Jump to content

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

News Ticker

Search the Community

Showing results for tags 'friends poetry'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Music, Movies, and Dramas
    • Movies Song And Tv.Series
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • IPS Community Suite 3.4
    • Applications
    • Hooks/BBCodes
    • Themes/Skins
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Islam
  • General Knowledge
  • Sports

Found 22 results

  1. میں آئینہ تھا ، وہ میرا خیال رکھتی تھی میں ٹوٹتا تھا تو چن کر سنبھال رکھتی تھی ... میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا ، وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی
  2. تمہیں کس نے کہا پگلی مجھے تم یاد آتی ھو ؟؟؟ بہت خوش فہم ھو تم بھی تمھاری خوش گمانی ہے میری آنکھوں کی سرخی میں تمھاری یاد کا مطلب ؟؟ میرے شب بھر کے جگنے میں تمھارے خواب کا مطلب ؟؟ یہ آنکھیں تو ہمیشہ سے ہی میری سرخ رہتی ہیں تمہیں معلوم ہی ہو گا اس شہر کی فضا کتنی آلودہ ہے تو یہ سوزش اسی فضا کے باعث ہے تمہیں کس نے کہا پگلی کہ میں شب بھر نہیں سوتا مجھے اس نوکری کے سب جھمیلوں سے فرصت ملے تو تب ہے نا میری باتوں میں لرزش ہے؟ میں اکثر کھو سا جاتا ہوں؟ تمہیں کس نے کہا پگلی محبت کے علاوہ اور بھی تو درد ہوتے ہیں فکر معاش، سکھ کی تلاش ایسے اور بھی غم ہیں اور تم ان سب غموں کے بعد آتی ھو تمہیں کس نے کہا پگلی؟ مجھے تم یاد آتی ھو یہ دنیا والے پاگل ہیں زرا سی بات کو یہ افسانہ سمجھتے ہیں مجھے اب بھی یہ پاگل تیرا دیوانہ سمجھتے ہیں تمہیں کس نے کہا پگلی مگر شاید ٲٲٲٲٲٲٲ مگر شاید ، میں جھوٹا ھوں میں ریزا ریزا ٹوٹا ھوں
  3. میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں جیسے ماہتاب کو انت سمندر چاہے جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے جیسے خوشبو کا ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے جیسے بارش کی دعا آبلہ با مانگتے ہیں میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے خواہشِ دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لئے توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے میں نے چاہا کہ ترے حسن کی گلنار فضا میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستاں کی بہار تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول میرے خاموش خیالوں مین تکلم تیرا رقص کرتا رہے، بھرتا رہے خوشبو کا خمار میری خواہش کے جزیروں میں تبسم تیرا تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی تیری سانسوں میں مسیحائی تھی لیکن تو بھی چارہِ زخمِ غمِ دیدہِ تر کر نہ سکی تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے تو کہ سیماب طبیعیت ہے تجھے معلوم موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی یاد آئے گا تری دید کا منظر جاناں مجھ سے مانگے گا ترے عہدِ محبت کا حساب تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں یوں مرے دل کے برابر ترا غم آیا ہے جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں
  4. سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں تو اس کے شہر میں‌کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں نا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتےہیں سنا ہے حشر ہیں‌اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہےجب سے حمائل ہے اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کےدیکھتے ہیں سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی جو سادہ دل ہیں‌اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں بس اك نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل كا سو رہ روان تمنا بھی ڈر كے دیكھتے ہیں سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں‌ ادھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں کسے نصیب کے بے پیرہن اسے دیکھے کبھی کبھی درودیوار گھر کے دیکھتے ہیں رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تعبیر کرکے دیکھتے ہیں اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں‌‌
  5. Laagye tusey nain saiyan

    لَاگے تَوسے نَیناں سَائیں اُجڑت سُکھ اور چَیناں سَائیں - بیٹھی سُدھ بُدھ نِیر بَہاؤں کیا دِن اور کیا رَیناں سَائیں - پِھیکے ہَوت باَل سُنیہری پھیکے کاجل، گہنا سَائیں - آہ سُنے ہے لال حَویلی پَربت دیکھیں بَیناں سَائیں - گَر ھو تَوھے، دُکھ گوارا آگ لگاؤں چَیناں سَائیں - سَائیاں مُوری بِنتی سُن لو تُجھ بِن اب نہیں رہنا سَائیں - تَوری دید کی خاطر بیٹھے جُگنو، بُلبل، مَیناں سَائیں - خاکِ پَا کو سُرمہ کر لوں مُوہے کُچھ مت کہنا سَائیں - قَلب جلا کر رَاہ تَکے ھے حاضر شُجاعت حُسیناں سَائیں - شُجاعت حُسین
  6. حدودِ جاں سے گزر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا کوئی جنوں کی نظر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا وفا کا پودا شجر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا نصیب اس کا ثمر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا زمیں والوں میں گھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ترا فرشتہ بشر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا کہیں نہ کوئی شجر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا جو دھوپ کا ہی سفر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی تو پھرتے ہو دوستوں میں عزیز کوئی جداُ نہیں ہے کوئی اِدھر سے اُدھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا وہ جس کی خاطر زمانے بھر کو بنا رہے ہو تم اپنا دشمن وہی نہ اپنا اگر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی سنا ہے یہ لفظ تم نے تمہیں محبت ملی نہیں ہے کسی کی بانہوں میں گھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا یہ خوش نصیبی ہے شہر بھر میں تمھارا دشمنُ نہیں ہے کوئی کبھی کسی کا جو ڈر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا یہ فاصلہ سا ابھی تلک جو ہمارے دونوں کے درمیاں ہے یہ فاصلہ مختصر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا محبتوں میں تو پتھروں کو بھی موم ہوتے سناُ ہے لیکن تمھارے دل پہ اثر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی تو مشکل نہیں پڑی ہے زمانے والو نبھا رہے ہو کبھی نشانے پہ سر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا پھر ایک لیلیٰ گھری ہوئی ہے نئے زمانے کی تلخیوں میں، پھر ایک وعدہ امر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی تو چہرے بدل بدل کے معیار اپنا بنا رہے ہو کوئی نہ حد نظر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا یہ کیا بچھڑنا کہ شام ہوتے ہی اپنے پیاروں میں لوٹ آنا کبھی جو لمبا سفر ہوا تو !!! محبتوں کا پتہ چلے گا۔۔
  7. ساقی شراب لا کہ طبیعت اُداس ہے مُطرب رُباب اُٹھا کہ طبیعت اُداس ہے چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنی اے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اُداس ہے شاید تیرے لبوں کی چٹک سے ہو جی بہار اے دوست مُسکرا کہ طبیعت اُداس ہے ہے حُسن کا فسوں بھی علاجِ فسُردگی رُخ سے نقاب اُٹھا کہ طبیعت اُداس ہے میں نے کبھی یہ ضد تو نہیں کی پر آج شب اے مہ جبیں نہ جا کہ طبیعت اُداس ہے توبہ تو کر چکا ہوں مگر پھر بھی اے عدم تھوڑا سا زہر لا کہ طبیعت اُداس ہ
  8. ....ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺘﺎﺅ ﺑﮯ ﺳﺒﺐ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﭨﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺫﺭﺍ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﺅﮞ . . . . ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ...ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﺎ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ....ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﮨﯽ ﻧﮩﯽ ﮨﻮﺗﯽ .....ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺘﺎﺅ . . . ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﺗﻨﺎ ؟ .....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ !!ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﺗﻮ ﮨﻮ ﮨﯽ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ...ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺭﻻ ﺩﻭﮞ ﺗﻮ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ....ﻣﺠﮭﮯ ﮈﺭ ﮨﮯ ﮐﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﯿﮓ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ .....ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺘﺎﺅ . . ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ...ﮐﮯ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﮯ ....ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺩﮬﻮﺭﮮ ﮨﯿﮟ ؟ ...ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ...ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺗﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻧﺎ ...ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺘﺎﺅ ﭼﻮﮌﯾﺎﮞ ﮐﯿﺴﯽ ﻟﮕﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ....ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ...ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺮﻭﮞ ﺟﺐ ﻓﻮﻥ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯽ ﺁﺗﯽ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ...ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ، ﺳﻦ ، ﮐﮯ ﺿﺒﻂ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﮯ ....ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮐﺲ ﻟﯿﮯ ﺁﺧﺮ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ....ﮐﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﻨﯽ ، ﺳﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ...ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ...ﺍﺩﺍﺳﯽ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻟﮑﮫ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﻼ ﺩﻭ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ....ﻣﯿﺮﮮ ﺁﮔﮯ ﮐﺮﻭ ﺷﯿﺸﮧ . . . ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮ
  9. آنکه اٹهی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں جدهر اٹهائی نظر قتل عام تم نے کیا قضا کا نام ہوا اور کام تم نے کیا وہ آنکه اٹهی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں ان کی نظروں نے کچھ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں شراب سیخ میں ڈالی کباب شیشے میں ان کی نظروں نظروں نظروں نظروں نے ہم پہ ایسا جادو کیا خود تڑپ کر ان کی جانب دل گیا ہم ہوش بهی اپنے بهول گئے ایمان بهی اپنا بهول گئے اک دل ہی نہیں اس بزم میں ہم نہ جانے کیا کیا بهول گئے جو بات تهی ان کو کہنے کی وہ بات ہی کہنا بهول گئے غیروں کے فسانے یاد رہے ہم اپنا فسانہ بهول گئے کیا کیا نگاہ یار میں تاثیر ہو گئی بجلی کبهی بنی کبهی شمشیر ہو گئ محفل میں بار بار انہیں پہ نظر گئ ہم نے بچائی لاکه مگر پهر ادهر گئی ان کی نگاہ میں کوئی جادو ضرور تها جس پر پڑی اسی کے جگر میں اتر گئی اے بن کے تصویر غم رہ گئے اے کهوئے کهوئے سے ہم رہ گئے بانٹ لی سب نے آپس میں خوشیاں میرے حصے میں غم رہ گئے ہیں اب نہ اٹهنا سرہانے سے میرے اب تو گنتی کے دم رہ گئے ہیں اے صبا ایک زحمت زرااااااا پهر ان کی زلفوں میں خم رہ گئے ہیں کائنات جفا و وفا میں ایک تم ایک ہم رہ گئے ہیں آج ساقی پلا زید کو بھی ایک یہ محترم رہ گئے ہیں نظر ملا کہ میرے پاس آ کہ لوٹ لیا نظر ہٹی تجهے پهر مسکرا کہ لوٹ لیا کوئی یہ لوٹ تو دیکھو کہ اس نے جب چاہا مجهی میں رہ کر مجهی میں سما کہ لوٹ لیا نہ لٹتے ہم مگر ان مست انکهڑیوں نے جگر نظر بچاتے ہوئے ڈبڈبا کے لوٹ لیا ان کی نظروں نے ہم پہ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں ساته اپنا وفا میں نہ چهوٹے کبهی پیار کی ڈور بنده کر نہ چهوٹے کبهی چهوٹ جائے زمانہ کوئی غم نہیں ہاته تیرا رہے بس میرے ہاته میں آنکه اٹهی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں جدهر اٹهائی نظر قتل عام تم نے کیا قضا کا نام ہوا اور کام تم نے کیا وہ آنکه اٹهی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں ان کی نظروں نے کچھ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں شراب سیخ میں ڈالی کباب شیشے میں ان کی نظروں نظروں نظروں نظروں نے ہم پہ ایسا جادو کیا خود تڑپ کر ان کی جانب دل گیا ہم ہوش بهی اپنے بهول گئے ایمان بهی اپنا بهول گئے اک دل ہی نہیں اس بزم میں ہم نہ جانے کیا کیا بهول گئے جو بات تهی ان کو کہنے کی وہ بات ہی کہنا بهول گئے غیروں کے فسانے یاد رہے ہم اپنا فسانہ بهول گئے کیا کیا نگاہ یار میں تاثیر ہو گئی بجلی کبهی بنی کبهی شمشیر ہو گئ محفل میں بار بار انہیں پہ نظر گئ ہم نے بچائی لاکه مگر پهر ادهر گئی ان کی نگاہ میں کوئی جادو ضرور تها جس پر پڑی اسی کے جگر میں اتر گئی اے بن کے تصویر غم رہ گئے اے کهوئے کهوئے سے ہم رہ گئے بانٹ لی سب نے آپس میں خوشیاں میرے حصے میں غم رہ گئے ہیں اب نہ اٹهنا سرہانے سے میرے اب تو گنتی کے دم رہ گئے ہیں اے صبا ایک زحمت زرااااااا پهر ان کی زلفوں میں خم رہ گئے ہیں کائنات جفا و وفا میں ایک تم ایک ہم رہ گئے ہیں آج ساقی پلا زید کو بھی ایک یہ محترم رہ گئے ہیں نظر ملا کہ میرے پاس آ کہ لوٹ لیا نظر ہٹی تجهے پهر مسکرا کہ لوٹ لیا کوئی یہ لوٹ تو دیکھو کہ اس نے جب چاہا مجهی میں رہ کر مجهی میں سما کہ لوٹ لیا نہ لٹتے ہم مگر ان مست انکهڑیوں نے جگر نظر بچاتے ہوئے ڈبڈبا کے لوٹ لیا ان کی نظروں نے ہم پہ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں ساته اپنا وفا میں نہ چهوٹے کبهی پیار کی ڈور بنده کر نہ چهوٹے کبهی چهوٹ جائے زمانہ کوئی غم نہیں ہاته تیرا رہے بس میرے ہاته میں آنکه اٹهی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں
  10. ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﻬﯽ ,ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﻬﺮ ﺳﮯ ﺑﻬﺎﮒ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻬﺎ .....ﺑﮩﺖ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﺗﻬﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﻣﺠﻬﻪ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﻬﯽ ﮐﮧ ﺷﺎﻡ . ﻫﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﭽﻬﻪ ﭘﮩﻠﮯ .......ﺗﻮ ﮔﻬﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮐﺮ ,ﺑﻼﺋﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ,ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ...ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ........ﺑﮩﺖ ﺁﺳﯿﺐ ﻫﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ........ﺗﻮ ﮔﻬﺮ ﮐﻮ . ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﻬﺮ ﺑﻬﯽ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﮔﻬﺮ ﺳﮯ ﺑﻬﺎﮒ ﮐﺮ ﯾﺎﺭﻭ ﮔﻠﯽ ﮐﻮﭼﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﯿﺎﺑﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻬﻨﮉﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ ﻣﺎﺭﺍ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﺗﻬﺎ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﮎ ﺷﻮﻕ ﺭﻫﺘﺎ ﺗﻬﺎ !!!...ﺑﻼﺋﯿﮟ ﮐﭽﻬﻪ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﻬﻮﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﯿﺐ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ......ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮍﯾﻞ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮩﺮﻭﭖ ﺍﭼﻬﮯ ﻣﯿﮟ !!!....ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺭﻗﺺ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﻬﻮﮞ ﻣﯿﮟ . ﺍﺳﮑﮯ ﺍﻟﭩﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﺬﮐﺮﮦ ..ﭼﻬﯿﮍﻭﮞ ,ﺗﻮ ﺟﻬﭧ ﺳﮯ ﺭﻭﭖ ﺑﺪﻟﮯ ﻭﮦ ..ﺍﻭﺭ ﺍﺻﻠﯽ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ...ﺗﻮ ﮈﺭ ﮐﮯ ﺑﻬﺎﮒ ﺟﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﻬﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﯾﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ .....ﮐﺌﯽ ﻗﺼﮯ ﺳﻨﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ !!!.........ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺑﭽﭙﻦ ﯾﻮﮞ .... ﺗﺠﺴﺲ ﺑﮯ ﺛﻤﺮ !!!....ﮔﺬﺭﺍ ....ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﯿﺐ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﻬﺎ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻬﯽ ﺑﻼ ﺩﯾﮑﻬﯽ !!!.............ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺑﻬﯽ ﻧﮧ ﻣﻞ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺁﺝ ﻣﺪﺕ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺑﻬﯽ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﯽ ﻫﮯ ﻫﻮﺍ ﺩﻫﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﻫﮯ ,ﺍﻧﺪﻫﯿﺮﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ....ﺫﺭﺍ ﺳﺎ ﭼﻬﺎ ﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﻫﮯ ......ﻣﺠﻬﮯ ﮈﺭ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﻫﮯ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﻫﺠﺮﻭ ﻏﻢ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﯿﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ........ﺭﻭﺣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮕﻦ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻬﯿﺎﻧﮏ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ..ﺑﮯ ﮨﻨﮕﻢ ﺷﻮﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ,ﺍﻭﺭ ﭘﻬﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻑ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ .....ﮈﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﮩﻤﺎ ﺭﻫﺘﺎ ﻫﻮﮞ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﺏ ﺷﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺁﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺁﺯﺍﺭ ﻟﮕﺘﺎ ﻫﮯ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﺏ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ .........ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﮐﺎﺭ ﻟﮕﺘﺎ ﻫﮯ ...ﻣﺠﻬﮯ ﺍﻣﯽ ﮐﺎ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﻫﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﺎ ﻫﮯ .....ﺑﻼﺋﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ...ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ .....ﺑﮩﺖ ﺁﺳﯿﺐ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯿﮟ ....ﺗﻮ ﮔﻬﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮐﺮ!!!....ﺗﻮ ﮔﻬﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮐﺮ
  11. تنہائیوں میں ایسا بھی ھو جاتا ھے اکثر دل دھڑکنوں کی گونج میں کھو جاتا ھے اکثر - آتا ھے جو بھی چارہ جُو بہرِ غمِ یاراں دے دے کے دلاسے مجھے رو جاتا ھے اکثر - اک عمر سے بیدار تھا جو آس میں تیری اب خواب میں بھی جا کے وہ سو جاتا ھے اکثر - بھٹکے ھوئے رستوں کو دکھاتا ھے جو منزل وہ آ کے ترے شہر میں کھو جاتا ھے اکثر - رندوں کو پلاتے ھوئے مے ، ساقئ محفل خود ھوش سے بیگانہ بھی ہو جاتا ھے اکثر - خوابوں کے سرھانے پہ ھی تھک ھار کے مزدور بھوکا کسی فٹ پاتھ پہ سو جاتا ھے اکثر - ملتا ھے مجھے جب بھی سرِ راہِ تمنّا صحرائے جاں میں تشنگی بو جاتا ھے اکثر - اعجاز ھے یہ شانِ کریمئ الہٰی اک اشک بھی تقصیر کو دھو جاتا ھے اکثر - عشق ایسی گزرگاہِ عجب گام ھےجس پر آتا ھی نہیں لوٹ کے ، جو جاتا ھے ، اکثر - جاتا نہیں پھولوں کی سیاحت کو فقط امـؔر کانٹوں پہ بہار آئے بھی تو جاتا ھے اکثر - ‫#‏امـؔـر‬ رُوحانی
  12. ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨـﮯ __ ﺗﻢ ﺁﻓﺲ ﺳﮯ ﺗﮭﮑـــ ﮐﮯ ﺁﺅ ﺁﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﭩﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺑﺎﻝ ﺳِﮩﻼﺅﮞ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻓﺲ ﮐﯽ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﺭُﻭﺩﺍﺩ ﺳﻨﺎﺅ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﻭ ﺍِﮐــــ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﮐﺎ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻣُﺤﺒّﺖ ﺍﻭﺭ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﺭُﻭﭨﮫ ﮐﮯ ﻣُﻮﮈ ﺑﻨﺎﺅﮞ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴُﻮ ﺑﮭﺮ ﻻﺅﮞ ﭘﮭﺮ ﺗُﻢ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﯼ ﺑﻮﻟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﺱ ﮔﮭﻮﻟﻮ " ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨـﮯ " ﺳﺮﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺑُﮑــــ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺗﻢ ﻻﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻮ۔۔۔۔ ﮨﺮ ﺳُﻮ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮑﮭﻮ، ﻣُﺠﮭﮑﻮ ﺳﻮﭼﻮ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﺗُﻤﮭﺎﺭﮮ ﭘﯿﭽﮭـﮯ ﺁﮐﺮ ﺍﭘﻨـﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﯾﺦ ﮨﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺭﮐﮫ ﺩُﻭﮞ ﺗﻢ ﺟﮭﻨﺠﮭﻼﺅ ﻣﻮﮈ ﺑﻨﺎﺅ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳـﮯ ﮨﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﭩﺎﺅ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻣُﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺧُﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ " ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨـﮯ " ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﻮ ﺭِﻡ ﺟﮭﻢ ﺑﺎﺭﺵ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﭩﺎ ﮨﻮ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺳﻨﮕــــ ﺳﻨﮕــــ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺗﺎﺭﮐﻮﻝ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﮍﮐــــ ﭘﺮ۔۔۔۔ ﭼﻠﺘﯽ ﺟﺎﺅﮞ ﭼﻠﺘﯽ ﺟﺎﺅﮞ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺧُﻮﺏ ﺳﻨﺎﺅﮞ " ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨـﮯ " ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣُﺠﮭـﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩُﮐﮫ ﺗﮍﭘﺎﺋـﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﮭﺮ ﺁﺋـﮯ ﺩُﻧﯿﺎ ﻧﺖ ﻧﺌـﮯ ﺯﺧﻢ ﻟﮕﺎﺋـﮯ ﺗﺐ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨـﮯ ﺁﺅ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳـﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺍُﭨﮭﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﺋﯽ ﮨﻮ۔۔۔؟؟ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﭘﻮﻧﭽﮫ ﮐـﮯ ﮨﻨﺲ ﺩُﻭﮞ۔۔۔۔ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﻨﺪﮬـﮯ ﭘﺮ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﺩُﻭﮞ ﭘﻠﮑﯿﮟ ﻣﻮﻧﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﻮ ﺟﺎﺅﮞ ﮨﺮ ﺩُﮐﮫ ﺳـﮯ ﺑـﮯ ﺧﺒﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺅﮞ " ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨـﮯ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﻧﺎﮞ !!__
  13. سُننے والوں کے لیے تیری ہنسی نعمت ہے توُ جو روئے تو تُجھے دیکھنے والا روئے آبشاروں کی طرح ، ابرِ مُسلسل کی طرح آپ کی یادمیں آخر کوئی کِتنا روئے جتنے بیزار ہیں مُسکان میّسر سب کو جو بھی اس بزم میں ہو محوِ تماشا روئے اُس کی تقدیر میں اتنا تو تبسُم لکھ دے یاد کر کے اُسے ہم دشت میں جتنا روئے سانحہ یہ تھا کہ تو نے ہمیں مصلوب کیا ملک افلاک پہ گوہر تہہِ دریا روئے اس سے بڑھ جائے گی کُچھ تاب و روانی دلبر چشمِ بے تاب سے کہہ دے لبِ دریا روئے
  14. poetry Doob ja Ae Doobte Suraj

    گھول جا دن بھر کا حاصل اس دلِ بے تاب میں ڈوب جا، اے ڈوبتے سورج مرے اعصاب میں ,, آنکھ میں ہر لحظہ تصویریں رواں رہنے لگیں جم گیا ہے خواب سا اک دیدۂ بے خواب میں ,, دل ہمارا شاخساروں سے، گلوں سے کم نہیں اے صبا کی موجِ لرزاں، کچھ ہمارے باب میں ,, ہاں اسی تدبیر سے شاید بنے تصویرِ دل رنگ ہم نے آج کچھ گھولے تو ہیں سیماب میں ,, دھیان بھی تیرا تری موجودگی سے کم نہ تھا کنجِ خلوت میں بھی ہم جکڑے رہے آداب میں ,, دسترس ہے موج کی ساحل سے ساحل تک فقط تہ کو جا پہنچے اگر اترے کوئی گرداب میں ,, پیشِ دل کچھ اور ہے پیشِ نظر کچھ اور ہے ہم کھلی آنکھوں سے کیا کیا دیکھتے ہیں خواب میں خورشيد رضوی
  15. دل وچ پیار دی ہلچل پا دے سجناں سُتے لیکھ جگا دے میَں پانا واں پانی مٹھا توں عشقے دی فصل اگا دے رانجھا مجنوں بھُلن سب نوں ایسا مینوں جوگ سکھا دے چار چوفیرے گھُپ ہنیرا ساہواں دے وچ ساہواں پا دے عشق سکولے داخل کر لے پور پور نوں عشق پڑھا دے یار صفی دا آکھا من کے پیار دا وکھرا شہر وسا دے
  16. poetry Mohhabat mat samjh lena

    محبت ﻣﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩُﮐﮫ ﺳُﮑﮫ ﮐﯽ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺩﮦ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻧﮓ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﺮﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﮞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻋﯿﺎﮞ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﮨﻢ ﺩﮬﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﯾﮧ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩُﮐﮫ ﺳُﮑﮫ ﮐﯽ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﮐﮧ ﮐﺲ ﮐﻮ ﭼﮭُﻮ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺧُﺪﺍ ﻭﮦ ﮨﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻨﺘﺮ ﮨﮯ __ﻓﻨﺎ ﺟﻮ ﮨﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ
  17. Titliyun ko choo ker

    تتلیوں کو چھو کر بہت سے عام لوگوں میں بہت ہی عام سے ہیں ہم کہ بالکل شام سے ہیں ہم کہ جیسے شام ہوتی ہے بہت چپ چاپ اور خاموش بہت ہی پر سکوں لیکن کسی پہ مہرباں جیسے مگر بے چین ہوتی ہے کوئی ہو رازداں جیسے خفا صبح کی کرنوں سے کہ جیسے شام ہوتی ہے یوں بالکل شام سے ہیں ہم بہت ہی عام سے ہیں ہم مگر ان عام لوگوں میں دل حساس رکھتے ہیں بہت کچھ خاص رکھتے ہیں اگرچہ عام سے ہیں ہم
  18. ایک دل تھا گنوائے بیٹھے ہیں اس لیے سر جھکائے بیٹھے ہیں دل میں دل دار آئے بیٹھے ہیں ہاتھ پر اُن کے تتلی بیٹھ گئی گل سبھی خار کھائے بیٹھے ہیں دستِ نازک پہ تتلی نے سوچا گل ، حنا کیوں لگائے بیٹھے ہیں رنگ اُڑا لے گئے وہ تتلی کا گل کی خوشبو چرائے بیٹھے ہیں شائبہ تک نہیں شرارت کا کیسی صورت بنائے بیٹھے ہیں اس سے بڑھ کر بھی کوئی ہے نازک؟ روشنی سے نہائے بیٹھے ہیں اس لیے پاؤں میں دباتا ہوں وہ مرا دل دبائے بیٹھے ہیں اس لیے مطمئن ہیں کوہِ گراں ہم امانت اٹھائے بیٹھے ہیں دوسرا موقع قیس کیسے ملے؟ ایک دل تھا گنوائے بیٹھے ہیں
  19. nazm usey maine hi likha th

    اسے میں نے ہی لکھا تھا کہ لہجے برف ہوجاٰئیں تو پھر پگھلا نہیں کرتے پرندے ڈر کر اڑ جائیں تو پھر لوٹا نہیں کرتے یقیں اک بار اٹھ جائے کبھی واپس نہیں آتا ہواؤں کا کوئی طوفاں بارش نہیں لاتا اسے میں نے ہی لکھا تھا جو شیشہ ٹوٹ جائے تو کبھی پھر جڑ نہیں پاتا جو راستے سے بھٹک جائیں وہ واپس مڑ نہیں پاتا اسے کہنا وہ بے معنی ادھورے خط اسے میں نے ہی لکھا تھا !!اسے کہنا کے دیوانے مکمل خط نہیں لکھتے۔ ۔ ۔
  20. وہ سامنے بھی آئے ــ تو دیکھا نہ کر اُسے گر بچھڑ بھی جائے ــ تو سوچا نہ کر اُسے اِک بار جو گیا ، سو گیا ـ ـ بُھول جا اُسے وہ گمشُدہ خیال ہے ــ پیدا نہ کر اُسے اب اُس کی بات خالی ہے ـ ـ معنی سے اَے مُنیرؔ کہنے دے جو وہ کہتا ہے ــ روکا نہ کر اُسے
  21. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  22. agar hum kaheN aur wo muskura deiN Hum unke liye zindgaaNi luTa deiN har ik mod par Hum gamoN ko sazaa deiN chalO zindaGi ko mohabbat bana deiN aGar khud ko bhoole to kuch bhi na bhoole ke chaahat meiN unkee khuda ko bhula deiN kabHi gam kee aandhee jinHeN choo na paaye wafa ke Hum wo nashe-Man bana deiN qayaamat ke deewaane kehte haiN humse chalO unke chehRe se parda haTa deiN saza de silaa de, bana de miTaa de maGar wo koi fiaslaa to sunaa de!
×