Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'ﻧﮩﯿﮟ'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 34 results

  1. ‏مجھے اس کے بنا رہنا نہیں آتا بہت کچھ دل میں آتا ہے مگر کہنا نہیں آتا بہت ہی سخت جاں ہوں میں بہت سے غم اٹھاتی ہوں بس ایک درد جدائی ہے کہ جو سہنا نہیں آتا ہمیشہ نم کناروں کو میری آنکھوں کے رکھتا ہے یہ آنسو کیسا آنسو ہے جسے بہنا نہیں آتا ‏ہمارا مسئلہ شاید کبھی ہل ہو نہ پائے گا تجھے سننا نہیں آتا مجھے کہنا نہیں آتا سزا دیتا ہے دل تیرے ہجر میں یوں خود کو وہاں رہتا ہے اب اکثر جہاں رہنا نہیں آتا....
  2. آنکھ میں خواب نہیں آنکھ میں خواب نہیں خواب کا ثانی بھی نہیں کنج لب میں کوئی پہلی سی کہانی بھی نہیں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اک شہر تخیل میں تجھے اور مرے پاس ترے گھر کی نشانی بھی نہیں بات جو دل میں دھڑکتی ہے محبت کی طرح اس سے کہنی بھی نہیں اس سے چھپانی بھی نہیں آنکھ بھر نیند میں کیا خواب سمیٹیں کہ ابھی چاندنی رات نہیں رات کی رانی بھی نہیں لیلی حسن ذرا دیکھ ترے دشت نژاد سر بسر خاک ہیں اور خاک اڑانی بھی نہیں کچے ایندھن میں سلگنا ہے اور اس شرط کے ساتھ تیز کرنی بھی نہیں آگ بجھانی بھی نہیں اب تو یوں ہے کہ ترے ہجر میں رونے کے لئے آنکھ میں خون تو کیا خون سا پانی بھی نہیں
  3. جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں میں ایسے عشق پہ ایمان لانے والا نہیں میں پاؤں دھو کے پئیوں یار بن کے جو آئے منافقوں کو تو میں منہ لگا نے والا نہیں نزول کر مرے سینے پہ اے جمال ِ شدید تری قسم میں ترا خوف کھانے والا نہیں بس اِتنا جان لے اے پُر کشش کے دل تجھ سے بہل تو سکتا ہے پر تجھ پہ آنے والا نہیں یہ میری آنکھ میں بھڑکے تو پھر ہٹاؤں گا ابھی میں آگ سے نظریں ہٹانے والا نہیں تجھے کسی نے غلط کہہ دیا میرے بارے نہیں میاں میں دِلوں کو دُکھانے والا نہیں ہے ایک رمز جو تجھ پر عیاں نہیں کرنی ہے ایک شعر جو تجھ کو سنانے والا نہیں فقیر قول نبھاتا ہے پریم کرتا ہے فقیر کوئی کرامت دِکھانے والا نہیں سن اے قبیلہء ِ کوفی دِلاں مُکرر سن علی کبھی بھی حزیمت اُٹھانے والا نہیں
  4. گر ترے شعر میں شامل ہی نہیں سوز و گداز ’’ ہجو ‘‘ خاک در خاک تری ہجرت و ایثار پہ خاک خاک در خاک ترے سب درو دیوار پہ خاک بستیاں خوں میں نہاتی ہیں چمن جلتے ہیں خاک در خاک تری گرمی ء گفتار پہ خاک اس سے بہتر تھا کہ اقرار ہی کرلیتا تو ! خاک در خاک تری جراءت ِ انکار پہ خاک شام تک دھول اڑاتے ہیں سحر تک خاموش خاک در خاک ترے کوچہ و بازار پہ خاک خون آلود مصلّے ، صفیں لاشوں سے اٹی خاک در خاک ترے جبّہ و دستار پہ خاک آئنے عکس میسر نہیں تجھ کو بھی تو پھر خاک در خاک ترے جوہرِ زنگار پہ خاک لحنِ دل تو بھی اسی شور میں شاداں ہے تو پھر خاک در خاک ترے نغمہ و مزمار پہ خاک کنجِ محرومی سے نکلو کسی جنگل کی طرف خاک در خاک پڑے شہرِ ستمگار پہ خاک خاک در خاک ترے لہجہ و تکرار پہ خاک
  5. تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے ویراں ہو رہ گزارِحیات جیسے خوابوں کے رنگ پھیکے ہوں جیسے لفظوں سے موت رِستی ہو جیسے سانسوں کے تار بکھرے ہوں جیسے نو حہ کناں ہو صبح چمن تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے خوشبو نہیں ہو کلیوں میں جیسے سُونا پڑا ہو شہرِ دل جیسے کچھ بھی نہیں ہو گلیوں میں جیسے خوشیوں سے دشمنی ہو جائے جیسے جذبوں سے آشنائی نہ ہو تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے اک عمر کی مسافت پر بات کچھ بھی سمجھ نہ آئی ہو جیسے چپ چپ ہوں آرزو کے شجر جیسے رک رک کے سانس چلتی ہو جیسے بے نام ہو دعا کا سفر جیسے قسطوں میں عمر کٹتی ہو تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے اک خوف کے جزیرے میں کوئی آواز دے کے چھپ جائے جیسے ہنستے ہوئے اچانک ہی غم کی پروا سے آنکھ بھر جائے تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
  6. مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں لاکھ سمجھایا کہ اس محفل میں اب جانا نہیں خود فریبی ہی سہی کیا کیجئے دل کا علاج تو نظر پھیرے تو ہم سمجھیں کہ پہچانا نہیں ایک دنیا منتظر ہے اور تیری بزم میں اس طرح بیٹھے ہیں ہم جیسے کہیں جانا نہیں جی میں جو آتی ہے کر گزرو کہیں ایسا نہ ہو کل پشیماں ہوں کہ کیوں دل کا کہا مانا نہیں زندگی پر اس سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فراز اس کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوانہ نہیں احمد فراز
  7. سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں آئنے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں سب کے سب ہیں اپنے اپنے دائرے کی قید میں دائروں کی حد سے باہر سوچتا کوئی نہیں صرف ماتم اور زاری سے ہی جس کا حل ملے اس طرح کا تو کہیں بھی مسئلہ کوئی نہیں یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد چھو کے ان کو دیکھیے تو واہمہ کوئی نہیں جو ہوا یہ درج تھا پہلے ہی اپنے بخت میں اس کا مطلب تو ہوا کہ بے وفا کوئی نہیں تیرے رستے میں کھڑے ہیں صرف تجھ کو دیکھنے مدعا پوچھو تو اپنا مدعا کوئی نہیں کن‌ فکاں کے بھید سے مولیٰ مجھے آگاہ کر کون ہوں میں گر یہاں پر دوسرا کوئی نہیں وقت ایسا ہم سفر ہے جس کی منزل ہے الگ وہ سرائے ہے کہ جس میں ٹھہرتا کوئی نہیں گاہے گاہے ہی سہی امجدؔ مگر یہ واقعہ یوں بھی لگتا ہے کہ دنیا کا خدا کوئی نہیں
  8. خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں زجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں مگر یہ حوصلۂ مرد ہیچ کارہ نہیں ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں یہیں بہشت بھی ہے، حور و جبرئیل بھی ہے تری نگہ میں ابھی شوخی نظارہ نہیں مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں غضب ہے عین کرم میں بخیل ہے فطرت کہ لعل ناب میں آتش تو ہے شرارہ نہیں
  9. نہیں خالی رقیب تیرا کوئی بھی وار گیا میں وہ شخص ہوں جو کائنات ہار گیا فصل گل میری زیست کی مرجھاگئی بس خزاں ہے جب سے موسم بہار گیا اک میں ہی نا بن سکا اس کا کبھی وہ میرا ہی رہا جس سمت میرا یار گیا سمجھ پایانہ میری پیار کی سچائی وہ اسے بتلانے میں دنیا سے میں بیمار گیا چین آیا نا مجھے بعد اسکے جانے کے اڑ گئی نیند میری میرا سب قرار گیا اے دنیا چھوڑ اب مجھے میرے حال پر مجھے تو چھوڑ میرا مالک و مختار گیا جڑوں سے کھود کے نکالا گیا ہے مجھکو چھڑایا مجھ سے پھر ہر ایک دوار گیا میری تو عید اسے دیکھنے سے ہوتی تھی بعد اسکے محرم کی طرح ہر تہوار گیا تباہی دیکھنے میری ایک شہر امڈ آیا بڑی ہی دور تک شاید میرا غبار گیا
  10. اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا مقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کا اب کوچ کرو یارو صحرا سے کہ سنتے ہیں صحرا میں اب آئندہ محمل نہیں آنے کا واعظ کو خرابے میں اک دعوت حق دی تھی میں جان رہا تھا وہ جاہل نہیں آنے کا بنیاد جہاں پہلے جو تھی وہی اب بھی ہے یوں حشر تو یاران یک دل نہیں آنے کا بت ہے کہ خدا ہے وہ مانا ہے نہ مانوں گا اس شوخ سے جب تک میں خود مل نہیں آنے کا گر دل کی یہ محفل ہے خرچہ بھی ہو پھر دل کا باہر سے تو سامان محفل نہیں آنے کا وہ ناف پیالے سے سرمست کرے ورنہ ہو کے میں کبھی اس کا قائل نہیں آنے کا
  11. لگتا تو یوں ہے جیسے سمجھتا نہیں ہے وہ معصوم جتنا لگتا ہے اتنا نہیں ہے وہ مجھ میں بسا ہوا بھی ہے وہ سر سے پیر تک اور کہہ رہا ہے یہ بھی کہ میرا نہیں ہے وہ کر دونگا موم باتوں میں سوز و گداز سے جذبات کی تپش سے مبرا نہیں ہے وہ واضح یہ کر چکا ہے یقیں دل کے وہم پر میرا ہے صرف اور کسی کا نہیں ہے وہ رہتا ہے اس کے ساتھ ہمیشہ مرا خیال تنہایوں میں رہ کے بھی تنہا نہیں ہے وہ ہوگا غلط بیان میں مجبوریوں کا ہاتھ حق بات ورنہ یہ ہے کہ جھوٹا نہیں ہے وہ ٹھہرا وہ پھول، بوسے لبوں کے ملے اسے پتوں کی طرح پیروں میں آیا نہیں ہے وہ مرنے کے بعد آیا ہے کرنے مرا علاج مانا کہ چارہ گر ہے. مسیحا نہیں ہے وہ جاوید رات دن ہے ترا انتظار اسے کہنے کو تیرے پیار کا بھوکا نہیں ہے وہ ڈاکٹر جاوید جمیل
  12. تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا لکھ نماز ، کروڑاں سجدے پھُوڑی اُتّے مَتھے بَھجدے ذکر جَلی وِچ تسبی رولی پر عیباں دی گنڈھ نہ کھولی منبر تے لمیاں تقریراں پاپی مَن دِیاں سو تفسیراں ڈھینچوں سِکھیا عقل دا کھوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا گھت مُصلّی، خیریں سَلّا چِلّے کیتے پڑھ پڑھ اللہ گلّاں دا کھڈکار نگلّا من ریہا جَھلّے دا جَھلّا عقل نے کِیتا کم اولّا اپنے سِر وِچ ماریا کھّلا پاپاں دے وِچ ہو گیا سوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا ویکھن والے ویکھ نہ سَکّے نظراں دِتّے سو سو دَھکّے کَن وچارے سُن سُن تَھکّے بولن والے ہوٹھ نہ اَکّے اَج تَن تیرتھ، کل تن مَکّے کِسے وی تھائیں مِلے نہ سکّے ٹیں ٹیں کردا فقہ دا طوطا !!... تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا
  13. رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے یہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خواب وہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے پھر دل میں تیری یاد کے ، منظر ھیں فروزاں ایسے میں کوئی ، دیکھنے والا بھی نہیں ھے ھمراہ بھی خواھش سے ، نہیں رھتا ھمارے اور بامِ رفاقت سے ، اُترتا بھی نہیں ھے اِس عمر کے صحرا سے ، تری یاد کا بادل ٹلتا بھی نہیں ، اور برستا بھی نہیں ھے نوشی گیلانی
  14. کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں صد شُکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں اگر حالات وہاں،دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچہء جاناں میں، کیا ایسے بھی حالات نہیں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا،وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے،اس جاں کی تو کوئی بات نہیں میدانِ وفا دربار نہیں ، یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں گر بازی عشق کی بازی ہے،جو چاہو لگا دو ڈر کیسا گرجیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں (فیض احمد فیض)
  15. ہمارے دل میں کہیں درد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ ہمارا چہرہ بھلا زرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ سُنا ہے آدمی مر سکتا ہے بچھڑتے ہوئے ہمارا ہاتھ چھوؤ ، سرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے ہمارے رخ پہ کہیں گرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ کوئی دلوں کے معالج ، کوئی محمد بخش تمام شہر میں کوئی مرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ وہی ہے درد کا درماں بھی افتخار مغل کہیں قریب وہ بے درد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ ڈاکٹر افتخار مغل (مرحوم)
  16. ‎نگاہ پھیر کے،،،،،،،، عذرِ وصال کرتے ہیں ‎مجھے وہ الٹی چھری سے حلال کرتے ہیں ‎زبان قطع کرو،،،،،،،،، دل کو کیوں جلاتے ہو ‎اِسی سے شکوہ، اسی سے سوال کرتے ہیں ‎نہ دیکھی نبض، نہ پوچھا مزاج بھی تم نے ‎مریضِ غم کی،،، یونہی دیکھ بھال کرتے ہیں ‎میرے مزار کو وہ ٹھوکوں سے ٹھکرا کر ‎فلک سے کہتے ہیں یوں پائمال کرتے ہیں ‎پسِ فنا بھی،،،، میری روح کانپ جاتی ہے ‎وہ روتے روتے جو آنکھوں کو لال کرتے ہیں ‎اُدھر تو کوئی نہیں جس سے آپ ہیں مصروف ‎اِدھر کو دیکھیے،،،،،،، ہم عرض حال کرتے ہیں ‎یہی ہے فکر کہ ہاتھ آئے تازہ طرزِ ستم ‎یہ کیا خیال ہے،، وہ کیا خیال کرتے ہیں ‎وہاں فریب و دغا میں کمی کہاں توبہ ‎ہزار چال کی،، وہ ایک چال کرتے ہیں ‎نہیں ہے موت سے کم اک جہان کا چکر ‎جنابِ خضر،،،،، یونہی انتقال کرتے ہیں ‎چھری نکالی ہے مجھ پر عدو کی خاطر سے ‎پرائے واسطے،،،،،،،،،،، گردن حلال کرتے ہیں ‎یہاں یہ شوق، وہ نادان، مدعا باریک ‎انھیں جواب بتا کر،،، سوال کرتے ہیں ‎ہزار کام مزے کے ہیں داغ،،،، الفت میں ‎جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
  17. ﮨﺮ ﺷَﺨﺺ ﮐﯽ ﻗِﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒٌﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻣﻘﺪٌﺭ ﮐﺎ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﺟﺲ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻘﺪٌﺭ ﮐﺎ ﺗﻤﺎﺷﮧ ﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﺍﺏ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻗُﺮﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺍﻟُﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮬﻮﺍ ﻣﯿﮟ اس ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻓُﺮﺻﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ
  18. میں چاہنے والوں کو مخاطب نہیں کرتا اور ترک تعلق کی میں وضاحت نہیں کرتا میں اپنی جفاؤں پہ نادم نہیں ہوتا میں اپنی وفاؤں کی تجارت نہیں کرتا خوشبو کسی تشہیر محتاج نہیں ہوتی سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا احساس کی سولی پہ لٹک جاتا ہوں اکثر میں جبر مسلسل کی شکائیت نہیں کرتا میں عظمت انسان کا قائل تو ہوں محسن لیکن کبھی بندوں کی میں عبادت نہیں کرتا محسن نقوی
  19. وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتے اگر گمان میں انگار قبر آ جاتا پروین شاکر
  20. Zarnish Ali

    سفر تنہا نہیں کرتے

    سفر تنہا نہیں کرتے سنو ایسا نہیں کرتے جسے شفاف رکھنا ہو اُسے میلا نہیں کرتے تیری آنکھیں اجازت دیں تو ہم کیا نہیں کرتے بہت اُجڑے ہوئے گھر پر بہت سوچا نہیں کرتے سفر جس کا مقدر ہو اُسے روکا نہیں کرتے جو مل کر خود سے کھو جائے اسے رسوا نہیں کرتے یہ اُونچے پیڑ کیسے ہیں کہیں سایہ نہیں کرتے کبھی ہسنے سے ڈرتے ہیں کبھی رویا نہیں کرتے تیر آنکھوں کو پڑھتے ہیں تجھے دیکھا نہیں کرتے چلو تم راز ہو اپنا تمہیں افشا نہیں کرتے سحر سے پوچھ لو محسن ہم سویا نہیں کرتے محسن نقوی
  21. ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں بےاماں تھے، اماں کے تھے ہی نہیں ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر ہم تیری داستاں کے تھے ہی ںہیں ان کو آندھی میں ہی بکھرنا تھا بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں اب ہمارا مکان کس کا ہے؟ ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں ہو تیری خاکِ آستاں پہ سلام ہم تیرے آستاں کے تھے ہی نہیں ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں جون ایلیا
  22. اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا اس جسم کی میں جاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا تو آج میرے گھر میں جو مہماں ہے عید ہے تو گھر کا میزباں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کھولی تو ہے زبان مگر اس کی کیا بساط میں زہر کی دکاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کیا ایک کاروبار تھا وہ ربط جسم و جاں کوئی بھی رائیگاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا کتنا جلا ہوا ہوں بس اب کیا بتاؤں میں عالم دھواں دھواں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا دیکھا تھا جب کہ پہلے پہل اس نے آئینہ اس وقت میں وہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا وہ اک جمال جلوہ فشاں ہے زمیں زمیں میں تا بہ آسماں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا میں نے بس اک نگاہ میں طے کر لیا تجھے تو رنگ بیکراں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا گم ہو کے جان تو مری آغوش ذات میں بے نام و بے نشاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا ہر کوئی درمیان ہے اے ماجرا فروش میں اپنے درمیاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا
  23. ﮐﯿﺎﻭﺍﻗﻌﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ؟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ۔۔۔۔۔ ﺳﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺧﻮﺷﻨﻤﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﯿﺎﮨﮯ؟؟؟ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ،ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﻂ ﻣﺮﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ،ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻋﺰﯾﺰ ﻭ ﺍﻗﺎﺭﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮ۔۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﮐﺲ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﮐﻮﻥ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ،ﺍﭘﻨﺎﺋﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭩﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ؟؟؟ ﯾﮧ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﻓﻘﻂ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔۔۔۔ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺑﯿﺸﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﮨﻮﻧﮧ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮔﮭﺮﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ، ﮔﮭﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻣﮑﻤﻞ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺗﻮ ﺍﺻﻞ ﺟﻤﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ،ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  24. سفر منزل شب یاد نہیں لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں اولین قرب کی سرشاری میں کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں دل میں ہر وقت چبھن رہتی ہے تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار یاد آئیں بھی تو سب یاد نہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ احباب کو ہم یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں یاد ہے سیر چراغاں ناصر دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں
  25. اس نہیں کا کوئی علاج نہیں روز کہتے ہیں آپ آج نہیں کل جو تها آج وہ مزاج نہیں اس تلوان کا کچھ علاج نہیں کهوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹهرا در ہم داغ کا رواج نہیں دل لگی کیجئے رقیبوں سے اس طرح کا مرا مزاج نہیں عشق ہے بادشاہ عالم گیر گر چہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں حور سے پوچھتا ہوں جنت میں اس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں صبر بھی دل کو داغ دے لیں گے ابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں داغ دہلوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
×