Jump to content

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to create topics, post replies to existing threads, give reputation to your fellow members, get your own private messenger, post status updates, manage your profile and so much more. If you already have an account, login here - otherwise create an account for free today!

Welcome to our forums
Welcome to our forums, full of great ideas.
Please register if you'd like to take part of our project.
Urdu Poetry & History
Here you will get lot of urdu poetry and history sections and topics. Like/Comments and share with others.
We have random Poetry and specific Poet Poetry. Simply click at your favorite poet and get all his/her poetry.
Thank you buddy
Thank you for visiting our community.
If you need support you can post a private message to me or click below to create a topic so other people can also help you out.

Search the Community

Showing results for tags 'کیا'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Categories

  • Islamic
  • Funny Videos
  • Movies
  • Songs
  • Seasons
  • Online Channels

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 31 results

  1. دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے بولتا ہے اس میں کیا وہ بولتا کیا چیز ہے روبرو اس زلف کے دام بلا کیا چیز ہے اس نگہ کے سامنے تیر قضا کیا چیز ہے یوں تو ہیں سارے بتاں غارتگر ایمان و دیں ایک وہ کافر صنم نام خدا کیا چیز ہے جس نے دل میرا دیا دام محبت میں پھنسا وہ نہیں معلوم مج کو ناصحا کیا چیز ہے ہووے اک قطرہ جو زہراب محبت کا نصیب خضر پھر تو چشمۂ آب بقا کیا چیز ہے مرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاج عشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے دل مرا بیٹھا ہے لے کر پھر مجھی سے وہ نگار پوچھتا ہے ہاتھ میں میرے بتا کیا چیز ہے خاک سے پیدا ہوئے ہیں دیکھ رنگا رنگ گل ہے تو یہ ناچیز لیکن اس میں کیا کیا چیز ہے جس کی تجھ کو جستجو ہے وہ تجھی میں ہے ظفرؔ ڈھونڈتا پھر پھر کے تو پھر جا بجا کیا چیز ہے
  2. دُکھ کیا ہوتا ہے؟؟؟ کوئی عورت ساری رات اپنے شوهر سے مار کھا کے اب کسی کے گھر میں صفائی کر رهی هو گی اور اُس گھر کا مالک اُس کو گھور رها هو گا. کسی مدرسے میں سالوں سے دور کوئی بچہ کسی کونے میں بیٹھا اپنی ماں کو یاد کر رها ھو گا اور هچکیاں لیتے رو رها هو گا. کسی سکول میں کوئی بچی آج بھی سکول فیس نہ هونے سبب کلاس سے باهر کھڑی هو گی اور اُس کے آنسو اُس کی روح میں جذب هو رهے هوں گے. کہیں کوئی اپنے صحن میں اپنے پیارے کا جنازہ لئے بیٹھا ھو گا اور اُس سے لپٹ کے خود کو یقین دلا رها هو گا کہ یہ خواب هے. کہیں دور کسی صحرا میں کوئی ریت پہ زبان پھیر کے موت سے لڑ رها ھو گا اور سوچ رها هو گا کہ کہیں کوئی اُس کے حال کو جانتا تک نہ ھو گا. کہیں جیل میں کوئی پردیسی کسی ناکردہ جرم میں سسکتے هوئے اپنوں کے چہروں کو ڈھونڈ رها هو گا اور سوچ رها هو گا کہ اُس کی فاتحہ بھی نہ هو گی. کہیں دور کسی ایمرجنسی میں اپنے باپ کے سرهانے کھڑا بچہ اپنی شفقت کا سایہ سر سے اٹھتے دیکھ رها هو گا. اس وقت بھی کسی گاوُں کی ڈسپنسری میں کوئی ماں اپنے لخت جگر کا سر گود میں رکھے اُس کی زندگی کی سانسیں گن رهی هو گی. کہیں کوئی بھوک سے بلک رها ھو گا اور کہیں کوئی درد سے چیخ رها هو گا. خدا کی تقسیم بھی عجیب هے کہ اسی کا نام نصیب هے دکھ انسان کے اندر بس جاتے ھیں اور پھر وہ انسان اس قدر گہرا هو جاتا هے، کہ کنکر بھی پھینکو تو آواز باهر نہیں آتی بلکہ سناٹا مزید بڑھ جاتا ھے.
  3. ”کچھ عشق کیا ، کچھ کام کیا“ وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے تھے ھم جیتے جی مصروف رھے کچھ عشق کیا ، کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رھا اور عشق سے کام اُلجھتا رھا پھر آخر تنگ آ کر ھم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا ”فیض احمد فیض“
  4. موت کیا ہے سب سے پہلے میری موت پر مجھ سے جو چھین لیا جائے گا وہ میرا نام ہوگا! !! اس لئے جب میں مرجاوں گا تو لوگ کہیں گے کہ" لاش کہاں" ہے؟ اور مجھے میرے نام سے نہیں پکاریں گے ۔۔! اور جب نماز جنازہ پڑھانا ہو تو کہیں گے "جنازہ لےآؤ "!!! میرانام نہیں لینگے ۔۔! اور جب میرے دفنانے کا وقت آجائےگا تو کہیں گے "میت کو قریب کرو" !!! میرانام بھی یاد نہیں کریں گے ۔۔۔! اس وقت نہ میرا نسب اور نہ ہی قبیلہ میرے کام آئے گا اور نہ ہی میرا منصب اور شہرت۔۔۔ کتنی فانی اور دھوکہ کی ہے یہ دنیا جسکی طرف ہم لپکتے ہیں۔۔ پس اے زندہ انسان ۔۔۔ خوب جان لے کہ تجھ پر غم و افسوس تین طرح کا ہوتا ہے : 1۔ جو لوگ تجھے سرسری طور پر جانتے ہیں وہ مسکین کہکر غم کا اظہار کریں گے ۔ 22۔ تیرے دوست چند گھنٹے یا چند روز تیرا غم کریں گے اور پھر اپنی اپنی باتوں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائیں گے ۔ 33۔ زیادہ سے زیادہ گہرا غم گھر میں ہوگا وہ تیرے اہل وعیال کو ہوگا جو کہ ہفتہ، دو ہفتے یا دو مہینے اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک ہوگا ۔ اور اس کے بعد وہ تجھے یادوں کے پنوں میں رکھ دیں گے! !! لوگوں کے درمیان تیرا قصہ ختم ہو جاۓ گا اور تیرا حقیقی قصہ شروع ہو جاۓ گا۔ وہ ہے آخرت کا ۔ تجھ سے چھین گیا تیرا ۔۔۔ 1۔ جمال ۔۔۔ 2۔ مال ۔۔ 3۔ صحت ۔۔ 4۔ اولاد ۔۔ 5۔ جدا ہوگئےتجھ سے مکان و محلات۔ 6۔ بیوی ۔۔۔ 7۔ غرض ساری دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کچھ باقی نہ رہا تیرے ساتھ سوائے تیرے اعمال کے۔ اور حقیقی زندگی کا آغاز ہوا ۔ اب سوال یہاں یہ ہیکہ : تو نے اپنی قبر اور آخرت کے لئے اب سے کیا تیاری کی ہے ؟ یہی حقیقت ہے جسکی طرف توجہ چاہئے ۔۔ اس کے لیے تجھے چاہئے کہ تو اہتمام کرے : 1۔ فرائض کا 2۔ نوافل کا 3۔پوشیدہ صدقہ اور صدقہ جاریہ کا۔۔۔۔۔ 4۔ نیک کاموں کا 5۔ رات کی نمازوں کا شاید کہ تو نجات پاسکے۔ اگر تو نے اس مقالہ سے لوگوں کی یاددہانی میں مدد کی جبکہ تو ابھی زندہ ہے تاکہ اس امتحان گاہ میں امتحان کا وقت ختم ہونے سے تجھے شرمندگی نہ ہو اور امتحان کا پرچہ بغیر تیری اجازت کے تیرے ہاتھوں سے چھین لیا جائے اور تو تیری اس یاددہانی کا اثر قیامت کے دن تیرے اعمال کے ترازو میں دیکھےگا (اور یاددہانی کرتے رہئے بیشک یاددہانی مومنوں کو نفع دیگا) میت صدقہ کو کیوں ترجیح دیتی ہے اگر وہ دنیا میں واپس لوٹا دی جائے۔۔ جیسا کہ قرآن میں ہے۔ *"اے رب اگر مجھے تھوڑی دیر* *کے* *لئے واپس لوٹا دے تو* *میں صدقہ کروں اور نیکوں ** *میں شامل ہو جاؤں** *(سورة المنافقون )* یہ نہیں کہےگا کہ۔۔ عمرہ کروں گا نماز پڑھوں گا روزہ رکھوں گا علماء نے کہا کہ : میت صدقہ کی تمنا اس لئے کریگا کیوں کہ وہ مرنے کے بعد اس کا عظیم ثواب اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اس لئے صدقہ کثرت سے کیا کرو بیشک مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا
  5. ''نور کیا ہوتا ہے؟ تم جانتے ہو؟'' ''نور وہ ہوتا ہے, جو اندھیری سرنگ کے دوسرے سرے پہ نظر آتا ہے, گویا کسی پہاڑ سے گرتا پگھلے سونے کا چشمہ ہو۔'' ''اور کیسے ملتا ہے نور؟'' ''جو الله کی جتنی مانتا ہے, اسے اتنا ہی نور ملتا ہے۔ کسی کا نور پہاڑ جتنا ہوتا ہے, کسی کا درخت جتنا, کسی کا شعلے جتنا اور کسی کا پاؤں کے انگوٹھے جتنا۔ انگوٹھے جتنا نور جو جلتا بجھتا , بجھتا جلتا ہے۔ یہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو کچھ دن بہت دل لگا کر نیک عمل کرتے ہیں اور پھر کچھ دن سب چھوڑ چھاڑ کر ڈپریشن میں گھر کر بیٹھ جاتے ہیں۔'' ''اور انسان کیا کرے کہ اسے آسمانوں اور زمین جتنا نور مل جائے؟'' ''وہ الله کو نہ کہنا چھوڑ دے ۔اسے اتنا نور ملے گا کہ اس کی ساری دنیا روشن ہو جائے گی۔ دل کو مارے بغیر نور نہیں ملا کرتا۔''
  6. ناز بیگانگی میں کیا کچھ تھا حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا لاکھ راہیں تھیں لاکھ جلوے تھے عہد آوارگی میں کیا کچھ تھا آنکھ کھلتے ہی چھپ گئی ہر شے عالم بے خودی میں کیا کچھ تھا یاد ہیں مرحلے محبت کے ہائے اس بیکلی میں کیا کچھ تھا کتنے بیتے دنوں کی یاد آئی آج تیری کمی میں کیا کچھ تھا کتنے مانوس لوگ یاد آئے صبح کی چاندنی میں کیا کچھ تھا رات بھر ہم نہ سو سکے ناصرؔ پردۂ خامشی میں کیا کچھ تھا
  7. جانتے ہو اذیت کیا ہے ؟ وہ جسے ہم اپنی سانسوں کی تسبیح میں پرو چکے ہوں، اسے ہماری تکلیف کا احساس دلانے کے لیے الفاظ کی ضرورت پڑ جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جس کے لیے ہم اپنا سب کچھ چھوڑ چکے ہوں، اسے ہمارے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑے، یہ اذیت ہے.... وہ جو ہمارےایک ،ایک آنسو کو ہیروں کے دام خریدنے کو تیار تھا، اسے ہماری مسلسل کرب ناک چیخوں سے بھی تکلیف نہ ہو، یہ اذیت ہے.... وہ جس کی خاطر ہم اپنی حیات وار چکے ہوں، وہی ہمیں تڑپنے کے لیے اکیلا چھوڑ جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جو ہماری مسکان میں اپنا سکون ڈھونڈتا تھا، وہی ہمارے آنسوؤں کی وجہ بن جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جسے ہمارے لمحے ،لمحے کی فکر رہتی تھی، وہی ہمیں یادوں کے سمندر میں ڈوبنے کو چھوڑ جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جو ہماری ایک جھلک دیکھنے کو پل ،پل مرتے تھے، اسی کے دیدار کو آنکھیں ترس جائیں، یہ اذیت ہے.... وہ جس کا مرہمى لہجہ ہمیں شفا دیتا تھا، وہی مسیحا ہمیں بیمار کر کے چھوڑ جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جس کے عشق میں ہم اپنی انا تک مٹا چکے ہوں، وہی ہمیں ریزہ ،ریزہ بکھیر جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جو ہماری تصویر زندگی میں رنگ بھرتا تھا، وہی اس میں سیاہی بھر جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جسے ہمارے کانٹا چبھنے پر بھی درد محسوس ہوتا تھا، وہی ہماری روح تک کو چھلنی کر جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جس کے ساتھ مل کر مکمل زندگی کے سپنے سجائے، وہی ہماری آنکھوں میں ادھورے سپنوں کی کرچیاں بھر جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جسے پانے کی انتہا میں خود کو کھو دیا، وہی ہمیں پل بھر میں بیگانہ کر جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جو ہمارے قھقھوں کی گونج سے اطمینان حاصل کرتا تھا، اسے ہماری خاموشی بھی نہ ستاۓ، یہ اذیت ہے.... وہ جو ہماری پل بھر کی دوری پر بکھر سا جاتا تھا، وہی ہمیں تمام عمر تنہائی کی سزا کاٹنے کو دے جائے، یہ اذیت ہے.... ہاں یہ اذیت ہے....
  8. محبت کیا ہے____؟؟ چلو تم کو بتاتی ہوں جہاں تک میں سمجھ پائی وہاں تک ہی بتاتی ہوں محبت آسمانوں سے اترتی ایک آیت ہے میرے رب کی عنایت ہے کہیں لے جائے موسیٰ کو تجلی رب کی دکھلانے کہیں محبوب کو عرشوں پہ اپنے رب سے ملوانے کہیں سولی چڑھاتی ہے کسی منصور سرکش کو کہیں یہ بیٹھ کر روتی ہے پھر شبیر بے کس کو لگا کر آگ پانی میں ہوا میں زہر گھولے گی کرے گی رقص شعلوں پر مگر کب بھید کھولے گی کہیں یہ ایڑیاں رگڑے تو زم زم پھوٹ پڑتے ہیں نظر کر دے جو پتھر پر تو پتھر ٹوٹ سکتے ہیں کہیں یہ قیس ہوتی ہے کہیں فرہاد ہوتی ہے کہیں سر سبز رکھتی ہے کہیں برباد ہوتی ہے کہیں رانجھے کی قسمت میں لکھی اک ہیر ہوتی ہے یہ بس تحریر ہوتی ہے کہاں تقدیر ہوتی ہے کہیں ایثار ہوتی ہے کہیں سرشار ہوتی ہے وہیں یہ جیت جاتی ہے جہاں یہ ہار ہوتی ہے محبت دل کی دیواروں سے لپٹی کائی جیسی ہے محبت دل نشیں وادی میں اندھی کھائی سنو تم بھی محبت کو کہیں ہلکا نہیں لینا اگر اپنی پہ آ جائے صحرا نشیں کر دے اٹھا کر آسمانوں سے تمہیں پل میں زمیں کر دے کسی کو دان دیتی ہے کسی کی جان لیتی ہے لکھے گی درد ماتھے پر ستارا کر کے چھوڑے گی
  9. الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے، کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں۔ ۔ ۔ کچھ غلامی۔ ۔ ۔ کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں۔ ۔ ۔ اور کچھ وار۔ ۔ ۔ ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے ۔ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا، تو سمجھا لفظ صرف معنی نہیں رکھتے، یہ تو دانت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ جو کاٹ لیتے ہیں۔ ۔ ۔ یہ ہاتھ رکھتے ہیں، جو گریبان کو پھاڑ دیتے ہیں۔ ۔ ۔ یہ پاؤں رکھتے ہیں، جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں۔ ۔ ۔ اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں لہجہ کا اسلحہ تھما دیا جائے، تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ اپنے لفظوں کے بارے میں محتاط ہو جاؤ، انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو کہ یہ کسی کے وجود کو سمیٹیں گے یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے۔ ۔ ۔ کیونکہ یہ تمہاری ادائیگی کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ ۔ ۔ ۔ *اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے بادشاہ کو جواب دہ بھی۔ ۔ ۔*
  10. ﺑﺘﺎﻭ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﮐﮧ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﭼﻨﺎﻭﺀﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﻓﺎﺋﯿﮟ ﺧﻮﺏ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺗﻢ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺍﺏ ﺳﻮﮒ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﺳﺎ ﺭﻭﮒ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮﮒ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﮒ ﮐﻮ ﺑُﮭﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻋُﻤﺮ ﺑﯿﺖ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺭﻭﮒ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑُﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻮﮒ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﭼﻠﻮ ﺗﻢ ﮨﯽ ﺑﺘﺎﻭ ﺍﺏ۔۔ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺁﺷﻨﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﮔُﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺰﺍ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺑﺘﺎﻭﺀ ﺗﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ
  11. محبت کیا ہے۔؟ ایک طوائف کی بیٹی جوان ہوئی تو ایک دن اپنی ماں سے پوچھنے لگی کہ ’’اماں محبت کیا ہوتی ہے؟؟؟‘‘ طوائف جل کر بولی’’ ہونہہ مفت عیاشی کے بہانے‘‘۔ہمارے ہاں زیادہ تر محبت کی شادیاں‘ نفر ت کی طلاقوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں لیکن پھر بھی دھڑا دھڑ محبتیں اور ٹھکا ٹھک طلاقیں جاری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ محبت سے نفرت کا سفر ایک شادی کی مار ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ لڑکا لڑکی اگر ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جائیں تو ان کی محبت بڑھنے کی بجائے دن بدن کم ہوتی چلی جاتی ہے؟ ایک دوسرے سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محبت کا آغاز خوبصورت اور انجام بھیانک نکلتا ہے؟؟؟ آخرایک دوسرے کی خاطر مرنے کے دعوے کرنے والے ایک دوسرے کو مارنے پر کیوں تل جاتے ہیں؟؟؟ وجہ بہت آسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلبل کا بچہ کھچڑی بھی کھاتا تھا‘ پانی بھی پیتا تھا‘ گانے بھی گاتا تھا‘ لیکن جب اسے اڑایا تو پھر واپس نہ آیا۔ اس لیے کہ محبت آزادی سے ہوتی ہے‘ قید سے نہیں۔ ہمارے ہاں الٹ حساب ہے‘ جونہی کسی لڑکے کو کسی لڑکی سے محبت ہوتی ہے‘ ساتھ ہی ایک عجیب قسم کی قید شروع ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ لڑکیوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں’’شکیل اب تم نے روز مجھے رات آٹھ بجے چاند کی طرف دیکھ کر آئی لو یو کا میسج کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ہم چونکہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے ہیں لہذا ہر بات میں مجھ سے مشورہ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔روز انہ کم ازکم پانچ منٹ کے لیے فون ضرور کرنا۔۔۔۔۔۔۔میں مسڈ کال دوں تو فوراً مجھے کال بیک کرنا۔۔۔۔۔۔۔فیس بک پر روز مجھے کوئی رومانٹک سا میسج ضرور بھیجنا۔۔۔۔۔۔۔!!! لڑکوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔جان! اب تم نے اپنے کسی Male کزن سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔کپڑے خریدتے وقت صرف میری مرضی کا کلر خریدنا۔۔۔۔۔۔۔وعدہ کرو کہ بے شک تمہارے گھر میں آگ ہی کیوں نہ لگی ہو‘ تم میرے میسج کا جواب ضرور دو گی۔۔۔۔۔۔۔جان شاپنگ کے لیے زیادہ باہر نہ نکلاکرو‘ مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔‘‘ محبت کے ابتدائی دنوں میں یہ قید بھی بڑی خمار آلود لگتی ہے‘ لیکن جوں جوں دن گذرتے جاتے ہیں دونوں طرف کی فرمائشیں بڑھتے بڑھتے پہلے ڈیوٹی بنتی ہیں پھر ضد اور پھر انا کا روپ دھار لیتی ہیں اور پھر نفرت میں ڈھلنے لگتی ہیں۔ اسی دوران اگر لڑکے لڑکی کی شادی ہوجائے تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو جاتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں محبت آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے‘ لیکن ہم لوگ اسے مشکلات کا گڑھ بنا دیتے ہیں۔ غور کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں جن سے محبت ہوتی ہے ہم جگہ جگہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘ ہم اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر اس کی فیس دیتے ہیں‘ خود بھوکے بھی رہنا پڑے تو اولاد کے لیے کھانا ضرور لے آتے ہیں‘ لائٹ چلی جائے تو آدھی رات کو اپنی نیند برباد کرکے‘ ہاتھ والا پنکھا پکڑ کر بچوں کو ہوا دینے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہم بے شک جتنے مرضی ایماندار ہوں لیکن اپنے بچے کی سفارش کرنی پڑے تو سارے اصول بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ ساری آسانیاں ہوتی ہیں جو ہم اپنی فیملی کو دے رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہمیں اُن سے محبت ہوتی ہے۔ اسی طر ح جب لڑکے لڑکی کی محبت شروع ہوتی ہے تو ابتداء آسانیوں سے ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اور یہی آسانیاں محبت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں‘ لیکن آسانیاں جب مشکلات اور ڈیوٹی بننا شروع ہوتی ہیں تو محبت ایک جنگلے کی صورت اختیار کرنے لگتی ہے‘ محبت میں ڈیوٹی نہیں دی جاسکتی لیکن ہمارے ہاں محبت ایک فل ٹائم ڈیوٹی بن جاتی ہے‘ ٹائم پہ میسج کا جواب نہ آنا‘ کسی کا فون اٹینڈ نہ کرنا‘ زیادہ دنوں تک ملاقات نہ ہونا ۔۔۔۔۔۔۔ ان میں سے کوئی بھی ایک بات ہو جائے تو محبت کرنے والے شکایتی جملوں کا تبادلہ کرتے کرتے زہریلے جملوں پر اُتر آتے ہیں اور یہیں سے واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ جب کوئی کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو محبت بھی اپنا دامن سکیڑنے لگتی ہے‘ میں نے کہا ناں۔۔۔۔۔۔محبت نام ہی آسانیاں پیدا کرنے کا ہے ‘ ہم اپنے جن دوستوں سے محبت کرتے ہیں ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ بھی چونکہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے‘ اس لیے ان کے لیے جا بجا آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ مجھے محبت میں گرفتار ہونے والے بالکل بھی پسند نہیں‘ محبت گرفتاری نہیں رہائی ہے۔۔۔۔۔۔ٹینشن سے رہائی۔۔۔۔۔۔تنہائی سے رہائی۔۔۔۔۔۔مایوسی سے رہائی۔ لیکن ہمارے معاشرے میں محبت ہوتے ہی ٹینشن ڈبل ہو جاتی ہے اور دونوں پارٹیاں ذہنی مریض بن کر رہ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محبت شروع تو ہو جاتی ہے لیکن پوری طرح پروان نہیں چڑھ پاتی۔ لیکن جہاں محبت اصلی محبت کی شکل میں ہوتی ہے وہاں نہ صرف پروان چڑھتی ہے بلکہ دن دوگنی اور’’رات‘‘ چوگنی ترقی بھی کرتی ہے۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں محبت سے مراد صرف جنسی تعلق لیا جاتا ہے‘ یہ محبت کا ایک جزو تو ہوسکتا ہے لیکن پوری محبت اس کے گرد نہیں گھومتی‘ بالکل ایسے جیسے کسی اسلم کا ایک ہاتھ کاٹ کر الگ کر دیا جائے تو اُس کٹے ہوئے ہاتھ کو کوئی بھی اسلم نہیں کہے گا‘ اسلم وہی کہلائے گا جو جڑے ہوئے اعضاء رکھتا ہوگا۔ ویسے بھی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ساری محبت کا انحصار چند لمحوں کی رفاقت کو قرار دے دیا جائے۔ محبت زندان نہیں ہوتی‘ حوالات نہیں ہوتی‘ جیل نہیں ہوتی‘ بند کمرہ نہیں ہوتی‘ کال کوٹھڑی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔محبت تو تاحد نظر ایک کھلا میدان ہوتی ہے جہاں کوئی جنگلے‘ کوئی خاردار تاریں اور کوئی بلند دیواریں نہیں ہوتیں۔ آپ تحقیق کر کے دیکھ لیجئے‘ جہاں محبت ناکام ہوئی ہوگی وہاں وجوہات یہی مسائل بنے ہوں گے۔ ہر کوئی اپنی محبت جتلاتا ہے اور دوسرے کو بار بار یہ طعنے مارتا ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ محبت کی نہیں جاتی‘ ہو جاتی ہے۔ غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔محبت کی ایک چھوٹی سی کونپل دل میں از خود ضرور پھوٹتی ہے لیکن اسے تناور درخت بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ وہ محبت کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جہاں شکوے ‘شکایتیں اور طعنے شامل ہو جائیں۔ ایسے لوگ بدقسمت ہیں جو محبت کرنا نہیں جانتے لیکن محبت کر بیٹھتے ہیں اور پھر دوسرے کو اتنا بددل کر دیتے ہیں کہ وہ محبت سے ہی انکاری ہو جاتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محبت کی شادی کرنے والے اکثر جوڑوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اس رستے پر نہ چلے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم میں سے اکثر نے صرف محبت کا نام سنا ہے‘ اس کے تقاضوں سے واقف نہیں۔ ہمیں کوئی پسند آجائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس سے محبت ہو گئی ہے۔ پسند آنے اور محبت ہونے میں بڑا فرق ہے‘ کسی کو پسند کرنا محبت نہیں ہوتا لیکن محبت تک پہنچنے کے لیے پہلا زینہ ضرور ہوتا ہے۔ میں نے بے شمار لوگوں کو انا کے خول میں لپٹے محبت کرتے دیکھا ہے‘ یہ محبت میں بھی اپنی برتری چاہتے ہیں‘ ان کے نزدیک محبت میں بھی سٹیٹس ہوتا ہے‘ حالانکہ محبت میں تو محمود و ایاز کی طرح ایک ہونا پڑتا ہے‘ رہ گئی بات انا کی ‘ تو یہ وقتی سکون تو دے دیتی ہے لیکن اِس کمبخت کے سائڈ ایفیکٹس بہت ہیں!! انا کی جنگ میں ہم جیت تو گئے لیکن پھر اُس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے
  12. ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گے مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیں حیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم قدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرح بسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کو کہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم جو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہے اس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم کیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیں انہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا معلوم خدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئی اٹھائی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم ابھی تو فتنے ہی برپا کئے ہیں عالم میں اٹھائیں گے وہ قیامت کسی کو کیا معلوم جناب داغؔ کے مشرب کو ہم سے تو پوچھو چھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم
  13. بزمِ یاراں میں کیا گل کھلائے گئے ہر قَبا پر ستارے سجائے گئے اتفاقاً کوئی قصر تاریک تھا انتقاماً کئی گھر جلائے گئے جن کی لَو خنجروں سے ذرا تیز تھی وہ دیے شام ہی سے بُجھائے گئے اپنی صورت بھی اک وہم لگتی ہے اب اتنے آئینے مجھ کو دکھائے گئے شہرِ دل پر مسلط رہیں ظلمتیں دشتِ ہستی میں سورج اُگائے گئے کیا غضب ہے کہ جلتے ہوئے شہر میں بجلیوں کے فضائل سنائے گئے دل وہ بازار ہے جانِ محسنؔ، جہاں کھوٹے سکے بھی اکثر چلائے گئے
  14. سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی !!__ثابت ہوا____ سکون دل و جاں کہیں نہیں رشتوں میں ڈھونڈھتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی !!___ ترک تعلقات___ کوئی مسئلہ نہیں یہ تو وہ راستہ ہے کہ بس چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے میں وہ دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب !!___ میرے خلاف زہر اگلتا پھرے کوئی اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے !!___ یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر !!___ کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی
  15. اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ اے شبِ فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز ہے ہے خدا نہ کرے کہ تجھے بھی رلائیں ہم احمد فراز
  16. کس لئے رقص دکھاتا ہوں مجھے کیا معلوم میں تو بس وقفِ تماشا ہوں مجھے کیا معلوم کیسا ہنگامہ برابر کے مکاں میں ہے مقیم میں تو خود شور میں رہتا ہوں مجھے کیا معلوم کون رہتا ہے مرے دل کے نہاں خانے میں کس کے دل کی میں تمنّا ہوں مجھے کیا معلوم ایک خورشید سے منسوب ہیں دن رات مرے دھوپ ہوں یا کوئی سایہ ہوں مجھے کیا معلوم مجھ میں آباد ہے بچھڑی ہوئی یادوں کا ہجوم لوگ کہتے ہیں میں تنہا ہوں مجھے کیا معلوم کوئی رُت ہو مری تقدیر ہے بہتے رہنا وقت ہوں، اشک ہوں، دریا ہوں مجھے کیا معلوم
  17. دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا وہ ستم گر بھی مگر سوچے کسی پل ملنا واں نہیں وقت توہھم بھی ہیں عدیم الفرصت اس سے کیا ملئے جو ہر روز کہے ،کل ملنا عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم شہر کی سوچ میں ہو اور اسے جنگل ملنا اسکا ملنا ہے عجب طرح کا ملنا جیسے دشتِ امید میں اندیشے کا بادل ملنا دامنِ شب کو اگر چاک بھی کر لیں توکہاں نور میں ڈوبا ہوا صبح کا آنچل ملنا
  18. تم کیا جانو محبت کے... "م" کا مطلب مل جائے تو معجزہ نہ ملے تو موت. تم کیا جانو محبت کے... "ح" کا مطلب مل جائے تو حکومت نہ ملے تو حسرت تم کیا جانو محبت کے... "ب" کا مطلب مل جائے تو بھادری نہ ملے تو بلا تم کیا جانو محبت کے.... "ت" کا مطلب مل جائے تو تخت وتاج نہ ملے تو تنھائی
  19. کوکا کولا پینے کے بعد پہلے ایک گھنٹے میں کیا ہوتا ہے؟ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کوکا کولا انتہائی شوق سے پیتی ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کوکا کولا پینے کے بعد پہلے ایک گھنٹے میں آپ کے جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ اور اس کے کتنے منفی اثرات ہیں؟ صحت کی ایک ویب سائٹ The Renegade Pharmacist نے اس حوالے سے چند ایسے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جن سے لوگ آج تک ناواقف تھے- پہلے 10 منٹ: کوکا کولا میں موجود 10 چائے کے چمچ چینی آپ کے جسمانی نظام پر براہ راست اثر انداز ہوگی- تاہم آپ کے فوراً قے نہیں آئے گی کیونکہ اس مشروب میں موجود فاسفورک ایسڈ چینی کے ذائقے میں کمی واقع کردیتا ہے جس سے اتنی بھاری مقدار میں پایا جانے والا میٹھا بھی با آسانی سے آپ کے جسم میں حل ہوجاتا ہے- یہ تمام کام کوکا کولا پینے کے پہلے 10 منٹ میں انجام پا جاتے ہیں- پہلے 20 منٹ: کوکا کولا پینے بعد پہلے 20 منٹ میں آپ کے خون میں موجود شوگر کی سطح میں اس حد تک اضافہ ہوجاتا ہے کہ جس کی وجہ سے آپ کے جسم میں موجود انسولین کو خاص مقدار کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور یہ پورے جسم کے لیے نقصان دہ ہوجاتا ہے- دوسری جانب آپ کا جگر جسم موجود شوگر کو اضافی چربی میں تبدیل کرنا شروع کردیتا ہے- پہلے 40 منٹ: کوکا کولا میں پایا جانے والا کیفین آپ کے خون میں مکمل طور پر شامل ہوجاتا ہے- جس کی وجہ سے آپ کے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوجاتا ہے اور خون میں اضافی شوگر کی وجہ سے آپ کے جگر کے نظام میں بےقاعدگی پیدا ہوجاتی ہے- اس کے علاوہ دماغ کو موصول ہونے والے سگنلز میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے- پہلے 45 منٹ: کوکا کولا پینے کے بعد پہلے 45 منٹ میں آپ کے جسم میں موجود کیمیکل جسے dopamine کہا جاتا ہے٬ کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے- اس کیمیکل کا تعلق دماغ سے ہوتا ہے اور اضافی پیداوار دماغ کو نقصان پہنچاتی ہے- یہ سب سے ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ہیروئن کا نشہ کر رکھا ہو- 60 منٹ میں: کوکا کولا میں موجود فاسفورک ایسڈ آپ کی زیریں آنتوں میں کیلشیم٬ میگنیشم اور زنک کو ایک جگہ اکھٹا کردیتا ہے- جس کی وجہ سے آپ کا میٹابولزم کو بڑھا دیاتا ہے- اضافی شوگر اور مصنوعی میٹھے کی وجہ سے بننے والا یہ مرکب آپ کے مثانے پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے- اور آپ کے پیشاب کے ساتھ اضافی کیلشیم بھی خارج ہوجاتا ہے- 60 منٹ بعد: کوکا کولا پینے کے ایک گھنٹے کے بعد پیشاب کے ذریعے آپ کے جسم سے کیلشیم٬ میگنیشم٬ زنک٬ سوڈیم٬ پانی اور الیکٹرو لائٹ کی وہ مقدار بھی خارج ہوجاتی ہے جس کی آپ کے جسم کو ضرورت ہوتی ہے- مزید نقصانات: کوکا کولا کی وجہ سے شوگر کی سطح میں ہونے والا اضافہ آپ کی طبعیت میں چڑچڑا پن اور اکتاہٹ پیدا کرسکتا ہے - اس کے علاوہ آپ کے دانتوں اور ہڈیوں کو کمزور بنا سکتا ہے اور ساتھ ہی آپ کے جسم میں پانی کی کمی بھی پیدا ہوسکتی ہے-
  20. سفرِ زیست میں پائی ہیں رفعتیں کیا کیا سر شام یاد آجاتی ہیں محبتیں کیا کیا خط ، کلام ، سلام ، شاعری ، غزلیں اُن سے منسوب تھی میری عادتیں کیا کیا ڈال کے جھیل میں پاوں عکس چاند گہنانا ہماری آنکھ نے دیکھی کرامتیں کیا کیا ہمارے واسطے وا رکھنی گھر کی پچھلی کھڑکی پائیں اس عشق میں ہم نے سعادتیں کیا کیا خیال آیا تھا اُن کو بے وفا کہہ لیں ....دل چلا آیا ولی دینے شہادتیں کیا کیا
  21. دوست کیا خوب وفاوں کا صلہ دیتے ہیں ہر موڑ پر اک زخم نیا دیتے ہیں تم سے تو خیر گھڑی بھر کی ملاقات رہی لوگ صدیوں کی رفاقت کو بھلا دیتے ہیں کیسے ممکن ہے کہ دھواں بھی نہ ہو اور دل بھی جلے چوٹ پڑتی ہے تو پتھر بھی صدا دیتے ہیں کون ہوتا ہے مصیبت میں کسی کا اے دوست آگ لگتی ہے تو پتے بھی ہوا دیتے ہیں جن پہ ہوتا ہے بہت دل کو بھروسہ "تابش" وقت پڑنے پہ وہی لوگ دغا دیتے ہیں دوست کیا خوب وفاوں کا صلہ دیتے ہیں
  22. وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی سے کسی کو مگر جدا نہ کرے سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے قتیل جان سے جائے پر التجا نہ کرتے
  23. ﮐﯿﺎ ﻋﺸﻖ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﺎﻋﺚِ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﯾﺎﺭﻭ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﮩﺮ ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺑﻦ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﻣﻞ ﮔﺌﮯ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺕ ﺟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﺳﺖِ ﺣﻨﺎﺋﯽ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺷﮩﻨﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﯽ ﻭﺟﮧِ ﺷﻨﺎﺳﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﭘﺎﯾﺎ ﻧﮧ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﻭﺍﺭﮔﯽ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﺻﺤﺮﺍ ﺳﻤﭧ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﮧ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﻭﮦ ﻣﺮﮮ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﭘﯿﮑﺮِ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﻮ ﺭﻭﺯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺪﮔﻤﺎﮞ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﻤﻨﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻗﺘﯿﻞؔ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﺮﺟﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ قتیل شفائی
  24. فارحہ کیا بہت ضروری ہے ہرکسی شعر ساز کو پڑھنا؟ کیا مری شاعری میں کم ہے گداز؟؟ کیا کسی دل گداز کو پڑھنا یعنی میر ے سوا بھی اور کسی شاعرِ دل نواز کو پڑھنا کیا کسی اور کی ہو تم محبوب ؟؟ یوں کسی فن طراز کو پڑھنا حد ہے، خود تم کو بھی نہیں آیا اپنے قرآنِ ناز کو پڑھنا ؟؟ یعنی خود اپنے ہی کرشموں کی داستانِ دراز کو پڑھنا ٹھیک ہے گر تمھیں پسند نہیں اپنی رودادِ راز کو پڑھنا واقعی تم کو چاہیے بھی نہیں مجھ سے بے امتیاز کو پڑھنا کیوں تمھاری انا قبول کر ے؟؟ مجھ سے اک بے نیازکو پڑھنا میر ے غصے کے بعد بھی تم نے نہیں چھوڑا مجازکو پڑھنا (جون ایلیاء)
  25. عمر گزرے گی امتحان میں کیا داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا مری ہر بات بے اثر ہی رہی نَقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا خود کو دنیا سے مختلف جانا آگیا تھا مرے گمان میں کیا ہے نسیمِ بہار گرد آلود خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا یوں جو تکتا ہے آسمان کو تُو کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا جون ایلیا
×
×
  • Create New...