Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'کسی'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 12 results

  1. کسی سے کی گئی بھلائی ، بری موت سے بچاتی ہے سعودی عرب کے ایک بزنس مین نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص اس سے کہہ رہا ہے کہ : " تمہاری کمپنی کے آفس کے مین گیٹ کے سامنے فلاں شخص جو پھل بیچتا ہے اس کو عمرہ کرا دو ... " نیند سے بیدار ہوا تو اسے خواب اچھی طرح یاد تھا، مگر اس نے وہم جانا اور خواب کو نظر انداز کردیا ، تین دن مسلسل ایک ہی خواب نظر آنے کے بعد وہ شخص اپنے علاقے کی جامع مسجد کے امام کے پاس گیا اور اسے خواب سنایا۔ امام مسجد نے کہا : " اس شخص سے رابطہ کرو، اور اسے عمرہ کروا دو ... " اگلے روز اس شخص نے اپنی اس کمپنی کے ایک ملازم سے اس پھل فروش کا نمبر معلوم کرنے کو کہا ، بزنس مین نے فون پر اس پھل فروش سے رابطہ کیا اور کہا کہ : " مجھے خواب میں کہا گیا ہے کہ میں تمہیں عمرہ کرواوٴں، لہذا میں اس نیک کام کی تکمیل کرنا چاہتا ہوں ... " پھل فروش زور سے ہنسا اور کہنے لگا : " کیا بات کرتے ہو بھائی ...؟ میں نےتو مدت ہوئی کبھی فرض نماز ادا نہیں کی اور بعض اوقات شراب بھی پیتا ہوں ... تم کہتے ہو کہ تم مجھے عمرہ کروانا چاہتے ہو ...! " بزنس مین اصرار کرنے لگا، اور اسے سمجھایا کہ : " میرے بھائی! میں تمہیں عمرہ کروانا چاہتا ہوں، سارا خرچ میرا ہوگا ... " خاصی بحث اور تمہید کے بعد آدمی اس شرط پر رضامند ہوا کہ : " ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ عمرہ کرونگا، مگر تم مجھے واپس ریاض میرے گھر لیکر آوٴ گے، اور تمام تر اخرجات تمہارے ہی ذمہ ہونگے ... " وقتِ مقررہ پر جب وہ ایک دوسرے کو ملے تو بزنس مین نے دیکھا کہ ، واقعی وہ شکل وصورت سے کوئی اچھا انسان نہیں دکھائی دیتا تھا، اس کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ شرابی ہے اور نماز کم ہی پڑھتا ہے۔ اسے بڑا تعجب ہوا کہ یہ وہ ہی شخص ہے جسے عمرہ کرنے کے لئے خواب میں تین مرتبہ کہا گیا ...! دونوں مکہ مکرمہ عمرہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ میقات پر پہنچے تو انہوں نے غسل کر کے احرام باندھا اور حرم شریف کی طرف روانہ ہوئے ، انہوں نے بیت اللّٰہ کا طواف کیا۔ مقامِ ابرہیم پر دو رکعت نماز ادا کی، صفا و مرہ کے درمیان سعی کی۔ اپنے سروں کو منڈوایا اور اس طرح عمرہ مکمل ہو گیا۔ اب انھوں نے واپسی کی تیاری شروع کر دی۔ حرم سے نکلنے لگے تو پھل فروش بزنس مین سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا : '' دوست حرم چھوڑنے سے پہلے میں دو رکعت نفل ادا کرنا چاہتا ہوں، نجانے دوبارہ عمرہ کی توفیق ہوتی بھی ہے یا نہیں ... '' اسے کیا اعتراض ہوتا اس نے کہا : '' نفل پڑھو اور بڑے شوق سے پڑھو ... " اس نے اس کے سامنے نفل ادا کرنے شروع کر دئیے۔ جب سجدہ میں گیا تو اس کا سجدہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا ، جب کافی دیر گزرگئی تو بزنس مین نے اسے ہلایا ، جب کوئی حرکت نہیں ہوئی تو اس پر انکشاف ہوا کہ پھل فروش کی روح حالتِ سجدہ ہی میں پرواز کرچکی تھی۔ پھل فروش کی موت پر اسے بڑا رشک آیا اور وہ رو پڑا کہ : " یہ تو حسنِ خاتمہ ہے، کاش! ایسی موت میرے نصیب میں ہوتی، ایسی موت تو ہر کسی کو نصیب ہو ... " وہ اپنے آپ سے ہی یہ باتیں کر رہا تھا ، اس خوش قسمت انسان کو غسل دیا گیا، اور احرام پہنا کر حرم میں ہی اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ہزاروں فرزندان اسلام نے اس کا جنازہ پڑھا اور اس کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی ...! اس دوران اس کی وفات کی اطلاع ریاض اسکے گھر والوں کو دی جا چکی تھی، بزنس مین نے اپنے وعدے کے مطابق اس کی میت کو ریاض پہنچا دیا، جہاں اسے دفن کر دیا گیا۔ بزنس مین نے پھل فروش کی بیوہ سے تعزیت کرنے کے بعد کہا : '' میں جاننا چاہتا ہوں کہ تمہارے شوہر کی ایسی کونسی عادت یا نیکی تھی کہ اس کا انجام اس قدر عمدہ ہوا اور اسے حرمِ میں سجدہ کی حالت میں موت آئی ... ؟ " بیوہ نے کہا : " بھائی! میرا خاوند کوئی نیک و کار آدمی تو نہیں تھا اور اس نے ایک لمبی مدت سے نماز روزہ بھی چھوڑ رکھا تھا، میں اسکی کوئی خاص خوبی بیان تو نہیں کر سکتی، ہاں ...! مگر اس کی ایک عادت یہ ضرور تھی کہ ، وہ ہمارے ہمسایہ میں ایک غریب بیوہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کیساتھ رہتی ہے، 'میرا شوہر روزانہ بازار جاتا تو جو چیز اپنے بچوں کے لئے کھانے پینے کی لاتا وہ اس بیوہ اور اس کے یتیم بچوں کیلئے بھی لے آتا ، اور اس کے دروازے پر رکھ کر اسے آواز دیتا کہ : " اے بہن! میں نے کھانا باہر رکھ دیا ہے، اسے اٹھا لو ... " یہ بیوہ عورت کھانا اٹھاتی اور آسمان کی جانب سر اٹھا کر دیکھتی اور کہتی : " اے اللہ رب العزت! آج پھر اس شخص نے میرے بھوکے بچوں کو کھانا کھلایا ... اے اللہ رب العزت! اس کا خاتمہ ایمان پر فرما ... '' میرے محترم و مکرم قارئین کرام حاصل کلام یہ کہ، زندگی تو جیسے تیسے بحرحال گزر ہی جانی ہے ، لیکن جس قدر ممکن ہو، اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کی مدد کرتے رہا کیجیئے، کیونکہ ایک حدیث کا مفہوم بھی ہے کہ : " کسی سے کی گئی بھلائی ، بری موت سے بچاتی ہے ... " اللہ تعالٰی ہم تمام مسلمانان عالم کو ہر طرح کی برائیوں سے اپنی پناہ میں محفوظ فرما کر اپنے مسکین و یتیم و بیوہ اور ہر ضرورت مند کی ریاکاری سے پاک امداد کرنے کی سعادت فرماتے ہوئے عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے، اور ہم سب کا بھی خاتمہ ٹھیک اسی طرح بالخیر فرمائے ... آمین ثم آمیــــــــــــــن یارب العالمین ..
  2. کیوں کسی اور کو دکھ درد سناؤں اپنے اپنی آنکھوں سے بھی میں زخم چھپاؤں اپنے میں تو قائم ہوں ترے غم کی بدولت ورنہ یوں بکھر جاؤں کہ خود ہاتھ نہ آؤں اپنے شعر لوگوں کے بہت یاد ہیں اوروں کے لیے تو ملے تو میں تجھے شعر سناؤں اپنے تیرے رستے کا جو کانٹا بھی میسر آئے میں اسے شوق سے کالر پر سجاؤں اپنے سوچتا ہوں کہ بجھا دوں میں یہ کمرے کا دیا اپنے سائے کو بھی کیوں ساتھ جگاؤں اپنے اس کی تلوار نے وہ چال چلی ہے اب کے پاؤں کٹتے ہیں اگر ہاتھ بچاؤں اپنے آخری بات مجھے یاد ہے اس کی انورؔ جانے والے کو گلے سے نہ لگاؤں اپنے
  3. نہ کسی کی دسترس میں تھا نہ کسی کے خواب و خیال میں مگر ایک شخص سما گیا میری ذات کے در و بام میں نہ کسی بھی نظم کا شعر تھا نہ کسی بھی لفظ کا حرف تھا مگر ایسے لفظوں میں بُن گیا مجھے خاص و خاص بنا گیا نہ کسی کی روح کا سکون تھا نہ کسی کے دل کا قرار تھا مگر ایسا جادو چلا گیا مجھے اپنا عشق چڑھا گیا تھا وہ شخص کتنا عجیب تر تھا وہ شخص کتنا قریب تر مجھے چھوڑ کر تو چلا گیا مگر عشق کرنا سکھا گیا
  4. ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گے مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیں حیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم قدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرح بسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کو کہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم جو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہے اس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم کیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیں انہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا معلوم خدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئی اٹھائی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم ابھی تو فتنے ہی برپا کئے ہیں عالم میں اٹھائیں گے وہ قیامت کسی کو کیا معلوم جناب داغؔ کے مشرب کو ہم سے تو پوچھو چھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم
  5. اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ اے شبِ فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز ہے ہے خدا نہ کرے کہ تجھے بھی رلائیں ہم احمد فراز
  6. کسی نے خداسے عرض کیاکہ اےخدا بہت اچھا ھوتا کہ 4چیزیں ھوتی اور چار چیزیں نہ ھوتی 1::زندگی ھوتی موت نہ ھوتی 2::جنت ھوتی. دوزق نہ ھوتی 3::دولت ھوتی غربت نہ ھوتی 4::صحت ھوتی بیماری نہ ھوتی آواز آہی 1::اگر موت نہ ھوتی. میرا دیدار نہ ھوتا 2::اگر غربت نہ ھوتی. تو میرا شکر کون کرتا 3::اگر دوزق نہ ھوتا تو میرے عزاب سے کون ڑرتا 4::اگر بیماری نہ ھوتی تو. مجھے کون یاد کرتا
  7. چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن رازوں کی طرح اترو میرے دل میں کسی شب دستک پہ میرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہالوں بادل کی طرح جھوم کے گھِر آؤ کسی دن خوشبو کی طرح گزرو میرے دل کی گلی سے پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن پھر ہاتھ کو خیرات ملے بندِ قبا کی پھر لطفِ شب وصل کو دھراؤ کسی دن گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے اس طرح میری رات کو چمکاؤ کسی دن میں اپنی ہر اک سانس اسی رات کو دے دوں سر رکھ کے میرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن
  8. کِسی کا درد ہو دِل بے قرار اپنا ہے ہَوا کہِیں کی ہو، سینہ فگار اپنا ہے ہو کوئی فصل مگر زخم کِھل ہی جاتے ہیں سدا بہار دلِ داغدار اپنا ہے بَلا سے ہم نہ پیئیں، میکدہ تو گرم ہُوا بقدرِ تشنگی رنجِ خُمار اپنا ہے جو شاد پھرتے تھے کل، آج چُھپ کے روتے ہیں ہزار شُکر غمِ پائیدار اپنا ہے اِسی لیے یہاں کُچھ لوگ ہم سے جلتے ہیں کہ جی جلانے میں کیوں اِختیار اپنا ہے نہ تنگ کر دلِ مخزوں کو اے غمِ دنیا ! خُدائی بھر میں یہی غم گسار اپنا ہے کہیں مِلا تو کِسی دن منا ہی لیں گے اُسے وہ ذُود رنج سہی ، پھر بھی یار اپنا ہے وہ کوئی اپنے سِوا ہو تو اُس کا شِکوہ کرُوں جُدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے نہ ڈھونڈھ ناصرِ آشفتہ حال کو گھر میں وہ بُوئے گُل کی طرح بے قرار اپنا ہے ناصرکاظمی ………………………………………
  9. کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے کہاں ہو تم کہ یہ دل بےقرار آج بھی ہے وہ وادیاں وہ فضائیں کہ ہم ملے تھے جہاں میری وفا کا وہیں پر مزار آج بھی ہے نا جانے دیکھ کے کیوں ان کو یہ ہوا احساس کہ میرے دل پہ انہیں کا اختیار آج بھی ہے وہ پیار جس کے لیے ہم نے چھوڑ دی دنیا وفا کی راہ میں گھائل وہ پیار آج بھی ہے یقیں نہیں ہے مگر آج بھی یہ لگتا ہے میری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے نہ پوچھ کتنے محبت کے زخم کھائے ہیں کہ جن کو سوچ کر دل سوگوار آج بھی ہے کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے .....کہاں ہو تم کہ یہ دل بےقرار آج بھی ہے
  10. جب زہر کا کسی کو پیالا دیا گیا سقراط کا یا میرا حوالا دیا گیا کیا کیا نہ یاد آئے تھے ہجر کے دُکھ مجھے جب پنچھیوں کو دیس نکالا دیا گیا توڑا ہزار بار شبوں کے غرور کو جگنو سے جب تلک اُجالا دیا گیا نیزے میں میرا جسم پِرونے کے واسطے مجھ کو فلک کے سمت اُچھالا دیا گیا دیمک زدہ زبانیں، ہوس کے اسیر لوگ مجھ کو تو عہدِ فن بھی نرالا دیا گیا شاید میں شہر کا نہیں جنگل کا ہوں مکین تلوار دی گئی ہے بھالا دیا گیا ہے صحرا تمھاری آنکھ میں کیوں نقش ہو گیا تم کو تو شہر چاہنے والا دیا گیا اک دُکھ کی پروریش کے لیے عمر بھر نثار ایندھن بدن کا، خون کا نوالا دیا گیا
  11. کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیو تُو اس بستی میں رہیو پر نہ رہیو سفر کرنا ہے آخر دو پلک بیچ سفر لمبا ہے بے بستر نہ رہیو ہر اک حالت کے بیری ہیں یہ لمحے کسی غم کے بھروسے پر نہ رہیو ہمارا عمر بھر کا ساتھ ٹھیرا سو میرے ساتھ تُو دن بھر نہ رہیو بہت دشوار ہو جائے گا جینا یہاں تُو ذات کے اندر نہ رہیو سویرے ہی سے گھر آجائیو آج ہے روزِ واقعہ باہر نہ رہیو کہیں چھپ جاؤ تہ خانوں میں جا کر شبِ فتنہ ہے اپنے گھر نہ رہیو نظر پر بار ہو جاتے ہیں منظر جہاں رہیو وہاں اکثر نہ رہیو
  12. ہم کو نہ اب کسی سے کوئی کام رہ گیا دنیا سے ہم چلے گئے بس نام رہ گیا اب پیاس بجھانے کو یاں پانی کے علاوہ مرغوب ہوس اور خون کا جام رہ گیا حا کم تو چھپا بیٹھا ہےپتھر کےقلعوں میں مرنے کو ناحق آدمی بس عام رہ گیا چھوڑا نہ اسپتال،نہ ہی باغ و درسگاہ وحشی بھی دیکھ کے لرزہ بر اندام رہ گیا ہر جنس یہاں آپ ہی بکنے کو ہے راضی مرضی ہے خریدار کی ، یہ دام رہ گیا وعدہ کوئی وفا نہ کیا تو نے ہم سفر آمد کا منتظر کوئی ہر شام رہ گیا دولت کو، محبت کو، شہرت کو، حسن کو سب کو ہی پوجتے ہو، بس اِک رام رہ گیا؟ دِل چاہ کر بھی پا نہ سکا دید یار کی حسرت سے چھو کے تیرے در و بام رہ گیا
×