Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'ہوں'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 9 results

  1. مقابل ہوں جو وہ میرے تو سب کچھ وار جاتے ہیں ہم اپنی ذات کی خوشیاں اُنہی سے جوڑ جاتے ہیں وہ ہم کو جیت جاتے ہیں, ہم اُن پے ہار جاتے ہیں وہ اپنی اِک نگاہ بخشیں تو ہم کو مار جاتے ہیں ©S.S Writes
  2. دل کی حالت کھول رہی ہوں اپنے آپ سے بول رہی ہوں اُس کے پیار کا مول چُکا کر میں اب بھی بے مول رہی ہوں میں اِک ٹوٹی کشتی جیسی سطحَ آب پہ ڈول رہی ہوں اُس نے سب کچھ کہہ بھی دیا ہے میں لفظوں کو تول رہی ہوں یوں تو مجھ میں ہمت بھی ھے اندر سے پر بول رہی ھوں دور اُفق جانا ہے مجھ کو میں اپنے پر کھول رہی ہوں۔۔۔۔
  3. سراپا اشک ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
  4. Jannat malik

    تو میں بھی خوش ہوں

    تو میں بھی خوش ہوں کوئی اُس سے جا کے کہہ دینا اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کر تے ہوئے تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے میں مسکراتا ہوا آئینے میں اُبھروں گا وہ رو پڑے گی اچانک سنگھار کرتے ہوئے مجھے خبر تھی کہ اب لوٹ کر نہ آؤں گا سو تجھ کو یاد کیا دل پہ وار کرتے ہوئے یہ کہہ رہی تھی سمندر نہیں آنکھیں ہیں میں اُن میں ڈوب گیا اعتبار کرتے ہوئے بھنور جو مجھ میں پڑے ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے (وصی شاہ )
  5. اے دردِ ہجر یار غزل کہہ رہا ہوں میں بے موسمِ بہار غزل کہہ رہا ہوں مہیں میرے بیانِ غم کا تسلسل نہ ٹوٹ جائے گیسئوں ذرا سنوار غزل کہہ رہا ہوں میں راز و نیازِ عشق میں کیا دخل ہے تیرا ہٹ فکرِ روزگار غزل کہہ رہا ہوں میں ساقی بیانِ شوق میں رنگینیاں بھی ہو لا جامِ خوشگوار غزل کہہ رہا ہوں میں تجھ سا سخن شناس کو ئی دوسرا نہیں سن لے خیالِ یار غزل کہہ رہا ہوں میں ناصر کاظمی
  6. میں تھک گیا ہوں اساطیر جمع کرتے ہوئے گذشتگاں کی تصاویر جمع کرتے ہوئے میں سوچتا ہوں ابھی تک کہ کتنا پیچھے ہوں اُس ایک شام کی تاخیر جمع کرتے ہوئے کسی کی بزم میں دل کیا غزل سرا ہوتا گزر گیا میں مزامیر جمع کرتے ہوئے نظر گلاب ِ لب و رخ سے شرمسار نہیں بیاضِ آبِ طباشیر جمع کرتے ہوئے میں صوفیا کے مزاروں پہ عمر بھر منصور پھرا ہوں لفظ میں تاثیر جمع کرتے ہوئے اک ایک وصل کا اسباب جمع کرتے ہوئے گنوائیں آنکھیں کہیں خواب جمع کرتے ہوئے گرفتِ شب میں تھے سو 'چشمہ جھیل' میں اپنی یہ عمر گزری ہے مہتاب جمع کرتے ہوئے ہوئی نہ بلب کے جتنی بھی روشنی ہم سے ہزار کرمک ِ شب تاب جمع کرتے ہوئے بنا لیا ہے سمندر طلب کی نائو میں سیاہ بختی کے گرداب جمع کرتے ہوئے صدف سے چاہتے پھرتے ہیں موتیوں کی فصل کسی حباب میں تالاب جمع کرتے ہوئے خزانہ کیسی محبت کا دل کے دریا سے ملا ہے ملبہ ء غرقاب جمع کرتے ہوئے بدن کے جار میں کتنی دراڑیں آئی ہیں عجیب طرح کے تیزاب جمع کرتے ہوئے جنابِ صدر پہ پھینکا وہ دیکھئے کیا ہے کسی غریب نے اعصاب جمع کرتے ہوئے اداسیاں ہیں ، جدائی ہے اور آنسو ہیں گزر گئی یہی احباب جمع کرتے ہوئے چراغاں کر لیا بخت ِسیاہ میں منصور دکھوں کے گوہر ِ نایاب جمع کرتے ہوئے میں جل گیا گل و گلزار جمع کرتے ہوئے بدن میں سایہ ء دیوار جمع کرتے ہوئے مقابلے پہ لے آئی ہے واہموں کے ہجوم فسردگی بھی مددگار جمع کرتے ہوئے کسی نشیب ِ سیہ میں ہے گر پڑی شاید نگاہ ، صبح کے آثار جمع کرتے ہوئے خود اپنا آپ بھی کونے میں دھر دیا میں نے کہانی کے کہیں کردار جمع کرتے ہوئے برِصغیر کے لوگوں کو بھوک دی افسوس بھیانک اٹیمی ہتھیار جمع کرتے ہوئے ہزاروں روز جہنم رسید ہوتے ہیں جہاں میں درہم و دینار جمع کرتے ہوئے بدل دی تُو نے تغزل کی شکل بھی منصور غزل میں درد کے انبار کرتے ہوئے محسن نقوی ۔۔
  7. چلو تم کو ملاتا ہوں میں اس مہمان سے پہلے جو میرے جسم میں رہتا تھا، میری جان سے پہلے مجھے جی بھر کے اپنی موت کو تو دیکھ لینے دو نکل جائے نہ میری جان، میرے ارمان سے پہلے کوئی خاموش ہو جائے تو اسکی خاموشی سے ڈر سمندر چپ ہی رہتا ہے، کسی طوفان سے پہلے میری آنکھوں میں آبی موتیوں کا سلسلہ دیکھو یہ مالا روز جبتا ہوں میں، اک مسکان سے پہلے ہمدم ہوں تیرا، یہ میرا فرض بنتا ہے تجھے ہوشیار کر دوں میں، تیرے نقصان سے پہلے
  8. یادوں کا حساب رکھ رہا ہوں سینے میں عذاب رکھ رہا ہوں تم کچھ کہے جاؤ کیا کہوں میں بس دل میں جواب رکھ رہا ہوں دامن میں کیے ہیں جمع گرداب جیبوں میں حباب رکھ رہا ہوں آئے گا وہ نخوتی سو میں بھی کمرے کو خراب رکھ رہا ہوں تم پر میں صحیفہ ہائے کہنا اک تازہ کتاب رکھ رہا ہوں
  9. کبھی جب میں نہیں ہوں گى تمہیں سب یاد آئے گا وہ میری بے کراں چاہت تمہارے نام کی عادت وہ میرے عشق کی شدت وصال و ہجر کی لذت تمہاری ہر ادا کو شاعری کا رنگ دے دینا خود اپنی خواہشوں کو بے بسی کا رنگ دے دینا تمہیں سب یاد آئے گا وہ میری آنکھ کا نم بھی وفاؤں کا وہ موسم بھی جنوں خیزی کا عالم بھی مری ہر اک خوشی ہر غم بھی مرا وہ مسکرا کر درد کو دل سے لگا لینا تمہاری خواب سی آنکھوں کا ہر آنسو چرا لینا تمہیں سب یاد آئے گا تمہاری سوچ میں رہنا تمہاری بے رخی سہنا بُھلا کر رنجشیں ساری فقط "اپنا" تمہیں کہنا تمہارے نام کو تسبیح کی صورت بنا لینا تمہارے ذکر سے دل کا ہر اک گوشہ سجا لینا ابھی تو مسکرا کر تم مری باتوں کو سنتے ہو مگر یہ جان لو جاناں تمہیں سب یاد آئے گا کبھی جو میں نہیں ہوں گی
×