Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'ہوتے'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 5 results

  1. بہت سے دکھ ہماری قسمت میں لکھے ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں ملنے ہوتے ہیں۔ بعض سچائیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ چاہے ہمیں جتنی بھی ناگوار لگیں مگر ہمیں انہیں قبول کرنا پڑنا ہے۔ انسان ہر وقت خود پر ترس کھاتا رہے اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کے بارے میں سوچتا رہے تو وہ دکھ اس پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ پھر اگر اس کی زندگی میں خوشیاں آتی بھی ہیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں پاتا۔
  2. :کلام احمد فرازؔ تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو! کرّۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ ! رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
  3. تم جو ہوتے تو ہمیں کتنا سہارا ہوتا ہم نے اوروں کو نہ یوں دکھ میں پکارا ہوتا جتنی شدت سے میں وابستہ تھا تم سے فرحت کس طرح میرا ترے بعد گزارا ہوتا مجھ کو یہ سوچ ہی کافی ہے جلانے کے لیے میں نہ ہوتا تو کوئی اور تمہارا ہوتا اور ہم بیٹھ کے خاموشی سے روئے جاتے شام ہوتی، کسی دریا کا کنارا ہوتا دل سے دیکھی نہیں جاتی تھی خاموشی گھر کی کس طرح اجڑا ہوا شہر گوارا ہوتا چاند ہوتا کہ مری جان ستارہ ہوتا ہم نے اک تیرے سوا دل سے اتارا ہوتا تو نے سوچا ہے کبھی کتنا محبت کے بغیر ...روح فرسا دل ویراں کا نظارا ہوتا
  4. تیرے لہجے کا وہ اثر ہوتے دیکھا ہم نے لفظوں کو امَر ہوتے دیکھا حُسن یار کی تعریف میں ، اکثر گُونگوں کو سُخن وَر ہوتے دیکھا ننگے پاؤں رکھے ، خاک پہ جب خاک کو سنگ مَرمَر ہوتے دیکھا لمسِ لبِ شیریں کی قُدرت سے نِیم کو بھی قندِ ثمر ہوتے دیکھا پہلی نظر اور جنبشِ سرمژگاں دلوں میں وَا ، دَر ہوتے دیکھا بہکنے لگیں ، پارسا بھی یہاں صبر کو ، بے صبر ہوتے دیکھا اُس کا ہمسفر ہونے کی آرزو لئے مُقیم ، مُسافر دَر بدر ہوتے دیکھا لبوں کی نزاکت چُرائیں ، گُلاب آفتاب کو سایہ آبر ہوتے دیکھا شب مانگے ، سیاہیِ زُلفِ جاناں پلکیں اُٹھیں ، سحر ہوتے دیکھا سُریلی آواز کی نغمگی سُن کر سازوں کو ، بے سُر ہوتے دیکھا سُنہری رنگت پہ قیامت سیاہ تل ٹُکڑے بھی دل و جگر ہوتے دیکھا قاتل آنکھوں کی ، مست ادائیں مقتول کو بھی مُنکر ہوتے دیکھا تیری چاہت میں حسد مُجھ سے اَمرت احباب کو زہر ہوتے دیکھا وہ اِک شب کا مِلن تھا کرشمہ کھنڈرات کو ، شہر ہوتے دیکھا بے وفا لُوٹ کے جی گئے زندگی وفاداروں پہ ، جبَر ہوتے دیکھا پل میں ، بدلتی ہے قسمت یہاں وصالِ یار کو ، ہجَر ہوتے دیکھا.
  5. پیار کے دیپ جلانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں اپنی جان سے جانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں ہجر کےگہرے زخم ملے تومجھکو یہ احساس ہوا پاگل کو سمجھانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں جان سے پیارے لوگوں سے بھی کچھ کچھ پردہ لازم ہے ساری بات بتانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں خوابوں میں بھی پیا ملن کے سپنے دیکھتے رہتے ہیں نیندوں میں مسکانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں اس جھوٹی نگری میں ہم نے یہی ہمیشہ دیکھا ہے سچی بات بتانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں پیار جنھیں ہو جائے ان کو چین بھلا کب ملتا ہے شب بھر اشک بہانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں اپنی ذات کے اجڑے گلشن سے وہ پیار کہاں کرتے ہیں اوروں کو مہکانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں اس کے عشق میں بھیگ کے واثق ہم کو یہ احساس ہوا دل کی بات میں آنے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
×