Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'کِسی'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 8 results

  1. ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گے مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیں حیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم قدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرح بسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کو کہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم جو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہے اس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم کیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیں انہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا معلوم خدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئی اٹھائی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم ابھی تو فتنے ہی برپا کئے ہیں عالم میں اٹھائیں گے وہ قیامت کسی کو کیا معلوم جناب داغؔ کے مشرب کو ہم سے تو پوچھو چھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم
  2. اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ اے شبِ فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز ہے ہے خدا نہ کرے کہ تجھے بھی رلائیں ہم احمد فراز
  3. کسی نے خداسے عرض کیاکہ اےخدا بہت اچھا ھوتا کہ 4چیزیں ھوتی اور چار چیزیں نہ ھوتی 1::زندگی ھوتی موت نہ ھوتی 2::جنت ھوتی. دوزق نہ ھوتی 3::دولت ھوتی غربت نہ ھوتی 4::صحت ھوتی بیماری نہ ھوتی آواز آہی 1::اگر موت نہ ھوتی. میرا دیدار نہ ھوتا 2::اگر غربت نہ ھوتی. تو میرا شکر کون کرتا 3::اگر دوزق نہ ھوتا تو میرے عزاب سے کون ڑرتا 4::اگر بیماری نہ ھوتی تو. مجھے کون یاد کرتا
  4. کِسی کا درد ہو دِل بے قرار اپنا ہے ہَوا کہِیں کی ہو، سینہ فگار اپنا ہے ہو کوئی فصل مگر زخم کِھل ہی جاتے ہیں سدا بہار دلِ داغدار اپنا ہے بَلا سے ہم نہ پیئیں، میکدہ تو گرم ہُوا بقدرِ تشنگی رنجِ خُمار اپنا ہے جو شاد پھرتے تھے کل، آج چُھپ کے روتے ہیں ہزار شُکر غمِ پائیدار اپنا ہے اِسی لیے یہاں کُچھ لوگ ہم سے جلتے ہیں کہ جی جلانے میں کیوں اِختیار اپنا ہے نہ تنگ کر دلِ مخزوں کو اے غمِ دنیا ! خُدائی بھر میں یہی غم گسار اپنا ہے کہیں مِلا تو کِسی دن منا ہی لیں گے اُسے وہ ذُود رنج سہی ، پھر بھی یار اپنا ہے وہ کوئی اپنے سِوا ہو تو اُس کا شِکوہ کرُوں جُدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے نہ ڈھونڈھ ناصرِ آشفتہ حال کو گھر میں وہ بُوئے گُل کی طرح بے قرار اپنا ہے ناصرکاظمی ………………………………………
  5. کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے کہاں ہو تم کہ یہ دل بےقرار آج بھی ہے وہ وادیاں وہ فضائیں کہ ہم ملے تھے جہاں میری وفا کا وہیں پر مزار آج بھی ہے نا جانے دیکھ کے کیوں ان کو یہ ہوا احساس کہ میرے دل پہ انہیں کا اختیار آج بھی ہے وہ پیار جس کے لیے ہم نے چھوڑ دی دنیا وفا کی راہ میں گھائل وہ پیار آج بھی ہے یقیں نہیں ہے مگر آج بھی یہ لگتا ہے میری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے نہ پوچھ کتنے محبت کے زخم کھائے ہیں کہ جن کو سوچ کر دل سوگوار آج بھی ہے کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے .....کہاں ہو تم کہ یہ دل بےقرار آج بھی ہے
  6. جب زہر کا کسی کو پیالا دیا گیا سقراط کا یا میرا حوالا دیا گیا کیا کیا نہ یاد آئے تھے ہجر کے دُکھ مجھے جب پنچھیوں کو دیس نکالا دیا گیا توڑا ہزار بار شبوں کے غرور کو جگنو سے جب تلک اُجالا دیا گیا نیزے میں میرا جسم پِرونے کے واسطے مجھ کو فلک کے سمت اُچھالا دیا گیا دیمک زدہ زبانیں، ہوس کے اسیر لوگ مجھ کو تو عہدِ فن بھی نرالا دیا گیا شاید میں شہر کا نہیں جنگل کا ہوں مکین تلوار دی گئی ہے بھالا دیا گیا ہے صحرا تمھاری آنکھ میں کیوں نقش ہو گیا تم کو تو شہر چاہنے والا دیا گیا اک دُکھ کی پروریش کے لیے عمر بھر نثار ایندھن بدن کا، خون کا نوالا دیا گیا
  7. کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیو تُو اس بستی میں رہیو پر نہ رہیو سفر کرنا ہے آخر دو پلک بیچ سفر لمبا ہے بے بستر نہ رہیو ہر اک حالت کے بیری ہیں یہ لمحے کسی غم کے بھروسے پر نہ رہیو ہمارا عمر بھر کا ساتھ ٹھیرا سو میرے ساتھ تُو دن بھر نہ رہیو بہت دشوار ہو جائے گا جینا یہاں تُو ذات کے اندر نہ رہیو سویرے ہی سے گھر آجائیو آج ہے روزِ واقعہ باہر نہ رہیو کہیں چھپ جاؤ تہ خانوں میں جا کر شبِ فتنہ ہے اپنے گھر نہ رہیو نظر پر بار ہو جاتے ہیں منظر جہاں رہیو وہاں اکثر نہ رہیو
  8. ہم کو نہ اب کسی سے کوئی کام رہ گیا دنیا سے ہم چلے گئے بس نام رہ گیا اب پیاس بجھانے کو یاں پانی کے علاوہ مرغوب ہوس اور خون کا جام رہ گیا حا کم تو چھپا بیٹھا ہےپتھر کےقلعوں میں مرنے کو ناحق آدمی بس عام رہ گیا چھوڑا نہ اسپتال،نہ ہی باغ و درسگاہ وحشی بھی دیکھ کے لرزہ بر اندام رہ گیا ہر جنس یہاں آپ ہی بکنے کو ہے راضی مرضی ہے خریدار کی ، یہ دام رہ گیا وعدہ کوئی وفا نہ کیا تو نے ہم سفر آمد کا منتظر کوئی ہر شام رہ گیا دولت کو، محبت کو، شہرت کو، حسن کو سب کو ہی پوجتے ہو، بس اِک رام رہ گیا؟ دِل چاہ کر بھی پا نہ سکا دید یار کی حسرت سے چھو کے تیرے در و بام رہ گیا
×