Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Search the Community

Showing results for tags 'کوئی'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.5
    • Applications 4.5
    • Plugin 4.4 Copy
    • Themes/Ranks Copy
    • IPS Languages 4.4 Copy
  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Categories

  • Islamic
  • WhatsApp Status
  • Funny Videos
  • Movies
  • Songs
  • Seasons
  • Online Channels

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 25 results

  1. کوئی مل ہی جائے گا اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا نہ جانے کب ترے دل پر نئی سی دستک ہو مکان خالی ہوا ہے تو کوئی آئے گا میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوں اگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا
  2. عشق میں ضبط کا یہ بھی کوئی پہلو ہو گا جو میری آنکھ سے ٹپکا، تیرا آنسو ہو گا ایک پَل کو تیری یاد آئے تو مَیں سوچتا ہوُں خواب کے دشت میں بھٹکا ہوُا آہُو ہو گا تجھ کو محسوس کروں، مس نہ مگر کر پاؤں کیا خبر تھی کہ تو اِک پیکرِ خوشبو ہو گا اب سمیٹا ہے تو پھر مُجھ کو ادھُورا نہ سمیٹ زیرِ سر سنگ نہ ہو گا، میرا بازُو ہو گا مجھ کو معلوُم نہ تھی ہجر کی یہ رمز، کہ توُ جب میرے پاس نہ ہو گا تو ہر سُو ہو گا اِس توقّع پہ مَیں اب حشر کے دن گِنتا ہوُں حشر میں، اور کوئی ہو کہ نہ ہو، تُو ہو گا احمد ندیم قاسمی
  3. سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں آئنے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں سب کے سب ہیں اپنے اپنے دائرے کی قید میں دائروں کی حد سے باہر سوچتا کوئی نہیں صرف ماتم اور زاری سے ہی جس کا حل ملے اس طرح کا تو کہیں بھی مسئلہ کوئی نہیں یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد چھو کے ان کو دیکھیے تو واہمہ کوئی نہیں جو ہوا یہ درج تھا پہلے ہی اپنے بخت میں اس کا مطلب تو ہوا کہ بے وفا کوئی نہیں تیرے رستے میں کھڑے ہیں صرف تجھ کو دیکھنے مدعا پوچھو تو اپنا مدعا کوئی نہیں کن‌ فکاں کے بھید سے مولیٰ مجھے آگاہ کر کون ہوں میں گر یہاں پر دوسرا کوئی نہیں وقت ایسا ہم سفر ہے جس کی منزل ہے الگ وہ سرائے ہے کہ جس میں ٹھہرتا کوئی نہیں گاہے گاہے ہی سہی امجدؔ مگر یہ واقعہ یوں بھی لگتا ہے کہ دنیا کا خدا کوئی نہیں
  4. خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں زجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں مگر یہ حوصلۂ مرد ہیچ کارہ نہیں ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں یہیں بہشت بھی ہے، حور و جبرئیل بھی ہے تری نگہ میں ابھی شوخی نظارہ نہیں مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں غضب ہے عین کرم میں بخیل ہے فطرت کہ لعل ناب میں آتش تو ہے شرارہ نہیں
  5. چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ وہ آنکھیں میری ہو جائیں کوئی صوم صلوٰۃ دُرُود بتا کہ وجّد وُجُود میں آ جائے کوئی تسبیح ہو کوئی چِلا ہو کوئی وِرد بتا وہ آن ملے مُجھے جینے کا سامان ملے گر نہیں تو میری عرضی مان مُجھے مانگنے کا ہی ڈھنگ سِکھا کہ اشّک بہیں میرے سجّدوں میں اور ہونٹ تھرا تھر کانپیں بّس میری خاموشی کو بھّید مِلے کوئی حرف ادا نہ ہو لیکن میری ہر اِک آہ کا شور وہاں سرِ عرش مچّے میرے اشکوں میں کوئی رنگ مِلا میرے خالی پن میں پُھول کِھلا مُجھے یار ملا سرکار ملا اے مالک و مُلک، اے شاہ سائیں مُجھے اور نہ کوئی چاہ سائیں مری عرضی مان، نہ خالی موڑ مُجھے مان بہت مرا مان نہ توڑ چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ وہ آنکھیں میری ہوجائیں ۔ کوئی ایسا جادو ٹونہ کر۔ مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو۔ یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔ میں شمع، وہ پروانہ ہو۔ زرا دیکھ کے چال ستاروں کی۔ کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔ جو کر دے بخت سکندر سا کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔ کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے ۔ کوئی ایسا دے تعویز مجھے۔ وہ مجھ پر عاشق ہو جائے۔۔ کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔ مری راہ میں پھول گلاب آئیں۔ کوئی پانی پھوک کے دے ایسا۔ وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔ کوئی ایسا کالا جادو کر جو جگمگ کر دے میرے دن۔ وہ کہے مبارک جلدی آ ۔ اب جیا نہ جائے تیرے بن۔ کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے ۔ جس رہ سے وہ دلدار ملے۔ کوئی تسبیح دم درود بتا ۔ جسے پڑھوں تو میرا یار ملے کوئی قابو کر بے قابو جن۔ کوئی سانپ نکال پٹاری سے کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔ کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔ وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔ کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔ وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔ کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔ اسے لگے میں چاند کے جیسی ہوں ۔ جو مرضی میرے یار کی ہے۔ اسے لگے میں بالکل ویسی ہوں۔ کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔ جو اشک بہا دے سجدوں میں۔ اور جیسے تیرا دعوی ہے محبوب ہو میرے قدموں میں ۔ پر عامل رک، اک بات کہوں۔ یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟ محبوب تو ہے سر آنکھوں پر۔ مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا۔ اور عامل سن یہ کام بدل۔ یہ کام بہت نقصان کا ہے۔ سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ جو مالک کل جہان کا ہے
  6. نہیں خالی رقیب تیرا کوئی بھی وار گیا میں وہ شخص ہوں جو کائنات ہار گیا فصل گل میری زیست کی مرجھاگئی بس خزاں ہے جب سے موسم بہار گیا اک میں ہی نا بن سکا اس کا کبھی وہ میرا ہی رہا جس سمت میرا یار گیا سمجھ پایانہ میری پیار کی سچائی وہ اسے بتلانے میں دنیا سے میں بیمار گیا چین آیا نا مجھے بعد اسکے جانے کے اڑ گئی نیند میری میرا سب قرار گیا اے دنیا چھوڑ اب مجھے میرے حال پر مجھے تو چھوڑ میرا مالک و مختار گیا جڑوں سے کھود کے نکالا گیا ہے مجھکو چھڑایا مجھ سے پھر ہر ایک دوار گیا میری تو عید اسے دیکھنے سے ہوتی تھی بعد اسکے محرم کی طرح ہر تہوار گیا تباہی دیکھنے میری ایک شہر امڈ آیا بڑی ہی دور تک شاید میرا غبار گیا
  7. کو ئی ایسا شبد لکھے کوئی جو دلگیروں کا گیت بنے کوئی لفظ تحمّل والا ھو کوئی بات کہ جیسے ماں بولے جسے سن کر زخم بھریں دل کے جسے چُھو کے رنج نہ ھو کوئی کوئی ایسا شبد لکھے کوئی جو ٹھنڈک ھو، آزار نہ ھو جو جیون بھر کا عطر بنے جو رستہ ھو دیوار نہ ھو کوئی کافی شاہ عنایت سی کوئی رمز بِھٹائی چاھت سی کوئی ھُوک سچل سرمست بھری جس لفظ کی گدڑی کے اندر انسان کی اک پہچان بھی ھو جو پورب پچھم سے آگے بغداد بھی ھو ملتان بھی ھو کوئی ایسا شبد لکھے کوئی جسے پڑھ کر اک حیرانی ھو جسے کھول کے دیکھیں تو اس میں ھر مشکل کی آسانی ھو جو طنز نہ ھو تحقیر نہ ھو کوئی ھو جو ایسا شبد لکھے وہ چاھے سنت فقیر نہ ھو بھلے ناسخ غالب میر نہ ھو پر ھو تو سہی کوئی ایسا کوئی ایسا _____جو یہ شبد لکھے جو دلگیروں کا گیت بنے جو انسانوں کا میت بنے ۔۔
  8. کوئی ایسا جادو ٹونہ کر۔ مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو۔ یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔ میں شمع، وہ پروانہ ہو۔ زرا دیکھ کے چال ستاروں کی۔ کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔ جو کر دے بخت سکندر سا کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔ کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے ۔ کوئی ایسا دے تعویز مجھے۔ وہ مجھ پر عاشق ہو جائے۔۔ کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔ مری راہ میں پھول گلاب آئیں۔ کوئی پانی پھوک کے دے ایسا۔ وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔ کوئی ایسا کالا جادو کر جو جگمگ کر دے میرے دن۔ وہ کہے مبارک جلدی آ ۔ اب جیا نہ جائے تیرے بن۔ کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے ۔ جس رہ سے وہ دلدار ملے۔ کوئی تسبیح دم درود بتا ۔ جسے پڑھوں تو میرا یار ملے کوئی قابو کر بے قابو جن۔ کوئی سانپ نکال پٹاری سے کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔ کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔ وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔ کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔ وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔ کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔ اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں ۔ جو مرضی میرے یار کی ہے۔ اسے لگے میں بالکل ویسا ہوں۔ کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔ جو اشک بہا دے سجدوں میں۔ اور جیسے تیرا دعوی ہے محبوب ہو میرے قدموں میں ۔ پر عامل رک، اک بات کہوں۔ یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟ محبوب تو ہے سر آنکھوں پر۔ مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا۔ اور عامل سن یہ کام بدل۔ یہ کام بہت نقصان کا ہے۔ سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ جو مالک کل جہان کا ہے۔
  9. 🌹 کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا میرے پیار دے وِچ او رنگ جاوے اوتھے دِل دھڑکے، ایتھے جاں جاوے او ھسّے شام نِکھر جاوے اودی زلف توں رات وِکھر جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا اُس ھتھ نال نبظ اے گنڈ جاوے اُس ھتھ نال ھتھ جے مِل جاوے مری دنیا ارش اے ہو جاوے چاہے لکھ وار ہیاتی رُل جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا او شام کہے، دن ڈھل جاوے او گیت کہے دِن چڑھ جاوے اوھدی چال تے ندیا مُڑ جاوے اوھدی اَکھ وِچ ساغر ڈُب جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا مری ذات توں دوری بُھل جاوے او تتلی وانگوں رنگ جاوے کوئی ایسا سجدہ ہو جاوے میں ھتھ چاواں، رَب مَن جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا
  10. پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہے جذبہ عشق سرِ دار مجھے کھینچتا ہے میں محبت کے مضافات کا باشندہ ہوں کیوں ترا شہرِ پُر اسرار مجھے کھینچتا ہے یہ بھی حیرت ہے عجب، خود مری تمثال کے ساتھ آئینہ بھی پسِ دیوار مجھے کھینچتا ہے دم بھی لینے نہیں دیتا ہے مسافت کاجنون پَا برہنہ وہ سرِ خار مجھے کھینچتا ہے پھر کوئی تیر ہدف کرتا ہے مشکیرہ کو پھر کوئی دستِ کماں دار مجھے کھینچتا ہے بولیاں جس کی لگے میں کوئی یوسف تو نہیں کس لئے مصر کا بازار مجھے کھینچتا ہے ہے کوئی گریہ کن حرف پسِ خیمہ جاں پھر کوئی نالہ آزار مجھے کھینچتا ہے تجھ کو معلوم ہے شاہدؔ بھی ہے مغرور بہت کیوں ترا حُسن انادار مجھے کھینچتا ہے
  11. الله سے بهترین دوست کوئی نہیں هے. جو هر وقت موجود رہتا هےبلکه ایسا لگتا هے که منتظر هوتا هے کبهی نہیں کہتا که اب سب نے ٹهکرا دیا تو میں یاد آگیا طے شده ملاقات کے وقت کہاں تهے میں نہیں سن سکتا ابهی میرے پاس وقت نہیں تمهارے درد سننے کے لیے.. میری مانتے هو جو میں تمهاری مانوں میری سنتے هو جو میں تمهاری سنوں جب میں بلاتا هوں تو منه پهیر کے چل پڑتے هو کچھ بهی نہیں کہتا بالکل بهی شکوه نہیں کرتا بس سنتا رہتا هے اور اپنی محبت کی آغوش میں لےکے دل و روح کو سکون سے بهر دیتا هے
  12. ابھی ساون کی کوئی برسات باقی ہے کہ مجھ میں کہیں تری چاہت باقی ہے تو مجھ سا نہیں میں تجھ سا نہیں ہوں پر ایسا لگتا ہے کہیں کچھ بات باقی ہے ترا فسانہ تجھ سےپوچھیں گےلوگ زمانے کے پرمری کہانی میں تو تری ہی ذات باقی ہے سجے ہیں شہر میرے دل میں تیرے لیے کہ جسم کے ہر شہر میں تری رفعت باقی ہے ساون جائے گا تو لے جائے گا سب یادیں مری کہ ساون کی برسات میں ایک راحت باقی ہے ٹھہیر جاؤ تم میرے لیے بعد برسات چلے جانا ابھی شہر سجا ہے میرا ابھی سوغات باقی ہے
  13. سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی !!__ثابت ہوا____ سکون دل و جاں کہیں نہیں رشتوں میں ڈھونڈھتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی !!___ ترک تعلقات___ کوئی مسئلہ نہیں یہ تو وہ راستہ ہے کہ بس چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے میں وہ دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب !!___ میرے خلاف زہر اگلتا پھرے کوئی اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے !!___ یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر !!___ کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی
  14. کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا میرے پیار دے وِچ او رنگ جاوے اوتھے دِل دھڑکے، ایتھے جاں جاوے او ھسّے شام نِکھر جاوے اودی زلف توں رات وِکھر جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا اُس ھتھ نال نبظ اے گنڈ جاوے اُس ھتھ نال ھتھ جے مِل جاوے مری دنیا ارش اے ہو جاوے چاہے لکھ وار ہیاتی رُل جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا او شام کہے، دن ڈھل جاوے او گیت کہے دِن چڑھ جاوے اوھدی چال تے ندیا مُڑ جاوے اوھدی اَکھ وِچ ساغر ڈُب جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا مری ذات توں دوری بُھل جاوے او تتلی وانگوں رنگ جاوے کوئی ایسا سجدہ ہو جاوے میں ھتھ چاواں، رَب مَن جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا
  15. کوئی نالہ یہاں رَسا نہ ہُوا اشک بھی حرفِ مُدّعا نہ ہُوا تلخی درد ہی مقدّر تھی جامِ عشرت ہمیں عطا نہ ہُوا ماہتابی نگاہ والوں سے دل کے داغوں کا سامنا نہ ہُوا آپ رسمِ جفا کے قائل ہیں میں اسیرِ غمِ وفا نہ ہوا وہ شہنشہ نہیں، بھکاری ہے جو فقیروں کا آسرا نہ ہُوا رہزن عقل و ہوش دیوانہ عشق میں کوئی رہنما نہ ہُوا ڈوبنے کا خیال تھا ساغرؔ ہائے ساحل پہ ناخُدا نہ ہُوا (ساغر صدیقی)
  16. کب تلک مدعا کہے کوئی نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی غیرت عشق کو قبول نہیں کہ تجھے بے وفا کہے کوئی منتِ ناخدا نہیں منظور چاہے اس کو خدا کہے کوئی ہر کوئی اپنے غم میں ہے مصروف کس کو درد آشنا کہے کوئی کون اچھا ہے اس زمانے میں کیوں کسی کو برا کہے کوئی کوئی تو حق شناس ہو یارب ظلم کو ناروا کہے کوئی وہ نہ سمجھیں گے ان کنایوں کو جو کہے برملا کہے کوئی آرزو ہے کہ میرا قصہء شوق آج میرے سوا کہے کوئی جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصر کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی دیوان (ناصر کاظمی)
  17. نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیں کیا خبر کب کسی انسان پہ چھت آن گرے قریۂ سنگ ہے اور کانچ کی تعمیریں ہیں لُٹ گئے مفت میں دونوں، تری دولت مرا دل اے سخی! تیری مری ایک سی تقدیریں ہیں ہم جو ناخواندہ نہیں ہیں تو چلو آؤ پڑھیں وہ جو دیوار پہ لکھی ہوئی تحریریں ہیں ہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیل ....جس کے ہاتھوں میں قلم پاؤں میں زنجیریں ہیں
  18. ﮐﯿﺎﻭﺍﻗﻌﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ؟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ۔۔۔۔۔ ﺳﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺧﻮﺷﻨﻤﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﯿﺎﮨﮯ؟؟؟ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ،ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﻂ ﻣﺮﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ،ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻋﺰﯾﺰ ﻭ ﺍﻗﺎﺭﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮ۔۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﮐﺲ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﮐﻮﻥ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ،ﺍﭘﻨﺎﺋﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭩﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ؟؟؟ ﯾﮧ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﻓﻘﻂ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔۔۔۔ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺑﯿﺸﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﮨﻮﻧﮧ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮔﮭﺮﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ، ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻣﮑﻤﻞ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺗﻮ ﺍﺻﻞ ﺟﻤﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ،ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  19. کوئی دن گر زندگانی اور ہے اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاں سوزِ غم ہاۓ نہانی اور ہے بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں پر کچھ اب کے سر گرانی اور ہے دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر کچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے قاطعِ اعمار ہیں اکثر نجوم وہ بلاۓ آسمانی اور ہے ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام ایک مرگِ ناگہانی اور ہے
  20. سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی ثابت ہُوا سکونِ دل و جان نہیں کہیں رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترکِ تعلقات تو کوئی مسئلہ نہیں یہ تو وہ راستہ ہے کہ چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے میں، وہ دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب !!!!میرے خلاف زہر اُگلتا پھرے کوئی اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے !!!!یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے میں اپنی اَنا کا مریض ہوں آخرمیرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی۔ جون ایلیا
  21. اس نہیں کا کوئی علاج نہیں روز کہتے ہیں آپ آج نہیں کل جو تها آج وہ مزاج نہیں اس تلوان کا کچھ علاج نہیں کهوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹهرا در ہم داغ کا رواج نہیں دل لگی کیجئے رقیبوں سے اس طرح کا مرا مزاج نہیں عشق ہے بادشاہ عالم گیر گر چہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں حور سے پوچھتا ہوں جنت میں اس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں صبر بھی دل کو داغ دے لیں گے ابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں داغ دہلوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  22. ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺴﯽ ﮔﮩﺮﯼ ﭼﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﮨﯽ ﻓﻀﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﮑﺴﺖ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺟﻮ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﺑﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﮯ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮕﻨﺆﮞ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﺋﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻩ ﺟﻮ ﺷﺎﻡ ﺷﮩﺮ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺴﯽ ﻟﺐ ﭘﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻭﻩ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻭﺣﺸﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻩ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﻋﮩﺪ ﻧﺸﺎﻁ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﺩ ﭘﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﻏﺮﻭﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﯿﺎ ﻭﻩ ﺟﻮ ﻓﺎﺗﺤﺎﻧﮧ ﺧﻤﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮩﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺳﺖ ﻟﺸﮑﺮ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﺳﺮﺧﺮﻭ ﻣﮧ ﻭ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺲ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ .........ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﻗﺼﮧﺀ ﺣﺎﻝ ﮨﮯ .........ﺟﻮ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﮨﮯ .........ﺟﻮ ..........ﮔﺌﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻼﻝ ﮨﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﮯ ﮐﻮﺋﯽ
  23. یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں یہ درد تو نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں یہی بہت ہے کہ تم دیکھتی ہو ساحل سے کہ سفینہ ڈوب رہا ہے تو کوئی بات نہیں رکھا تھا آئینہ دل میں چھپا کے تم کو وہ گھر چھوڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں تم نے ہی آئینہ دل میرا بنایا تھا تم نے ہی توڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں بالآخر زیست کے قابل بنا ہوں میں بڑی مشکل سے پتھر دل بنا ہوں میں وہ آئے ہیں سراپائے مجسم بن کر میں گھبرا کر مجسمہ دل بنا ہوں جہاں مقتول ہی ٹھہرے ہیں مجرم یہی کچھ سوچ کے قاتل بنا ہوں میں بڑا محتاط ہوں تیری محفل میں تیری جانب سے سو غافل بنا ہوں میں میں کھا کر ٹھوکریں تیری گلیوں کی بڑا مرشد بڑا کامل بنا ہوں میں کوئی سمجھے گا کیا مجھ کو خود اپنے لیے مشکل بنا ہوں میں یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں یہ درد تو نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں
  24. ﺍﺏ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟُﺰ ﺷﺐِ ﺗﻨﮩﺎ، ﺷﺮﯾﮏِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﮩﺮ ﮐﯽ ﺧﺎﻣﺸﯽ ﮐﮯ ﺧﻮﻑ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﺷﮩﺮ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﯾﺎ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﻢ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﺻﺒﺢ ﺗﮏ ﺟﻠﻨﺎ ﺳِﮑﮭﺎ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺷﺎﻡ ﺩﮮ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﺤﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﻞ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﻡ ﻭ ﺩَﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻓﻦ ﮐﯽ، ﻣﺘﺎﻉِ ﻓﻦ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﭘﺘﮭّﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﯿﺸﮧ ﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺩﺭﺩ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺑﻮﻝ ﺍﭨﮭّﮯ ﺳﮑﻮﺕِ ﺷﮩﺮِ ﺟﺎﮞ ﺯﺧﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﮮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
  25. ہم کو نہ اب کسی سے کوئی کام رہ گیا دنیا سے ہم چلے گئے بس نام رہ گیا اب پیاس بجھانے کو یاں پانی کے علاوہ مرغوب ہوس اور خون کا جام رہ گیا حا کم تو چھپا بیٹھا ہےپتھر کےقلعوں میں مرنے کو ناحق آدمی بس عام رہ گیا چھوڑا نہ اسپتال،نہ ہی باغ و درسگاہ وحشی بھی دیکھ کے لرزہ بر اندام رہ گیا ہر جنس یہاں آپ ہی بکنے کو ہے راضی مرضی ہے خریدار کی ، یہ دام رہ گیا وعدہ کوئی وفا نہ کیا تو نے ہم سفر آمد کا منتظر کوئی ہر شام رہ گیا دولت کو، محبت کو، شہرت کو، حسن کو سب کو ہی پوجتے ہو، بس اِک رام رہ گیا؟ دِل چاہ کر بھی پا نہ سکا دید یار کی حسرت سے چھو کے تیرے در و بام رہ گیا
×
×
  • Create New...