Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'ہوئے'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 8 results

  1. وہ گھر بتاتے ہوئے ڈر گئی مرے بارے پھر آج اُس نے انگوٹھی کہیں چھپا لی ہے پرانی ڈائری اک، آج شب نکالی ہے اسے پڑھا ہے تری یاد بھی منا لی ہے لگا چکا ہے ستاروں کو آج باتوں میں وہ تیری بات ترے چاند نے گھما لی ہے تُو اپنی تلخ زباں اس پہ جھاڑتا کیوں ہے؟ ارے یہ ماں ہے، بہت پیار کرنے والی ہے فقیر لوگ عجب بادشاہ ہوتے ہیں کہ کائنات ہے مٹھی میں، جیب خالی ہے وہ گھر بتاتے ہوئے ڈر گئی مرے بارے پھر آج اُس نے انگوٹھی کہیں چھپا لی ہے یہ تم سدا کے لئے اب بچھڑ رہے ہو کیا؟ نہیں؟ تو پھر مِری تصویر کیوں بنا لی ہے؟
  2. جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رُلائیں ممکن ہے کہ ہم آپ کو پھر یاد نہ آئیں ہم چھیڑ تو دیں گے ترا محبوب فسانہ کھنچ آئیں گی فردوس کی مدہوش فضائیں پھر تشنہ لبی زخم کی دیکھی نہیں جاتی پھر مانگ رہا ہوں ترے آنے کی دعائیں پھر بیت نہ جائے یہ جوانی، یہ زمانہ آؤ تو یہ اُجڑی ہوئی محفل بھی سجائیں پھر لوٹ کے آئیں گے یہیں قافلے والے اُٹھتی ہیں اُفق سے کئی غمناک صدائیں شاید یہی‌ شعلہ مری ہستی کو جلا دے دیتا ہوں میں اڑتے ہوئے جگنو کو ہوائیں اے کاش ترا پاس نہ ہوتا مرے دل کو اٹھتی ہیں پر رک جاتی ہیں سینے میں‌ صدائیں اک آگ سی بھر دیتا ہے رگ رگ میں تبسّم اس لطف سے اچھی ہیں حسینوں کی جفائیں معبود ہو اُن کے ہی تصّور کی تجلّی اے تشنہ لبو آؤ!‌ نیا دَیر بنائیں ہم سنگِ دریا پہ بے ہوش پڑے ہیں کہہ دے کوئی جبریل سے، بہتر ہے، نہ آئیں ہاں، یاد تو ہوگا تمہیں راوی کا کنارا چاہو تو یہ ٹوٹا ہوا بربط بھی بجائیں توبہ کو ندیم آج تو قربان کرو گے جینے نہیں دیتیں مجھے ساون کی گھٹائیں احمد ندیم قاسمی
  3. :کلام احمد فرازؔ تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو! کرّۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ ! رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
  4. گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیںجانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں اے مجھے جاگتا پاتی ہوئی رات وہ مری نیند سے بہلا کہ نہیں بھیڑ میں کھویا ہوا بچہ تھا اُس نے خود کو ابھی ڈھونڈا کہ نہیں مجھ کو تکمیل سمجھنے والا اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیں بند کمرے میں کبھی میری طرح شام کے وقت وہ رویا کہ نہیں میری خود داری برتنے والے تیرا پندار بھی ٹوٹا کہ نہیں الوداع ثبت ہوئی تھی جس پر اب بھی روشن ہے وہ ماتھا کہ نہیں پروین شاکر
  5. دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں رقصِ مے تیز کرو، ساز کی لے تیز کرو سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں کچھ ہمیں کو نہیں احسان اُٹھانے کا دماغ وہ تو جب آتے ہیں، مائل بہ کرم آتے ہیں اور کچھ دیر گزرے شبِ فرقت سے کہو دل بھی کم دکھتا ہے، وہ یاد بھی کم آتے ہیں فیض احمد فیض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  6. میں تھک گیا ہوں اساطیر جمع کرتے ہوئے گذشتگاں کی تصاویر جمع کرتے ہوئے میں سوچتا ہوں ابھی تک کہ کتنا پیچھے ہوں اُس ایک شام کی تاخیر جمع کرتے ہوئے کسی کی بزم میں دل کیا غزل سرا ہوتا گزر گیا میں مزامیر جمع کرتے ہوئے نظر گلاب ِ لب و رخ سے شرمسار نہیں بیاضِ آبِ طباشیر جمع کرتے ہوئے میں صوفیا کے مزاروں پہ عمر بھر منصور پھرا ہوں لفظ میں تاثیر جمع کرتے ہوئے اک ایک وصل کا اسباب جمع کرتے ہوئے گنوائیں آنکھیں کہیں خواب جمع کرتے ہوئے گرفتِ شب میں تھے سو 'چشمہ جھیل' میں اپنی یہ عمر گزری ہے مہتاب جمع کرتے ہوئے ہوئی نہ بلب کے جتنی بھی روشنی ہم سے ہزار کرمک ِ شب تاب جمع کرتے ہوئے بنا لیا ہے سمندر طلب کی نائو میں سیاہ بختی کے گرداب جمع کرتے ہوئے صدف سے چاہتے پھرتے ہیں موتیوں کی فصل کسی حباب میں تالاب جمع کرتے ہوئے خزانہ کیسی محبت کا دل کے دریا سے ملا ہے ملبہ ء غرقاب جمع کرتے ہوئے بدن کے جار میں کتنی دراڑیں آئی ہیں عجیب طرح کے تیزاب جمع کرتے ہوئے جنابِ صدر پہ پھینکا وہ دیکھئے کیا ہے کسی غریب نے اعصاب جمع کرتے ہوئے اداسیاں ہیں ، جدائی ہے اور آنسو ہیں گزر گئی یہی احباب جمع کرتے ہوئے چراغاں کر لیا بخت ِسیاہ میں منصور دکھوں کے گوہر ِ نایاب جمع کرتے ہوئے میں جل گیا گل و گلزار جمع کرتے ہوئے بدن میں سایہ ء دیوار جمع کرتے ہوئے مقابلے پہ لے آئی ہے واہموں کے ہجوم فسردگی بھی مددگار جمع کرتے ہوئے کسی نشیب ِ سیہ میں ہے گر پڑی شاید نگاہ ، صبح کے آثار جمع کرتے ہوئے خود اپنا آپ بھی کونے میں دھر دیا میں نے کہانی کے کہیں کردار جمع کرتے ہوئے برِصغیر کے لوگوں کو بھوک دی افسوس بھیانک اٹیمی ہتھیار جمع کرتے ہوئے ہزاروں روز جہنم رسید ہوتے ہیں جہاں میں درہم و دینار جمع کرتے ہوئے بدل دی تُو نے تغزل کی شکل بھی منصور غزل میں درد کے انبار کرتے ہوئے محسن نقوی ۔۔
  7. مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند مجبور کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے سیلاب سے برباد مکانات کی مانند میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند اس شخص سے ملنا محسن میرا ممکن ہی نہیں ہے میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند
  8. مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ سورج ہوں، میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ ہر چند راکھ ہو کے بکھرنا ہے راہ میں جلتے ہوئے پروں سے اڑا ہوں مجھے بھی دیکھ عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ بچھتی تھیں جس کی راہ میں پھولوں کی چادریں اب اس کی خاک گھاس کے پیروں تلے بھی دیکھ کیا شاخ باثمر ہے جو تکتا ہے فرش کو نظریں اٹھا شکیبؔ کبھی سامنے بھی دیکھ
×