Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'کچھ'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 11 results

  1. ‎نگاہ پھیر کے،،،،،،،، عذرِ وصال کرتے ہیں ‎مجھے وہ الٹی چھری سے حلال کرتے ہیں ‎زبان قطع کرو،،،،،،،،، دل کو کیوں جلاتے ہو ‎اِسی سے شکوہ، اسی سے سوال کرتے ہیں ‎نہ دیکھی نبض، نہ پوچھا مزاج بھی تم نے ‎مریضِ غم کی،،، یونہی دیکھ بھال کرتے ہیں ‎میرے مزار کو وہ ٹھوکوں سے ٹھکرا کر ‎فلک سے کہتے ہیں یوں پائمال کرتے ہیں ‎پسِ فنا بھی،،،، میری روح کانپ جاتی ہے ‎وہ روتے روتے جو آنکھوں کو لال کرتے ہیں ‎اُدھر تو کوئی نہیں جس سے آپ ہیں مصروف ‎اِدھر کو دیکھیے،،،،،،، ہم عرض حال کرتے ہیں ‎یہی ہے فکر کہ ہاتھ آئے تازہ طرزِ ستم ‎یہ کیا خیال ہے،، وہ کیا خیال کرتے ہیں ‎وہاں فریب و دغا میں کمی کہاں توبہ ‎ہزار چال کی،، وہ ایک چال کرتے ہیں ‎نہیں ہے موت سے کم اک جہان کا چکر ‎جنابِ خضر،،،،، یونہی انتقال کرتے ہیں ‎چھری نکالی ہے مجھ پر عدو کی خاطر سے ‎پرائے واسطے،،،،،،،،،،، گردن حلال کرتے ہیں ‎یہاں یہ شوق، وہ نادان، مدعا باریک ‎انھیں جواب بتا کر،،، سوال کرتے ہیں ‎ہزار کام مزے کے ہیں داغ،،،، الفت میں ‎جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
  2. ٹھہرے میرے اشکوں کا کچھ مول تو سہی کچھ تلخ ہی صحیح مگر تو بول تو سہی کیسے لگاؤ گے تم شب ہجر کا حساب بھاری ہے اک اک لمحہ تول تو سہی اچھا ہے وقت رخصت ساتھ رہو گے تم میں پیتا ہوں زہر ابھی تو گھول تو سہی خوب ہے یہ عادت سخن یار کی کھلیں گے اسطرح کچھ پول تو سہی بنا بیٹھا ہے گداگر تیرے در پہ کب سے خواہش ہے کہ جانے کو بول تو سہی بنا لیتا ہے دیوانہ اسے اپنا تکیہ کلام سن لے محبوب کا اک قول تو سہی ہوا کو بنا لے زخم دل کا رازداں عیاز دامن کو تو اپنے کبھی کھول تو سہی
  3. اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا اس جسم کی میں جاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا تو آج میرے گھر میں جو مہماں ہے عید ہے تو گھر کا میزباں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کھولی تو ہے زبان مگر اس کی کیا بساط میں زہر کی دکاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کیا ایک کاروبار تھا وہ ربط جسم و جاں کوئی بھی رائیگاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کتنا جلا ہوا ہوں بس اب کیا بتاؤں میں عالم دھواں دھواں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا دیکھا تھا جب کہ پہلے پہل اس نے آئینہ اس وقت میں وہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا وہ اک جمال جلوہ فشاں ہے زمیں زمیں میں تا بہ آسماں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا میں نے بس اک نگاہ میں طے کر لیا تجھے تو رنگ بیکراں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا گم ہو کے جان تو مری آغوش ذات میں بے نام و بے نشاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا ہر کوئی درمیان ہے اے ماجرا فروش میں اپنے درمیاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا
  4. ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں جو لالچوں سے تجھے ، مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں یہ کون ہے سر ساحل کے ڈوبنے والے سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئے ہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اسکی خیر خبر چلو فراز کوئے یار چل کے دیکھتے ہیں
  5. ٹھہرے میرے اشکوں کا کچھ مول تو سہی کچھ تلخ ہی صحیح مگر تو بول تو سہی کیسے لگاؤ گے تم شب ہجر کا حساب بھاری ہے اک اک لمحہ تول تو سہی اچھا ہے وقت رخصت ساتھ رہو گے تم میں پیتا ہوں زہر ابھی تو گھول تو سہی خوب ہے یہ عادت سخن یار کی کھلیں گے اسطرح کچھ پول تو سہی بنا بیٹھا ہے گداگر تیرے در پہ کب سے خواہش ہے کہ جانے کو بول تو سہی بنا لیتا ہے دیوانہ اسے اپنا تکیہ کلام سن لے محبوب کا اک قول تو سہی ہوا کو بنا لے زخم دل کا رازداں عیاز دامن کو تو اپنے کبھی کھول تو سہی
  6. ﻋﺰﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﭼﺎﮬﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮈﻭﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮬﮯ ﻣﻨﺰﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﮌﻧﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮬﮯ ﺑﮭﻮﻟﻨﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﺶ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﮐُﭽﮫ ﺣﺴﯿﻦ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﯽ ﮐُﭽﮫ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺤﺮﯾﺮﯾﮟ ﭘﺎﺅﮞ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍﮮ ﮬﻮﮞ ﮐﮭﻮﻟﻨﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮬﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﻮﭼﻨﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻣِﻠﺘﺎ ﮬﺮ ﺭﺷﺘﮧ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﮬﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ #ﮐﮧ_ﻋﺰﺗﻮﮞ_ﺳﮯ_ﺑﮍﮪ_ﮐﺮ_ﺗﻮ #ﺍﻭﺭ_ﮐُﭽﮫ_ﻧﮩﯿﮟ_ﮬﻮﺗﺎ‎
  7. پیار کے دیپ جلانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں اپنی جان سے جانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں ہجر کےگہرے زخم ملے تومجھکو یہ احساس ہوا پاگل کو سمجھانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں جان سے پیارے لوگوں سے بھی کچھ کچھ پردہ لازم ہے ساری بات بتانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں خوابوں میں بھی پیا ملن کے سپنے دیکھتے رہتے ہیں نیندوں میں مسکانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں اس جھوٹی نگری میں ہم نے یہی ہمیشہ دیکھا ہے سچی بات بتانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں پیار جنھیں ہو جائے ان کو چین بھلا کب ملتا ہے شب بھر اشک بہانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں اپنی ذات کے اجڑے گلشن سے وہ پیار کہاں کرتے ہیں اوروں کو مہکانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں اس کے عشق میں بھیگ کے واثق ہم کو یہ احساس ہوا دل کی بات میں آنے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
  8. باقی جو کچھ ہے مجھے سخت سزا لگتا ہے میری آنکھوں کو وہی شخص بھلا لگتا ہے اُس کے آنسو بھی مناجات کی صورت ہیں کہ وہ جب بھی روتا ہے مجھے محوِ دعا لگتا ہے خامشی، اُس سے مجھے جوڑے ہوئے رکھتی ہے درمیاں میں کوئی بولے تو بُرا لگتا ہے اور پھر اٹھ ہی گیا اُس کا دعاؤں سے یقیں اب تو وہ شخص خدا سے بھی خفا لگتا ہے لمحہ لمحہ مجھے یاد آتے ہوئے شخص! بتا میں تجھے بھول سکوں گا؟ تجھے کیا لگتا ہے؟
  9. کچھ اور عشق کا حاصل نہ عشق کا مقصود جزانیکہ لطفِ خلشائے نالۂ بے سُود مگر یہ لُطف بھی ہے کچھ حجاب کے دم سے جو اُٹھ گیا کہیں پردہ تو پھر زیاں ہے نہ سُود ہلائے عشق نہ یُوں کائناتِ عالم کو یہ ذرے دے نہ اُٹھیں سب شرارۂ مقصود کہو یہ عشق سے چھیڑے تو سازِ ہستی کو ہرایک پردہ میں ہے نغمہ "ہوالموجُود یہ کون سامنے ہے؟ صاف کہہ نہیں سکتے بڑے غضب کی ہے نیرنگی طلسمِ نمُود اگرخموش رہوں میں، تو تُو ہی سب کچھ ہے جو کچھ کہا، تو تِرا حُسْن ہوگیا محدُود جو عرض ہے، اُسے اشعار کیوں مِرے کہیئے اُچھل رہے ہیں جگر پارہ ہائے خُوں آلوُد نہ میرے ذوقِ طلب کو ہے مدّعا سے غرض نہ گامِ شوق کو پروائے منزلِ مقصُود مِرا وجُود ہی خود انقیاد و طاعت ہے کہ ریشہ ریشہ میں ساری ہے اِک جبِینِ سجُود
  10. کرے دریا نہ پُل مسمار میرے ابھی کچھ لوگ ہیں اُس پار میرے بہت دن گزرے اب دیکھ آؤں گھر کو کہیں گے کیا در و دیوار میرے وہیں سورج کی نظریں تھیں زیادہ جہاں تھے پیڑ سایہ دار میرے وہی یہ شہر ہے، تو اے شہر والو کہاں ہیں کوچہ و بازار میرے تم اپنا حالِ مہجوری سناؤ مجھے تو کھا گئے آزار میرے جنہیں سمجھا تھا جاں پرور میں اب تک وہ سب نکلے کفن بردار میرے گزرتے جا رہے ہیں دن ہوا سے رہیں زندہ سلامت یار میرے دبا جس میں، اُسی پتھر میں ڈھل کر بِکے چہرے سرِ بازار میرے دریچہ کیا کھُلا میری غزل کا ہوائیں لے اُڑیں اشعار میرے
  11. کچھ تو احساسِ زیاں تھا پہلے دل کا یہ حال کہاں تھا پہلے اب تو جھونکے سے لرز اٹھتا ہوں نشّۂ خوابِ گراں تھا پہلے اب تو منزل بھی ہے خود گرمِ سفر ہر قدم سنگِ نشاں تھا پہلے سفرِ شوق کے فرسنگ نہ پوچھ وقت بے قیدِ مکاں تھا پہلے یہ الگ بات کہ غم راس ہے اب اس میں اندیشۂ جاں تھا پہلے یوں نہ گھبراۓ ہوۓ پھرتے تھے دل عجب کنجِ اماں تھا پہلے اب بھی تو پاس نہیں ہے لیکن اس قدر دور کہاں تھا پہلے ڈیرے ڈالے ہیں بگولوں نے جہاں اُس طرف چشمہ رواں تھا پہلے اب وہ دریا، نہ وہ بستی، نہ وہ لوگ کیا خبر کون کہاں تھا پہلے ہر خرابہ یہ صدا دیتا ہے میں بھی آباد مکاں تھا پہلے اُڑ گۓ شاخ سے یہ کہہ کے طیور سرو ایک شوخ جواں تھا پہلے کیا سے کیا ہو گئ دنیا پیارے تو وہیں پر ہے جہاں تھا پہلے ہم نے آباد کیا ملکِ سخن کیسا سنسان سماں تھا پہلے ہم نے بخشی ہے خموشی کو زباں درد مجبورِ فغاں تھا پہلے ہم نے ایجاد کیا تیشۂ عشق شعلہ پتھّر میں نہاں تھا پہلے ہم نے روشن کیا معمورۂ غم ورنہ ہر سمت دھواں تھا پہلے ہم نے محفوظ کیا حسنِ بہار عطرِ گل صرفِ خزاں تھا پہلے غم نے پھر دل کو جگایا ناصر خانہ برباد کہاں تھا پہلے ناصر کاظمی
×