Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'ﺍﺛﺮ'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 2 results

  1. غزل" - - - - - ("مرزا اسد اللہ خان غالب") ﺁﮦ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍِﮎ ﻋُﻤﺮ ﺍﺛﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﮐﻮﻥ ﺟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺮﯼ ﺯُﻟﻒ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﺩﺍﻡِ ﮨﺮ ﻣﻮﺝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺣﻠﻘۂ ﺻﺪ ﮐﺎﻡِ ﻧﮩﻨﮓ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮔُﺰﺭﮮ ﮨﮯ ﻗﻄﺮﮮ ﭘﮧ ﮔُﮩﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﻋﺎﺷﻘﯽ ﺻﺒﺮ ﻃﻠﺐ ، ﺍﻭﺭ ﺗﻤﻨّﺎ ﺑﯿﺘﺎﺏ ﺩﻝ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺮﻭﮞ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺗﻐﺎﻓﻞ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺧﺎﮎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮨﻢ، ﺗﻢ ﮐﻮ ﺧﺒﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﭘﺮﺗﻮِ ﺧُﻮﺭ ﺳﮯ ، ﮨﮯ ﺷﺒﻨﻢ ﮐﻮ ﻓﻨﺎ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺍﯾﮏ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺑﯿﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﻓُﺮﺻﺖِ ﮨﺴﺘﯽ ﻏﺎﻓﻞ ! ﮔﺮﻣﺊِ ﺑﺰﻡ ﮨﮯ ﺍِﮎ ﺭﻗﺺِ ﺷﺮﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﻏﻢِ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﺎ ، ﺍﺳﺪؔ ! ﮐﺲ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺟُﺰ ﻣﺮﮒ ، ﻋﻼﺝ ﺷﻤﻊ ﮨﺮ ﺭﻧﮓ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺳﺤﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ
  2. تیرے لہجے کا وہ اثر ہوتے دیکھا ہم نے لفظوں کو امَر ہوتے دیکھا حُسن یار کی تعریف میں ، اکثر گُونگوں کو سُخن وَر ہوتے دیکھا ننگے پاؤں رکھے ، خاک پہ جب خاک کو سنگ مَرمَر ہوتے دیکھا لمسِ لبِ شیریں کی قُدرت سے نِیم کو بھی قندِ ثمر ہوتے دیکھا پہلی نظر اور جنبشِ سرمژگاں دلوں میں وَا ، دَر ہوتے دیکھا بہکنے لگیں ، پارسا بھی یہاں صبر کو ، بے صبر ہوتے دیکھا اُس کا ہمسفر ہونے کی آرزو لئے مُقیم ، مُسافر دَر بدر ہوتے دیکھا لبوں کی نزاکت چُرائیں ، گُلاب آفتاب کو سایہ آبر ہوتے دیکھا شب مانگے ، سیاہیِ زُلفِ جاناں پلکیں اُٹھیں ، سحر ہوتے دیکھا سُریلی آواز کی نغمگی سُن کر سازوں کو ، بے سُر ہوتے دیکھا سُنہری رنگت پہ قیامت سیاہ تل ٹُکڑے بھی دل و جگر ہوتے دیکھا قاتل آنکھوں کی ، مست ادائیں مقتول کو بھی مُنکر ہوتے دیکھا تیری چاہت میں حسد مُجھ سے اَمرت احباب کو زہر ہوتے دیکھا وہ اِک شب کا مِلن تھا کرشمہ کھنڈرات کو ، شہر ہوتے دیکھا بے وفا لُوٹ کے جی گئے زندگی وفاداروں پہ ، جبَر ہوتے دیکھا پل میں ، بدلتی ہے قسمت یہاں وصالِ یار کو ، ہجَر ہوتے دیکھا.
×