Jump to content

Please Disable Your Adblocker. We have only advertisement way to pay our hosting and other expenses.  

Search the Community

Showing results for tags 'din'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Premium Files
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 5 results

  1. اک پہیلی زندگی چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن ’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘ وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن سودائے آذری میں ہوئے صنم گری وہ بت پرستیوں میں عبادت کے رات دِن اِک سادہ دِل ، دیارِ کرشمہ گراں میں گم اِک قریۂ طلسم میں حیرت کے رات دِن لب ہائے نارسیدہ کی لرزش سے جاں بلب صہبائے ناچشیدہ کی لذت کے رات دِن روئے نگار و چشمِ غزالیں کے تذکرے گیسوئے یار و حرف و حکایت کے رات دِن ناکردہ کاریوں پہ بھی بدنامیوں کا شور اختر شماریوں پہ بھی تہمت کے رات دِن سوداگرانِ منبر و مکتب سے رو کشی جاں دادگانِ دانش و حکمت کے رات دِن اہلِ قبا و اہلِ ریا سے گریز پا وہ واعظانِ شہر سے وحشت کے رات دِن میر و انیس و غالب و اقبال سے الگ راشد ، ندیم ، فیض سے رغبت کے رات دِن فردوسی و نظیری و حافظ کے ساتھ ساتھ بیدل ، غنی ، کلیم سے بیعت کے رات دِن شیلے کا سحر ، کیٹس کا دُکھ ،بائرن کی دھج ان کافرانِ عشق سے نسبت کے رات دِن تشکیک و ملحدانہ رویے کے باوجود رومی سے والہانہ عقیدت کے رات دِن جیسے مئے سخن سے صراحی بھری ہوئی زورِ بیان و ُحسنِ طبیعت کے رات دِن یاروں سے شاعرانہ حوالے سے چشمکیں غیروں سے عاشقانہ رقابت کے رات دِن شعری سفر میں بعض بزرگوں سے اختلاف پیرانِ میکدہ سے بغاوت کے رات دِن رکھ کر کتابِ عقل کو نسیاں کے طاق پر وہ عاشقی میں دِل کی حکومت کے رات دِن ہر روز ، روزِ ابر تھا ہر رات چاند رات آزاد زندگی تھی ، فراغت کے رات دِن وہ صبح و شام دربدری ، ہم سنوں کے ساتھ آوارگی و سیر و سیاحت کے رات دِن اِک محشرِ خیال کے ہجراں میں کانٹا تنہائی کے عذاب ، قیامت کے رات دِن اک لعبتِ جمال کو ہر وقت سوچنا اور سوچتے ہی رہنے کی عادت کے رات دِن اِک رازدارِ خاص کو ہر وقت ڈھونڈنا بے اعتباریوں میں ضرورت کے رات دِن وہ ہر کسی سے اپنا ہی احوال پوچھنا اپنے سے بھی تجاہل و غفلت کے رات دِن بے وجہ اپنے آپ کو ہر وقت کوسنا بے سود ہر کسی سے شکایت کے رات دِن رُسوائیوں کی بات تھی رُسوائیاں ہوئیں رُسوائیوں کی عمر میں شہرت کے رات دِن اِک دُشمنِ وفا کو بھلانے کے واسطے چارہ گروں کے پند و نصیحت کے رات دِن پہلے بھی جاں گُسل تھے مگر اس قدر نہ تھے اِک شہرِ بے اَماں میں سکونت کے رات دِن اس دولتِ ہنر پہ بھی آزارِ مفلسی اس روشنیٔ طبع پہ ظلمت کے رات دِن پھر یہ ہوا کہ شیوئہ دِل ترک کر دیا اور تج دیئے تھے ہم نے محبت کے رات دِن ہر آرزو نے جامۂ حسرت پہن لیا پھر ہم تھے اور گوشۂ عزلت کے رات دِن ناداں ہیں وہ کہ جن کو ہے گم نامیوں کا رنج ہم کو تو راس آئے نہ شہرت کے رات دِن فکرِ معاش ، شہر بدر کر گئی ہمیں پھر ہم تھے اور قلم کی مشقت کے رات دِن ’’خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا‘‘ اور مدعی تھے صنعت و حرفت کے رات دِن کیا کیا ہمیں نہ عشق سے شرمندگی ہوئی کیا کیا نہ ہم پہ گزرے ندامت کے رات دِن آکاس بیل پی گئی اِک سرو کا لہو آسیب کھا گیا کسی قامت کے رات دِن کاٹی ہے ایک عمر اسی روزگار میں برسوں پہ تھے محیط ، اذیت کے رات دِن ساماں کہاں کہ یار کو مہماں بلایئے اِمکاں کہاں کہ دیکھئے عشرت کے رات دِن پھرتے تھے میر خوار کوئی پوچھتا نہ تھا قسمت میں جب تلک تھے قناعت کے رات دِن سو یہ بھی ایک عہدِ زیاں تھا ، گزر گیا کٹ ہی گئے ہیں جبرِ مشیت کے رات دِن نوواردانِ شہرِ تمنا کو کیا خبر ہم ساکنانِ کوئے ملامت کے رات دِن احمد فراز
  2. Muhammad Rehman SAbir

    Haftay K Din Waly

    یوم السبت ،، کچھ دن پہلے میں کسی کا بیان سن رہا تھا جس میں یوم السبت والے لوگوں کا تذکرہ ہوا یعنی ہفتے کہ دن والے،، جو مجھ سمجھ میں آیا سوچا آپ کو بھی بتا دوں یہ قوم ہفتے میں 6 دن اپنے روز مرہ کہ کام کرتے اور ہفتے والے دن صرف اللہ کی عبادت کرتے،، ان کا پیشہ مچھلی پکڑنا تھا یہ پورے ہفتے میں 6 دن مچھلیاں پکڑتے مگر 7ویں روز یعنی ہفتہ اللہ کی عبادت کرتے،، قدرت کا کرشمہ سمجھئے اسے کہ 6دنوں میں اتنی مچھلیاں نہیں آتی جتنی ہفتے والے دن آتے،، پہلے تو وہ لوگ معمول کہ مطابق مچھلیاں پکڑتے اور 7واں روز اللہ کی عبادت میں گزارتے،، مگر پھر شیطان کا زور ان پہ بھڑنے لگا اور وہ دل ہی دل میں تمنا کرتے کہ کاش ہمیں عبادت نہ کرنی پڑے اور ہم اس دن مچھلیاں پکڑ لیں خیر وہ اس بات کو دل میں لئے سوچتے کہ کیا کیا جائے،، ان میں سے کچھ افراد جو ذہین تھے انہوں نے کہا کیوں نہ کوئی ایسی ترکیب کریں کہ عبادت بھی ہو جائے اور مچھلیاں بھی پکڑی جائیں،، تو انہوں نے پانی سے اپنے گھروں تک نالیاں بنا لی اور عبادت بھی کرنے لگے اب جب ہفتے کا دن آتا تو مچھلخاں اپنی موج میں ادھر ادھر ہوتی ہوئیں ان نالیوں کہ زریعے ان کہ گھروں میں خود با خود آ جاتی اب وہ خوش بھی تھے کہ عبادت بھی ہوتی اور زریعہ معاش بھی ہو رہا،، یہ تین گروہ تھے پہلا وہ جو مچھلیاں پکڑتا تھا دوسرا وہ جو مچھلیاں نہیں تھا مگر ان کو منع بھی کرتا تھا کہ یہ کام غلط ہے باز آ جاو دین میں تھوڑی سی لالچ کہ بدلے کمی بیشی نہ کرو اور تیسرا گروہ وہ تھا جو چپ کر کہ بھٹھا تھا نہ تو خود مچھلیاں پکڑتا نہ دوسروں کو منع کرتا،، پھر ہوا یہ کہ جو گروہ ان کو منع کرتا تھا اور خود بھی منع تھا سوائے اس کہ باقی دونوں گروہوں پہ اللہ کا عذاب آیا جو مچھلیاں پکڑتے یعنی تھوڑی سی لالچ کہ بدلے عبادت تو کرتے مگر ساتھ میں اپنی تیز دماغی کہ باعث مچھلیاں بھی پکڑ لیتے دیکھنے والوں کو اس میں کوئی بھی خامی نظر نہیں آتی تھی کیوں کہ وہ تو عبادت کرتے تھے مچھلیاں تو خود با خود ان نالیوں کہ زریعے ان کہ گھروں میں آ جاتی تھی،، مگر پھر بھی اللہ کا عذاب ہوا ،، اور ان پہ بھی جو جانتے تھے کہ یہ غلط ہے مگر پھر بھی ان کو منع نہیں کرتے تھے،، چپ تھے ان پہ بھی اللہ کا عذاب آیا اور وہ ذلیل بندر ہو گئے،، اب بات یہ ہے انہوں نے تو نالیاں بنائی تھی عبادت تو وہ ویسے ہی کرتے تھے جمعہ کہ دن نالیاں بنا کہ ہفتے کو عبادت کرتے مگر انہوں نے کیا غلطی کی ،، بات یہ ہی سوچنے والی ہے ،، کہ اللہ کہ ساتھ وعدہ جو تھا اللہ کا حکم جو تھا وہ اس میں اپنی ذہنی قابلیت کو استعمال کر کہ ایسی ترکیب بنائے ہوئے تھے کہ عبادت ہو مگر ساتھ میں زریعہ معاش بھی ہو،، صرف اک چھوٹی سے کوتاہی کہ بدلے اک چھوٹے سے حکم کی نافرمانی کہ بدلے اللہ نے ان کو انسان سے ذلیل بندر بنا دیا،، غلطی تو کوئی بھی نہیں لگتی دیکھنے والوں کو،، کیوں کہ وہ جمعہ کہ دن نالیاں بناتے ،، ہفتے کہ دن تو صرف عبادت کرتے مچھلیاں خود ہی آتی تھی،، تو پھر غلطی کیا،، جو اتنا بڑا عذاب ہوا،، غلطی یہ کہ انہوں سے صبر نہ ہوا،، اور لالچ کہ باعث دین میں ایسی راہیں ڈھونڈنے لگے،، جس سے ان کا دین بھی پورا رہے اور دنیا بھی پوری رہے چاہے وہ کام اللہ نے جس سے منع کیا ہو وہ ہی ہو،، قرآن نصیحت حکمت ڈر سنانے والی خوش خبری دینے والی،، راہ دیکھانے والی،، کتاب اللہ ہے،، اللہ نے اس میں مسلمانوں اور پوری کائنات کو نصیحت فرمائی اور بتایا پچھلی امتوں پہ کن کن باتوں کے باعث ان پہ عذاب ہوا تم ویسے نہ ہو جانا پھر ویسا عمل نہ کرنا،، اللہ سے ڈرتے رہنا اور ان باتوں ان امتوں کہ قصوں کو نصیحتا یاد رکھنا،، اور ان کاموں سے روکے رہنا جو انہوں نے کئے،، وہ کرنا جن کو کرنے پہ اللہ نے انعام فرمایا،، اب ہم غور کریں ہم نے اس قصے سے کیا نصیحت حاصل کی ہمیں کن کاموں سے باز رہنے کا حکم ہوا،، اور کن کاموں میں ہم نے تھوڑی سے لالچ کہ بدلے ویسی دماغی حکمت عملی کو اپنا کہ دین کہ ساتھ جوڑا ہوا ہے مطلب ہم کہتے ہیں اللہ نے دین و دنیا کو ساتھ ساتھ لے کہ چلنے کا حکم دیا ہے،، مگر یاد رکھئیے اللہ نے ہرگز ہرگز ان کاموں کو دین کہ ساتھ ملا کہ کرنے کا کہیں حکم نہیں دیا جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے،، تو اب ہم ان کاموں کو دنیا کا حصہ بتا کہ دین کہ ساتھ شامل نہیں کر سکتے مثلا اس بیان میں کہا گیا جیسے سود،، سود کو اللہ نے منع فرمایا،، چاہے کوئی لے یا دے دنوں پہ سخت بیان ہوا،، مگر آج کل بینکنگ میں ہر جگہ پہ سود ہے ہم اپنی پاک کمائی حلال کمائی کو اس طرح سود سے گندہ کر رہے جو ظاہری طور پہ ہمیں خامی نظر نہیں آتی مگر ہم کر رہے،، ہر جگہ ہر ادارے میں بڑے ناز سے سود لے دے رہے،، کوئی اس بات کا حساب نہیں لگاتا کہ یہ سود ہے کہ نہیں کوئی منع بھی نہیں کرتا بس یہ سوچ کہ لئے دئے جا رہے کہ یہ جدید دور ہے،، ہماری ضرورت ہے،، جائز ہے ہم مجبور ہیں،، سبھی لیتے ہیں بڑے بڑے عالم لیتے ہیں ہم تو پھر بھی تھوڑا سا لیتے،، تو ان کی بات سن کہ میرے دماغ میں کچھ آیات آتی،، جن میں اللہ نے صاف فرمایا ہے ہر بندہ اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے،، اگر کوئی دیکھا دیکھی انجانے میں غلطی کر لے تو سمجھ آنے پہ اس کو توبہ کرنی چاہئے،، نہ کہ یہ سوچ کہ غلطی دوہرائے کہ سب کر رہے ہیں،، روز محشر نہ تو باپ اپنی اولاد کہ اعمال کا ذمہ دار ہو گا نہ اولاد اپنے باپ کی،، ہر اک سے اس کہ متعلق سوال ہو گا،، اور پوچھا جائے گا کیا تم میں میرا نبی نہیں آیا کیاں تم قرآن نہیں پڑھتے تھے،، کیا میں نے تم کو نصیحت نہیں کی تھی کیا میں نے تم کو ڈر نہیں سنایا تھا،، کیا میں نے تمہیں عقل نہیں دی تھی،، بات تو یہ ہے تم دنیا کی زندگی کو ہی سب سمجھ بیٹھے تھے،، اور سوچتے تھے قیامت کب آئے گی،، اور جو تم کو منع کرتا تھا ان کو پاگل کہت تھے اب رہوں اپنے عمل کہ سبب جہنم میں یہ کچھ آیات ہیں جو میں نے اپنی سمجھ میں جو آئی ان کو سمجھانے کہ لئے لکھا ہو بہو نہیں ہے کوئی غلطی ہو تو اللہ سے معافی مانگتا ہوں تو پھر کس لئے دیکھا دیکھی کام کرتے یا برا عمل ہوتا دیکھ منع نہیں کرتے،، اس کہ بعد رشوت آ جاتی ہے،، جو اب ہر ادارے ہر جگہ چلتی ہے،، کہیں پہ مال کی کہیں پہ جھوٹی گواہی کی اور کہیں پہ جھوٹی خوشامند کی،، اور لوگ بڑے فخر سے لے دے رہیں ہیں،، کسی کو اس بات کی تمیز نہیں کہ وہ کیا کر رہے،، وہ نمازیں تو اللہ کی پڑھتے صدقہ بھی کرتے سب کرتے مگر اس رشوت سے ملے مال کو یا دئیے ہوئے مال کی وجہ سے اپنا سارا رزق عمل حرام کر رہے اور اللہ حرام چیز کی کوئی بھی عبادت قبول نہیں کرتا،، یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے کہ ہم سمجھ نہیں پا رہے کہا کہا کدھر کدھر سے ہم رشوت لے رہے اور کہا کہا دے رہے ہیں کوئی حلال حرام کا پتا نہیں عبادتیں کر رہے صدقہ دے رہے مگر ان کو پتا نہیں کن رشوت بڑے راستوں سے وہ اپنی محنت کو حرام میں بدل رہے،، کہہ دو تو کہتے ہیں سبھی کرتے،، نہ کریں تو کھائیں گے کیسے،، اس بات کو کرتے وہ یہ بات ظاہر کر دیتے ہیں کہ ان کا اللہ پہ کتنا یقین ہے اللہ نے انسان کو صاف کہا ہے جتنا رزق میں نے تمہارے مقدر میں لکھا اس کو کوئی کم یا زیادہ نہیں کر سکتا میرے سوا،، جو آسائش خوشی میں نے تیرے لئے رکھی کوئی اس کو نہیں چھین سکتا،، بندوں کا خوف نہ کھا میرا خوف رکھ میں تیرا خدا ہوں،، مگر کہاں کوئی اس بات کو مانتا نہیں دعوے ہر کوئی کرتا مگر،، اس کہ بعد دوسرے مسائل آتے ہیں ھو دین میں منع ہیں مگر ہم ان کو دنیا میں لوگوں میں مقبولیت پانے کہ لئے دین کہ ساتھ ساتھ کرتے اور سوچتے یہی اس میں کیا حرج ہے،، ان میں جھوٹ بھی ہے،، جو ہم مخلتف اموار پہ بے جھا بولتے ہیں ،، ان اور سوچتے ہی نہیں کیا یہ دین ہے،، مختلف اقسام کی جھوٹی کہانیاں بنا کہ جھوٹی باتیں بنا کہ جھوٹی قسمیں کھا کہ مال جمع کرتے پھر اس کو خرچ دین پہ کرتے اور سمجھتے یہ کون سی بری بات ہے جھوٹ ہی ہے،، حالانکہ جھوٹ تمام گناہوں کی ماں ہے،، بس ہمیں ان جگہوں پہ بولنے پہ منع نہیں کیا گیا جو جھوٹ کسی کی ناحق جان قتل ہوتی بچا سکے کسی کی عزت غرق ہوتی بچا سکے،، اور تب جب اس جھوٹ سے کسی کو نفع نقصان بھی نہ ہو آپ کا کوئی مقصد بھی نہ ہو بس کسی کی عزت بچ جائے کسی کی جان بچ جائے،، وہ چھوٹی موٹی غلطیوں کوتاہیوں کو دیکھ بولا جا سکتا ہے،، نہ کسی کو بے وقوف بنا اس کا بعد میں تمسخر اڑا،، یا آپ میں کوئی عیب ہے جس کی آپ توبہ کرتے ہیں یا کر چکے ہیں کوئی اپ کا وہ عیب پوچھے ،، کیوں کہ گناہ کر کہ بتانا گناہ ہے،، مگر ہم ان صورتوں میں جھوٹ نہیں بڑے فخر سے سچ بولتے ہیں ،، اس کہ بعد غیبت آ جاتی،، غیبت کبیرہ گناہوں میں سے ہے ،، ہم مسجد میں بیٹھے ہوتے لوگوں کی غیبت کر رہے ہوتے نیکی کر رہے ہوتے ساتھ میں دوسروں کی باتیں کر رہے ہوتے،، جو بھی ہو مگر ہم کو محسوس ہی نہیں ہوتا،، ہم کیا کئے جا رہے،، ہماری طرف سے تو ہم لوگوں کو برائی سے بچنے کا بتا رہے ہوتے ،، آپ خود بھلا اس برائی کا مدرسہ کھول کہ بیٹھے ہوں،، اس کہ بعد دیکھاوا آ جاتا ہے،، دین اسلام میں سب عبادتیں سب کچھ اللہ کی رضا کہ لئے ہے،، چاہے نماز ہو چاہے قربانی چاہے صدقہ،، کوئی بھی عمل ہو اللہ کہ لئے خالص ہونا چاہئے ہاں کچھ جگہوں پہ فرائض ادا کر کہ دیکھانے چاہئے تاکہ ان میں کرنے کی چاہ ہو،، مگر نہیں دیکھاوا اتنا سر پہ سوار ہے،، لوگ مخلتف گناہوں میں میں شمولیت کر کہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال سر پہ قرض چڑھا ناجائز حرام اعمال اپنا کچھ عمل ایسے کرتے جو بس صاحب حصیت پہ فرض ہیں مگر محض دکھاوے کہ طور پہ ہم ان فرائض کو انجام دیتے ہیں سوچتے بھی نہیں کیا حرام کام کیا کر رہے ،، کدھر ناانصافی ہوئی کدھر قرض لیا،، اس کی کون پرواہ کرے بس انسانوں میں واہ واہ ہونی چاہئے،، یہ وہ کام ہے جیسے قربانی ،، جو قرض لے کہ مال حرام راستے سے کما کہ کرتے دوسرے سے زیادہ پیسہ لگاتے اک دوسرے کہ ساتھ دور لگاتے،، اس کہ بعد حج عمرہ آ جاتا ہے،، انسان نماز پڑھتا نہیں سر پہ قرض ہے گھر میں کھانے کو نہیں،، بے حیائی سرعام ہو رہی رات رات بے حیائی والے کام ہو رہے زناء ہو رہا مگر بس مجھے اللہ سے محبت ہے میں نے اس کہ گھر جانا ہے دل کرتا ہے،، عشق میں تو جان چلی جاتی ہے یہ کیسا عشق ہے جو ساری عبادتوں کو چھوڑ سارے گناہوں کو اپنا بس حرم جانا ہے تاکہ لوگوں کو پتا چل سکے کہ اپ ادھر ہو کہ آئیں،، بس عبادات ہی کرنی ہے چاہے جو مرضی گناہ کر کہ کرو،، قبول اللہ نے کرنی ہیں مگر اللہ کی حدود ہیں ان میں رہ کہ ہوتی،، اس کہ بعد جواء آ جاتا ہے انسان یہ سوچ کہ اپنا سارا مال لگا دیتا ہے قسمت ہوئی دوگنا ہو جاے گا،، پھر اس سے صدقہ خیرات قربانی کرو گا،، جواء اسلام میں حرام ہے،، اور حرام چیز سے کوئی عبادت صدقہ خیرات نہیں ہوتا،، باقی اللہ جس کو معاف کرے جس کی توبہ قبول کرے،،، اس کی بعد آج کل کا جدید دور ہے بے پردگئ،، جس کی مثال میں صرف اس بات پہ دیتا ہوں جہاں لڑکیاں میک اپ کر کہ لڑکوں میں جاتی اب وہ کوئی بھی ہو،، بس دکھاتی کہ ہم ہیں اور پھر لڑکے بھی ان کی خاطر عالم بن جاتے،، یہ چیز آج کل شوشل میڈیا پہ ہے ،، مختلف پروگرام ہیں جن مین صدقہ خیرات کا بہانہ بنا کہ لڑکے لڑکیوں کو کو کھیل مین شمولیت کروائی جاتی،، اور اس اس طرح کی باتیں ہوتی جس کی اسلام میں سخت ممانعت فرمائی،، اسلام میں حکم ہے جس میں حیاء نہیں اسے چاہئے پھر جو مرضی کرے،، اور اک حدیث میں ہے اگر لڑکی خوشبو لگا کہ کسی غیر محرم کہ پاس سے گزرتی ہے تو وہ اس کی خوشبو کو سونگتا ہے یعنی اس لڑکے کو وہ خوشبو آتی ہے تو وہ لڑکی گھر ایسے آئی جیسے زنا کر کہ ائے ہو،، آپ کسی کو کہہ کہ دیکھ لیں آپ کو مار مار کہ بندر نہ بنا دیا تب کہنا،، یا آپ کہ اگلے پچھلے سارے گناہ اکٹھے ہو کہ اپ کہ منہ پہ نا مارے جانے لگے تب کہنا،، خیر بات یہ پورہی تھی سرعام صدقہ بھی ہو رہا ہے اور لوگوں کو اس طرح دعوت دی جاتی جس میں سج سنور کہ لوگ اتے اور ایسے فری ہوتے جیسے ☺ اس کہ بعد مخلتف پروگرام میں باقاعدہ مختلف چیزوں پہ لڑکے لڑکیاں وہ باتیں کرتی جو منع ہیں مگر ساتھ میں کوئی اک آدھی نصیحت بھی کر دی جاتی تاکہ ان کا دین مکمل ہو جائے،، کیا یہ سب ہفتے کہ دن والوں کی طرح نہیں،، انہون نے تو اک راہ بنائی تھی دین کہ ساتھ ہم نے تو ان راہوں پہ تھوڑا سا دین جوڑ کہ اس کو اسلام کا نام دے دیا ہے،، اس کہ بعد ا جاتی ہے کمپیوٹر کی دنیا،، جس میں محض لائکس کمنٹس لینے کہ لئے مخلتف پوسٹ ہوتی مخلتف اسلامی پوسٹ شئیر ہوتی جن کہ ساتھ ہے لڑکی کی تصاویر بہودگی شئیر ہو جاتی،، مختلف قسم کی تصاویر بنا کہ قسمیں دی جاتی ،، ایمان مضبوط اور کمزور بتایا جاتا،، اور ہم دیکھا دیکھی لگے ان کو لائکس دینے کوئی بات جس کی تصدیق نہین جھوٹ پہ مبنی ساری کہانی،، تصاویر بنا کہ شئیر کر دیتے اب بندہ مسجد میں جانے کی بجائے ادھر ہی بیٹھا ہے فیس بک پہ ثواب گناہ کما رہا ہے،، کوئی عمل نہیں مگر مجھے اللہ چاہئے،، نیچے لکھا میں ضدی ہوں پرنسز تیرا باپ ہے 😢😢😢 پتا نہیں کیا لکھا ہوتا سب کہ سب بس دکھواتا دیکھا دیکھی بیٹھے رہتے،، ،، کیا یہ دین میں ملاوت نہیں،، عمل کوئی نہ دکھوائے مکدے نہیں،، اس کہ بعد لڑکا لڑکی سے فحش بات کرتا کرتا مسجد میں جانے کاکہہ دیتا ہے کہ ا کہ بات کرو گا ،، کیا یہ دین ہے،، خیر اس میں بہت سی باتیں اجاتی،، کچھ میرے اندر بھی ہوں گی،، آپ کہ اندر بھی،، اللہ ہمیں معاف کرے اور ان سے بچائے رکھے،، دعا تب اثر کرتئ جب عمل ہو ساتھ،،
  3. اسکی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا !.....ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا !....گر یہ طے ہے کے یہی کھیل دوبارہ ہوگا جس کے ہونے سے میری سانس چلا کرتی تھی کس طرح اس کے بغیر اپنا گزارا ہوگا .. .. ..یہ اچانک جو اجالا سا ہوا جاتا ہے دل نے چپکے سے تیرا نام پکارا ہوگا عشق کرنا ہے تو دن رات اسے سوچنا ہے کچھ اور ذہن میں آیا تو خسارہ ہوگا یہ جو پانی میں چلا آیا ہے سونہری سا غرور !.... .. اسنے دریا میں کہیں پاؤں اتارا ہوگا جو میری روح میں بادل سے گرجتے ہیں !..... اسنے سینے میں کوئی درد اتارا ہوگا
  4. گئے دِنوں کا سراغ لے کر ، کِدھر سے آیا کِدھر گیا وہ عجیب مانوس اجنبی تھا ، مجھے تو حیران کر گیا وہ بس ایک موتی سی چھب دِکھا کر بس ایک میٹھی سی دُھن سُنا کر ستارہء شام بن کے آیا ، برنگِ خُوابِ سحر گیا وہ خوشی کی رُت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈُھونڈتی ہے ہر دٙم وُہ بُوئے گل تھا کہ نغمہء جاں ، مرے تو دل میں اُتر گیا وہ نہ اب وُہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اُداس برکھا یُونہی ذرا سی کسک ہے دِل میں ، جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دٙورِ آسماں بھی جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے ، جو دِن کڑا تھا گزر گیا وہ بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار راستے ہیں اہلِ دل کے یہی تو ہے فرق مجھ میں ، اس میں گزر گیا میں ، ٹھہر گیا وہ شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دِنوں کو بُلا رہا ہوں جو قافلہ میرا ہمسفر تھا ، مثالِ گردِ سفر گیا وہ میرا تو خون ہو گیا ہے پانی سِتمگروں کی پلک نہ بھیگی جو نالہ اُٹھا تھا رات دِل سے ، نہ جانے کیوں بے اٙثر گیا وہ وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اُڑانے والا یہ آج کیا اُس کے جی میں آئی ، کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سُخن ہمارا سدا رہے اُس کا نام پیارا ، سُنا ہے کل رات مٙر گیا وہ وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تُو نے منزلوں کا تری گلی سے نہ جانے کیوں آج ، سٙر جُھکائے گزر گیا وہ وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر ، وہ تیرا ناصر تیری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا ، پھر نہ جانے کِدھر گیا وہ ***** ***** شاعر : ناصر کاظمی (دیوان)
  5. Zarnish Ali

    Abhi kuch din lagain ge..

    Abhi kuch din lagain ge Dil aisay sheher ke paamaal ho jaanay ka manzar bhoolnay mein Abhi kuch din lagain ge Jahaan-e-rang ke saaray khas-o-khaashaak Sab sarv-o-sanobar bhoolnay mein Abhi kuch din lagain ge Thakay haaray huay khaabon ke saahil per Kaheen ummeed ka chota sa ik ghar Bantay bantay reh gaya hai... Woh ik ghar bhoolnay mein, Abhi kuch din lagain ge Magar ab din he kitnay reh gaye hain Bus ik din dil ki lauh-e-muntazir per Achaanak Raat utray gee Meri benoor aankhon ke khazaanay mein chupay Her khaab ki takmeel kar de gee Mujhay bhi khaab mein tabdeel kar de gee Ik aisa khaab jis ka dekhna mumkin nahin tha Ik aisa khaab jis ke daaman-e-sadd chaak mein koi mubarak Koi raushan din nahin tha Abhi kuch din lagain ge... ~Iftikhar Arif
×