Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'ﮐﻮﺋﯽ'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 15 results

  1. کوئی ایسا جادو ٹونہ کر۔ مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو۔ یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔ میں شمع، وہ پروانہ ہو۔ زرا دیکھ کے چال ستاروں کی۔ کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔ جو کر دے بخت سکندر سا کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔ کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے ۔ کوئی ایسا دے تعویز مجھے۔ وہ مجھ پر عاشق ہو جائے۔۔ کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔ مری راہ میں پھول گلاب آئیں۔ کوئی پانی پھوک کے دے ایسا۔ وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔ کوئی ایسا کالا جادو کر جو جگمگ کر دے میرے دن۔ وہ کہے مبارک جلدی آ ۔ اب جیا نہ جائے تیرے بن۔ کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے ۔ جس رہ سے وہ دلدار ملے۔ کوئی تسبیح دم درود بتا ۔ جسے پڑھوں تو میرا یار ملے کوئی قابو کر بے قابو جن۔ کوئی سانپ نکال پٹاری سے کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔ کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔ وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔ کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔ وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔ کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔ اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں ۔ جو مرضی میرے یار کی ہے۔ اسے لگے میں بالکل ویسا ہوں۔ کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔ جو اشک بہا دے سجدوں میں۔ اور جیسے تیرا دعوی ہے محبوب ہو میرے قدموں میں ۔ پر عامل رک، اک بات کہوں۔ یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟ محبوب تو ہے سر آنکھوں پر۔ مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا۔ اور عامل سن یہ کام بدل۔ یہ کام بہت نقصان کا ہے۔ سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ جو مالک کل جہان کا ہے۔
  2. 🌹 کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا میرے پیار دے وِچ او رنگ جاوے اوتھے دِل دھڑکے، ایتھے جاں جاوے او ھسّے شام نِکھر جاوے اودی زلف توں رات وِکھر جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا اُس ھتھ نال نبظ اے گنڈ جاوے اُس ھتھ نال ھتھ جے مِل جاوے مری دنیا ارش اے ہو جاوے چاہے لکھ وار ہیاتی رُل جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا او شام کہے، دن ڈھل جاوے او گیت کہے دِن چڑھ جاوے اوھدی چال تے ندیا مُڑ جاوے اوھدی اَکھ وِچ ساغر ڈُب جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا مری ذات توں دوری بُھل جاوے او تتلی وانگوں رنگ جاوے کوئی ایسا سجدہ ہو جاوے میں ھتھ چاواں، رَب مَن جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا
  3. پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہے جذبہ عشق سرِ دار مجھے کھینچتا ہے میں محبت کے مضافات کا باشندہ ہوں کیوں ترا شہرِ پُر اسرار مجھے کھینچتا ہے یہ بھی حیرت ہے عجب، خود مری تمثال کے ساتھ آئینہ بھی پسِ دیوار مجھے کھینچتا ہے دم بھی لینے نہیں دیتا ہے مسافت کاجنون پَا برہنہ وہ سرِ خار مجھے کھینچتا ہے پھر کوئی تیر ہدف کرتا ہے مشکیرہ کو پھر کوئی دستِ کماں دار مجھے کھینچتا ہے بولیاں جس کی لگے میں کوئی یوسف تو نہیں کس لئے مصر کا بازار مجھے کھینچتا ہے ہے کوئی گریہ کن حرف پسِ خیمہ جاں پھر کوئی نالہ آزار مجھے کھینچتا ہے تجھ کو معلوم ہے شاہدؔ بھی ہے مغرور بہت کیوں ترا حُسن انادار مجھے کھینچتا ہے
  4. کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا میرے پیار دے وِچ او رنگ جاوے اوتھے دِل دھڑکے، ایتھے جاں جاوے او ھسّے شام نِکھر جاوے اودی زلف توں رات وِکھر جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا اُس ھتھ نال نبظ اے گنڈ جاوے اُس ھتھ نال ھتھ جے مِل جاوے مری دنیا ارش اے ہو جاوے چاہے لکھ وار ہیاتی رُل جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا او شام کہے، دن ڈھل جاوے او گیت کہے دِن چڑھ جاوے اوھدی چال تے ندیا مُڑ جاوے اوھدی اَکھ وِچ ساغر ڈُب جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا مری ذات توں دوری بُھل جاوے او تتلی وانگوں رنگ جاوے کوئی ایسا سجدہ ہو جاوے میں ھتھ چاواں، رَب مَن جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا
  5. کوئی نالہ یہاں رَسا نہ ہُوا اشک بھی حرفِ مُدّعا نہ ہُوا تلخی درد ہی مقدّر تھی جامِ عشرت ہمیں عطا نہ ہُوا ماہتابی نگاہ والوں سے دل کے داغوں کا سامنا نہ ہُوا آپ رسمِ جفا کے قائل ہیں میں اسیرِ غمِ وفا نہ ہوا وہ شہنشہ نہیں، بھکاری ہے جو فقیروں کا آسرا نہ ہُوا رہزن عقل و ہوش دیوانہ عشق میں کوئی رہنما نہ ہُوا ڈوبنے کا خیال تھا ساغرؔ ہائے ساحل پہ ناخُدا نہ ہُوا (ساغر صدیقی)
  6. کب تلک مدعا کہے کوئی نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی غیرت عشق کو قبول نہیں کہ تجھے بے وفا کہے کوئی منتِ ناخدا نہیں منظور چاہے اس کو خدا کہے کوئی ہر کوئی اپنے غم میں ہے مصروف کس کو درد آشنا کہے کوئی کون اچھا ہے اس زمانے میں کیوں کسی کو برا کہے کوئی کوئی تو حق شناس ہو یارب ظلم کو ناروا کہے کوئی وہ نہ سمجھیں گے ان کنایوں کو جو کہے برملا کہے کوئی آرزو ہے کہ میرا قصہء شوق آج میرے سوا کہے کوئی جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصر کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی دیوان (ناصر کاظمی)
  7. نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیں کیا خبر کب کسی انسان پہ چھت آن گرے قریۂ سنگ ہے اور کانچ کی تعمیریں ہیں لُٹ گئے مفت میں دونوں، تری دولت مرا دل اے سخی! تیری مری ایک سی تقدیریں ہیں ہم جو ناخواندہ نہیں ہیں تو چلو آؤ پڑھیں وہ جو دیوار پہ لکھی ہوئی تحریریں ہیں ہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیل ....جس کے ہاتھوں میں قلم پاؤں میں زنجیریں ہیں
  8. ﮐﯿﺎﻭﺍﻗﻌﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ؟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ۔۔۔۔۔ ﺳﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺧﻮﺷﻨﻤﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﯿﺎﮨﮯ؟؟؟ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ،ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﻂ ﻣﺮﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ،ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻋﺰﯾﺰ ﻭ ﺍﻗﺎﺭﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮ۔۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﮐﺲ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﮐﻮﻥ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ،ﺍﭘﻨﺎﺋﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭩﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ؟؟؟ ﯾﮧ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﻓﻘﻂ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔۔۔۔ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺑﯿﺸﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﮨﻮﻧﮧ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮔﮭﺮﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ، ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻣﮑﻤﻞ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺗﻮ ﺍﺻﻞ ﺟﻤﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ،ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  9. کوئی دن گر زندگانی اور ہے اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاں سوزِ غم ہاۓ نہانی اور ہے بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں پر کچھ اب کے سر گرانی اور ہے دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر کچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے قاطعِ اعمار ہیں اکثر نجوم وہ بلاۓ آسمانی اور ہے ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام ایک مرگِ ناگہانی اور ہے
  10. سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی ثابت ہُوا سکونِ دل و جان نہیں کہیں رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترکِ تعلقات تو کوئی مسئلہ نہیں یہ تو وہ راستہ ہے کہ چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے میں، وہ دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب !!!!میرے خلاف زہر اُگلتا پھرے کوئی اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے !!!!یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے میں اپنی اَنا کا مریض ہوں آخرمیرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی۔ جون ایلیا
  11. اس نہیں کا کوئی علاج نہیں روز کہتے ہیں آپ آج نہیں کل جو تها آج وہ مزاج نہیں اس تلوان کا کچھ علاج نہیں کهوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹهرا در ہم داغ کا رواج نہیں دل لگی کیجئے رقیبوں سے اس طرح کا مرا مزاج نہیں عشق ہے بادشاہ عالم گیر گر چہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں حور سے پوچھتا ہوں جنت میں اس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں صبر بھی دل کو داغ دے لیں گے ابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں داغ دہلوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  12. ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺴﯽ ﮔﮩﺮﯼ ﭼﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﮨﯽ ﻓﻀﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﮑﺴﺖ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺟﻮ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﺑﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﮯ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮕﻨﺆﮞ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﺋﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻩ ﺟﻮ ﺷﺎﻡ ﺷﮩﺮ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺴﯽ ﻟﺐ ﭘﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻭﻩ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻭﺣﺸﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻩ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﻋﮩﺪ ﻧﺸﺎﻁ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﺩ ﭘﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﻏﺮﻭﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﯿﺎ ﻭﻩ ﺟﻮ ﻓﺎﺗﺤﺎﻧﮧ ﺧﻤﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮩﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺳﺖ ﻟﺸﮑﺮ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﺳﺮﺧﺮﻭ ﻣﮧ ﻭ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺲ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ .........ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﻗﺼﮧﺀ ﺣﺎﻝ ﮨﮯ .........ﺟﻮ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﮨﮯ .........ﺟﻮ ..........ﮔﺌﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻼﻝ ﮨﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﮯ ﮐﻮﺋﯽ
  13. یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں یہ درد تو نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں یہی بہت ہے کہ تم دیکھتی ہو ساحل سے کہ سفینہ ڈوب رہا ہے تو کوئی بات نہیں رکھا تھا آئینہ دل میں چھپا کے تم کو وہ گھر چھوڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں تم نے ہی آئینہ دل میرا بنایا تھا تم نے ہی توڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں بالآخر زیست کے قابل بنا ہوں میں بڑی مشکل سے پتھر دل بنا ہوں میں وہ آئے ہیں سراپائے مجسم بن کر میں گھبرا کر مجسمہ دل بنا ہوں جہاں مقتول ہی ٹھہرے ہیں مجرم یہی کچھ سوچ کے قاتل بنا ہوں میں بڑا محتاط ہوں تیری محفل میں تیری جانب سے سو غافل بنا ہوں میں میں کھا کر ٹھوکریں تیری گلیوں کی بڑا مرشد بڑا کامل بنا ہوں میں کوئی سمجھے گا کیا مجھ کو خود اپنے لیے مشکل بنا ہوں میں یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں یہ درد تو نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں
  14. ﺍﺏ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟُﺰ ﺷﺐِ ﺗﻨﮩﺎ، ﺷﺮﯾﮏِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﮩﺮ ﮐﯽ ﺧﺎﻣﺸﯽ ﮐﮯ ﺧﻮﻑ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﺷﮩﺮ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﯾﺎ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﻢ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﺻﺒﺢ ﺗﮏ ﺟﻠﻨﺎ ﺳِﮑﮭﺎ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺷﺎﻡ ﺩﮮ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﺤﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﻞ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﻡ ﻭ ﺩَﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻓﻦ ﮐﯽ، ﻣﺘﺎﻉِ ﻓﻦ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﭘﺘﮭّﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﯿﺸﮧ ﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺩﺭﺩ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺑﻮﻝ ﺍﭨﮭّﮯ ﺳﮑﻮﺕِ ﺷﮩﺮِ ﺟﺎﮞ ﺯﺧﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﮮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
  15. ہم کو نہ اب کسی سے کوئی کام رہ گیا دنیا سے ہم چلے گئے بس نام رہ گیا اب پیاس بجھانے کو یاں پانی کے علاوہ مرغوب ہوس اور خون کا جام رہ گیا حا کم تو چھپا بیٹھا ہےپتھر کےقلعوں میں مرنے کو ناحق آدمی بس عام رہ گیا چھوڑا نہ اسپتال،نہ ہی باغ و درسگاہ وحشی بھی دیکھ کے لرزہ بر اندام رہ گیا ہر جنس یہاں آپ ہی بکنے کو ہے راضی مرضی ہے خریدار کی ، یہ دام رہ گیا وعدہ کوئی وفا نہ کیا تو نے ہم سفر آمد کا منتظر کوئی ہر شام رہ گیا دولت کو، محبت کو، شہرت کو، حسن کو سب کو ہی پوجتے ہو، بس اِک رام رہ گیا؟ دِل چاہ کر بھی پا نہ سکا دید یار کی حسرت سے چھو کے تیرے در و بام رہ گیا
×