Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'یاد'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 12 results

  1. جب کوئی پیار سے بلائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے لذت غم سے آشنا ہو کر اپنے محبوب سے جدا ہو کر دل کہیں جب سکوں نہ پائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا تیرے لب پہ نام ہو گا پیار کا شمع دیکھ کر جلے گا دل تیرا جب کوئی ستارہ ٹمٹمائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا زندگی کے درد کو سہو گے تم دل کا چین ڈھونڈتے رہو گے تم زخم دل جب تمہیں ستائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا جب کوئی پیار سے بولائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا
  2. میں نازک دل دا مالک ہاں میڈا دل نہ یار دکھایا کر نہ کوڑے وعدے کیتے کر نہ کوڑیاں قسماں چایا کر تیکوں کئی واری میں آکھیا ہے میکوں ول ول نہ آزمایا کر تیڈی یاد وچ "سجن" مر ویساں میکوں اتنا ❤❤❤یاد نہ آیا کر
  3. بتاؤ اب کیا لکھوں تم کو نیا اک لفظ ہو کوئی جہاں سے بات چل نکلے مری مشکل کا حل نکلے مجھے اظہار کرنا ہے کہ تم کو یہ بتانا ہے تم اکثر یادآتے ہو ❤. . . . . . بہت یاد آتے ہو
  4. مرا درد پھر سے غزل بنے کبھی گنگناؤ تو اس طرح۔۔۔ مرے زخم پھر سے گلاب ہوں کبھی مسکراؤ تو اس طرح۔۔۔ مری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں کبھی چوٹ کھاؤ تو اس طرح۔۔۔ جو نہیں تو پھر بڑے شوق سے سبھی رابطے سبھی ضابطے۔۔۔ کسی دھوپ چھاؤں میں توڑ دو نہ شکستِ دل کا ستم سہو۔۔۔ نہ سنو کسی کا عذابِ جاں نہ کسی سے اپنی خلش کہو یونہی خوش پھرو، یونہی خوش رہو۔۔۔ نہ اُجڑ سکیں ، نہ سنور سکیں کبھی دل دُکھاؤ تو اس طرح۔۔۔ نہ سمٹ سکیں ، نہ بکھر سکیں کبھی بھول جاؤ تو اس طرح۔۔۔ کسی طور جاں سے گزر سکیں کبھی یاد آؤ تو اس طرح۔۔۔
  5. آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی بُجھ گیا دل ــ چراغ جلتے ہی کُھل گئے شہرِ غم کے دروازے اِک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی کون تھا تُو ـ ـ کہ پھر نہ دیکھا تُجھے مِٹ گیا خواب ــ آنکھ ملتے ہی خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے ماہِ شب تاب کے نکلتے ہی تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے عکسِ دیوار کے بدلتے ہی خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میں چڑھ گیا زہر ــ گل مسلتے ہی
  6. کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں صد شُکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں اگر حالات وہاں،دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچہء جاناں میں، کیا ایسے بھی حالات نہیں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا،وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے،اس جاں کی تو کوئی بات نہیں میدانِ وفا دربار نہیں ، یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں گر بازی عشق کی بازی ہے،جو چاہو لگا دو ڈر کیسا گرجیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں (فیض احمد فیض)
  7. سفر منزل شب یاد نہیں لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں اولین قرب کی سرشاری میں کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں دل میں ہر وقت چبھن رہتی ہے تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار یاد آئیں بھی تو سب یاد نہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ احباب کو ہم یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں یاد ہے سیر چراغاں ناصر دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں
  8. یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے نہ گئے کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے اب وہ نیندوں کا اُجڑنا تو نہیں دیکھیں گے وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے رات بھر میں نے کھُلی آنکھوں سے سپنا دیکھا رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چُرائے نہ گئے بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آ کر ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے تیز بارش ہو ، گھنا پیڑ ہو ، اِک لڑکی ہو ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے پروین شاکر
  9. جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں ڈر کے ہم بھیڑ میں دیوار سے لگ جاتے ہیں ہجر کے پیڑ سے غم کا جو ثمر گرتا ہے یوں تیری یاد کے انبار سے لگ جاتے ہیں پہلے کیا کم تھے میری جاں پہ عذاب دم کیا خبر تھی نئے آزار سے لگ جاتے ہیں اک مدت ہوئی کہ وحشتوں کو جانا ہے اب تو ہر سینہ حب یار سے لگ جاتے ہیں آج ہم اپنی عداوت کو بھی یوں پرکھیں گے آج دشمن کے گلے پیار سے لگ جاتے ہیں جب مقدر میں ہی منزل نہ ہو تو ہم کو دو قدم رستے بھی دشوار سے لگ جاتے ہیں کاش مرہم ملے ہم کو کہیں ان زخموں کا زخم جو اپنے کی گفتار سے لگ جاتے ہیں ان کی تصویر کو سینے سے لگا کر مشعل ہم تخیل میں گلے یار سے لگ جاتے ہیں جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں ڈر کے ہم بھیڑ میں دیوار سے لگ جاتے ہیں
  10. ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺍﺋﮯ ﺗﻮ ﭼﺎﻧﺪ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐِﺴﯽ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻧﺨﻞِ ﻓﻠﮏ ﺳﮯ ﺍُﮌ ﮐﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔِﺮﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﺎ ﻭﮦ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮦ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺩِﻝ ﮐﺎ ﺍﮔﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﮐِﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮐِﺴﯽ ﭘﺮ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﻮ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﭨﻮﭨﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺴﺘﯽ ﻧﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ , ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﺁﺋﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﯽ ﻟﮩﺮﻭﮞ ﭘﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﺒﻮﺋﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣِﻠﻮﮞ ﮔﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻼﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺘﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﺍَﻭﺱ ﻗﻄﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣِﻠﻮﮞ ﮔﺎ , ﺍﮔﺮ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ، ﺍﻭﺱ ﻗﻄﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ، ﺧﻮﺷﺒﻮﺋﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺩ ﮨﻮﺗﯽ ﻣﺴﺎﻓﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣِﻠﻮﮞ ﮔﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮧ ﺭﻭﺷﻦ ﭼﺮﺍﻍ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﺎ ﮐﮧ ﮨﺮ ﭘﺘﻨﮕﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑِﮑﮭﺮ ﭼُﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍُﻥ ﭘﺘﻨﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺎﮎ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﮎ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﮐِﺴﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﭘﮧ ﺭُﮎ ﮐﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﭘﮧ ﻧﮑﻠﻮ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ ﺍُﺗﺮﻧﺎ *_ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ۔۔*
  11. هم نے کاٹی هیں تری یاد میں راتیں اکثر دل سے گزری هیں ستاروں کی باراتیں اکثر عشق رهزن نه سهی‘عشق کے هاتھوں پھر بھی هم نے لٹتی هوئی دیکھی هیں براتیں اکثر هم سے اک بار بھی نه جیتا هے نه جیتے گا کوئی وه تو هم جان کے کھا لیتے هیں ماتیں اکثر ان سے پوچھو کبھی چهرے بھی پڑھے هیں تم نے جو کتابوں کی کیا کرتے هیں باتیں اکثر حال کهنا هو کسی سے تو مخاطب هے کوئی کتنی دلچسپ هوا کرتی هیں باتیں اکثر اور تو کون هے جو مجھ کو تسلی دیتا هاتھ رکھ دیتی هیں دل پر تری باتیں اکثر
  12. کبھی جب میں نہیں ہوں گا تمہیں سب یاد آئے گا وہ میری بے کراں چاہت تمہارے نام کی عادت وہ میرے عشق کی شدت وصال و ہجر کی لذت تمہاری ہر ادا کو شاعری کا رنگ دے دینا خود اپنی خواہشوں کو بے بسی کا رنگ دے دینا تمہیں سب یاد آئے گا وہ میری آنکھ کا نم بھی وفاؤں کا وہ موسم بھی جنوں خیزی کا عالم بھی مری ہر اک خوشی غم بھی مرا وہ مسکرا کر درد کو دل سے لگا لینا تمہاری خواب سی آنکھوں کا ہر آنسو چرا لینا تمہیں سب یاد آئے گا تمہاری سوچ میں رہنا تمہاری بے رخی سہنا بُھلا کر رنجشیں ساری فقط "اپنا" تمہیں کہنا تمہارے نام کو تسبیح کی صورت بنا لینا تمہارے ذکر سے دل کا ہر اک گوشہ سجا لینا ابھی تو مسکرا کر تم مری باتوں کو سنتی ہو مگر یہ جان لو جاناں تمہیں سب یاد آئے گا کبھی جو میں نہیں ہوں گا
×