Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'allah'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 10 results

  1. حُسنِ ظن ۔ ۔۔ 🌼 - ایک اعرابی کو کہا گیا کہ تم مر جاؤ گے اس نے کہاں پھر کہاں جائیں گے ؟ کہا گیا کہ اللہ کے پاس اعرابی کہنے لگا آج تک جو خیر بھی پائی ھے اللہ کے یہاں سے پائی ھے پھر اس سے ملاقات سے کیا ڈرنا کس قدر بہترین حسنِ ظن ھے اپنے اللہ سے 🌼 ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ھیں جس کی دعا قبول کی جاتی ھے ؟ بزرگ نے جواب دیا نہیں ، مگر میں اس کو جانتا ھوں جو دعائیں قبول کرتا ھے کیا ھی بہترین حسنِ ظن ھے 🌼- ابن عباسؓ سے ایک بدو نے پوچھا کہ حساب کون لے گا ؟ " آپ نے فرمایا کہ " اللہ رب کعبہ کی قسم پھر تو ھم نجات پا گئے ،بدو نے خوشی سے کہا کیا ھی بہترین حسنِ ظن ھے اپنے رب سے 🌼- ایک نوجوان کا آخری وقت آیا تو اس کی ماں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی نوجوان نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر سوال کیا کہ امی جان اگر میرا حساب آپ کے حوالے کر دیا جائے تو آپ میرے ساتھ کیا کریں گی ؟ ماں نے کہا کہ میں تجھ پر رحم کرتے ھوئے معاف کردونگی اماں جان اللہ پاک آپ سے بڑھ کر رحیم ھے پھر اس کے پاس بھیجتے ھوئے یہ رونا کیسا ؟ کیا ھی بہترین گمان ھے اپنے رب کے بارے میں , اللہ پاک نے حشر کی منظر کشی کرتے ھوئے فرمایا ھے وخشعت الأصوات للرّحمٰن ] اور اس دن آوازیں دب جائیں گی رحمان کے سامنے ] ،،اس حشر کی گھڑی میں بھی یہ نہیں فرمایا کہ " جبار " کے سامنے بلکہ اپنی صفتِ رحمت کا ھی آسرا دیا ھے
  2. پنجاب کے شہر گجرانولا میں ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے، جن کا مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ حکیم صاحب روزانہ صبح مطب جانے سے قبل بیوی کو کہتے کہ جو کچھ آج کے دن کے لیے تم کو درکار ہے ایک چٹ پر لکھ کر دے دو۔ بیوی لکھ کر دے دیتی۔ آپ دکان پر آ کر سب سے پہلے وہ چٹ کھولتے۔ بیوی نے جو چیزیں لکھی ہوتیں۔ اُن کے سامنے اُن چیزوں کی قیمت درج کرتے، پھر اُن کا ٹوٹل کرتے۔ پھر اللہ سے دعا کرتے کہ یااللہ! میں صرف تیرے ہی حکم کی تعمیل میں تیری عبادت چھوڑ کر یہاں دنیا داری کے چکروں میں آ بیٹھا ہوں۔ جوں ہی تو میری آج کی مطلوبہ رقم کا بندوبست کر دے گا۔ میں اُسی وقت یہاں سے اُٹھ جائوں گا اور پھر یہی ہوتا۔ کبھی صبح کے ساڑھے نو، کبھی دس بجے حکیم صاحب مریضوں سے فارغ ہو کر واپس اپنے گائوں چلے جاتے۔ ایک دن حکیم صاحب نے دکان کھولی۔ رقم کا حساب لگانے کے لیے چِٹ کھولی تو وہ چِٹ کو دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ ایک مرتبہ تو ان کا دماغ گھوم گیا۔ اُن کو اپنی آنکھوں کے سامنے تارے چمکتے ہوئے نظر آ رہے تھے لیکن جلد ہی انھوں نے اپنے اعصاب پر قابو پا لیا۔ آٹے دال وغیرہ کے بعد بیگم نے لکھا تھا، بیٹی کے جہیز کا سامان۔ کچھ دیر سوچتے رہے پھشکر۔‘‘ چیزوں کی قیمت لکھنے کے بعد جہیز کے سامنے لکھا ’’یہ اللہ کا کام ہے اللہ جانے۔‘‘ ایک دو مریض آئے ہوئے تھے۔ اُن کو حکیم صاحب دوائی دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک بڑی سی کار اُن کے مطب کے سامنے آ کر رکی۔ حکیم صاحب نے کار یا صاحبِ کار کو کوئی خاص توجہ نہ دی کیونکہ کئی کاروں والے ان کے پاس آتے رہتے تھے۔ دونوں مریض دوائی لے کر چلے گئے۔ وہ سوٹڈبوٹڈ صاحب کار سے باہر نکلے اور سلام کرکے بنچ پر بیٹھ گئے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ اگر آپ نے اپنے لیے دوائی لینی ہے تو ادھر سٹول پر آجائیں تاکہ میں آپ کی نبض دیکھ لوں اور اگر کسی مریض کی دوائی لے کر جانی ہے تو بیماری کی کیفیت بیان کریں۔ وہ صاحب کہنے لگے حکیم صاحب میرا خیال ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ لیکن آپ مجھے پہچان بھی کیسے سکتے ہیں؟ کیونکہ میں ۱۵، ۱۶ سال بعد آپ کے مطب میں داخل ہوا ہوں۔ آپ کو گزشتہ ملاقات کا احوال سناتا ہوں پھر آپ کو ساری بات یاد آجائے گی۔ جب میں پہلی مرتبہ یہاں آیا تھا تو وہ میں خود نہیں آیا تھا۔ خدا مجھے آپ کے پاس لے آیا تھا کیونکہ خدا کو مجھ پر رحم آگیا تھا اور وہ میرا گھر آباد کرنا چاہتا تھا۔ ہوا اس طرح تھا کہ میں لاہور سے میرپور اپنی کار میں اپنے آبائی گھر جا رہا تھا۔ عین آپ کی دکان کے سامنے ہماری کار پنکچر ہو گئی۔ ڈرائیور کار کا پہیہ اتار کر پنکچر لگوانے چلا گیا۔ آپ نے دیکھا کہ میں گرمی میں کار کے پاس کھڑا ہوں۔ آپ میرے پاس آئے اور آپ نے مطب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ادھر آ کر کرسی پر بیٹھ جائیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور نے کچھ زیادہ ہی دیر لگا دی تھی۔ ایک چھوٹی سی بچی بھی یہاں آپ کی میز کے پاس کھڑی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی ’’چلیں ناں، مجھے بھوک لگی ہے۔ آپ اُسے کہہ رہے تھے بیٹی تھوڑا صبر کرو ابھی چلتے ہیں۔ میں نے یہ سوچ کر کہ اتنی دیر سے آپ کے پاس بیٹھا ہوں۔ مجھے کوئی دوائی آپ سے خریدنی چاہیے تاکہ آپ میرے بیٹھنے کو زیادہ محسوس نہ کریں۔ میں نے کہا حکیم صاحب میں ۵،۶ سال سے انگلینڈ میں ہوتا ہوں۔ انگلینڈ جانے سے قبل میری شادی ہو گئی تھی لیکن ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم ہوں۔ یہاں بھی بہت علاج کیا اور وہاں انگلینڈ میں بھی لیکن ابھی قسمت میں مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا۔ آپ نے کہا میرے بھائی! توبہ استغفار پڑھو۔ خدارا اپنے خدا سے مایوس نہ ہو۔ یاد رکھو! اُس کے خزانے میں کسی شے کی کمی نہیں۔ اولاد، مال و اسباب اور غمی خوشی، زندگی موت ہر چیز اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ کسی حکیم یا ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی دوا میں شفا ہوتی ہے۔ شفا اگر ہونی ہے تو اللہ کے حکم سے ہونی ہے۔ اولاد دینی ہے تو اُسی نے دینی ہے۔ مجھے یاد ہے آپ باتیں کرتے جا رہے اور ساتھ ساتھ پڑیاں بنا رہے تھے۔ تمام دوائیاں آپ نے ۲ حصوں میں تقسیم کر کے ۲ لفافوں میں ڈالیں۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ میرا نام محمد علی ہے۔ آپ نے ایک لفافہ پر محمدعلی اور دوسرے پر بیگم محمدعلی لکھا۔ پھر دونوں لفافے ایک بڑے لفافہ میں ڈال کر دوائی استعمال کرنے کا طریقہ بتایا۔ میں نے بے دلی سے دوائی لے لی کیونکہ میں تو صرف کچھ رقم آپ کو دینا چاہتا تھا۔ لیکن جب دوائی لینے کے بعد میں نے پوچھا کتنے پیسے؟ آپ نے کہا بس ٹھیک ہے۔ میں نے زیادہ زور ڈالا، تو آپ نے کہا کہ آج کا کھاتہ بند ہو گیا ہے۔ میں نے کہا مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔ اسی دوران وہاں ایک اور آدمی آچکا تھا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ کھاتہ بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آج کے گھریلو اخراجات کے لیے جتنی رقم حکیم صاحب نے اللہ سے مانگی تھی وہ اللہ نے دے دی ہے۔ مزید رقم وہ نہیں لے سکتے۔ میں کچھ حیران ہوا اور کچھ دل میں شرمندہ ہوا کہ میرے کتنے گھٹیا خیالات تھے اور یہ سادہ سا حکیم کتنا عظیم انسان ہے۔ میں نے جب گھر جا کربیوی کو دوائیاں دکھائیں اور ساری بات بتائی تو بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا وہ انسان نہیں کوئی فرشتہ ہے اور اُس کی دی ہوئی ادویات ہمارے من کی مراد پوری کرنے کا باعث بنیں گی۔ حکیم صاحب آج میرے گھر میں تین پھول اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔ ہم میاں بیوی ہر وقت آپ کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ جب بھی پاکستان چھٹی آیا۔ کار اِدھر روکی لیکن دکان کو بند پایا۔ میں کل دوپہر بھی آیا تھا۔ آپ کا مطب بند تھا۔ ایک آدمی پاس ہی کھڑا ہوا تھا۔ اُس نے کہا کہ اگر آپ کو حکیم صاحب سے ملنا ہے تو آپ صبح ۹ بجے لازماً پہنچ جائیں ورنہ اُن کے ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ اس لیے آج میں سویرے سویرے آپ کے پاس آگیا ہوں۔ محمدعلی نے کہا کہ جب ۱۵۵ سال قبل میں نے یہاں آپ کے مطب میں آپ کی چھوٹی سی بیٹی دیکھی تھی تو میں نے بتایا تھا کہ اس کو دیکھ کر مجھے اپنی بھانجی یاد آرہی ہے۔ حکیم صاحب ہمارا سارا خاندان انگلینڈ سیٹل ہو چکا ہے۔ صرف ہماری ایک بیوہ بہن اپنی بیٹی کے ساتھ پاکستان میں رہتی ہے۔ ہماری بھانجی کی شادی اس ماہ کی ۲۱ تاریخ کو ہونا تھی۔ اس بھانجی کی شادی کا سارا خرچ میں نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ ۱۰ دن قبل اسی کار میں اسے میں نے لاہور اپنے رشتہ داروں کے پاس بھیجا کہ شادی کے لیے اپنی مرضی کی جو چیز چاہے خرید لے۔ اسے لاہور جاتے ہی بخار ہوگیا لیکن اس نے کسی کو نہ بتایا۔ بخار کی گولیاں ڈسپرین وغیرہ کھاتی اور بازاروں میں پھرتی رہی۔ بازار میں پھرتے پھرتے اچانک بے ہوش ہو کر گری۔ وہاں سے اسے ہسپتال لے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اس کو ۱۰۶ ڈگری بخار ہے اور یہ گردن توڑ بخار ہے۔ وہ بے ہوشی کے عالم ہی میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئی۔ اُس کے فوت ہوتے ہی نجانے کیوں مجھے اور میری بیوی کو آپ کی بیٹی کا خیال آیا۔ ہم میاں بیوی نے اور ہماری تمام فیملی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی بھانجی کا تمام جہیز کا سامان آپ کے ہاں پہنچا دیں گے۔ شادی جلد ہو تو اس کا بندوبست خود کریں گے اور اگر ابھی کچھ دیر ہے تو تمام اخراجات کے لیے رقم آپ کو نقد پہنچا دیں گے۔ آپ نے ناں نہیں کرنی۔ آپ اپنا گھر دکھا دیں تاکہ سامان کا ٹرک وہاں پہنچایا جا سکے۔ حکیم صاحب حیران و پریشان یوں گویا ہوئے ’’محمدعلی صاحب آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہا، میرا اتنا دماغ نہیں ہے۔ میں نے تو آج صبح جب بیوی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی چِٹ یہاں آ کر کھول کر دیکھی تو مرچ مسالہ کے بعد جب میں نے یہ الفاظ پڑھے ’’بیٹی کے جہیز کا سامان‘‘ تو آپ کو معلوم ہے میں نے کیا لکھا۔ آپ خود یہ چِٹ ذرا دیکھیں۔ محمدعلی صاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ’’بیٹی کے جہیز‘‘ کے سامنے لکھا ہوا تھا ’’یہ کام اللہ کا ہے، اللہ جانے۔‘‘ محمد علی صاحب یقین کریں، آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ بیوی نے چِٹ پر چیز لکھی ہو اور مولا نے اُس کا اسی دن بندوبست نہ کردیا ہو۔ واہ مولا واہ۔ تو عظیم ہے تو کریم ہے۔ آپ کی بھانجی کی وفات کا صدمہ ہے لیکن اُس کی قدرت پر حیران ہوں کہ وہ کس طرح اپنے معجزے دکھاتا ہے۔ حکیم صاحب نے کہا جب سے ہوش سنبھالا ایک ہی سبق پڑھا کہ صبح ورد کرنا ہے ’’رازق، رازق، تو ہی رازق‘‘ اور شام کو ’’شکر، شکر مولا تیرا شکر
  3. :ایک مشہور مصنف نے اپنے مطالعے کے کمرےمیں قلم اٹھایا اور ایک کاغذ پر لکھا ٭٭٭ گزشتہ سال میں، میرا آپریشن ہوا اور پتا نکال دیا گیا، بڑھاپے میں ہونے والے اس آپریشن کی وجہ سے مجھے کئی ہفتے تک بستر کا ہو کر رہنا پڑا۔ ٭٭٭ اسی سال میں ہی میری عمر ساٹھ سال ہوئی اور مجھے اپنی پسندیدہ اور اہم ترین ملازمت سے سبکدوش ہونا پرا۔ میں نے نشرو اشاعت کے اس ادارے میں اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال گزارے تھے۔ ٭٭٭ اسی سال ہی مجھے اپنے والد صاحب کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔ ٭٭٭ اسی سال میں ہی میرا بیٹا اپنے میڈیکل کے امتحان میں فیل ہو گیا، وجہ اس کی کار کا حادثہ تھا جس میں زخمی ہو کر اُسے کئی ماہ تک پلستر کرا کر گھر میں رہنا پڑا، کار کا تباہ ہوجانا علیحدہ سے نقصان تھا۔ صفحے کے نیچے اس نے لکھا؛ آہ، کیا ہی برا سال تھا یہ مصنف کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ اُس کا خاوند غمزدہ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھا خلاؤں کو گُھور رہا تھا۔ اُس نے خاوند کی پشت کے پیچھے کھڑے کھڑے ہی کاغذ پر یہ سب کچھ لکھا دیکھ لیا۔ خاوند کو اُس کے حال میں چھوڑ کر خاموشی سے باہر نکل گئی۔ کچھ دیر کے بعد واپس اسی کمرے میں لوٹی تو اس نے ایک کاغذ تھام رکھا جسے لا کر اُس نے خاموشی سے خاوند کے لکھے کاغذ کے برابر میں رکھ دیا۔ خاوند نے کاغذ کو دیکھا تو اس پر لکھا تھا ٭٭٭ اس گزشتہ سال میں آخر کار مجھے اپنے پتے کے درد سے نجات مل گئی جس سے میں سالوں کرب میں مبتلا رہا تھا۔ ٭٭٭ میں اپنی پوری صحت مندی اور سلامتی کے ساتھ ساٹھ سال کا ہو گیا۔ سالوں کی ریاضت کے بعد مجھے اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ ملی ہے تو میں مکمل یکسوئی اور راحت کے ساتھ اپنے وقت کو کچھ بہتر لکھنے کیلئے استعمال کر سکوں گا۔ ٭٭٭ اسی سال ہی میرے والد صاحب پچاسی سال کی عمر میں بغیر کسی پر بوجھ بنے اور بغیر کسی بڑی تکلیف اور درد کے آرام کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ٭٭٭ اسی سال ہی اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو ایک نئی زندگی عطا فرما دی اور ایسے حادثے میں جس میں فولادی کار تباہ ہو گئی تھی مگر میرا بیٹا کسی معذوری سے بچ کر زندہ و سلامت رہا۔ آخر میں مصنف کی بیوی نے یہ فقرہ لکھ کر تحریر مکمل کی تھی کہ : "واہ ایسا سال، جسے اللہ نے رحمت بنا کر بھیجا اور بخیرو خوبی گزرا۔" ملاحظہ کیجیئے: بالکل وہی حواداث اور بالکل وہی احوال لیکن ایک مختلف نقطہ نظر سے۔۔۔۔ بالکل اسی طرح اگر، جو کچھ ہو گزرا ہے، اسے اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے جو اس کے برعکس ہوتا تو، ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شاکر بن جائیں گے۔ اگر ہم بظاہرکچھ کھو بیٹھے اسے مثبت زاویے سے دیکھیں تو ہمیں جو کچھ عطا ہوا وہ بہتر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ﴿٧٣﴾"اور بے شک تیرا رب تو لوگوں پر فضل کرتا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے"
  4. Anabiya Haseeb

    Subhan Allah

    یہ تحریر نہ پڑھی تو سمجھو کچھ بھی نہ پڑھا ایک بار جب جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہو ں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا یا اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی " ابا جان اسلام وعلیکم" بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاو گے آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا ؟ آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں. #Ana
  5. ........بادشاہ اور وزیر ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﺯﯾﺮ۔ ﻭﺯﯾﺮ ﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮐﻞ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮐﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﺍ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﺎ۔ﺟﺐ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮐﮩﺎ : ﺍﭼﮭﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻧﺸﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ۔ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺟﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﻏﺼﮧ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ : ﮐﯿﺴﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ؟ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯﺧﻮﻥ ﺑﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ! ﺍﺱﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﻮ ﺟﯿﻞ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﭼﮭﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﯿﻞ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﻮ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﮍﮮ ﺟﻨﮕﻞﻣﯿﮟ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱﺩﻓﻌﮧ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺖ ﮐﯽ ﭘﻮﺟﺎﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﺝ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﯿﺪ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒﺍﺱ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯﺑﺖ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺟﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﮯ ﻟﮯ ﺍٓﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯﺑﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮐﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮐﭩﯽ ﮨﻮ ﻭﮦ ﻣﻌﯿﻮﺏ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯﻭﺯﯾﺮ ﮐﺎ ﺟﻤﻠﮧ ﯾﺎﺩ ﺍٓﮔﯿﺎ : ﺳﺐﮐﭽﮫ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻧﺸﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ۔ ﺷﮑﺎﺭ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﻮ ﺟﯿﻞ ﺳﮯﺍٓﺯﺍﺩ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻼﯾﺎ۔ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﺍﻗﻌﺎ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮐﺎ ﮐﭩﻨﺎ ﺍﺱ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻭﺯﯾﺮﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﺟﺐ ﺗﻢ ﺟﯿﻞ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ۔ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﻮﺍ؟ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻭﺯﯾﺮ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍٓﭖﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﻞ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺷﮑﺎﺭﮐﮯﺩﻥ ﺑﮭﯽ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﯼﺍﻧﮕﻠﯽ ﮐﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﺠﮭﮯﺍﭘﻨﮯ ﺑﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﭼﮍﮬﺎﺗﮯ۔ ﭘﺲ ﺟﯿﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﭻ ﮔﯿﺎ۔ : ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﻠﺤﺖﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔
  6. حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا ’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگےتو کیا مانگے؟‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صحت‘‘۔میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘ صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتےرہتے ہیں‘ مثلاً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارےدل کو کمزور کر دیتے ہیں مگر ہم جب تیزچلتے ہیں‘ جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘ ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘ مثلاً دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘ مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘ ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑےہوتے ہیں- یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے نه اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نه نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘ مثلاً ہمارا جگرجسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحدعضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے‘ سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘ اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘ آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کردیتے ہیں جب کہ ہمارے بدن میں ایسےہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔ ہم روزانہ سوتے ہیں‘ ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘ ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی مگر جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘ ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک صحت کاتخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے‘ ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں‘دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیےتیار ہیں‘ ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسوکے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘ ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘ لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘آنکھوں کاقرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘ آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں‘ دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘ انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے‘قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘ شوگر‘ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیںاور آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کرپھریں گے مگرآپ کو شفا نہیں ملے گی‘ منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘ ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘ ہم اس عظیم مہربانی پراللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘ ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘ ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘ دوڑ لگا سکتے ہیں‘ جھک سکتے ہیں اور ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘ کانوں سے سن‘ ہاتھوں سے چھو‘ ناک سے سونگھ اور منہ سے چکھ سکتے ہیں تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘ اس کے کرم کے قرض دار ہیں اور ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘ ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ ...اسی لئیے ربِ کریم قرآن میں کہتے ہیں ➰ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے
  7. ....یہ واقعہ شام کے شہر دمشق میں ہوا ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روزانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی اسی یونیورسٹی میں اسکا والد ایک ڈپارٹمنٹ کا انچارج تھا۔ایک دن چھٹی کے فورا بعد اچانک بادل گرجنے لگے اور زوردار بارش ہونے لگی، ہر کوئی جائے پناہ کی تلاش میںدوڑرہا تھا، سردی کی شدت بڑھنے لگی، آسمان سے گرنے والے اولے لوگوں کے سروں پر برسنے لگے،یہ لڑکی بھییونیورسٹی سے نکلی اور جائے پناہ کی تلاش میں دوڑنے لگی، اس کا جسم سردی سے کانپ رہا تھالیکن یہ نہیں جانتیتھی کہ اسے پناہ کہاں ملے گی،جب بارش تیز ہوئی تو اس نے ایک دروازہ بجایا، گھر میں موجود لڑکا باہر نکلا اور اسے اندر لے آیا اور بارش تھمنے تک اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دی،دونوں کا آپس میں تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ لڑکا بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے جہاں وہ خود زیر تعلیم ہے۔اور اس شہر میں اکیلا رہتا ہے،ایک کمرہ برامدہ اور باتھ روم اس کا کل گھر تھا نوجوان نے اسے کمرے میں آرام کرنے کو کہا اور اسکے پاس ہیٹر رکھ دیا اور کہا کہ کمرہ جبگرمہوجائے گا تو وہ ہیٹر نکال لے گا،تھوڑی دیر لڑکی بستر پر بیٹھی کانپتی رہی،اچانک اسے نیند آ گئی تو یہ بستر پر گرگئی۔نوجوان ہیٹر لینے کمرے میں داخل ہوا تو اسے یہ بستر پر سوئی ہوئی لڑکی جنت کی حوروں کی سردار لگی وہ ہیٹر لیتے ہی فورا کمرے سے باہر نکل گیالیکن شیطان جو کہ اسے گمراہ کرنے کے موقع کی تلاش میں تھااسے وسوسے دینے لگا اس کے ذہن میں لڑکی کی تصویر خوبصورت بنا کر دکھانے لگا تھوڑی دیر میں لڑکی کی آنکھ کھل گئی، جب اس نے اپنے آپ کو بستر پر لیٹا ہوا پایا تو ہڑبڑا کر اٹھ گئی اور گھبراہٹ کے عالم میں بے تحاشا باہر کی طرف دوڑنے لگی اس نے برامدے میں اسی نوجوان کو بیہوش پایا وہ انتہائی گھبراہٹ کی عالم میں گھر کی طرف دوڑنے لگی اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا یہاں تک کہ اپنے گھر پہنچ کر باپ کی گود میں سر رکھ دیا جو کہ پوری رات اسے شہر کے ہر کونے میں تلاش کرتا رہا تھااس نے باپ کو تمام واقعات من و عن سنا دیے اور اسے قسم کھا کر کہا کہ میں نہیں جانتی جس عرصہ میں میری آنکھ لگی کیا ہوامیرے ساتھ کیا کیا گیا، کچھ نہیں پتا،اسکا باپ انتہائی غصے کے عالم میں اٹھا اور یونیورسٹی پہنچ گیا اور اس دن غیر حاضر ہونے والے طلبہ کے بارے میں پوچھا تو پتا لگا کہایک لڑکا شہر سے باہر گیا ہے اور ایک بیمار ہے، ہسپتال میں داخل ہے،باپ ہسپتال پہنچ گیا تاکہ اس نوجوان کو تلاش کرے اور اس سے اپنی بیٹی کا انتقام لے، ہسپتال میں اسکی تلاش کے بعد جب اسکے کمرے میں پہنچا تو اسے اس حالت میں پایا کہ اسکی دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پٹیوں سے بندھی ہوئی تھی اس نے ڈاکٹر سے اس مریض کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹر نے بتایا جب یہ ہمارے پاس لایا گیا تو اسکے دونوں ہاتھ جلے ہوئے تھے باپ نے نوجوان سے کہاکہ تمہیں اللہ کی قسم ہے! مجھے بتاؤ کہ تمہیں کیا ہوا ہے باپ نے اپنا تعارف نہیں کروایا، وہ بولا ایک لڑکی کل رات بارش سے بچتی ہوئی میرے پاس پناہ لینے کے لیے آئی، میں نے اسے اپنے کمرے میں پناہ تو دے دی لیکن شیطان مجھے اس کے بارے میں پھسلانے لگا تو میں اسکے کمرے میں ہیٹر لینے کے بہانے داخل ہوا، وہ سوئی ہوئی لڑکی مجھے جنت کی حور لگی، میں فورا باہر نکل آیا لیکن شیطان مجھے مسلسل اسکے بارے میں پھسلاتا رہا اور غلط خیالات میرے ذہن میں آتے رہے تو جب بھی شیطان مجھے برائی پر اکساتا میں اپنی انگلی آگ میں جلاتا تاکہ جھنم کی آگ اور اسکے عذاب کو یاد کروں اور اپنے نفس کو برائی سے باز رکھ سکوں یہاں تک کہ میری ساری انگلیاں جل گئی اور میں بے ہوش گیا ،مجھے نہیں پتا کہ میں ہسپتال کیسے پہنچا۔یہ باتیں سن کر باپ بہت حیران ہوا۔ بلند آواز سے چلایا اے لوگو۔۔۔۔۔۔! گواہ رہو میں نے اس پاک سیرت لڑکے سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے ..............سبحان اللہ _____________________________________________________ یہ ہے اللہ سے ڈرنے والوں کا ذکر،اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو اس لڑکی کی عزت محفوظ نہ رہ سکتی۔جو بھی لڑکا یا لڑکی ناجائز تعلقات قائم کرتے ہیں یا غیر شرعی دوستیاں یا محبتیں کرتے ہیں تو وہ اپنے اس برے فعل کو چھپانے کی حتیٰالامکان کوشش کرتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ والدین ان کے ان کاموں سے بے خبر رہیں حالانکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ اللہ ان کے ہر فعل سے با خبر ہےپھر بھی انکے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہیں ہوتا !!ایسا کیوں ہے؟؟کیونکہ والدین نے بچپن سے ان کے دل و دماغ میں اللہ کے خوف کے بجائے اپنا ذاتی خوف،رعب و دبدبہ ،سزا کا ڈر ہی بٹھایا ہے۔اسی لیے آج وہ اللہ سے بے پرواہ ہو کر والدین سے چھپ کر گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔اور ایسے بھی والدین ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کی تربیت خوف خدا پر کی تو انکی اولاد نے بھی ہمیشہ برائیوں سے اپنے آپ کو باز رکھا۔
  8. Author:’Abdullaah Ibn Saalih Al-Fawzaan Source:Ahaadeeth As-Siyaam: Ahkaam wa Adaab (pg. 13-15) Abu Hurairah reported that the Messenger of Allaah (Peace be upon him) said: “Ramadaan has come to you – a blessed month. Allaah has made it obligatory on you to fast in it. During this month, the gates of heaven are open, the gates of the Hellfire are closed and the evil devils are chained. To Allaah belongs a night in it, which is better than a thousand months. Whosoever is prevented from its good, then he has been deprived.” [1] The hadeeth is a glad tiding to the righteous servants of Allaah, of the coming of the blessed month of Ramadaan. The Prophet (Peace be upon him) informed his Companions of its coming and it was not just a simple relaying of news. Rather, his intent was to give them the glad tidings of a magnificent time of the year, so that the righteous people who are quick to do deeds can give it its due estimate. This is because the Prophet (Sallallaahu ‘alaihi wa Sallam) explained in it (the hadeeth) what Allaah has prepared for His servants from the ways towards gaining forgiveness and His contentment – and they are many. So whoever has forgiveness escape him during the month of Ramadaan, then he has been deprived with the utmost deprivation. From the great favors and bounties that Allaah has bestowed upon His servants is that He has prepared for them meritous occasions so that they may be of profit to those who obey Him and a race for those who rush to compete (for good deeds). These meritous occasions are times for fulfilling hopes by exerting in obedience and uplifting flaws and deficiencies through self-rectification and repentance. There is not a single occasion from these virtuous times, except that Allaah has assigned in it works of obedience, by which one may draw close to Him. And Allaah possesses the most beautiful things as gifts, which He bestows upon whomsoever He wills by His Grace and Mercy. So the one who achieves true happiness is he who takes advantage of these virtuous months, days and hours and draws closer to His Guardian in them, by doing what is prescribed in them from acts of worship. Thus perhaps he will be showered with one of the many blessings of those occasions and be helped by it, with an assistance that is enough to save him from the Fire and what it contains, such as its blazing heat. [2] Being able to reach Ramadaan is itself a magnificent bounty that is bestowed on the one who reaches it and rises to its occasion, by standing in prayer during its night and fasting during its day. In it, he returns to his Protector — from disobeying Him to obeying Him, from neglecting Him to remembering Him, from remaining distant from Him to turning towards Him in submissive repentance. A Muslim must be conscious of this bounty and acknowledge its magnitude. For indeed, many people are prevented from fasting, either because they die before they reach it, or because they are not capable of observing it or because they oppose and turn away from it. Thus, the one who fasts must give praise to his Lord for this bounty and should welcome this month with joy and delight that a magnificent time of the year out of all the occasions for performing obedience is welcomed. He should exert himself deeply in doing good deeds. And he should invoke Allaah to grant him the ability to fast and stand in night prayer, and that He provide him with seriousness, enthusiasm, strength, and energy in that month. And that He awaken him from heedless oversleeping so that he may take advantage of these virtuous times of good. It is unfortunate to find that many people do not know the value of this virtuous occasion, nor do they consider it to be sacred. So the month of Ramadaan no longer becomes a significant time for obedience, worship, reciting the Qur’aan, giving in charity and making remembrance of Allaah. Rather, to some people, it becomes a signifcant time to diversify their foods and drinks and to prepare different types of meals before the month begins. Some other people do not know Ramadaan except as a month of sleeplessness and constant recurring gatherings, while sleeping by day. This is to the point that some among them sleep past the time of the obligatory prayers, thus not praying them in congregation or in their proper times. Other people do not know Ramadaan except as a signifcant time for conducting worldly affairs, not as a significant time for conducting affairs for the Hereafter. Thus, they work busily in it, buying and selling, and they stay in the market areas, consequently abandoning the masaajid. And when they do pray with the people, they do so in such a hurried manner. This is because they find their pleasure in the market places. This is the extent that the notions and views (of Ramadaan) have been changed. Some of the Salaf used to say: “Indeed Allaah, the Most High, has made the month of Ramadaan as a competition for His creatures, in which they may race with one another to His pleasure, by obeying Him. Thus, one group comes first and so they prosper and another group comes last and so they fail.” [3] Also, the individual does not know if this is perhaps the last Ramadaan he will ever see in his life, if he completes it. How many men, women and children have fasted with us the past year, and yet now they lie buried in the depths of the earth, relying on their good deeds. And they expected to fast many more Ramadaans. Likewise, we too shall all follow their path. Therefore, it is upon the Muslim to rejoice at this magnificent occasion for worship. And he should not renounce it, but instead busy himself with what will benefit him and what will cause its effect to remain. For what else is it, except numbered days, which are fasted in succession and which finish rapidly. May Allaah make us, as well as you, from among those who are foremost in attaining good deeds. Footnotes: This hadeeth is reported by Ahmad and An-Nasaa’ee. See Ahmad Shaakir’s checking of the Musnad (no. 7148) and Saheeh at-Targheeb wat-Tarheeb of al-Albaanee (1490) as well as Tamaam-ul-Mannah (395) These are the words of Ibn Rajab in Lataa’if-ul-Ma’aarif: pg. 8 Lataa’if-ul-Ma’aarif of Ibn Rajab: page 246 Share this, Baarakallaah Feekum: [“One who guides to something good has a reward similar to that of its doer” - Saheeh Muslim vol.3, no.4665] [This website protects the copyrights of the authors/publishers. The Content is posted on this website with implicit/explicit permission from content owners. If you find any copyright violations please inform the same.]
  9. ALLAHABAD k naam sy Start hune wali 40 QURANI AYAAT
  10. ﺣﺪﯾﺚ پاک ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻋﺮﺵ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ، ﻣﯿﺮﮮ ﻏﻀﺐ ﭘﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﮨﮯ. (ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ) ایک ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮاللہ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ "ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺅ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﯿﻦ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﯿﮟ" ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻓﻮﺭﯼ ﺣﮑﻢِ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ ﺳﺎﺣﻞ ﭘُﺮ ﺳﮑﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺘﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰؑ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ " ﺍﮮ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮ ! ﺍللہ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭ ﺭﮨﻨﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻢ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﮑﻢ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺝ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮈﻭﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺳﻮﺍﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﻣﻮﺝ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺎ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ " ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﻧﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ "ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻻﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺗﮯ ﺁﺗﮯ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﺁﺗﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﺴﺐِ ﺳﺎﺑﻖ ﺍِﺱ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ! ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﺅ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽؑ ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﺳﭽﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﻞ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ، ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮﮞ ﻟﮩٰﺬﺍ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺻﺪﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ * ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﺎﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺁ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮؑ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺩﻭ ﺗﻮ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺁ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ، ﮐﯿﺴﮯ ﺑﭻ ﮔﺌﯽ؟ " ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ " ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ ! ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺗﻮﮐﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﻃﻔﯿﻞ ﺑﭻ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺻﺪﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻧﺎ ﺍﻣﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔
×