Jump to content

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to create topics, post replies to existing threads, give reputation to your fellow members, get your own private messenger, post status updates, manage your profile and so much more. If you already have an account, login here - otherwise create an account for free today!

Welcome to our forums
Welcome to our forums, full of great ideas.
Please register if you'd like to take part of our project.
Urdu Poetry & History
Here you will get lot of urdu poetry and history sections and topics. Like/Comments and share with others.
We have random Poetry and specific Poet Poetry. Simply click at your favorite poet and get all his/her poetry.
Thank you buddy
Thank you for visiting our community.
If you need support you can post a private message to me or click below to create a topic so other people can also help you out.

Search the Community

Showing results for tags 'ﮨﻮﺗﺎ'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Categories

  • Islamic
  • Funny Videos
  • Movies
  • Songs
  • Seasons
  • Online Channels

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 11 results

  1. دُکھ کیا ہوتا ہے؟؟؟ کوئی عورت ساری رات اپنے شوهر سے مار کھا کے اب کسی کے گھر میں صفائی کر رهی هو گی اور اُس گھر کا مالک اُس کو گھور رها هو گا. کسی مدرسے میں سالوں سے دور کوئی بچہ کسی کونے میں بیٹھا اپنی ماں کو یاد کر رها ھو گا اور هچکیاں لیتے رو رها هو گا. کسی سکول میں کوئی بچی آج بھی سکول فیس نہ هونے سبب کلاس سے باهر کھڑی هو گی اور اُس کے آنسو اُس کی روح میں جذب هو رهے هوں گے. کہیں کوئی اپنے صحن میں اپنے پیارے کا جنازہ لئے بیٹھا ھو گا اور اُس سے لپٹ کے خود کو یقین دلا رها هو گا کہ یہ خواب هے. کہیں دور کسی صحرا میں کوئی ریت پہ زبان پھیر کے موت سے لڑ رها ھو گا اور سوچ رها هو گا کہ کہیں کوئی اُس کے حال کو جانتا تک نہ ھو گا. کہیں جیل میں کوئی پردیسی کسی ناکردہ جرم میں سسکتے هوئے اپنوں کے چہروں کو ڈھونڈ رها هو گا اور سوچ رها هو گا کہ اُس کی فاتحہ بھی نہ هو گی. کہیں دور کسی ایمرجنسی میں اپنے باپ کے سرهانے کھڑا بچہ اپنی شفقت کا سایہ سر سے اٹھتے دیکھ رها هو گا. اس وقت بھی کسی گاوُں کی ڈسپنسری میں کوئی ماں اپنے لخت جگر کا سر گود میں رکھے اُس کی زندگی کی سانسیں گن رهی هو گی. کہیں کوئی بھوک سے بلک رها ھو گا اور کہیں کوئی درد سے چیخ رها هو گا. خدا کی تقسیم بھی عجیب هے کہ اسی کا نام نصیب هے دکھ انسان کے اندر بس جاتے ھیں اور پھر وہ انسان اس قدر گہرا هو جاتا هے، کہ کنکر بھی پھینکو تو آواز باهر نہیں آتی بلکہ سناٹا مزید بڑھ جاتا ھے.
  2. ''نور کیا ہوتا ہے؟ تم جانتے ہو؟'' ''نور وہ ہوتا ہے, جو اندھیری سرنگ کے دوسرے سرے پہ نظر آتا ہے, گویا کسی پہاڑ سے گرتا پگھلے سونے کا چشمہ ہو۔'' ''اور کیسے ملتا ہے نور؟'' ''جو الله کی جتنی مانتا ہے, اسے اتنا ہی نور ملتا ہے۔ کسی کا نور پہاڑ جتنا ہوتا ہے, کسی کا درخت جتنا, کسی کا شعلے جتنا اور کسی کا پاؤں کے انگوٹھے جتنا۔ انگوٹھے جتنا نور جو جلتا بجھتا , بجھتا جلتا ہے۔ یہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو کچھ دن بہت دل لگا کر نیک عمل کرتے ہیں اور پھر کچھ دن سب چھوڑ چھاڑ کر ڈپریشن میں گھر کر بیٹھ جاتے ہیں۔'' ''اور انسان کیا کرے کہ اسے آسمانوں اور زمین جتنا نور مل جائے؟'' ''وہ الله کو نہ کہنا چھوڑ دے ۔اسے اتنا نور ملے گا کہ اس کی ساری دنیا روشن ہو جائے گی۔ دل کو مارے بغیر نور نہیں ملا کرتا۔''
  3. عجب اپنا حال ہوتا_________، جو وصال یار ہوتا کبھی جان صدقے ہوتی،______ کبھی دل نثار ہوتا کوئی فتنہ تا قیامت_________ نہ پھر آشکار ہوتا ترے دل پہ کاش اے ظالم____ مجھے اختیار ہوتا جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا تمھیں منصفی سے کہہ دو_ تمہیں اعتبار ہوتا.. ¡? غمِ عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے یہ وہ زہر ہے کہ_______ آخر میں خوشگوار ہوتا یہ مزہ تھا دل لگی کا_______، کہ برابر آگ لگتی نہ تجھے قرار ہوتا،________ نہ مجھے قرار ہوتا یہ مزا ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں کوئی غیر غیر ہوتا،_________ کوئی یار یار ہوتا ترے وعدے پر ستمگر،_____ابھی اور صبر کرتے اگر اپنی زندگی کا،_________ ہمیں اعتبار ہوتا یہ وہ دردِ دل نہیں ہے کہ___ ہو چارہ ساز کوئی اگر ایک بار مٹتا تو______________ ہزار بار ہوتا مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے درِ یار کعبہ بنتا______________ جو مرا مزار ہوتا تمہیں ناز ہو نہ کیونکر______ کہ لیا ہے داغ کا دل یہ رقم نہ ہاتھ لگتی___________ نہ یہ افتخار ہوتا
  4. حال ماضی سے ہم بھگوتے ہیں جو نہ اپنا تھا اس کو روتے ہیں عاق کر کے جہاں کی سب خوشیاں غم میں خود غم نئے پروتے ہیں خواب ٹوٹے کی کرچیاں چنتے عمر بھر جاگتے نہ سوتے ہیں روندتے خود بہار آنگن کی بیج کیوں خود خزاں کے بوتے ہیں گم شدہ کی تلاش میں ناداں ہم سفر کو بھی اپنے کھوتے ہیں دوریاں بھی عذاب ہیں لیکن کم کہاں قرب پر یہ ہوتے ہیں حد ہے دیوانگی کی یہ ابرک داغ کو داغ سے ہی دھوتے ہیں اتباف ابرک
  5. کوکا کولا پینے کے بعد پہلے ایک گھنٹے میں کیا ہوتا ہے؟ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کوکا کولا انتہائی شوق سے پیتی ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کوکا کولا پینے کے بعد پہلے ایک گھنٹے میں آپ کے جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ اور اس کے کتنے منفی اثرات ہیں؟ صحت کی ایک ویب سائٹ The Renegade Pharmacist نے اس حوالے سے چند ایسے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جن سے لوگ آج تک ناواقف تھے- پہلے 10 منٹ: کوکا کولا میں موجود 10 چائے کے چمچ چینی آپ کے جسمانی نظام پر براہ راست اثر انداز ہوگی- تاہم آپ کے فوراً قے نہیں آئے گی کیونکہ اس مشروب میں موجود فاسفورک ایسڈ چینی کے ذائقے میں کمی واقع کردیتا ہے جس سے اتنی بھاری مقدار میں پایا جانے والا میٹھا بھی با آسانی سے آپ کے جسم میں حل ہوجاتا ہے- یہ تمام کام کوکا کولا پینے کے پہلے 10 منٹ میں انجام پا جاتے ہیں- پہلے 20 منٹ: کوکا کولا پینے بعد پہلے 20 منٹ میں آپ کے خون میں موجود شوگر کی سطح میں اس حد تک اضافہ ہوجاتا ہے کہ جس کی وجہ سے آپ کے جسم میں موجود انسولین کو خاص مقدار کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور یہ پورے جسم کے لیے نقصان دہ ہوجاتا ہے- دوسری جانب آپ کا جگر جسم موجود شوگر کو اضافی چربی میں تبدیل کرنا شروع کردیتا ہے- پہلے 40 منٹ: کوکا کولا میں پایا جانے والا کیفین آپ کے خون میں مکمل طور پر شامل ہوجاتا ہے- جس کی وجہ سے آپ کے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوجاتا ہے اور خون میں اضافی شوگر کی وجہ سے آپ کے جگر کے نظام میں بےقاعدگی پیدا ہوجاتی ہے- اس کے علاوہ دماغ کو موصول ہونے والے سگنلز میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے- پہلے 45 منٹ: کوکا کولا پینے کے بعد پہلے 45 منٹ میں آپ کے جسم میں موجود کیمیکل جسے dopamine کہا جاتا ہے٬ کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے- اس کیمیکل کا تعلق دماغ سے ہوتا ہے اور اضافی پیداوار دماغ کو نقصان پہنچاتی ہے- یہ سب سے ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ہیروئن کا نشہ کر رکھا ہو- 60 منٹ میں: کوکا کولا میں موجود فاسفورک ایسڈ آپ کی زیریں آنتوں میں کیلشیم٬ میگنیشم اور زنک کو ایک جگہ اکھٹا کردیتا ہے- جس کی وجہ سے آپ کا میٹابولزم کو بڑھا دیاتا ہے- اضافی شوگر اور مصنوعی میٹھے کی وجہ سے بننے والا یہ مرکب آپ کے مثانے پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے- اور آپ کے پیشاب کے ساتھ اضافی کیلشیم بھی خارج ہوجاتا ہے- 60 منٹ بعد: کوکا کولا پینے کے ایک گھنٹے کے بعد پیشاب کے ذریعے آپ کے جسم سے کیلشیم٬ میگنیشم٬ زنک٬ سوڈیم٬ پانی اور الیکٹرو لائٹ کی وہ مقدار بھی خارج ہوجاتی ہے جس کی آپ کے جسم کو ضرورت ہوتی ہے- مزید نقصانات: کوکا کولا کی وجہ سے شوگر کی سطح میں ہونے والا اضافہ آپ کی طبعیت میں چڑچڑا پن اور اکتاہٹ پیدا کرسکتا ہے - اس کے علاوہ آپ کے دانتوں اور ہڈیوں کو کمزور بنا سکتا ہے اور ساتھ ہی آپ کے جسم میں پانی کی کمی بھی پیدا ہوسکتی ہے-
  6. تم جو ہوتے تو ہمیں کتنا سہارا ہوتا ہم نے اوروں کو نہ یوں دکھ میں پکارا ہوتا جتنی شدت سے میں وابستہ تھا تم سے فرحت کس طرح میرا ترے بعد گزارا ہوتا مجھ کو یہ سوچ ہی کافی ہے جلانے کے لیے میں نہ ہوتا تو کوئی اور تمہارا ہوتا اور ہم بیٹھ کے خاموشی سے روئے جاتے شام ہوتی، کسی دریا کا کنارا ہوتا دل سے دیکھی نہیں جاتی تھی خاموشی گھر کی کس طرح اجڑا ہوا شہر گوارا ہوتا چاند ہوتا کہ مری جان ستارہ ہوتا ہم نے اک تیرے سوا دل سے اتارا ہوتا تو نے سوچا ہے کبھی کتنا محبت کے بغیر ...روح فرسا دل ویراں کا نظارا ہوتا
  7. ﮐﯿﺎﻭﺍﻗﻌﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ؟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ۔۔۔۔۔ ﺳﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺧﻮﺷﻨﻤﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﯿﺎﮨﮯ؟؟؟ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ،ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﻂ ﻣﺮﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ،ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻋﺰﯾﺰ ﻭ ﺍﻗﺎﺭﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮ۔۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﮐﺲ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﮐﻮﻥ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ،ﺍﭘﻨﺎﺋﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭩﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ؟؟؟ ﯾﮧ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﻓﻘﻂ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔۔۔۔ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺑﯿﺸﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﮨﻮﻧﮧ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮔﮭﺮﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ، ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻣﮑﻤﻞ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺗﻮ ﺍﺻﻞ ﺟﻤﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ،ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  8. 1891 میں پیدا ہونے والے مہاراجا بھوپندر سنگھ آف پٹیالہ نے 1938 ء میں وفات پائی تو اس کی پانچ بیویاں ، 88 اولادیں اور 350 سے زیادہ داشتائیں تھیں۔ بھوپندر سنگھ مہاراجہ اعلیٰ سنگھ کی نسل میں سے تھا۔ اس خاندان کے سربراہ نے تاریخی ہیروں اور دیگر نایاب جواہرات پر مشتمل خزانہ چھوڑا تھا۔ اس نے ایک بڑی ریاست قائم کی تھی اور اپنی اولاد کو اقتدار دے گیا تھا۔ مہاراجہ بھوپندر سنگھ بہت قابل انسان تھا۔ اس کے وزیر اور افسر نہایت لائق افراد تھے۔ ہندوستان کے ہر علاقے کا لائق ترین شخص چن کر اس کا وزیر بنایا گیا تھا۔ اس کے وزیر ساری زندگی اس کے وفادار رہے۔ آزاد ہندوستان کا سفیر برائے چین، مصر اور فرانس سردار کے ایم پانیکر اس کا بااعتماد وزیر خارجہ تھا۔ ایک سابق بھارتی وزیراعلیٰ کرنل رگھبیر سنگھ بھی پٹیالہ کا وزیر داخلہ رہ چکا تھا۔ نواب لیاقت حیات خان کئی سال پٹیالہ کا وزیراعظم رہا۔ قانون کا وزیر الٰہ آباد کا ممتاز وکیل ایم اے رائنا تھا۔ دیوان جرمنی داس زراعت، صنعت اور جنگلات کا وزیر ہونے کے علاوہ مہاراجا کی صحت کے امور کا انچارج تھا۔ بھوپندر سنگھ نے ریاست کا انتظام چلانے میں اپنی مدد کے لیے نہایت لائق افراد کو منتخب کیا تھا۔ مہاراجا بھوپندر سنگھ کا باپ مہاراجہ سر راجندر سنگھ سی سی ایس آئی شراب نوشی کے ہاتھوں صرف 28 سال کی عمر میں مر گیا تھا۔ مہاراجا کے مشیر اس امر کا خا ص خیال رکھتے تھے کہ وہ اپنے باپ دادا کی طرح شراب کا عادی نہ ہو جائے۔ اسے ایک انگریز ٹیوٹر نے بچپن سے تعلیم و تربیت دی تھی۔ اس کے علاوہ اسے ہندو اور سکھ ٹیوٹر بھی تعلیم و تربیت دیا کرتے تھے۔ 18سال کی عمر میں وہ بہت سی خوبیوں کا مالک بن چکا تھا۔ جب وہ بالغ ہوا تو اس کے درباریوں نے اسے عورت اور شراب کے مزے سے آشنا کروانا چاہا۔ تاہم مہاراجا ان تمام ترغیبات سے بچا رہا۔ چونکہ مہاراجا کے بگڑنے ہی میں درباریوں کا مفاد تھا اس لیے جلد ہی مہاراجا ان کی سازشوں کا شکار ہو گیا۔ درباری ولن اسے نوجوان عورتوں کے ذریعے بھٹکانے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ نوجوان تھا اس لیے ایسی ترغیبات سے زیادہ عرصہ نہ بچ سکا۔ ان عورتوں کو ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لایا جاتا تھا۔ وہ بہت کم عمر اور نہایت حسین ہوا کرتی تھیں۔ جب وہ مرا تو اس کے حرم میں تقریباً 322 عورتیں تھیں۔ ان میں سے صرف دس مہارانیاں تسلیم کی گئی تھیں، تقریباً پچاس کو رانی کہا جاتا جبکہ باقی سب کنیزیں تھیں۔ وہ سب مہاراجا کے اشارے کی منتظر رہتی تھیں۔ وہ دن یا رات کے کسی بھی لمحے ان کے ساتھ قربت اختیار کر سکتا تھا۔ چھوٹی چھوٹی بچیوں کو محل میں لایا جاتا اور انہیں پالا پوسا جاتا یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جاتیں۔ انہیں مہاراجا کی پسند کے مطابق تربیت دی جاتی تھی۔ محل میں شروع شروع میں ان لڑکیوں کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔ انہیں صرف مہاراجا کو سگریٹ اور شراب پیش کرنے یا دوسری خدمات ادا کرنے کا کہا جاتا تھا۔ مہارانیاں ان کو آغوش میں لیتی اور چومتی تھیں۔ پہلے وہ لڑکیاں محض کنیزیں ہوتی تھیں لیکن مہاراجا کو پسند آنے پر ان کا رتبہ بڑھتا جاتا یہاں تک کہ وہ اعلیٰ ترین رتبے پر پہنچ کر مہارانی کہلاتیں۔ جب مہاراجا کسی عورت کو مہارانی منتخب کر لیتا تو حکومت ہندوستان کو اس امر کی اطلاع دیتا اور حکومت اس عورت کو مہارانی تسلیم کر لیتی۔ اس کے بطن سے جنم لینے والے لڑکے کو مہاراجا کا جائز بیٹا تصور کیا جاتا اور اسے شہزادے کے حقوق دیے جاتے تھے۔ مہارانیوں اور داشتاؤں میں اور بھی فرق تھے۔ مہارانیوں کو دوپہر اور رات کا کھانا اور چائے سونے کے برتنوں میں پیش کیے جاتے تھے۔ رانیوں کو چاندی کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ ان کو پچاس اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔ اعلیٰ تر رتبے کی آرزو مند دیگر عورتوں کو پیتل کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ ان کو بیس اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔ خود مہاراجا کو ہیرے جڑے سونے کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ اسے 150 سے زیادہ اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔ مہاراجا ، مہارانیوں اور شہزادوں یا شہزادیوں کی سالگرہ پر عظیم الشان تقریبات برپاکی جاتیں۔ دو سو پچھتر یا تین سو مہمانوں کے لیے میز لگائی جاتیں۔ مردوں میں صرف مہاراجا، اس کے بیٹے، داماد اور چند خاص مدعوئین ہوتے جبکہ عورتوں میں صرف مہارانیاں اور محل کی چند منتخب عورتیں ہوتیں۔ ان تقریبات میں اطالوی، فرانسیسی اور انگریز بیرے اور خانساماں ہوتے تھے اور کھانے اور شرابیں نہایت مزیدار ہوتے۔ پکوانوں کو بڑی بڑی پلیٹوں میں لا کر اوپر تلے رکھ دیا جاتا۔ یہ ڈھیر کھانے والوں کے منہ تک پہنچ جاتا تھا۔ بعض اوقات دس سے بیس پلیٹوں تک کی قطاریں بن جاتی تھیں۔ کھانے کے بعد موسیقی کی محفل ہوتی، جس میں مختلف ریاستوں سے بلوائی گئیں رقاصائیں مہاراجا، مہارانیوں اور مہمانوں کا جی بہلاتیں۔ ایسی تقریبات صبح سویرے انجام کو پہنچتیں۔ اس وقت تک سب لوگ نشے میں دھت ہو چکے ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ کئی سال جاری رہا۔ محل میں ایسی عورتیں بھی تھیں جنہیں یورپ، نیپال اور قبرص سے لایا گیا تھا۔ محل کی عورتوں نے ایسا لباس اور ہیرے جواہرات پہنے ہوتے تھے کہ دنیا میں ان کی مثال ملنا ناممکن تھی۔ تقریب کے اختتام پر مہاراجا عورتوں میں سے چند ایک کو منتخب کر لیتا اور انہیں لے کر اپنے محل میں چلا جاتا۔ یہ عورتیں مہاراجا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بہت سی ترکیبیں استعمال کرتی تھیں۔ مہاراجا کے دل میں ان سب کے لیے نرم گوشہ تھا۔ وہ روزانہ اپنے معائنے کے لیے آنے والے ڈاکٹروں کو اپنی بیماریوں کے بارے میں بتاتی تھی۔ یہ عورتیں بعض اوقات مہاراجا کی محبت اور فرقت میں خودکشی کرنے کی دھمکی دیتیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان میں سے چند ایک نے کمرے کی چھت سے رسی باندھ کر اس کے ذریعے خودکشی کی کوشش بھی تھی۔ جب کوئی عورت تنہائی کا شکوہ کرتی تو مہاراجا خوفزدہ ہو جاتا۔ عموماً وہ اس سے ملتا اور ہر ممکن طریقے سے اسے دلاسا دینے کی کوشش کرتا۔ مہاراجا کے حرم میں ایسی بدنصیب عورتیں بھی تھیں جنہیں زندگی میں ایک مرتبہ بھی مہاراجا سے ہم آغوش ہونے کا موقع نہیں ملا تھا۔ مہاراجا کو اپنی ساری مہارانیوں، رانیوں اور دیگر عورتوں سے محبت تھی اور وہ سب کے ساتھ برابر کا محبت بھرا سلوک روا رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ عورتیں بھی جواباً اسے اپنا واحد مرد مانتی تھیں۔ وہ جب بھی یورپ جاتا کم از کم ایک درجن عورتوں کواپنے ساتھ لے کر جاتا تھا۔ ہندوستان سے باہر ان مہارانی، رانی اور کنیز والی تفریق ختم ہو جاتی۔ ان کے کھانوں، کپڑوں اور رہائش میں کوئی فرق نہ رہتا۔ موتی باغ محل کا پروٹوکول پیرس اور لندن میں ایک طرف رکھ دیا جاتا تھا۔ مہارانیاں اور دوسری عورتیں موتی باغ کہلانے والے بڑے محل کے عقب میں واقع مختلف محلات میں رہتی تھیں۔ موتی باغ محل مہاراجا کی رہائش گاہ تھا۔ باہر سے کسی شخص کا محل کے ان اندرونی حصوں میں داخل ہونا انتہائی مشکل تھا۔ اگر کوئی شخص موتی باغ محل میں داخل ہونا چاہتا تو پہلے اسے تقریباً آدھا میل لمبا باغ عبور کرنا پڑتا، پھراسے بے شمار کمروں اور متعدد ہال کمروں سے گزرنا پڑتا۔ محل میں ہر بیس قدم کے فاصلے پر فوجی گارڈ موجود ہوتے۔ ان سب مراحل سے گزرنے کے بعد وہ شخص ایک چھوٹے گیٹ تک پہنچتا، جہاں سے داخلی محلات میں پہنچا جا سکتا تھا۔ اندرونی محل میں مہاراجا سے ملنے کے لیے آنے والوں کو شفاف اور قیمتی ریشمی لباس میں ملبوس اور ہیرے جواہرات سے لدی پھندی نہایت حسین و جمیل عورتیں مہاراجا کے خصوصی احکامات کی تعمیل میں مسکراہٹوں سے نوازتیں اور شراب پیش کرتیں۔ پنجابی لباس میں ملبوس چند عورتیں مہمانوں کو سگریٹ پیش کرتیں جبکہ ساڑھی میں ملبوس چند دیگر عورتیں شراب اور پھل پیش کرتیں۔ پٹیالہ کے دربار کی شان و شوکت کے سامنے الف لیلوی شان و شوکت ماند تھی۔ مہاراجا اپنی عورتوں سے حسد نہیں کرتا تھا اور اپنے مہمانوں کو ان سے گھلنے ملنے کی اجازت دے دیتا تھا۔ تاہم وہ گھٹیا پن اور بدتمیزی کو ذرا بھی برداشت نہیں کرتا تھا۔ مہاراجا کے پیروں میں درجنوں عورتیں پڑی رہتی تھیں۔ چند عورتیں اس کی ٹانگیں دبا رہی ہوتیں اور چند عورتیں پیغامات ادھر سے ادھر پہنچا رہی ہوتیں۔ مہاراجا کی پسندیدہ عورت اس کی دیوی ہوتی اور سب کی نگاہیں اس پر جمی ہوتیں۔ عموماً وہ مہاراجا کے گھٹنے کے پاس بیٹھی ہوتی۔ اس نے نہایت خوبصورت سرخ رنگ کا شفاف لباس پہنا ہوتا، ناک میں سونے کا کوکا، گلے میں موتیوں کا ہار اور کلائیوں میں ہیروں کے کنگن ڈالے ہوتے۔ حرم کی عیاشانہ زندگی اور ہمسایہ ریاستوں اور ہندوستان کے وائسرائے کے ساتھ چپقلشوں کی وجہ سے مہاراجا کو ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ فرانس کے مشہور ڈاکٹروں پروفیسر ابرامی اور ڈاکٹر آندرے سے لچوٹز نے ریڑھ کی ہڈی میں انجکشن لگا کر بلڈ پریشر کو گھٹانے کا نیا طریقہ دریافت کیا تھا۔ مہاراجا نے انہیں فرانس سے پٹیالہ بلوا لیا۔ مہاراجا علاج کے لیے یورپ بھی گیا لیکن بلڈ پریشر کنٹرول نہ ہو سکا، جس کا خاص سبب یہ تھا کہ اس نے ڈاکٹروں کی ہدایت کے برعکس عورتوں اور شراب کو نہیں چھوڑا۔ مہاراجہ صرف 47 برس کی عمر میں چل بسا۔
  9. ﯾﮧ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﮧ ﻭﺻﺎﻝِ ﯾﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ، ﯾﮩﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﺮﮮ ﻭﻋﺪﮮ ﭘﮧ ﺟﺌﮯ ﮨﻢ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﺟﮭﻮﭦ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﺮﯼ ﻧﺎﺯﮐﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻋﮩﺪ ﺑﻮﺩﺍ ﮐﺒﮭﯽ ﺗُﻮ ﻧﮧ ﺗﻮﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﺘﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﺮﮮ ﺗﯿﺮِ ﻧﯿﻢ ﮐﺶ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﺟﻮ ﺟﮕﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻨﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﺎﺻﺢ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﺳﺎﺯ ﮨﻮﺗﺎ، ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻤﮕﺴﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮒِ ﺳﻨﮓ ﺳﮯ ﭨﭙﮑﺘﺎ ﻭﮦ ﻟﮩﻮ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﻧﮧ ﺗﮭﻤﺘﺎ ﺟﺴﮯ ﻏﻢ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺍﮔﺮ ﺷﺮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﻏﻢ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺟﺎﮞ ﮔﺴِﻞ ﮨﮯ، ﭘﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﺑﭽﯿﮟ ﮐﮧ ﺩﻝ ﮨﮯ ﻏﻢِ ﻋﺸﻖ ﮔﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ، ﻏﻢِ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮩﻮﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﺷﺐ ﻏﻢ ﺑﺮﯼ ﺑﻼ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺑُﺮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﺮﻧﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺮ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺟﻮ ﺭُﺳﻮﺍ، ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻏﺮﻕِ ﺩﺭﯾﺎ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍُﭨﮭﺘﺎ، ﻧﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺰﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺍُﺳﮯ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﮧ ﯾﮕﺎﻧﮧ ﮨﮯ ﻭﮦ ﯾﮑﺘﺎ ﺟﻮ ﺩﻭﺋﯽ ﮐﯽ ﺑﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﭼﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﮧ ﻣﺴﺎﺋﻞِ ﺗﺼﻮّﻑ، ﯾﮧ ﺗﺮﺍ ﺑﯿﺎﻥ ﻏﺎﻟﺐ ﺗﺠﮭﮯ ﮨﻢ ﻭﻟﯽ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺟﻮ ﻧﮧ ﺑﺎﺩﮦ ﺧﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ
  10. ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺭﺍﺳﺘﮯﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﻮﮞ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻣﻨﺰﻝ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﻤﻨﺪﺭِ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﻭﺳﻌﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﻓﻘﻂ ﺳﺎﺣﻞ ﭘﮧ ﻗﯿﺎﺱ ﺁﺭﺋﯿﺎﮞ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﺱ ﻣﺘﺎﻉِ ﺧﻮﺩﯼ ﺗﻮ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺑﮑﮭﺮﻧﺎ ﺁﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺁﮦ ﻓﻠﮏ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻢ ﺧﺎﮎ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻓﻨﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺫﺍﺕ ﭘﺮ ﻏﺮﻭﺭ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
  11. ان کہے سوالوں کا درد کیسے ہوتا ہے تشنہ کام خواہشوں کی ٹھیس کیسے اٹھتی ہے بے زبان جذبوں کو جب سرا نہیں ملتا تشنگی سی رہتی ہے آسرا نہیں ملتا وہ بھی ان عذابوں سے کاش اس طرح گزرے کاش اس کی آنکھوں میں خواب بے ثمر اتریں کاش اس کی نیندوں میں رت جگے مسلسل ہوں باوجود خواہش کے ایسے سب سوالوں کا ربط توڑ آئے ہیں آج اس کے ہونٹوں پر لفظ چھوڑ آئے ہیں ....
×
×
  • Create New...