Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'چراغ'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 3 results

  1. :کلام احمد فرازؔ تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو! کرّۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ ! رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
  2. دیارِ دِل کی رات میں چراغ سا جلا گیا مِلا نہیں تو کیا ہُوا ، وہ شکل تو دِکھا گیا وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دُشمناں ہُوئی وہ چھوٹی چھوٹی رنجِشوں کا لُطف بھی چلا گیا جُدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے تجھے بھی نِیند آگئی، مُجھے بھی صبر آگیا پُکارتی ہیں فُرصتیں، کہاں گئیں وہ صحبتیں؟ زمِیں نِگل گئی اُنہیں، کہ آسمان کھا گیا یہ صُبح کی سفیدِیاں ، یہ دوپہر کی زردِیاں اب آئینے میں دیکھتا ہُوں مَیں کہاں چلا گیا یہ کِس خوشی کی ریت پر ،غموں کو نِیند آگئی وہ لہر کِس طرف گئی، یہ میں کہاں سما گیا گئے دِنوں کی لاش پر پڑے رہوگے کب تلک الَم کشو ! اُٹھو کہ آفتاب سر پہ آگیا ناصؔر کاظمی
  3. میری زندگی میں بس اک کتاب ہے، اک چراغ ہے ایک خواب ہے اور تم ہو میں یہ چاہتا تھا یہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ہیں تمھارے ساتھ بسر کروں یہی کل اثاثہ زندگی ہے اسی کو زادِ سفر کروں کسی اور سمت نظر کروں تو میری دعا میں اثر نہ ہو میرے دل کے جادہٴ خوش خبر پہ بجز تمھارے کبھی کسی کا گزر نہ ہو مگر اس طرح کے تمہیں بھی اسکی خبر نہ ہو اسی احتياط میں ساری عمر گزر گئی وہ جو آرزو تھی کتاب و خواب کے ساتھ تم بھی شریک ہو، وہی مر گئی اسی کشمکش نے کئی سوال اٹھاے ہیں وہ سوال جن کا جواب میری کتاب میں ہے نہ خواب میں مرے دل کے جادہٴ خوش خبر کے رفیق تم ہی بتاؤ پھر کے یہ كاروبارِ حیات کس کے حساب میں مری زندگی میں بس اک کتاب ہے اک چراغ ہے اک خواب ہے اور تم ہو (شاعر: افتخار عارف)
×