯾﮟ ﭘﺎﺅﮞ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍﮮ ﮬﻮﮞ ﮐﮭﻮﻟﻨﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮬﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﻮﭼﻨﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻣِﻠﺘﺎ ﮬﺮ ﺭﺷﺘﮧ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ #ﮐﮧ_ﻋﺰﺗﻮﮞ_ﺳﮯ_ﺑﮍﮪ_ﮐﺮ_ﺗﻮ #ﺍﻭﺭ_ﮐُﭽﮫ_ﻧﮩﯿﮟ_ﮬﻮﺗﺎ‎
  23. اب کہ تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں زندگی تیری عطا تھی تو ترے نام کی ہے ہم نے جیسی بھی بسر کی ترا احساں جاناں دل یہ کہتا ہے شاید ہو فسردہ تو بھی دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں اوّل اوّل کی محبت کے نشّے یاد تو کر بے پئے بھی ترا چہرہ تھا گلستاں جاناں آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب یاد نہیں رگِ مینا سلگ اٹھی کہ رگِ جاں جاناں مدّتوں سے یہی عالم نہ توقّع نہ امید دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں ہم بھی کیا سادہ تھے ہم نے بھی سمجھ رکھا تھا غمِ دوراں سے جدا ہے غمِ جاناں جاناں اب کے کچھ ایسی سجی محفلِ یاراں جاناں سر بہ زانو ہے کوئی سر بگریباں جاناں ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ ا ٹھتا ہے ہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں جس کو دیکھو وہی زنجیر بپا لگتا ہے شہر کا شہر ہوا داخلِ زنداں جاناں اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں ہم کہ روٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے تھے ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسمِ ہجراں جاناں ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ جیسے ا ڑتے ہوئے اوراقِ پریشاں جاناں
  24. Urooj Butt

    ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ

    ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﻧﺼﯿﺐ ﻗﺮﺍﺭِ ﺟﺎﮞ، ﮨﻮﺱِ ﻗﺮﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﮐﯿﺎ، ﺗﺮﺍ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ . . ﺗﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﻣﮧ ﻭ ﺳﺎﻝ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺯﺧﻢ ﺩﯾﺌﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺮﯼ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﺗﮭﯽ ﺍﮎ ﺧﻠﺶ، ﺗﺮﯼ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ . . ﻧﮧ ﮔﻠﮯ ﺭﮨﮯ ﻧﮧ ﮔﻤﺎﮞ ﺭﮨﮯ، ﻧﮧ ﮔﺰﺍﺭﺷﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻭﮦ ﻧﺸﺎﻁِ ﻭﻋﺪﮦﺀ ﻭﺻﻞ ﮐﯿﺎ، ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ . . ﮐﺴﮯ ﻧﺬﺭ ﺩﯾﮟ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﮞ ﺑﮩﻢ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﺎﮐُﻞِ ﺧﻢ ﺑﮧ ﺧﻢ ﮐِﺴﮯ ﮨﺮ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺩﯾﮟ ﮐﮧ ﺷﻤﯿﻢِ ﯾﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ . . ﻭﮦ ﮨﺠﻮﻡِ ﺩﻝ ﺯﺩﮔﺎﮞ ﮐﮧ ﺗﮭﺎ، ﺗﺠﮭﮯ ﻣﮋﺩﮦ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﺮﮮ ﺁﺳﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﯿﺮ ﮨﻮ، ﺳﺮِ ﺭﮦ ﻏﺒﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ . . ﻭﮦ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﺎﮞ ﻧﺜﺎﺭ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ، ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻮﮔﻮﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ . . ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺍﮨﻞِ ﺟﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ، ﻭﮦ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺟﻮ ﺭﻧﮓ ﺗﮭﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮ ﺑﮧ ﮐﻮ، ﺳﺮِ ﮐﻮﺋﮯ ﯾﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ
  25. کبھی جب میں نہیں ہوں گى تمہیں سب یاد آئے گا وہ میری بے کراں چاہت تمہارے نام کی عادت وہ میرے عشق کی شدت وصال و ہجر کی لذت تمہاری ہر ادا کو شاعری کا رنگ دے دینا خود اپنی خواہشوں کو بے بسی کا رنگ دے دینا تمہیں سب یاد آئے گا وہ میری آنکھ کا نم بھی وفاؤں کا وہ موسم بھی جنوں خیزی کا عالم بھی مری ہر اک خوشی ہر غم بھی مرا وہ مسکرا کر درد کو دل سے لگا لینا تمہاری خواب سی آنکھوں کا ہر آنسو چرا لینا تمہیں سب یاد آئے گا تمہاری سوچ میں رہنا تمہاری بے رخی سہنا بُھلا کر رنجشیں ساری فقط "اپنا" تمہیں کہنا تمہارے نام کو تسبیح کی صورت بنا لینا تمہارے ذکر سے دل کا ہر اک گوشہ سجا لینا ابھی تو مسکرا کر تم مری باتوں کو سنتے ہو مگر یہ جان لو جاناں تمہیں سب یاد آئے گا کبھی جو میں نہیں ہوں گی
×