Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'dino'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 2 results

  1. Zarnish Ali

    main ne dakh tha un dino main use

    ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﮔُﻼﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﭼﮭﻨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻟﮩﺠﮧ ﺷﺮﺍﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺯﻟﻔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮔﮭﭩﺎ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺭﺥ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﻮﮒ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺧﺪﻭﺧﺎﻝ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺍﺩﺏ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺯﺑﺎﮞ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﯽ ﻟﻮﮒ ﺳُﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮔﮭﻞ ﻣﻞ ﮐﮯ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺭﮨﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﯾﺎ ﻧﻤﺎ ﺳﺮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﯾﮧ ﮨﮯ ، ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺩِﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﭘﮧ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺻﻮﺭﺕِ ﺳﺎﯾﮧ ﻭ ﺳﺤﺎﺏ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﯿﻨﺪﯾﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻧﺬﺭ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺭﺗﺠﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺩِﻝ ﮐﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺭﻧﮓ ﭘﮍﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﻧﭽﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﯾﮧ ﻣﮕﺮ ﺩﯾﺮ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻣﮕﺮ ﺩُﻭﺭ ﮐﺎ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ، ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻼﭖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺑﮭﺮﺍ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺗﻮ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﺎﻝ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﺷﺖِ ﮨﺠﺮﺍﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ، ﺍِﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﮔُﻼﺏ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ
  2. گئے دِنوں کا سراغ لے کر ، کِدھر سے آیا کِدھر گیا وہ عجیب مانوس اجنبی تھا ، مجھے تو حیران کر گیا وہ بس ایک موتی سی چھب دِکھا کر بس ایک میٹھی سی دُھن سُنا کر ستارہء شام بن کے آیا ، برنگِ خُوابِ سحر گیا وہ خوشی کی رُت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈُھونڈتی ہے ہر دٙم وُہ بُوئے گل تھا کہ نغمہء جاں ، مرے تو دل میں اُتر گیا وہ نہ اب وُہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اُداس برکھا یُونہی ذرا سی کسک ہے دِل میں ، جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دٙورِ آسماں بھی جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے ، جو دِن کڑا تھا گزر گیا وہ بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار راستے ہیں اہلِ دل کے یہی تو ہے فرق مجھ میں ، اس میں گزر گیا میں ، ٹھہر گیا وہ شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دِنوں کو بُلا رہا ہوں جو قافلہ میرا ہمسفر تھا ، مثالِ گردِ سفر گیا وہ میرا تو خون ہو گیا ہے پانی سِتمگروں کی پلک نہ بھیگی جو نالہ اُٹھا تھا رات دِل سے ، نہ جانے کیوں بے اٙثر گیا وہ وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اُڑانے والا یہ آج کیا اُس کے جی میں آئی ، کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سُخن ہمارا سدا رہے اُس کا نام پیارا ، سُنا ہے کل رات مٙر گیا وہ وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تُو نے منزلوں کا تری گلی سے نہ جانے کیوں آج ، سٙر جُھکائے گزر گیا وہ وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر ، وہ تیرا ناصر تیری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا ، پھر نہ جانے کِدھر گیا وہ ***** ***** شاعر : ناصر کاظمی (دیوان)
×