Jump to content

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

News Ticker

Search the Community

Showing results for tags 'کبھی'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Islam
  • General Knowledge
  • Sports

Found 9 results

  1. دِلِ گمشدہ ... کبھی مِل ذرا مجھے وقت دے، مری بات سُن مری حالتوں کو تو دیکھ لے مجھے اپنا حال بتا کبھی کبھی پاس آ, کبھی مِل سہی! مرا حال پوچھ! بتا مجھے مرے کس گناہ کی سزا ہے یہ؟ تُو جنون ساز بھی خود بنا مری وجہِ عشق یقیں ترا مِلا یار بھی تو، ترے سبب وہ گیا تو ، تُو بھی چلا گیا؟ دِلِ گمشدہ؟ ، یہ وفا ہے کیا؟ اِسے کِس ادا میں لکھوں بتا؟ اِسے قسمتوں کا ثمر لکھوں؟ یا لکھوں میں اِس کو دغا، سزا؟ دِلِ گمشدہ......... دِلِ گمشدہ
  2. کبھی تو شہرِ ستمگراں میں کوئی محبت شناس آئے وہ جس کی آنکھوں سے نور چھلکے لبوں سے چاہت کی باس آئے چلے تو خوشیوں کے شوخ جذبے ہماری آنکھوں میں موجزن تھے مگر نا پوچھو کہ واپسی کے سفر سے کِتنے اُداس آئے ہمارے ہاتھوں میں اِک دِیا تھا ہوا نے وہ بھی بُجھا دیا تھا ہیں کس قدر بدنصیب ہم بھی، ہمیں اُجالے نہ راس آئے ہماری جانِب سے شہر والوں میں یہ منادی کرا دو ”محسن جسے طلب ہو متاعِ غم کی وہ ہم فقیروں کے پاس آئے #محسن_نقوی
  3. یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو بدن مرا سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں برہنہ شہر میں ‌کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے وہ میرا دوست ہے سارے جہاں‌کو ہے معلوم دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے میں اپنی ذات میں نیلام ہو رہا ہوں قتیل .....غمِ حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے
  4. جو مخالف تھے کبھی شہر میں دیوانوں کے آج مہمان ہی لوگ ہیں ویرانوں کے تم کو آنا ہے تو آ جاؤ، ابھی زندہ ہوں پھول مرجھائے نہیں ہیں ابھی گلدانوں کے شمع کو اور کوئی کام نہ تھا محفل میں رات بھر پَر ہی جلاتی رہی پروانوں کے ایک تہمت بھی اگر اور لگائی ہم پر راز ہم کھول کے رکھ دیں گے شبستانوں کے تجھ کو معلوم نہیں گیسوئے برہم کا مزاج روگ تجھ کو بھی نہ لگ جائیں پریشانوں کے
  5. مستیء حال کبھی تھی ، کہ نہ تھی ، بھول گئے یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی ، بھول گئے یوں مجھے بھیج کے تنہا سر بازار فریب کیا میرے دوست میری سادہ دلی بھول گئے میں تو بے حس ہوں ، مجھے درد کا احساس نہیں چارہ گر کیوں روش چارہ گری بھول گئے؟ اب میرے اشک محبت بھی نہیں آپ کو یاد آپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بھول گئے اب مجھے کوئی دلائے نہ محبت کا یقیں جو مجھے بھول نہ سکتے تھے وہی بھول گئے اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم اپنا گھر بھول گئے ، ان کی گلی بھول گئے کیا کہیں کتنی ہی باتیں تھیں جو اب یاد نہیں کیا کریں ہم سے بڑی بھول ہوئی ، بھول گئے
  6. اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ جیسے دو سائے تمنا کے سرابوں میں ملیں
  7. ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺍﺋﮯ ﺗﻮ ﭼﺎﻧﺪ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐِﺴﯽ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻧﺨﻞِ ﻓﻠﮏ ﺳﮯ ﺍُﮌ ﮐﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔِﺮﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﺎ ﻭﮦ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮦ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺩِﻝ ﮐﺎ ﺍﮔﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﮐِﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮐِﺴﯽ ﭘﺮ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﻮ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﭨﻮﭨﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺴﺘﯽ ﻧﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ , ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﺁﺋﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﯽ ﻟﮩﺮﻭﮞ ﭘﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﺒﻮﺋﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣِﻠﻮﮞ ﮔﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻼﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺘﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﺍَﻭﺱ ﻗﻄﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣِﻠﻮﮞ ﮔﺎ , ﺍﮔﺮ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ، ﺍﻭﺱ ﻗﻄﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ، ﺧﻮﺷﺒﻮﺋﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺩ ﮨﻮﺗﯽ ﻣﺴﺎﻓﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣِﻠﻮﮞ ﮔﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮧ ﺭﻭﺷﻦ ﭼﺮﺍﻍ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﺎ ﮐﮧ ﮨﺮ ﭘﺘﻨﮕﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑِﮑﮭﺮ ﭼُﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍُﻥ ﭘﺘﻨﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺎﮎ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﮎ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﮐِﺴﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﭘﮧ ﺭُﮎ ﮐﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﭘﮧ ﻧﮑﻠﻮ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ ﺍُﺗﺮﻧﺎ *_ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ۔۔*
  8. کبھی جب میں نہیں ہوں گى تمہیں سب یاد آئے گا وہ میری بے کراں چاہت تمہارے نام کی عادت وہ میرے عشق کی شدت وصال و ہجر کی لذت تمہاری ہر ادا کو شاعری کا رنگ دے دینا خود اپنی خواہشوں کو بے بسی کا رنگ دے دینا تمہیں سب یاد آئے گا وہ میری آنکھ کا نم بھی وفاؤں کا وہ موسم بھی جنوں خیزی کا عالم بھی مری ہر اک خوشی ہر غم بھی مرا وہ مسکرا کر درد کو دل سے لگا لینا تمہاری خواب سی آنکھوں کا ہر آنسو چرا لینا تمہیں سب یاد آئے گا تمہاری سوچ میں رہنا تمہاری بے رخی سہنا بُھلا کر رنجشیں ساری فقط "اپنا" تمہیں کہنا تمہارے نام کو تسبیح کی صورت بنا لینا تمہارے ذکر سے دل کا ہر اک گوشہ سجا لینا ابھی تو مسکرا کر تم مری باتوں کو سنتے ہو مگر یہ جان لو جاناں تمہیں سب یاد آئے گا کبھی جو میں نہیں ہوں گی
  9. ﺩِﻝِ ﮔﻤﺸﺪﮦ ! ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻞ ﺫﺭﺍ ﮐﺴﯽ ﺧﺸﮏ ﺧﺎﮎ ﮐﮯ ﮈﮬﯿﺮ ﭘﺮ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﻣﮑﺎﮞ ﮐﯽ ﻣﻨﮉﯾﺮ ﭘﺮ ﺩِﻝِ ﮔﻤﺸﺪﮦ ! ﮐﺒﮭﯽ ﻣِﻞ ﺫﺭﺍ ﺟﮩﺎﮞ ﻟﻮﮒ ﮨﻮﮞ، ﺍُﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ، ﮐﺴﯽ ﻣﻮﮌ ﭘﺮ ﺩِﻝِ ﮔﻤﺸﺪﮦ ! ﮐﺒﮭﯽ ﻣِﻞ ﺫﺭﺍ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻭﻗﺖ ﺩﮮ، ﻣﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺳُﻦ ! ﻣﺮﯼ ﺣﺎﻟﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﮯ ! ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺎﻝ ﺑﺘﺎ ﮐﺒﮭﯽ ! ﮐﺒﮭﯽ ﭘﺎﺱ ﺁ ! ﮐﺒﮭﯽ ﻣِﻞ ﺳﮩﯽ ! ﻣﺮﺍ ﺣﺎﻝ ﭘﻮﭼﮫ ! ﺑﺘﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺮﮮ ﮐﺲ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﮨﮯ ﯾﮧ؟؟؟ ﺗُﻮ ﺟﻨﻮﻥ ﺳﺎﺯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﺑﻨﺎ ﻣﺮﯼ ﻭﺟﮧِ ﻋﺸﻖ ﯾﻘﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﻣِﻼ ﯾﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ، ﺗﺮﮮ ﺳﺒﺐ ﻭﮦ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ، ﺗُﻮ ﺑﮭﯽ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ؟؟؟ ﺩِﻝِ ﮔﻤﺸﺪﮦ؟؟؟ ﯾﮧ ﻭﻓﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ؟؟؟ ﺍِﺳﮯ ﮐِﺲ ﺍﺩﺍ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﺑﺘﺎ؟؟؟ ﺍِﺳﮯ ﻗﺴﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺛﻤﺮ ﻟﮑﮭﻮﮞ؟؟؟ ﯾﺎ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍِﺱ ﮐﻮ ﺩﻏﺎ، ﺳﺰﺍ؟؟؟ ﺩِﻝِ ﮔﻤﺸﺪﮦ ! ﺩِﻝِ ﮔﻤﺸﺪﮦ حافظ
×