Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'ہوئی'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 5 results

  1. بہت سُلجھی ہوئی لڑکی بہت سُلجھی ہوئی لڑکی جس نے عمر کا اک ناسمجھ عرصہ بہت محتاط ہو کر گزارا تھا ملی خود ایسے لڑکے سے کہ جس کے لفظ جادو تھے وہ کہتی زخم ہے تو لفظ مرحم تھے وہ کہتی غم ہے، تو لفظ ھمدم تھے اُنہی لفظوں کی مٹھی میں تھمائے اپنی اُنگلی کو، نئی اک راہ پہ چل دی، وہی سُلجھی ہوئی لڑکی گلابی تتلیاں مٹھّی میں جیسے قید لگتی تھیں ہر اک خواب جیسے پیرہن اُوڑھے نکلتا تھا شبیں آباد لگتی تھیں وہ کہتا تھا کہ سُندر ہو، تو وہ چاہتی کہ میں کچھ اور بھی سُندر نظر آؤں یہ لڑکا اپنے دل کے کواڑ کھولے اور میں اندر نظر آؤں وہ کہتا کہ یہ آنکھیں تو وہ آنکھیں ہیں جن پہ جنگ ہو جائے اور وہ سُلجھی ہوئی لڑکی یہ سُن کے یوں نکھرتی تھی کہ جیسے شام میں شامل ، شفق کا رنگ ہو جائے بڑے دلکش سے پیرائے میں ہوتی گفتگو کو کس طرح روکیں یہ بس ایک اُلجھن تھی مگر اُلجھن بھی کیسی " خوشگوار اُلجھن " کہ جس میں مبتلا دونوں ہی یکسر شاد لگتے تھے دلوں کے حال "وہ" جانے بظاہر تو بہت آباد لگتے تھے یہی محسوس ہوتا تھا کہ جیسے عمر گھٹ کے پھر سے سولہ سال ہو جائے ذرا سی دیر کو منقطع ہو رابطہ اُن سے بُرا سا حال ہو جائے اور پھر جیسے، ہر ایک اچھی کہانی میں کوئی منظر بدلتا ہے یہاں بھی روز و شب بدلے ذرا سی بات پہ رنجش ذرا سی بات پہ جھگڑے یہ مجھ سے تم بات کرتی ہو، تو کیوں کھو سی جاتی ہو۔۔۔۔ " خاموشی اوڑھ لیتی ہو، یہ تم کیوں سو سی جاتی ہو " تمہیں کچھ پاس ہے میرا" ؟ "کوئی احساس ہے میرا"؟ وفا سے دور لگتی ہو مجھے تم چاہتی کب ہو فقط مجبور لگتی ہو اگر تم سے نبھا لوں گا تو تم ناشاد کر دو گی رہو گی ساتھ میرے، مجھے برباد کر دو گی چلو اب جی لیا کافی، ابھی واپس پلٹ جاؤ مجھے آواز مت دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے واپس نہیں آنا ۔۔۔۔۔۔ میں گر کوئی فیصلہ کر لوں، تو پھر اُس کو نبھاتا ہوں۔۔۔۔ میں خود تعمیر کرتا ہوں، سو میں خود ہی گراتا ہوں تو یہ تو سوچنا بھی مت کہ گر آنسو بہاؤ گی تو اپنے فیصلے میں میں کوئی ترمیم کر دوں گا "ہاں !گر پھر بھی نہ سمجھیں تم تو ایسی ضرب دوں گا کہ تمہیں تقسیم کر دوں گا مگر تقسیم تو تب تک بخوبی ہو چکی تھی جہاں وہ تھی، وہاں اُلجھی ہوئی سی اجنبی لڑکی، کئی حصّوں میں بٹ کے بھی کھڑی تھی یقین سے بے یقینی تک کا رستہ سوچتی تھی ستم جتنے بھی لڑکی نے اُٹھائے' اُن' کی مرضی ہیں رہے واضح ، کہ کہانی کے سبھی کردار فرضی ہیں
  2. ﻟﻮ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﭘﻮﻧﺠﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﯿﻞ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﺭﻓﻊ ﮨﻮﺍ ﭼﻞ ﺩﺍﻣﻦ ﺟﮭﺎﮌ ﮐﮯ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﻤﺤۂ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺑﺲ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻀﺤﯿﮏ ﮨﮯ ﺑﺲ ﺍﺏ ﺟﻤﻊ ﻧﻔﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺮﺳﺎﺕ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺍﺏ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍﭨﮭﺎﺅ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭ ﺟﺐ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺩﮨﻠﯿﺰ ﭘﮧ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻞ ﭼﮭﻮﮌﻭ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﻟﻤﺒﯽ ﮐﺎﻟﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺒﻮﮦ ﻏﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﮎ ﻃﺮﻑ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﻭ ﻧﺎﮞ ﯾﻮﮞ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﻮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮑﻮ ﻭﺩﺍ ﻉ ﮐﺮﻭ
  3. نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہی امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی خار خارِ المِ حسرتِ دیدار تو ہے شوق گلچینِ گلستانِ تسلّی نہ سہی مے پرستاں خمِ مے منہ سے لگائے ہی بنے ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی نفسِ قیس کہ ہے چشم و چراغِ صحرا گر نہیں شمعِ سیہ خانۂ لیلی نہ سہی ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی نہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پروا گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی؟ نہ سہی عشرتِ صحبتِ خوباں ہی غنیمت سمجھو نہ ہوئی غالب اگر عمرِ طبیعی نہ سہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  4. شبِ ہجراں تھی جو بسَر نہ ہوئی ورنہ کِس رات کی سحر نہ ہوئی ایسا کیا جرم ہو گیا ہم سے کیوں ملاقات عُمر بھر نہ ہوئی اشک پلکوں پہ مُستقل چمکے کبھی ٹہنی یہ بے ثمر نہ ہوئی تیری قُربت کی روشنی کی قسم صُبح آئی مگر سحر نہ ہوئی ہم نے کیا کیا نہ کر کے دیکھ لیا کوئی تدبیر کار گر نہ ہوئی کتنے سُورج نِکل کے ڈُوب گئے شامِ ہجراں ! تری سحر نہ ہوئی اُن سے محفل رہی ہے روز و شب دوستی اُن سے عُمر بھر نہ ہوئی یہ رہِ روزگار بھی کیا ہے ایسے بچھڑے کہ پھر خبر نہ ہوئی اِس قدر دُھوپ تھی جُدائی کی یاد بھی سایۂ شجر نہ ہوئی شبِ ہجراں ہی کٹ سکی نہ عدیم ورنہ کِس رات کی سحر نہ ہوئی
  5. سسکیاں لیتی ہوئی غمگین ہواؤ، چُپ رہو سو رہے ہیں درد، ان کو مت جگاؤ، چُپ رہو رات کا پتھر نہ پگھلے گا شعاعوں کے بغیر صبح ہونے تک نہ بولو ہم نواؤ ، چُپ رہو بند ہیں سب میکدے، ساقی بنے ہیں محتسب اے گرجتی گونجتی کالی گھٹاؤ ، چُپ رہو تم کو ہے معلوم آخر کون سا موسم ہے یہ فصلِ گل آنے تلک اے خوشنواؤ ، چُپ رہو سوچ کی دیوار سے لگ کر ہیں غم بیٹھے ہوئے دل میں بھی نغمہ نہ کوئی گنگناؤ ، چُپ رہو چھٹ گئے حالات کے بادل تو دیکھا جائے گا وقت سے پہلے اندھیرے میں نہ جاو ، چُپ رہو دیکھ لینا، گھر سے نکلے گا نہ ہمسایہ کوئی ....اے مرے یارو، مرے درد آشناؤ ، چُپ رہو
×