Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'کرتے'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 6 results

  1. حضرت ابو ذرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین آدمیوں سے نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف (رحمت کی نگاہ سے ) دیکھے گا، نہ ان کو (گناہوں سے ) پاک کرے گا اور ان کو دکھ کا عذاب ہو گا۔ آپﷺ نے تین بار یہی فرمایا تو سیدنا ابو ذرؓ نے کہا کہ برباد ہو گئے وہ لوگ اور نقصان میں پڑے ، یا رسول اللہﷺ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ ایک تو اپنی ازار (تہبند، پاجامہ، پتلون، شلوار وغیرہ) کو (ٹخنوں سے نیچے ) لٹکانے والا، دوسرا احسان کر کے احسان کو جتلانے والا اور تیسرا جھوٹی قسم کھا کر اپنے مال کو بیچنے والا۔ صہیح مسلم ۱۳۶
  2. ‎نگاہ پھیر کے،،،،،،،، عذرِ وصال کرتے ہیں ‎مجھے وہ الٹی چھری سے حلال کرتے ہیں ‎زبان قطع کرو،،،،،،،،، دل کو کیوں جلاتے ہو ‎اِسی سے شکوہ، اسی سے سوال کرتے ہیں ‎نہ دیکھی نبض، نہ پوچھا مزاج بھی تم نے ‎مریضِ غم کی،،، یونہی دیکھ بھال کرتے ہیں ‎میرے مزار کو وہ ٹھوکوں سے ٹھکرا کر ‎فلک سے کہتے ہیں یوں پائمال کرتے ہیں ‎پسِ فنا بھی،،،، میری روح کانپ جاتی ہے ‎وہ روتے روتے جو آنکھوں کو لال کرتے ہیں ‎اُدھر تو کوئی نہیں جس سے آپ ہیں مصروف ‎اِدھر کو دیکھیے،،،،،،، ہم عرض حال کرتے ہیں ‎یہی ہے فکر کہ ہاتھ آئے تازہ طرزِ ستم ‎یہ کیا خیال ہے،، وہ کیا خیال کرتے ہیں ‎وہاں فریب و دغا میں کمی کہاں توبہ ‎ہزار چال کی،، وہ ایک چال کرتے ہیں ‎نہیں ہے موت سے کم اک جہان کا چکر ‎جنابِ خضر،،،،، یونہی انتقال کرتے ہیں ‎چھری نکالی ہے مجھ پر عدو کی خاطر سے ‎پرائے واسطے،،،،،،،،،،، گردن حلال کرتے ہیں ‎یہاں یہ شوق، وہ نادان، مدعا باریک ‎انھیں جواب بتا کر،،، سوال کرتے ہیں ‎ہزار کام مزے کے ہیں داغ،،،، الفت میں ‎جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
  3. Zarnish Ali

    سفر تنہا نہیں کرتے

    سفر تنہا نہیں کرتے سنو ایسا نہیں کرتے جسے شفاف رکھنا ہو اُسے میلا نہیں کرتے تیری آنکھیں اجازت دیں تو ہم کیا نہیں کرتے بہت اُجڑے ہوئے گھر پر بہت سوچا نہیں کرتے سفر جس کا مقدر ہو اُسے روکا نہیں کرتے جو مل کر خود سے کھو جائے اسے رسوا نہیں کرتے یہ اُونچے پیڑ کیسے ہیں کہیں سایہ نہیں کرتے کبھی ہسنے سے ڈرتے ہیں کبھی رویا نہیں کرتے تیر آنکھوں کو پڑھتے ہیں تجھے دیکھا نہیں کرتے چلو تم راز ہو اپنا تمہیں افشا نہیں کرتے سحر سے پوچھ لو محسن ہم سویا نہیں کرتے محسن نقوی
  4. کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے ناصر کاظمی
  5. میں تھک گیا ہوں اساطیر جمع کرتے ہوئے گذشتگاں کی تصاویر جمع کرتے ہوئے میں سوچتا ہوں ابھی تک کہ کتنا پیچھے ہوں اُس ایک شام کی تاخیر جمع کرتے ہوئے کسی کی بزم میں دل کیا غزل سرا ہوتا گزر گیا میں مزامیر جمع کرتے ہوئے نظر گلاب ِ لب و رخ سے شرمسار نہیں بیاضِ آبِ طباشیر جمع کرتے ہوئے میں صوفیا کے مزاروں پہ عمر بھر منصور پھرا ہوں لفظ میں تاثیر جمع کرتے ہوئے اک ایک وصل کا اسباب جمع کرتے ہوئے گنوائیں آنکھیں کہیں خواب جمع کرتے ہوئے گرفتِ شب میں تھے سو 'چشمہ جھیل' میں اپنی یہ عمر گزری ہے مہتاب جمع کرتے ہوئے ہوئی نہ بلب کے جتنی بھی روشنی ہم سے ہزار کرمک ِ شب تاب جمع کرتے ہوئے بنا لیا ہے سمندر طلب کی نائو میں سیاہ بختی کے گرداب جمع کرتے ہوئے صدف سے چاہتے پھرتے ہیں موتیوں کی فصل کسی حباب میں تالاب جمع کرتے ہوئے خزانہ کیسی محبت کا دل کے دریا سے ملا ہے ملبہ ء غرقاب جمع کرتے ہوئے بدن کے جار میں کتنی دراڑیں آئی ہیں عجیب طرح کے تیزاب جمع کرتے ہوئے جنابِ صدر پہ پھینکا وہ دیکھئے کیا ہے کسی غریب نے اعصاب جمع کرتے ہوئے اداسیاں ہیں ، جدائی ہے اور آنسو ہیں گزر گئی یہی احباب جمع کرتے ہوئے چراغاں کر لیا بخت ِسیاہ میں منصور دکھوں کے گوہر ِ نایاب جمع کرتے ہوئے میں جل گیا گل و گلزار جمع کرتے ہوئے بدن میں سایہ ء دیوار جمع کرتے ہوئے مقابلے پہ لے آئی ہے واہموں کے ہجوم فسردگی بھی مددگار جمع کرتے ہوئے کسی نشیب ِ سیہ میں ہے گر پڑی شاید نگاہ ، صبح کے آثار جمع کرتے ہوئے خود اپنا آپ بھی کونے میں دھر دیا میں نے کہانی کے کہیں کردار جمع کرتے ہوئے برِصغیر کے لوگوں کو بھوک دی افسوس بھیانک اٹیمی ہتھیار جمع کرتے ہوئے ہزاروں روز جہنم رسید ہوتے ہیں جہاں میں درہم و دینار جمع کرتے ہوئے بدل دی تُو نے تغزل کی شکل بھی منصور غزل میں درد کے انبار کرتے ہوئے محسن نقوی ۔۔
  6. نگاہ- شوق سے کب تک مقابلہ کرتے وہ التفات نہ کرتے تو اور کیا کرتے یہ رسم- ترک- محبت بھی ہم ادا کرتے تیرے بغیر مگر زندگی کو کیا کرتے غرور- حسن کو مانوس- التجا کرتے وہ ہم ہیں کہ جو خود داریاں فنا کرتے کسی کی یاد نے تڑپا دیا پھر آ کے ہمیں ہوئی تھی دیر نہ کچھ دل سے مشورا کرتے یہ پوچھو حسن کو الزام دینے والوں سے جو وہ ستم بھی نہ کرتا تو آپ کیا کرتے ستم شعار ازل سے ہے حسن کی فطرت جو میں وفا بھی نہ کرتا تو وہ جفا کرتے ہمیں تو اپنی تباہی کی داد بھی نہ ملی تری نوازش- بیجا کا کیا گلا کرت نگاہ- ناز کی معصومیت ارے توبہ جو ہم فریب نہ کھاتے تو اور کیا کرتے نگاہ- لطف کی تسکیں کا شکریہ، لیکن متاع- درد کو کس دل سے ہم جدا کرتے (عرشی بھوپالی)
×