Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'ﮐﯿﺎ'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 22 results

  1. دُکھ کیا ہوتا ہے؟؟؟ کوئی عورت ساری رات اپنے شوهر سے مار کھا کے اب کسی کے گھر میں صفائی کر رهی هو گی اور اُس گھر کا مالک اُس کو گھور رها هو گا. کسی مدرسے میں سالوں سے دور کوئی بچہ کسی کونے میں بیٹھا اپنی ماں کو یاد کر رها ھو گا اور هچکیاں لیتے رو رها هو گا. کسی سکول میں کوئی بچی آج بھی سکول فیس نہ هونے سبب کلاس سے باهر کھڑی هو گی اور اُس کے آنسو اُس کی روح میں جذب هو رهے هوں گے. کہیں کوئی اپنے صحن میں اپنے پیارے کا جنازہ لئے بیٹھا ھو گا اور اُس سے لپٹ کے خود کو یقین دلا رها هو گا کہ یہ خواب هے. کہیں دور کسی صحرا میں کوئی ریت پہ زبان پھیر کے موت سے لڑ رها ھو گا اور سوچ رها هو گا کہ کہیں کوئی اُس کے حال کو جانتا تک نہ ھو گا. کہیں جیل میں کوئی پردیسی کسی ناکردہ جرم میں سسکتے هوئے اپنوں کے چہروں کو ڈھونڈ رها هو گا اور سوچ رها هو گا کہ اُس کی فاتحہ بھی نہ هو گی. کہیں دور کسی ایمرجنسی میں اپنے باپ کے سرهانے کھڑا بچہ اپنی شفقت کا سایہ سر سے اٹھتے دیکھ رها هو گا. اس وقت بھی کسی گاوُں کی ڈسپنسری میں کوئی ماں اپنے لخت جگر کا سر گود میں رکھے اُس کی زندگی کی سانسیں گن رهی هو گی. کہیں کوئی بھوک سے بلک رها ھو گا اور کہیں کوئی درد سے چیخ رها هو گا. خدا کی تقسیم بھی عجیب هے کہ اسی کا نام نصیب هے دکھ انسان کے اندر بس جاتے ھیں اور پھر وہ انسان اس قدر گہرا هو جاتا هے، کہ کنکر بھی پھینکو تو آواز باهر نہیں آتی بلکہ سناٹا مزید بڑھ جاتا ھے.
  2. ”کچھ عشق کیا ، کچھ کام کیا“ وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے تھے ھم جیتے جی مصروف رھے کچھ عشق کیا ، کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رھا اور عشق سے کام اُلجھتا رھا پھر آخر تنگ آ کر ھم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا ”فیض احمد فیض“
  3. موت کیا ہے سب سے پہلے میری موت پر مجھ سے جو چھین لیا جائے گا وہ میرا نام ہوگا! !! اس لئے جب میں مرجاوں گا تو لوگ کہیں گے کہ" لاش کہاں" ہے؟ اور مجھے میرے نام سے نہیں پکاریں گے ۔۔! اور جب نماز جنازہ پڑھانا ہو تو کہیں گے "جنازہ لےآؤ "!!! میرانام نہیں لینگے ۔۔! اور جب میرے دفنانے کا وقت آجائےگا تو کہیں گے "میت کو قریب کرو" !!! میرانام بھی یاد نہیں کریں گے ۔۔۔! اس وقت نہ میرا نسب اور نہ ہی قبیلہ میرے کام آئے گا اور نہ ہی میرا منصب اور شہرت۔۔۔ کتنی فانی اور دھوکہ کی ہے یہ دنیا جسکی طرف ہم لپکتے ہیں۔۔ پس اے زندہ انسان ۔۔۔ خوب جان لے کہ تجھ پر غم و افسوس تین طرح کا ہوتا ہے : 1۔ جو لوگ تجھے سرسری طور پر جانتے ہیں وہ مسکین کہکر غم کا اظہار کریں گے ۔ 22۔ تیرے دوست چند گھنٹے یا چند روز تیرا غم کریں گے اور پھر اپنی اپنی باتوں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائیں گے ۔ 33۔ زیادہ سے زیادہ گہرا غم گھر میں ہوگا وہ تیرے اہل وعیال کو ہوگا جو کہ ہفتہ، دو ہفتے یا دو مہینے اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک ہوگا ۔ اور اس کے بعد وہ تجھے یادوں کے پنوں میں رکھ دیں گے! !! لوگوں کے درمیان تیرا قصہ ختم ہو جاۓ گا اور تیرا حقیقی قصہ شروع ہو جاۓ گا۔ وہ ہے آخرت کا ۔ تجھ سے چھین گیا تیرا ۔۔۔ 1۔ جمال ۔۔۔ 2۔ مال ۔۔ 3۔ صحت ۔۔ 4۔ اولاد ۔۔ 5۔ جدا ہوگئےتجھ سے مکان و محلات۔ 6۔ بیوی ۔۔۔ 7۔ غرض ساری دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کچھ باقی نہ رہا تیرے ساتھ سوائے تیرے اعمال کے۔ اور حقیقی زندگی کا آغاز ہوا ۔ اب سوال یہاں یہ ہیکہ : تو نے اپنی قبر اور آخرت کے لئے اب سے کیا تیاری کی ہے ؟ یہی حقیقت ہے جسکی طرف توجہ چاہئے ۔۔ اس کے لیے تجھے چاہئے کہ تو اہتمام کرے : 1۔ فرائض کا 2۔ نوافل کا 3۔پوشیدہ صدقہ اور صدقہ جاریہ کا۔۔۔۔۔ 4۔ نیک کاموں کا 5۔ رات کی نمازوں کا شاید کہ تو نجات پاسکے۔ اگر تو نے اس مقالہ سے لوگوں کی یاددہانی میں مدد کی جبکہ تو ابھی زندہ ہے تاکہ اس امتحان گاہ میں امتحان کا وقت ختم ہونے سے تجھے شرمندگی نہ ہو اور امتحان کا پرچہ بغیر تیری اجازت کے تیرے ہاتھوں سے چھین لیا جائے اور تو تیری اس یاددہانی کا اثر قیامت کے دن تیرے اعمال کے ترازو میں دیکھےگا (اور یاددہانی کرتے رہئے بیشک یاددہانی مومنوں کو نفع دیگا) میت صدقہ کو کیوں ترجیح دیتی ہے اگر وہ دنیا میں واپس لوٹا دی جائے۔۔ جیسا کہ قرآن میں ہے۔ *"اے رب اگر مجھے تھوڑی دیر* *کے* *لئے واپس لوٹا دے تو* *میں صدقہ کروں اور نیکوں ** *میں شامل ہو جاؤں** *(سورة المنافقون )* یہ نہیں کہےگا کہ۔۔ عمرہ کروں گا نماز پڑھوں گا روزہ رکھوں گا علماء نے کہا کہ : میت صدقہ کی تمنا اس لئے کریگا کیوں کہ وہ مرنے کے بعد اس کا عظیم ثواب اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اس لئے صدقہ کثرت سے کیا کرو بیشک مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا
  4. ''نور کیا ہوتا ہے؟ تم جانتے ہو؟'' ''نور وہ ہوتا ہے, جو اندھیری سرنگ کے دوسرے سرے پہ نظر آتا ہے, گویا کسی پہاڑ سے گرتا پگھلے سونے کا چشمہ ہو۔'' ''اور کیسے ملتا ہے نور؟'' ''جو الله کی جتنی مانتا ہے, اسے اتنا ہی نور ملتا ہے۔ کسی کا نور پہاڑ جتنا ہوتا ہے, کسی کا درخت جتنا, کسی کا شعلے جتنا اور کسی کا پاؤں کے انگوٹھے جتنا۔ انگوٹھے جتنا نور جو جلتا بجھتا , بجھتا جلتا ہے۔ یہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو کچھ دن بہت دل لگا کر نیک عمل کرتے ہیں اور پھر کچھ دن سب چھوڑ چھاڑ کر ڈپریشن میں گھر کر بیٹھ جاتے ہیں۔'' ''اور انسان کیا کرے کہ اسے آسمانوں اور زمین جتنا نور مل جائے؟'' ''وہ الله کو نہ کہنا چھوڑ دے ۔اسے اتنا نور ملے گا کہ اس کی ساری دنیا روشن ہو جائے گی۔ دل کو مارے بغیر نور نہیں ملا کرتا۔''
  5. ناز بیگانگی میں کیا کچھ تھا حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا لاکھ راہیں تھیں لاکھ جلوے تھے عہد آوارگی میں کیا کچھ تھا آنکھ کھلتے ہی چھپ گئی ہر شے عالم بے خودی میں کیا کچھ تھا یاد ہیں مرحلے محبت کے ہائے اس بیکلی میں کیا کچھ تھا کتنے بیتے دنوں کی یاد آئی آج تیری کمی میں کیا کچھ تھا کتنے مانوس لوگ یاد آئے صبح کی چاندنی میں کیا کچھ تھا رات بھر ہم نہ سو سکے ناصرؔ پردۂ خامشی میں کیا کچھ تھا
  6. جانتے ہو اذیت کیا ہے ؟ وہ جسے ہم اپنی سانسوں کی تسبیح میں پرو چکے ہوں، اسے ہماری تکلیف کا احساس دلانے کے لیے الفاظ کی ضرورت پڑ جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جس کے لیے ہم اپنا سب کچھ چھوڑ چکے ہوں، اسے ہمارے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑے، یہ اذیت ہے.... وہ جو ہمارےایک ،ایک آنسو کو ہیروں کے دام خریدنے کو تیار تھا، اسے ہماری مسلسل کرب ناک چیخوں سے بھی تکلیف نہ ہو، یہ اذیت ہے.... وہ جس کی خاطر ہم اپنی حیات وار چکے ہوں، وہی ہمیں تڑپنے کے لیے اکیلا چھوڑ جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جو ہماری مسکان میں اپنا سکون ڈھونڈتا تھا، وہی ہمارے آنسوؤں کی وجہ بن جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جسے ہمارے لمحے ،لمحے کی فکر رہتی تھی، وہی ہمیں یادوں کے سمندر میں ڈوبنے کو چھوڑ جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جو ہماری ایک جھلک دیکھنے کو پل ،پل مرتے تھے، اسی کے دیدار کو آنکھیں ترس جائیں، یہ اذیت ہے.... وہ جس کا مرہمى لہجہ ہمیں شفا دیتا تھا، وہی مسیحا ہمیں بیمار کر کے چھوڑ جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جس کے عشق میں ہم اپنی انا تک مٹا چکے ہوں، وہی ہمیں ریزہ ،ریزہ بکھیر جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جو ہماری تصویر زندگی میں رنگ بھرتا تھا، وہی اس میں سیاہی بھر جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جسے ہمارے کانٹا چبھنے پر بھی درد محسوس ہوتا تھا، وہی ہماری روح تک کو چھلنی کر جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جس کے ساتھ مل کر مکمل زندگی کے سپنے سجائے، وہی ہماری آنکھوں میں ادھورے سپنوں کی کرچیاں بھر جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جسے پانے کی انتہا میں خود کو کھو دیا، وہی ہمیں پل بھر میں بیگانہ کر جائے، یہ اذیت ہے.... وہ جو ہمارے قھقھوں کی گونج سے اطمینان حاصل کرتا تھا، اسے ہماری خاموشی بھی نہ ستاۓ، یہ اذیت ہے.... وہ جو ہماری پل بھر کی دوری پر بکھر سا جاتا تھا، وہی ہمیں تمام عمر تنہائی کی سزا کاٹنے کو دے جائے، یہ اذیت ہے.... ہاں یہ اذیت ہے....
  7. Urooj Butt

    محبت کیا ہے؟؟؟

    محبت کیا ہے____؟؟ چلو تم کو بتاتی ہوں جہاں تک میں سمجھ پائی وہاں تک ہی بتاتی ہوں محبت آسمانوں سے اترتی ایک آیت ہے میرے رب کی عنایت ہے کہیں لے جائے موسیٰ کو تجلی رب کی دکھلانے کہیں محبوب کو عرشوں پہ اپنے رب سے ملوانے کہیں سولی چڑھاتی ہے کسی منصور سرکش کو کہیں یہ بیٹھ کر روتی ہے پھر شبیر بے کس کو لگا کر آگ پانی میں ہوا میں زہر گھولے گی کرے گی رقص شعلوں پر مگر کب بھید کھولے گی کہیں یہ ایڑیاں رگڑے تو زم زم پھوٹ پڑتے ہیں نظر کر دے جو پتھر پر تو پتھر ٹوٹ سکتے ہیں کہیں یہ قیس ہوتی ہے کہیں فرہاد ہوتی ہے کہیں سر سبز رکھتی ہے کہیں برباد ہوتی ہے کہیں رانجھے کی قسمت میں لکھی اک ہیر ہوتی ہے یہ بس تحریر ہوتی ہے کہاں تقدیر ہوتی ہے کہیں ایثار ہوتی ہے کہیں سرشار ہوتی ہے وہیں یہ جیت جاتی ہے جہاں یہ ہار ہوتی ہے محبت دل کی دیواروں سے لپٹی کائی جیسی ہے محبت دل نشیں وادی میں اندھی کھائی سنو تم بھی محبت کو کہیں ہلکا نہیں لینا اگر اپنی پہ آ جائے صحرا نشیں کر دے اٹھا کر آسمانوں سے تمہیں پل میں زمیں کر دے کسی کو دان دیتی ہے کسی کی جان لیتی ہے لکھے گی درد ماتھے پر ستارا کر کے چھوڑے گی
  8. Jannat malik

    الفاظ" کیا ہیں"

    الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے، کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں۔ ۔ ۔ کچھ غلامی۔ ۔ ۔ کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں۔ ۔ ۔ اور کچھ وار۔ ۔ ۔ ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے ۔ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا، تو سمجھا لفظ صرف معنی نہیں رکھتے، یہ تو دانت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ جو کاٹ لیتے ہیں۔ ۔ ۔ یہ ہاتھ رکھتے ہیں، جو گریبان کو پھاڑ دیتے ہیں۔ ۔ ۔ یہ پاؤں رکھتے ہیں، جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں۔ ۔ ۔ اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں لہجہ کا اسلحہ تھما دیا جائے، تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ اپنے لفظوں کے بارے میں محتاط ہو جاؤ، انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو کہ یہ کسی کے وجود کو سمیٹیں گے یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے۔ ۔ ۔ کیونکہ یہ تمہاری ادائیگی کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ ۔ ۔ ۔ *اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے بادشاہ کو جواب دہ بھی۔ ۔ ۔*
  9. ﺑﺘﺎﻭ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﮐﮧ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﭼﻨﺎﻭﺀﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﻓﺎﺋﯿﮟ ﺧﻮﺏ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺗﻢ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺍﺏ ﺳﻮﮒ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﺳﺎ ﺭﻭﮒ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮﮒ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﮒ ﮐﻮ ﺑُﮭﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻋُﻤﺮ ﺑﯿﺖ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺭﻭﮒ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑُﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻮﮒ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﭼﻠﻮ ﺗﻢ ﮨﯽ ﺑﺘﺎﻭ ﺍﺏ۔۔ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺁﺷﻨﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﮔُﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺰﺍ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺑﺘﺎﻭﺀ ﺗﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ
  10. ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گے مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیں حیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم قدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرح بسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کو کہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم جو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہے اس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم کیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیں انہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا معلوم خدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئی اٹھائی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم ابھی تو فتنے ہی برپا کئے ہیں عالم میں اٹھائیں گے وہ قیامت کسی کو کیا معلوم جناب داغؔ کے مشرب کو ہم سے تو پوچھو چھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم
  11. اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ اے شبِ فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز ہے ہے خدا نہ کرے کہ تجھے بھی رلائیں ہم احمد فراز
  12. کوکا کولا پینے کے بعد پہلے ایک گھنٹے میں کیا ہوتا ہے؟ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کوکا کولا انتہائی شوق سے پیتی ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کوکا کولا پینے کے بعد پہلے ایک گھنٹے میں آپ کے جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ اور اس کے کتنے منفی اثرات ہیں؟ صحت کی ایک ویب سائٹ The Renegade Pharmacist نے اس حوالے سے چند ایسے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جن سے لوگ آج تک ناواقف تھے- پہلے 10 منٹ: کوکا کولا میں موجود 10 چائے کے چمچ چینی آپ کے جسمانی نظام پر براہ راست اثر انداز ہوگی- تاہم آپ کے فوراً قے نہیں آئے گی کیونکہ اس مشروب میں موجود فاسفورک ایسڈ چینی کے ذائقے میں کمی واقع کردیتا ہے جس سے اتنی بھاری مقدار میں پایا جانے والا میٹھا بھی با آسانی سے آپ کے جسم میں حل ہوجاتا ہے- یہ تمام کام کوکا کولا پینے کے پہلے 10 منٹ میں انجام پا جاتے ہیں- پہلے 20 منٹ: کوکا کولا پینے بعد پہلے 20 منٹ میں آپ کے خون میں موجود شوگر کی سطح میں اس حد تک اضافہ ہوجاتا ہے کہ جس کی وجہ سے آپ کے جسم میں موجود انسولین کو خاص مقدار کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور یہ پورے جسم کے لیے نقصان دہ ہوجاتا ہے- دوسری جانب آپ کا جگر جسم موجود شوگر کو اضافی چربی میں تبدیل کرنا شروع کردیتا ہے- پہلے 40 منٹ: کوکا کولا میں پایا جانے والا کیفین آپ کے خون میں مکمل طور پر شامل ہوجاتا ہے- جس کی وجہ سے آپ کے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوجاتا ہے اور خون میں اضافی شوگر کی وجہ سے آپ کے جگر کے نظام میں بےقاعدگی پیدا ہوجاتی ہے- اس کے علاوہ دماغ کو موصول ہونے والے سگنلز میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے- پہلے 45 منٹ: کوکا کولا پینے کے بعد پہلے 45 منٹ میں آپ کے جسم میں موجود کیمیکل جسے dopamine کہا جاتا ہے٬ کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے- اس کیمیکل کا تعلق دماغ سے ہوتا ہے اور اضافی پیداوار دماغ کو نقصان پہنچاتی ہے- یہ سب سے ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ہیروئن کا نشہ کر رکھا ہو- 60 منٹ میں: کوکا کولا میں موجود فاسفورک ایسڈ آپ کی زیریں آنتوں میں کیلشیم٬ میگنیشم اور زنک کو ایک جگہ اکھٹا کردیتا ہے- جس کی وجہ سے آپ کا میٹابولزم کو بڑھا دیاتا ہے- اضافی شوگر اور مصنوعی میٹھے کی وجہ سے بننے والا یہ مرکب آپ کے مثانے پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے- اور آپ کے پیشاب کے ساتھ اضافی کیلشیم بھی خارج ہوجاتا ہے- 60 منٹ بعد: کوکا کولا پینے کے ایک گھنٹے کے بعد پیشاب کے ذریعے آپ کے جسم سے کیلشیم٬ میگنیشم٬ زنک٬ سوڈیم٬ پانی اور الیکٹرو لائٹ کی وہ مقدار بھی خارج ہوجاتی ہے جس کی آپ کے جسم کو ضرورت ہوتی ہے- مزید نقصانات: کوکا کولا کی وجہ سے شوگر کی سطح میں ہونے والا اضافہ آپ کی طبعیت میں چڑچڑا پن اور اکتاہٹ پیدا کرسکتا ہے - اس کے علاوہ آپ کے دانتوں اور ہڈیوں کو کمزور بنا سکتا ہے اور ساتھ ہی آپ کے جسم میں پانی کی کمی بھی پیدا ہوسکتی ہے-
  13. دوست کیا خوب وفاوں کا صلہ دیتے ہیں ہر موڑ پر اک زخم نیا دیتے ہیں تم سے تو خیر گھڑی بھر کی ملاقات رہی لوگ صدیوں کی رفاقت کو بھلا دیتے ہیں کیسے ممکن ہے کہ دھواں بھی نہ ہو اور دل بھی جلے چوٹ پڑتی ہے تو پتھر بھی صدا دیتے ہیں کون ہوتا ہے مصیبت میں کسی کا اے دوست آگ لگتی ہے تو پتے بھی ہوا دیتے ہیں جن پہ ہوتا ہے بہت دل کو بھروسہ "تابش" وقت پڑنے پہ وہی لوگ دغا دیتے ہیں دوست کیا خوب وفاوں کا صلہ دیتے ہیں
  14. وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی سے کسی کو مگر جدا نہ کرے سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے قتیل جان سے جائے پر التجا نہ کرتے
  15. ﮐﯿﺎ ﻋﺸﻖ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﺎﻋﺚِ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﯾﺎﺭﻭ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﮩﺮ ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺑﻦ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﻣﻞ ﮔﺌﮯ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺕ ﺟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﺳﺖِ ﺣﻨﺎﺋﯽ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺷﮩﻨﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﯽ ﻭﺟﮧِ ﺷﻨﺎﺳﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﭘﺎﯾﺎ ﻧﮧ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﻭﺍﺭﮔﯽ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﺻﺤﺮﺍ ﺳﻤﭧ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﮧ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﻭﮦ ﻣﺮﮮ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﭘﯿﮑﺮِ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﻮ ﺭﻭﺯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺪﮔﻤﺎﮞ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﻤﻨﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻗﺘﯿﻞؔ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﺮﺟﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ قتیل شفائی
  16. فارحہ کیا بہت ضروری ہے ہرکسی شعر ساز کو پڑھنا؟ کیا مری شاعری میں کم ہے گداز؟؟ کیا کسی دل گداز کو پڑھنا یعنی میر ے سوا بھی اور کسی شاعرِ دل نواز کو پڑھنا کیا کسی اور کی ہو تم محبوب ؟؟ یوں کسی فن طراز کو پڑھنا حد ہے، خود تم کو بھی نہیں آیا اپنے قرآنِ ناز کو پڑھنا ؟؟ یعنی خود اپنے ہی کرشموں کی داستانِ دراز کو پڑھنا ٹھیک ہے گر تمھیں پسند نہیں اپنی رودادِ راز کو پڑھنا واقعی تم کو چاہیے بھی نہیں مجھ سے بے امتیاز کو پڑھنا کیوں تمھاری انا قبول کر ے؟؟ مجھ سے اک بے نیازکو پڑھنا میر ے غصے کے بعد بھی تم نے نہیں چھوڑا مجازکو پڑھنا (جون ایلیاء)
  17. عمر گزرے گی امتحان میں کیا داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا مری ہر بات بے اثر ہی رہی نَقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا خود کو دنیا سے مختلف جانا آگیا تھا مرے گمان میں کیا ہے نسیمِ بہار گرد آلود خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا یوں جو تکتا ہے آسمان کو تُو کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا جون ایلیا
  18. سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی ثابت ہُوا سکونِ دل و جان نہیں کہیں رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترکِ تعلقات تو کوئی مسئلہ نہیں یہ تو وہ راستہ ہے کہ چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے میں، وہ دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب !!!!میرے خلاف زہر اُگلتا پھرے کوئی اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے !!!!یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے میں اپنی اَنا کا مریض ہوں آخرمیرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی۔ جون ایلیا
  19. کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے ناصر کاظمی
  20. یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے نہ گئے کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے اب وہ نیندوں کا اُجڑنا تو نہیں دیکھیں گے وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے رات بھر میں نے کھُلی آنکھوں سے سپنا دیکھا رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چُرائے نہ گئے بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آ کر ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے تیز بارش ہو ، گھنا پیڑ ہو ، اِک لڑکی ہو ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے پروین شاکر
  21. کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا زندگی سے کسی سمجھوتے کے باوصف اب تک یاد آتا ہے کوئی مارنے، مرنے والا اُس کو بھی ہم تیرے کُوچے میں گزار آئے ہیں زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا اُس کا انداز سُخن سب سے جُدا تھا شاید بات لگتی ہوئی، لہجہ وہ مُکرنے والا شام ہونے کو ہے اورآنکھ میں اِک خواب نہیں کوئی اِس گھر میں نہیں روشنی کرنے والا دسترس میں ہیں عناصر کے ارادے کس کے سو بِکھر کے ہی رہا کوئی بکھرنے والا اِسی اُمّید پہ ہر شام بُجھائے ہیں چراغ ایک تارا ہے سرِ بام اُبھرنے والا
  22. محسن نقوی کی ایک منقبت ، حسین کے چاہنے والوں کے نام نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ جہانِ عزمِ وفا کا پیکر خِرد کا مرکز، جنوں کا محور جمالِ زھراسلام اللہ علیہا ، جلالِ حیدر ضمیرِ انساں، نصیرِ داور زمیں کا دل، آسماں کا یاور دیارِ صبر و رضا کا دلبر کمالِ ایثار کا پیمبر شعورِ امن و سکوں کا پیکر جبینِ انسانیت کا جھُومر عرب کا سہرا، عجم کا زیور حسین تصویرِ انبیاء ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین اہلِ وفا کی بستی حسین آئینِ حق پرستی حسین صدق و صفا کا ساقی حسین چشمِ اَنا کی مستی حسین پیش از عدم، تصور حسین بعد از قیامِ ہستی حسین نے زندگی بکھیری فضا سے ورنہ قضا برستی عروجِ ہفت آسمانِ عظمت حسین کے نقشِ پا کی مستی حسین کو خُلد میں نہ ڈھونڈو حسین مہنگا ہے خلد سستی حسین مقسومِ دین و ایماں حسین مفہوم "ھَل اَتٰی" ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین دل ہے حسین جاں ہے حسین قرآن کی زباں ہے حسین عرفاں کی سلطنت ہے حسین اسرا ر کا جہاں ہے حسین سجدوں کی سر زمیں ہے حسین ذہنوں کا آسماں ہے حسین زخموں بھری جبیں ہے حسین عظمت کا آستاں ہے ! اُٹھا رہا ہے جو لاشِ اکبر حسین بوڑھا نہیں جواں ہے وہ سر خروئے نشیبِ صحرا وہ سربلندِ سر سناں ہے ! وہ بدرِ افلاک آدمیّت وہ صدرِ اربابِ کربلا ہے نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین ایماں کی جستجو ہے حسین یزداں کی آبرو ہے حسین تنہا تھا کربلا میں حسین کا ذکر چار سو ہے فرات کی نبض رُک گئی ہے؟ حسین مصروفِ گفتگو ہے جہاں گلابوں سے اٹ گیا ہے حسین شاید لہو لہو ہے حیات کے ارتقا سے پوچھو حسین پیغمبرِ نمو ہے حسین کو حوصلہ نہ پوچھو حسین لُٹ کر بھی سُرخرو ہے وہ دیکھ فوجوں کے درمیاں بھی حسین تنہا ڈٹا ہواہے نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے حسین نِکھرا ہُوا قلندر حسین بھپرا ہُوا سمندر حسین بستے دلوں سے آگے حسین اُجڑے دلوں کے اندر حسین سلطانِ دین و ایماں حسین افکار کا سکندر ! حسین سے آدمی کا رُتبہ حسین ہے آدمی کا "مَن دَر" خدا کی بخشش ہی خیمہ زَن ہے حسین کی سلطنت کے اندر حسین داتا، حسین راجہ حسین بھگوان، حسین سُندر حسین آکاش کا رشی ہے حسین دھرتی کی آتما ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین ، میدان کا سپاہی حسین دشتِ اَنا کا راہی حسین فرقِ اَجل کا بَل ہے ! حسین انداز، کجکلاہی ! حسین کی گردَ پا، زمانہ حسین کی ٹھوکروں میں‌ شاہی حسین معراجِ فقرِ عالم حسین ، رمزِ جہاں پناہی حسین ایقان کا مُنارہ حسین اوہام کی تباہی ضمیر انصاف کی لغت میں حسین معیارِ بےگناہی بنامِ جبر و غرورِ شاہی حسین غیرت کا فیصلہ نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین فقرو اَنا کا غازی حسین جنگاہ میں‌ نمازی حسین حسنِ نیاز مندی حسین اعجازِ بے نیازی حسین آغازِ جاں نثاری حسین انجامِ جاں گدازی حسین توقیر کار بندی حسین تعبیر کار سازی حسین معجز نمائے دوراں حسین حق کی فسوں طرازی حسین ہارا تو یوں کہ جیسے حسین نے جیت لی ہو بازی حسین سارے جہاں کا وارث حسین کہنے کو بے نوا ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ ! حسین پیغمبرِ بہاراں حسین تسکین دل فگاراں حسین میر حجاز ہستی حسین سالارِ شہسواراں کہ دیدہ و دل کے دشت وور میں حسین تمثیلِ ابر و باراں حسین تدبیرِ جاں فروشاں حسین تقدیرِ سوگواراں کبھی تو چشمِ ہنر سے دیکھو حسین رشکِ رُخِ نگاراں ! حسین حسنِ مہِ محرّم حسین ہی عید ِ روزہ داراں ! حسین سرمایہ انبیا کا حسین اعجازِ اولیا ہے نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین اک دلنشیں کہانی حسین دستورِ حق کا بانی حسین عباس کا سراپا حسین اکبر کی نوجوانی حسین کردارِ اہلِ ایماں حسین معیارِ زندگانی حسین قاسم کی کم نمائی حسین اصغر کی بے زبانی حسین سجاد کی خموشی حسین باقر کی نوحہ خوانی حسین دجلہ کا خشک ساحل حسین صحرا کی بیکرانی حسین زینب سلام اللہ علیہا کی کسمپرسی حسین کلثوم سلام اللہ علیہا کی ردا ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
×