Jump to content

Please Disable Your Adblocker. We have only advertisement way to pay our hosting and other expenses.  

Search the Community

Showing results for tags 'یارِ'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Premium Files
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Product Groups

There are no results to display.

Categories

  • Clothes
    • Kids collection
  • Organic
  • Mobiles & Accessories
  • Jewelry

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 8 results

  1. Urooj Butt

    رنج فراق یار

    رَنـــجِ فـــراقِ یار میں رُســــوا نہیں ہُوا اتنا مــــیں چُپ ہُوا کہ تماشہ نہیں ہُوا ایساسفر ہےجس میں کوئی ہمسفر نہیں رستہ ہے اس طــرح کا کہ دیکھا نہیں ہُوا مشکل ہُوا ہے رہنا ہمـــیں اِس دیار مــیں برسوں یہاں رہے ہـــیں ، یہ اپنا نہیں ہُوا وہ کام شاہِ شــہر سے یا شــہر سے ہُوا جــو کام بھی ہُوا ، یـــہاں اچھا نہیں ہُوا ملنا تھا ایک بار اُسے پھـــر کہیں ' منیرؔ ایسا مـــیں چاھتا تھا، پر ایسا نہیں ہُوا؎! منیر نیازی
  2. فراق یار کی بارش، ملال کا موسم ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم وہ اک دعا میری جو نامراد لوٹ آئی زباں سے روٹھ گیا پھر سوال کا موسم بہت دنوں سے میرے ذہن کے دریچوں میں ٹھہر گیا ہے تمھارے خیال کا موسم جو بے یقیں ہو بہاریں اجڑ بھی سکتی ھیں تو آ کے دیکھ لے میرے زوال کا موسم محبتیں بھی تیری دھوپ چھاوں جیسی ھیں کبھی یہ ہجر کبھی یہ وصال کا موسم کوئی ملا ہی نہیں جس کو سونپتے محسن ہم اپنے خواب کی خوشبو خیال کا موسم
  3. پیام آئے ہیں اُس یارِ بے وفا کے مجھے جسے قرار نہ آیا کہیں، بُھلا کے مجھے جدائیاں ہوں تو ایسی کہ عمر بھر نہ مِلیں فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم کہ لے اڑا ہے کوئی دوش پر ہَوا کے مجھے میں خود کو بُھول چکا تھا، مگر جہاں والے اُداس چھوڑ گے آئنہ دِکھا کے مجھے تمہارے بام سے اب کم نہیں ہے رفعتِ دار جو دیکھنا ہو تو دیکھو نظر اُٹھا کے مجھے کھنچی ہُوئی ہے مِرے آنسوؤں میں اِک تصویر فراز! دیکھ رہا ہے وہ، مُسکرا کے مجھے احمد فراز
  4. عجب اپنا حال ہوتا_________، جو وصال یار ہوتا کبھی جان صدقے ہوتی،______ کبھی دل نثار ہوتا کوئی فتنہ تا قیامت_________ نہ پھر آشکار ہوتا ترے دل پہ کاش اے ظالم____ مجھے اختیار ہوتا جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا تمھیں منصفی سے کہہ دو_ تمہیں اعتبار ہوتا.. ¡? غمِ عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے یہ وہ زہر ہے کہ_______ آخر میں خوشگوار ہوتا یہ مزہ تھا دل لگی کا_______، کہ برابر آگ لگتی نہ تجھے قرار ہوتا،________ نہ مجھے قرار ہوتا یہ مزا ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں کوئی غیر غیر ہوتا،_________ کوئی یار یار ہوتا ترے وعدے پر ستمگر،_____ابھی اور صبر کرتے اگر اپنی زندگی کا،_________ ہمیں اعتبار ہوتا یہ وہ دردِ دل نہیں ہے کہ___ ہو چارہ ساز کوئی اگر ایک بار مٹتا تو______________ ہزار بار ہوتا مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے درِ یار کعبہ بنتا______________ جو مرا مزار ہوتا تمہیں ناز ہو نہ کیونکر______ کہ لیا ہے داغ کا دل یہ رقم نہ ہاتھ لگتی___________ نہ یہ افتخار ہوتا
  5. فراق یار کی بارش ملال کا موسم ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم وہ اک دعا جو میری نامراد لوٹ آئی زباں سے روٹھ گیا پھر سوال کا موسم بہت دنوں سے میرے ذہن کے دریچوں میں ٹھہر گیا ہے تمہارے خیال کا موسم جو بے یقیں ہوں بہاریں اجڑ بھی سکتی ہیں تو آ کے دیکھ لے میرے زوال کا موسم محبتیں بھی تیری دھوپ چھاؤں جیسی ہیں کبھی یہ ہجر کبھی یہ وصال کا موسم کوئی ملا ہی نہیں جس کو سونپتے"محسن" ہم اپنے خواب کی خوشبو، خیال کا موسم !
  6. قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم کچھ امتحانِ دستِ جفا کر چکے ہیں ہم کچھ اُن کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم دیکھیں ہے کون کون، ضرورت نہیں رہی کوئے ستم میں سب کو خطا کر چکے ہیں ہم اب اپنا اختیار ہے چاہیں جہاں چلیں رہبر سے اپنی راہ جد اکر چکے ہیں ہم ان کی نظر میں، کیا کریں پھیکا ہے اب بھی رنگ جتنا لہو تھا صرفِ قبا کر چکے ہیں ہم کچھ اپنے دل کی خو کا بھی شکرانہ چاہیے سو بار اُن کی خو کا گِلا کر چکے ہیں ہم فیض احمد فیض
  7. ﯾﮧ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﮧ ﻭﺻﺎﻝِ ﯾﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ، ﯾﮩﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﺮﮮ ﻭﻋﺪﮮ ﭘﮧ ﺟﺌﮯ ﮨﻢ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﺟﮭﻮﭦ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﺮﯼ ﻧﺎﺯﮐﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻋﮩﺪ ﺑﻮﺩﺍ ﮐﺒﮭﯽ ﺗُﻮ ﻧﮧ ﺗﻮﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﺘﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﺮﮮ ﺗﯿﺮِ ﻧﯿﻢ ﮐﺶ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﺟﻮ ﺟﮕﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻨﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﺎﺻﺢ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﺳﺎﺯ ﮨﻮﺗﺎ، ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻤﮕﺴﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮒِ ﺳﻨﮓ ﺳﮯ ﭨﭙﮑﺘﺎ ﻭﮦ ﻟﮩﻮ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﻧﮧ ﺗﮭﻤﺘﺎ ﺟﺴﮯ ﻏﻢ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺍﮔﺮ ﺷﺮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﻏﻢ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺟﺎﮞ ﮔﺴِﻞ ﮨﮯ، ﭘﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﺑﭽﯿﮟ ﮐﮧ ﺩﻝ ﮨﮯ ﻏﻢِ ﻋﺸﻖ ﮔﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ، ﻏﻢِ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮩﻮﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﺷﺐ ﻏﻢ ﺑﺮﯼ ﺑﻼ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺑُﺮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﺮﻧﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺮ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺟﻮ ﺭُﺳﻮﺍ، ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻏﺮﻕِ ﺩﺭﯾﺎ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍُﭨﮭﺘﺎ، ﻧﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺰﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺍُﺳﮯ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﮧ ﯾﮕﺎﻧﮧ ﮨﮯ ﻭﮦ ﯾﮑﺘﺎ ﺟﻮ ﺩﻭﺋﯽ ﮐﯽ ﺑﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﭼﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﮧ ﻣﺴﺎﺋﻞِ ﺗﺼﻮّﻑ، ﯾﮧ ﺗﺮﺍ ﺑﯿﺎﻥ ﻏﺎﻟﺐ ﺗﺠﮭﮯ ﮨﻢ ﻭﻟﯽ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺟﻮ ﻧﮧ ﺑﺎﺩﮦ ﺧﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ
  8. اے دردِ ہجر یار غزل کہہ رہا ہوں میں بے موسمِ بہار غزل کہہ رہا ہوں مہیں میرے بیانِ غم کا تسلسل نہ ٹوٹ جائے گیسئوں ذرا سنوار غزل کہہ رہا ہوں میں راز و نیازِ عشق میں کیا دخل ہے تیرا ہٹ فکرِ روزگار غزل کہہ رہا ہوں میں ساقی بیانِ شوق میں رنگینیاں بھی ہو لا جامِ خوشگوار غزل کہہ رہا ہوں میں تجھ سا سخن شناس کو ئی دوسرا نہیں سن لے خیالِ یار غزل کہہ رہا ہوں میں ناصر کاظمی
×