Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'پہلو'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 4 results

  1. تیری بانہیں ،ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے سب سے بڑھ کر، مری جاں !تو ہے ابھی میرے لیے زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی! آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی" رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہو گا عشق حیراں ہے سرِ شہرِ سبا کی ہو گا میرے قاتل! ترا اندازِ جفا کیا ہو گا! آج کی شب تو بہت کچھ ہے ، مگر کل کے لیے ایک اندیشہ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد رنگِ اُمید کھِلے گا کہ بکھر جائے گا! وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا! جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا خواب کا شہر رہے گا کہ اُجڑ جائے گا! "پروین شاکر"
  2. کچهـ اس ادا سے آج وه پہلو نشیں رہے جب تک ہمارے پاس رہے، ہم نہیں رہے یا رب کسی کی راز محبت کی خیر ہو دست جنوں رہے نه رہے، آستیں رہے درد غــم فـــراق کے یه سخت مــرحلیں حیراں ہوں میں که پهر بهی تم اتنے حسیں رہے جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر اے عشق ہم تو اب تیرے قابل نہیں رہے الله رے چشم یار کے موجز بیانیاں ہر ایک کا ہے گمان که مخاطب ہمیں رہے اس عشق کے تلافی مافات دیکهنا رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے جگر مرادآبادی
  3. مرے پہلو میں رہ کر بھی کہیں رُوپوش ہو جانا مجھے پھر دیکھنا اور دیکھ کر خاموش ہو جانا قسم ہے چشمِ ذیبا کی مجھے بھولے نہیں بھولا تجھے کلیوں کا ایسے دیکھ کر مدہوش ہو جانا تجھے یہ شہر والے پھر مرے بارے میں پوچھیں گے نظر سے مسکرانا اور پھر خاموش ہو جانا زمانہ سانس بھی لینے نہیں دیتا ہمیں لیکن ہمارے واسطے تم چین کی آغوش ہو جانا نہ مجھ میں وصفِ موسیٰ تھے نہ میں محوِ تکلم تھا مرا بنتا نہیں تھا اس طرح بے ہوش ہو جانا مرے زخموں مرے نالوں کا اکلوتا محافظ ہے مرے شانوں پہ تیرے ہجر کا بَردوش ہو جانا سو اب اس نازنیں کی عادتوں میں یہ بھی شامل ہے چمن میں رات کر لینا، وہیں گُل پوش ہو جانا
  4. دلِ پُر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا تجھ سے بھی ھم نے تیرا پیار چھپائے رکھا چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے ھم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا غیرممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصت پھر بھی ھم نے تیرا غم دل میں بسائے رکھا پھول کو پھول نہ کہتے تو اسے کیا کہتے؟ کیا ھوا غیر نے کالر پہ سجائے رکھا جانے کس حال میں ہیں, کونسےشہروں میں ھیں وہ؟ زندگی اپنی جنہیں ھم نے بنائے رکھا ھائے کیا لوگ تھے, وہ لوگ, پری چہرہ لوگ ھم نے جن کے لیے دنیا کو بھلائے رکھا اب ملیں بھی تو نہ پہچان سکیں ھم انکو جن کو اک عمر خیالوں میں بسائے رکھا
×