Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'گئی'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 8 results

  1. درویشیں ہار گئی ہوں درویشا میں خالی درویشا میں ہار گئی ہوں دنیا کالی میں اندر سے خالم خالی درویشا کوئی ٹونا ، ورد وظیفہ کر مجھے "م" کرے منظور مجھے کوئی جاچ سکھا مرا لوں لوں گھنگرو بن جاوے مجھے ناچ سکھا مجھے ایسا ناچ سکھا دے روح نماز قضا نہ کر پاوے من یار قضا نہ کر پاوے یہ کالی دنیا لاکھ کرے تدبیر فقیر سے یار جدا نہ کر پاوے مرے درویشا تجھے واسطہ تیرے نینوں کا جہاں "م" نے ڈیرا ڈالا ہے ترے دھو دھو پیر پیوں مجھ کو اُن "مَازَاْغَ البَصَرِیْ" نینوں کا بس اک جام پلا دے میں اس دنیا ورگی کالی وے درویشا میں اندر سے خالم خالی ، نین سوالی وے میں ہاری تیرے در پر جیتنے آگئی بھر دے پیاسی روح کی پیالی میرے خالی پن کو "م" کے رنگ سے بھر دے وے درویشا تو چمکیلا روشن ، پیارا ، رنگ رنگیلا دنیا کالی اور اک میں اندر سے خالی..!
  2. کسی سے کی گئی بھلائی ، بری موت سے بچاتی ہے سعودی عرب کے ایک بزنس مین نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص اس سے کہہ رہا ہے کہ : " تمہاری کمپنی کے آفس کے مین گیٹ کے سامنے فلاں شخص جو پھل بیچتا ہے اس کو عمرہ کرا دو ... " نیند سے بیدار ہوا تو اسے خواب اچھی طرح یاد تھا، مگر اس نے وہم جانا اور خواب کو نظر انداز کردیا ، تین دن مسلسل ایک ہی خواب نظر آنے کے بعد وہ شخص اپنے علاقے کی جامع مسجد کے امام کے پاس گیا اور اسے خواب سنایا۔ امام مسجد نے کہا : " اس شخص سے رابطہ کرو، اور اسے عمرہ کروا دو ... " اگلے روز اس شخص نے اپنی اس کمپنی کے ایک ملازم سے اس پھل فروش کا نمبر معلوم کرنے کو کہا ، بزنس مین نے فون پر اس پھل فروش سے رابطہ کیا اور کہا کہ : " مجھے خواب میں کہا گیا ہے کہ میں تمہیں عمرہ کرواوٴں، لہذا میں اس نیک کام کی تکمیل کرنا چاہتا ہوں ... " پھل فروش زور سے ہنسا اور کہنے لگا : " کیا بات کرتے ہو بھائی ...؟ میں نےتو مدت ہوئی کبھی فرض نماز ادا نہیں کی اور بعض اوقات شراب بھی پیتا ہوں ... تم کہتے ہو کہ تم مجھے عمرہ کروانا چاہتے ہو ...! " بزنس مین اصرار کرنے لگا، اور اسے سمجھایا کہ : " میرے بھائی! میں تمہیں عمرہ کروانا چاہتا ہوں، سارا خرچ میرا ہوگا ... " خاصی بحث اور تمہید کے بعد آدمی اس شرط پر رضامند ہوا کہ : " ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ عمرہ کرونگا، مگر تم مجھے واپس ریاض میرے گھر لیکر آوٴ گے، اور تمام تر اخرجات تمہارے ہی ذمہ ہونگے ... " وقتِ مقررہ پر جب وہ ایک دوسرے کو ملے تو بزنس مین نے دیکھا کہ ، واقعی وہ شکل وصورت سے کوئی اچھا انسان نہیں دکھائی دیتا تھا، اس کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ شرابی ہے اور نماز کم ہی پڑھتا ہے۔ اسے بڑا تعجب ہوا کہ یہ وہ ہی شخص ہے جسے عمرہ کرنے کے لئے خواب میں تین مرتبہ کہا گیا ...! دونوں مکہ مکرمہ عمرہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ میقات پر پہنچے تو انہوں نے غسل کر کے احرام باندھا اور حرم شریف کی طرف روانہ ہوئے ، انہوں نے بیت اللّٰہ کا طواف کیا۔ مقامِ ابرہیم پر دو رکعت نماز ادا کی، صفا و مرہ کے درمیان سعی کی۔ اپنے سروں کو منڈوایا اور اس طرح عمرہ مکمل ہو گیا۔ اب انھوں نے واپسی کی تیاری شروع کر دی۔ حرم سے نکلنے لگے تو پھل فروش بزنس مین سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا : '' دوست حرم چھوڑنے سے پہلے میں دو رکعت نفل ادا کرنا چاہتا ہوں، نجانے دوبارہ عمرہ کی توفیق ہوتی بھی ہے یا نہیں ... '' اسے کیا اعتراض ہوتا اس نے کہا : '' نفل پڑھو اور بڑے شوق سے پڑھو ... " اس نے اس کے سامنے نفل ادا کرنے شروع کر دئیے۔ جب سجدہ میں گیا تو اس کا سجدہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا ، جب کافی دیر گزرگئی تو بزنس مین نے اسے ہلایا ، جب کوئی حرکت نہیں ہوئی تو اس پر انکشاف ہوا کہ پھل فروش کی روح حالتِ سجدہ ہی میں پرواز کرچکی تھی۔ پھل فروش کی موت پر اسے بڑا رشک آیا اور وہ رو پڑا کہ : " یہ تو حسنِ خاتمہ ہے، کاش! ایسی موت میرے نصیب میں ہوتی، ایسی موت تو ہر کسی کو نصیب ہو ... " وہ اپنے آپ سے ہی یہ باتیں کر رہا تھا ، اس خوش قسمت انسان کو غسل دیا گیا، اور احرام پہنا کر حرم میں ہی اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ہزاروں فرزندان اسلام نے اس کا جنازہ پڑھا اور اس کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی ...! اس دوران اس کی وفات کی اطلاع ریاض اسکے گھر والوں کو دی جا چکی تھی، بزنس مین نے اپنے وعدے کے مطابق اس کی میت کو ریاض پہنچا دیا، جہاں اسے دفن کر دیا گیا۔ بزنس مین نے پھل فروش کی بیوہ سے تعزیت کرنے کے بعد کہا : '' میں جاننا چاہتا ہوں کہ تمہارے شوہر کی ایسی کونسی عادت یا نیکی تھی کہ اس کا انجام اس قدر عمدہ ہوا اور اسے حرمِ میں سجدہ کی حالت میں موت آئی ... ؟ " بیوہ نے کہا : " بھائی! میرا خاوند کوئی نیک و کار آدمی تو نہیں تھا اور اس نے ایک لمبی مدت سے نماز روزہ بھی چھوڑ رکھا تھا، میں اسکی کوئی خاص خوبی بیان تو نہیں کر سکتی، ہاں ...! مگر اس کی ایک عادت یہ ضرور تھی کہ ، وہ ہمارے ہمسایہ میں ایک غریب بیوہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کیساتھ رہتی ہے، 'میرا شوہر روزانہ بازار جاتا تو جو چیز اپنے بچوں کے لئے کھانے پینے کی لاتا وہ اس بیوہ اور اس کے یتیم بچوں کیلئے بھی لے آتا ، اور اس کے دروازے پر رکھ کر اسے آواز دیتا کہ : " اے بہن! میں نے کھانا باہر رکھ دیا ہے، اسے اٹھا لو ... " یہ بیوہ عورت کھانا اٹھاتی اور آسمان کی جانب سر اٹھا کر دیکھتی اور کہتی : " اے اللہ رب العزت! آج پھر اس شخص نے میرے بھوکے بچوں کو کھانا کھلایا ... اے اللہ رب العزت! اس کا خاتمہ ایمان پر فرما ... '' میرے محترم و مکرم قارئین کرام حاصل کلام یہ کہ، زندگی تو جیسے تیسے بحرحال گزر ہی جانی ہے ، لیکن جس قدر ممکن ہو، اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کی مدد کرتے رہا کیجیئے، کیونکہ ایک حدیث کا مفہوم بھی ہے کہ : " کسی سے کی گئی بھلائی ، بری موت سے بچاتی ہے ... " اللہ تعالٰی ہم تمام مسلمانان عالم کو ہر طرح کی برائیوں سے اپنی پناہ میں محفوظ فرما کر اپنے مسکین و یتیم و بیوہ اور ہر ضرورت مند کی ریاکاری سے پاک امداد کرنے کی سعادت فرماتے ہوئے عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے، اور ہم سب کا بھی خاتمہ ٹھیک اسی طرح بالخیر فرمائے ... آمین ثم آمیــــــــــــــن یارب العالمین ..
  3. اِک سوچ عقل سے پھسل گئی مجھے یاد تھی کےبدل گئ میری سوچ تھی کے وہ خواب تھا میری زندگی کا حساب تھا میری جستجو کے بر عکس تھی میری مشکلوں کا وہ عکس تھی مجھے یاد ہو تو وہ سوچ تھی جو نہ یاد ہو تو گُمان تھا مجھے بیٹھے بیٹھے گُماں ہوا گُماں نہیں تھا وہ خُدا تھا میری سوچ نہیں تھی-خُدا تھا وہ وہ خُدا کے جس نے زباں،دِل دیا جان دی وہ زباں کے جسے نا چلا سکیں وہی دِل جسے نا منا سکیں وہی جاں جسے نا لگا سکیں کبھی مل تو تُجھے بتا ئیں ہم تُجھے اس طرح سےستائیں ہم تیرا عشق تُجھ سے چھین کر تُجھے مے پِلا کے رُلائیں ہم تُجھ درد دوں تو نہ سہے َسکے تُجھے دوں زُباں تو نا کہے سَکے تُجھے دوں مکاں تو نہ رہے سَکے تُجھے مشکلوں میں گِھرا کر میں کوئی ایسا رستا نکال دوں تیرے درد کی میں دوا کروں کسی غرض کے میں سوّا کروں تُجھے ہر نظر پے عُبور دوں تُجھے زندگی کا شعور دوں کبھی مل بھی جائیں گے غم نہ کر ہم گر بھی جائیں گے غم نہ کر تیرے ایک ہونے میں شَک نہیں میری نِیّتوں کو تُو صاف کر تیری شان میں بھی کَمّی نہیں میرے اس کلام کو تُو معاف کر.. علی ہمدانی
  4. آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی بُجھ گیا دل ــ چراغ جلتے ہی کُھل گئے شہرِ غم کے دروازے اِک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی کون تھا تُو ـ ـ کہ پھر نہ دیکھا تُجھے مِٹ گیا خواب ــ آنکھ ملتے ہی خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے ماہِ شب تاب کے نکلتے ہی تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے عکسِ دیوار کے بدلتے ہی خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میں چڑھ گیا زہر ــ گل مسلتے ہی
  5. وہ گھر بتاتے ہوئے ڈر گئی مرے بارے پھر آج اُس نے انگوٹھی کہیں چھپا لی ہے پرانی ڈائری اک، آج شب نکالی ہے اسے پڑھا ہے تری یاد بھی منا لی ہے لگا چکا ہے ستاروں کو آج باتوں میں وہ تیری بات ترے چاند نے گھما لی ہے تُو اپنی تلخ زباں اس پہ جھاڑتا کیوں ہے؟ ارے یہ ماں ہے، بہت پیار کرنے والی ہے فقیر لوگ عجب بادشاہ ہوتے ہیں کہ کائنات ہے مٹھی میں، جیب خالی ہے وہ گھر بتاتے ہوئے ڈر گئی مرے بارے پھر آج اُس نے انگوٹھی کہیں چھپا لی ہے یہ تم سدا کے لئے اب بچھڑ رہے ہو کیا؟ نہیں؟ تو پھر مِری تصویر کیوں بنا لی ہے؟
  6. یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے بچھڑ کے مجھ سے کبھی تونے یہ بھی سوچا ہے کہ ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختم وصل کا لمحہ ہے ، رائگاں نہ سمجھ کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے کچھ اور دیر نہ جھڑنا اداسیوں کے شجر کسے خبر کہ ترے سائے میں کون بیٹھا ہے یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے میں کس طرح تجھے دیکھوں ، نظر جھجکتی ہے ترا بدن ہے یہ کہ آئینوں کا دریا ہے ؟ میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہوا سا رہتا ہوں کبھی کبھی تونے مجھے ٹھیک سمجھا ہے مجھے خبر ہے کہ کیا ہے جدائیوں کا عذاب میں نے شاخ سے گل کو بچھڑتے دیکھا ہے میں مسکرا بھی پڑا ہوں تو کیوں خفا ہیں لوگ کہ پھول ٹوٹی ہوئی قبر پر بھی کھلتا ہے اسے گنوا کہ میں زندہ ہوں اس طرح محسن کہ جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتا ہے محسن نقوی
  7. حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی شوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی ایک ہی حادثہ تو ہے، اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی بعد بھی تیرے جانِ جاں، دل میں رہا عجب سماں یاد رہی تری یہاں، پھر تری یاد بھی گئی صحنِ خیالِ یار میں، کی نہ بسر شبِ فراق جب سے وہ چاندنہ گیا، جب سے وہ چاندنی گئی اس کے بدن کو دی نمود، ہم نے سخن میں اور پھر اس کے بدن کے واسطے، ایک قبا بھی سی گئی اس کی امیدِ ناز کا، ہم سے یہ مان تھا کہ آپ عمر گزار دیجیے، عمر گزار دی گئی اس کے وصال کے لیے، اپنے کمال کے لیے حالتِ دل کہ تھی خراب، اور خراب کی گئی تیرا فراق جانِ جاں، عیش تھا کیا مرے لیے یعنی ترے فراق میں، خوب شراب پی گئی اس کی گلی سے اٹھ کے میں، آن پڑا تھا اپنے گھر ایک گلی کی بات تھی، اور گلی گلی گئی جون ایلیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  8. بڑی دلچسپ غفلت ہو گئی ہے اچانک ان سے الفت ہو گئ ہے غم جاناں بھی گو اک حادثہ ہے غم دوراں سے فرصت ہو گئی ہے تمہیں کچھ علم ہے کہتی ہے دنیا مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے کسی نے سانس لی تھی ایک ٹھنڈی ہمیں بھی ساتھ راحت ہو گئی ہے تیری آنکھوں میں آنسو آ گئے ہیں کہ دنیا خوبصورت ہو گئی ہے عدم بادہ کشی عادت تھی پہلے مگر اب تو طبیعت ہو گئی ہے
×