Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'ghazal'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 163 results

  1. Urooj Butt

    جانے دیں گے؟

    جون ایلیا زمانے بھر کو اداس کر کے خوشی کا ستیا ناس کر کے میرے رقیبوں کو خاص کر کے بہت ہی دوری سے پاس کر کے تمہیں یہ لگتا تھا جانے دیں گے ؟ سبھی کو جا کے ہماری باتیں بتاؤ گے اور بتانے دیں گے ؟ تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں مناؤ گے اور منانے دیں گے ؟ میری نظم کو نیلام کر کے کماؤ گے اور کمانے دیں گے ؟ تو جاناں سن لو اذیتوں کا ترانہ سن لو کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم بھلے ہی دل سے نکال دو تم کمال دو یا زوال دو تم یا میری گندی مثال دو تم میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔! میں پھر بھی جاناں ۔۔۔ پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گا اب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گا بتاؤں تم کو ؟ میں کیا کروں گا ؟ میں اب زخم کو زبان دوں گا میں اب اذیت کو شان دوں گا میں اب سنبھالوں گا ہجر والے میں اب سبھی کو مکان دوں گا میں اب بلاؤں گا سارے قاصد میں اب جلاؤں گا سارے حاسد میں اب تفرقے کو چیر کر پھر میں اب مٹاؤں گا سارے فاسد میں اب نکالوں گا سارا غصہ میں اب اجاڑوں گا تیرا حصہ میں اب اٹھاؤں گا سارے پردے میں اب بتاؤں گا تیرا قصہ مزید سُن لو۔۔۔ او نفرتوں کے یزید سن لو میں اب نظم کا سہارا لوں گا میں ہر ظلم کا کفارہ لوں گا اگر تو جلتا ہے شاعری سے تو یہ مزہ میں دوبارہ لوں گا میں اتنی سختی سے کھو گیا ہوں کہ اب سبھی کا میں ہو گیا ہوں کوئی بھی مجھ سا نہی ملا جب خود اپنے قدموں میں سو گیا ہوں میں اب اذیت کا پیر ہوں جی میں عاشقوں کا فقیر ہوں جی کبھی میں حیدر کبھی علی ہوں جو بھی ہوں اب اخیر ہوں جی
  2. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  3. Urooj Butt

    رنجش ہی سہی

    رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
  4. ھُوں مَیں احوال فراموش مِرے ساتھ رھو آج سچ مُچ ھُوں مَیں بےہوش مِرے ساتھ رھو میری مستی کو ہے آغوشِ محبّت کی ھوَس اور نایاب ہے آغوش مِرے ساتھ رھو اے مِرے ہم نفسانِ روِش نیم شبی ھوچُکی بادہ سر جوش مِرے ساتھ رھو بس سُنے جاؤ تُمھاری ھی کہے جاؤں گا میرے یارو ہمہ تن گوش مِرے ساتھ رھو خواب کی شب کا ھُوں مَیں ھی تو بس خوش گُفتار خواب کے شہر میں خاموش مِرے ساتھ رھو کیا خبر راہ میں مُجھ سے کوئی سر ٹکرا دے ھوں گے کُچھ اور بھی مدھوش مِرے ساتھ رھو پی کے آیا تھا مَیں پھر ساتھ تمھارا بھی دیا میکشو تُم کہ ھو کم نوش مِرے ساتھ رھو وعدہء شام کا مطلب ہے سَحر کا وعدہ وہ ہے اِک وعدہ فراموش مِرے ساتھ رھو تُم مِرے ساتھ رھو مست خیالو تم کو فِکر فردا نہ غم دوش مِرے ساتھ رھو۔۔۔! جونؔ ایلیا
  5. دل کی تکلیف کم نہیں کرتے اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے جان جاں تجھ کو اب تیری خاطر یاد ہم کوئی دم نہیں کرتے دوسری ہار کی ہوس ہے سو ہم کو سر تسلیم خم نہیں کرتے وہ بھی پڑھتا نہیں ہے اب دل سے ہم بھی نالے کو نم نہیں کرتے جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے جون ایلیاء
  6. اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا مقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کا اب کوچ کرو یارو صحرا سے کہ سنتے ہیں صحرا میں اب آئندہ محمل نہیں آنے کا واعظ کو خرابے میں اک دعوت حق دی تھی میں جان رہا تھا وہ جاہل نہیں آنے کا بنیاد جہاں پہلے جو تھی وہی اب بھی ہے یوں حشر تو یاران یک دل نہیں آنے کا بت ہے کہ خدا ہے وہ مانا ہے نہ مانوں گا اس شوخ سے جب تک میں خود مل نہیں آنے کا گر دل کی یہ محفل ہے خرچہ بھی ہو پھر دل کا باہر سے تو سامان محفل نہیں آنے کا وہ ناف پیالے سے سرمست کرے ورنہ ہو کے میں کبھی اس کا قائل نہیں آنے کا
  7. روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں مل کے ان کی نگاہ جادو سے دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں مجھ کو دکھلا کے راہ کوچہء یار کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے دل میں گویا سما گئیں آنکھیں محفل یار میں بہ ذوق نگاہ لطف کیا کیا اٹھا گئیں آنکھیں حال سنتے وہ میرا کیا حسرت وہ تو کہئے سنا گئیں آنکھیں
  8. کب اس کا وصال چاہیے تھا بس اک خیال چاہیے تھا کب دل کو جواب سے غرض تھی ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا شوق اک نفس تھا اور وفا کو پاسِ مہ و سال چاہیے تھا اک چہرہِ سادہ تھا جو ہم کو بے مثل و مثال چاہیے تھا اک کرب میں ذات و زندگی میں ممکن کو مُحال چاہیے تھا میں کیا ہوں بس اک ملالِ ماضی اس شخص کو حال چاہیے تھا ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو کچھ دن تو ملال چاہیے تھا وہ جسم ، جمال تھا سراپا اور مجھ کو جمال چاہیے تھا وہ شوخِ رمیدہ مجھ کو اپنی بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا تھا وہ جو کمال' شوقِ وصلت خواہش کو زوال چاہیے تھا جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے وہ سال بہ سال چاہیے تھا جون_ایلیاء
  9. لہو کی آنکھ سے پڑھ میرے ضبط کی تحریر لبوں پہ لفظ نہ گن _____ کپکپاہٹیں پہچان www.fundayforum.com ‏تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے ― جون ایلیا
  10. waqas dar

    poetry kahan hute hu

    ہجر میں خون رلاتے ہو کہاں ہوتے ہو لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو کہاں ہوتے ہو مجھ سے بچھڑے ہو تو محبوب نظر ہو کس کے آج کل کس کو مناتے ہو کہاں ہوتے ہو شب کی تنہائی میں اکثر یہ خیال آتا ہے اپنے دکھ کس کو سناتے ہو کہاں ہوتے ہو تم تو خوشیوں کی رفاقت کے لیے بچھڑے تھے اب اگر اشک بہاتے ہو تو کہاں ہوتے ہو شہر کے لوگ بھی اب یہ سوال کرتے ہیں اب کم کم نظر آتے ہو کہاں ہوتے ہو
  11. تم کہ سنتے رہے اوروں کی زبانی لوگو ہم سُناتے ہیں تمہیں اپنی کہانی لوگو کون تھا دشمنِ جاں وہ کوئی اپنا تھا کہ غیر ہاں وہی دُشمنِ جاں دلبرِ جانی لوگو زُلف زنجیر تھی ظالم کی تو شمشیر بدن رُوپ سا رُوپ جوانی سی جوانی لوگو سامنے اُسکے دِکھے نرگسِ شہلا بیمار رُو برو اُسکے بھرے سَرو بھی پانی لوگو اُسکے ملبوس سے شرمندہ قبائے لالہ اُس کی خوشبو سے جلے رات کی رانی لوگو ہم جو پاگل تھے تو بے وجہ نہیں تھے پاگل ایک دُنیا تھی مگر اُس کی دِوانی لوگو ایک تو عشق کیا عشق بھی پھر میر سا عشق اس پہ غالب کی سی آشفتہ بیانی لوگو ہم ہی سادہ تھے کِیا اُس پہ بھروسہ کیا کیا ہم ہی ناداں تھے کہ لوگوں کی نہ مانی لوگو ہم تو اُس کے لئے گھر بار بھی تج بیٹھے تھے اُس ستمگر نے مگر قدر نہ جانی لوگو کس طرح بھُول گیا قول و قسم وہ اپنے کتنی بے صرفہ گئی یاد دہانی لوگو اب غزل کوئی اُترتی ہے تو نوحے کی طرح شاعری ہو گئی اب مرثیہ خوانی لوگو شمع رویوں کی محبت میں یہی ہوتا ھے رہ گیا داغ فقط دل کی نشانی لوگو ( احمد فراز ) AHMAD FRAZ
  12. Urooj Butt

    بھلے دنوں کی بات ہے

    بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن عام ہو نہ دیکھنے میں عام سینہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سا سفر لگے کوئی بھی رت ہو اسکی چھب، فضا کا رنگ و روپ تھی وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی، وہ سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہےنہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہونہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے ۔ ۔ ۔ نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو کبھی تو بات بھی خفی، کبھی سکوت بھی سخنکبھی تو کشت زاعفراں، کبھی اداسیوں کا بنسنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جان فزا تو کیا ،فراق جانگسسل کی بھی سوایک روز کیا ہوا ، وفا پہ بحث چھڑ گئی میں عشق کو امر کہوں ،وہ میری بات سے چڑ گئی میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے کہ عمر بھر کے ساتھ کو بدتر از ہوس کہےشجر ہجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پابہ گل رہےنہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں میں کوئی پینٹنگ نہیں کی ایک فریم میں رہوں وہی جو من کا میت ہو اسی کہ پریم میں رہوںنہ یس کو مجھ پر مان تھا، نہ مجھ کو اس پہ زعم ہیجب عہد ہی کوئی نہ ہو، تو کیا غم شکستی سو اپنا اپنا راستہ خوشی خوشی بدل لیا وہ اپنی راہ چل پڑی ، میں اپنی راہ چل دیا بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اس کی دوستی اب اس کی یاد رات دن نہیں مگر کبھی کبھی
  13. Ik hunar hai jo kar gaya hon mein Sab ke dil se utar gaya hon mein Kaise apni hansi ko zabt karon Sun raha hon ki ghir gaya hon mein Kya bataon ki mar nahin paata Jeeteji jab se mar gaya hon mein Ab hai bas apna samna darpaish Har kisi se guzar gaya hon mein Wahi naaz-o-ada wahi ghamze Sar-ba-sar aap par gaya hon mein Ajab ilzam hon zamane ka Ki yahan sab ke sar gaya hon mein Kabhi ḳhud tak pohanch nahin paaya Jab ki waan umar bhar gaya hon mein Tum se janan mila hon jis din se Be-tarah ḳhud se dar gaya hon mein Koo-e-janan main sog barpa hai Ki achanak sudhar gaya hon mein
  14. تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا لکھ نماز ، کروڑاں سجدے پھُوڑی اُتّے مَتھے بَھجدے ذکر جَلی وِچ تسبی رولی پر عیباں دی گنڈھ نہ کھولی منبر تے لمیاں تقریراں پاپی مَن دِیاں سو تفسیراں ڈھینچوں سِکھیا عقل دا کھوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا گھت مُصلّی، خیریں سَلّا چِلّے کیتے پڑھ پڑھ اللہ گلّاں دا کھڈکار نگلّا من ریہا جَھلّے دا جَھلّا عقل نے کِیتا کم اولّا اپنے سِر وِچ ماریا کھّلا پاپاں دے وِچ ہو گیا سوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا ویکھن والے ویکھ نہ سَکّے نظراں دِتّے سو سو دَھکّے کَن وچارے سُن سُن تَھکّے بولن والے ہوٹھ نہ اَکّے اَج تَن تیرتھ، کل تن مَکّے کِسے وی تھائیں مِلے نہ سکّے ٹیں ٹیں کردا فقہ دا طوطا !!... تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا
  15. عجب یہ حجر کا قصہ ہے عجب یہ شبِ جدائی ہے نہ میری آنکھ جھپکی ہے نہ دل نے لی اَنگڑائی ہے نہ اُنکو بھولا دل میرا نہ اُنکی یاد سے غافل کہ جسکو فرض کی مانند ہر اک پل یاد رکھنا ہو کہ جسکو قرض کی مانند ہر اک پل ساتھ رکھنا ہو بھلا کیسے بھلاتا دل کہ انکو یاد نہ کرنا وَبالِ جان بن جائے یہ سانسیں گھونٹ لی جائیں یہ آنکھیں موندھ لی جائیں جو ہوں ہم یاد سے غافل تو دھڑکن روک دی جائیں چلو یہ سب سمبھل جائیں مگر جو روح تڑپ جائے بتاو کیا کریں اُسکا کہ روح سےروح کا رشتہ ہے ازلوں سے یونہی لِپٹا وہ ہم کو بھول بھی جائیں تو ہم پےفرض ہوتا ہے اُنہیں دل کے باغیچے سے ان آنکھوں کےدریچے سے کسی مالا کی کلیوں سے کسی کوئل کی کو کو سے ہم اپنے آپ میں بھر لیں کہ ہر اک لفظ اپنے میں اُنہی کا رنگ و بو بھر لیں کہ جو بھی لفظ پرکھے گا ہمارے ہاتھ سے لکھے ہمیں بھی یاد رکھے گا کہ ذکرِ حسن جب ہو گا ہمارے لفظ کھوجے گا مگر پھر سحر میں جکڑا حوالے یوں بھی کچھ دے گا عجب وہ حجر کا قصہ تھا عجب وہ شبِ جدائی تھی نہ اسکی آنکھ جھپکی تھی نہ دل نے لی اَنگڑائی تھی مگر وہ ٹھان بیٹھا تھا اُسے لفظوں میں جَڑ دے گا محبت اَمر کر دے گا سو جَڑ ڈالا ہے ظالم نے نِصابوں میں حوالوں میں محبت کے سب بابوں میں! ©S.S Writes
  16. دِلِ گمشدہ ... کبھی مِل ذرا مجھے وقت دے، مری بات سُن مری حالتوں کو تو دیکھ لے مجھے اپنا حال بتا کبھی کبھی پاس آ, کبھی مِل سہی! مرا حال پوچھ! بتا مجھے مرے کس گناہ کی سزا ہے یہ؟ تُو جنون ساز بھی خود بنا مری وجہِ عشق یقیں ترا مِلا یار بھی تو، ترے سبب وہ گیا تو ، تُو بھی چلا گیا؟ دِلِ گمشدہ؟ ، یہ وفا ہے کیا؟ اِسے کِس ادا میں لکھوں بتا؟ اِسے قسمتوں کا ثمر لکھوں؟ یا لکھوں میں اِس کو دغا، سزا؟ دِلِ گمشدہ......... دِلِ گمشدہ
  17. مَن عِشق کی اگنی جلتی ہے تم بَنہیّاں تھامو جان پِیا میں رُوپ سہاگن دھارَن کو راہ دیکھوں نینَن تان پِیا بس ایک جھلک پہ جَگ سارا تَج تیرے پیچھے چل نِکلی تو عِشق میرا، تو دِین میرا تو عِلم میرا اِیمان پِیا میں ننگے پَیروں نَقش تیرے قدموں کے چُنتی آئی ہوں اب جان سے ہاری راہوں میں یہ رستہ تو انجان پِیا سِر مانگے تو میں حاضِر ہوں زَر مانگو تو میں بے زَر ہوں تم عِشق کی دولت دان کرو میں ہو جاؤں دَھنوان پِیا میں بھُول بھٹک کے ہار گئی ہر بار تمہارا نام لِیا اِس عِشق کی کملی جوگن کے ہر قِصّے کا عُنوان پِیا میں پیاس سجائے آنکھوں میں سب دَیر حرم میں ڈھونڈ پھری اب دیِپ جلائے مَن مندِر چُپ چاپ کھڑی حیران پِیا یہ عشق ادب سے عاری ہیں ان نینن سے کیا بات کروں تم بھید دلوں کے جانن ہو تم پر رکھتے ہیں مان پِیا میں عشق سمندر ڈُوب مروں میں دار پہ تیرے جھول رہوں میں پریم سفر پہ نکلی ہوں کیا جانوں خِرد گیان پِیا میں خاک کی جلتی بھٹی میں سب خاک جلا کر آئی ہوں اس خاک کی فانی دنیا کا ہر سودا تو نقصان پِیا جب من سے غیر ہٹا آئی سب کاغذ لفظ جلا آئی پھر کس کو اپنا حال کہوں تُو حال میرا پہچان پِیا پھر سُورج بجھتا جاتا ہے پھر رات کا کاجل پھیلے گا تُم کاجل نینن والوں کے مَن میں ٹھہرو مہمان پِیا میں ایک جھلک کو ترسی ہوں کچھ دید نما انوار کرو میں ایک جھلک کے صدقے میں ساری تیرے قربان پِیا
  18. من مورکھ مٹی کا مادھو، ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے اس کو تم کیا دھوکا دو گے بات کی بات بہل جاتا ہے جی کی جی میں رہ جاتی ہے آیا وقت ہی ٹل جاتا ہے یہ تو بتاؤ کس نے کہا تھا، کانٹا دل سے نکل جاتا ہے جھوٹ موٹ بھی ہونٹ کھلے تو دل نے جانا، امرت پایا ایک اک میٹھے بول پہ مورکھ دو دو ہاتھ اچھل جاتا ہے جیسے بالک پا کے کھلونا، توڑ دے اس کو اور پھر روئے ویسے آشا کے مٹنے پر میرا دل بھی مچل جاتا ہے جیون ریت کی چھان پھٹک میں سوچ سوچ دن رین گنوائے بیرن وقت کی ہیرا پھیری پل آتا ہے پل جاتا ہے میرا جی روشن کر لوجی، بن بستی جوگی کا پھیرا دیکھ کر ہر انجانی صورت پہلا رنگ بدل جاتا ہے
  19. Urooj Butt

    poetry چُوڑیاں

    اُس کو ِجتنے بھی رنگ بَھاتے ہیں ویسی سب چُوڑیاں ہیں میرے پاد
  20. چلو ھم مان لیتے ھیں۔ محبت اور سیاست میں سبھی اطوار جائز ھیں انا کی جنگ میں جاناں غلط بھی ٹھیک ھوتا ھے مگر یہ جنگ کیسی ھے تم ھی میرے مقابل ھو چلو ھم جیت کی خواھش تم ھی پہ وار دیتے ھیں دھنک کے پل پہ چل کے گگن کے پار جاتے ھیں چلو ھم ھار جاتے ھیں
  21. محبت مت سمجھ لینا کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا محبت کا لبادہ پانیوں کے رنگ جیسا ہے محبت ساتھ پردوں میں نہاں ہو کر عیاں ہے، یہ حقیقت ہے اور اس کی خوشبوؤں کو ہم دھنک میں ڈھونڈ سکتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کو جس نے پایا ہے وہ اپنا آپ کھو بیٹھا یہ مل کر بھی نہیں ملتی کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا کہ کس کو چُھو لیا جائے خُدا وہ ہو نہیں سکتا محبت ایسا منتر ہے فنا جو ہو نہیں سکتا
  22. Eylaaf Niazi

    poetry Sawan ki buniyaad

    Sawan Ki Buniyad Mein Ye Kis K Ansuu Hain? Sadion Phly Shaid Koi.. Sadion Bhet K Roya Hai
  23. اک پہیلی زندگی چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن ’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘ وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن سودائے آذری میں ہوئے صنم گری وہ بت پرستیوں میں عبادت کے رات دِن اِک سادہ دِل ، دیارِ کرشمہ گراں میں گم اِک قریۂ طلسم میں حیرت کے رات دِن لب ہائے نارسیدہ کی لرزش سے جاں بلب صہبائے ناچشیدہ کی لذت کے رات دِن روئے نگار و چشمِ غزالیں کے تذکرے گیسوئے یار و حرف و حکایت کے رات دِن ناکردہ کاریوں پہ بھی بدنامیوں کا شور اختر شماریوں پہ بھی تہمت کے رات دِن سوداگرانِ منبر و مکتب سے رو کشی جاں دادگانِ دانش و حکمت کے رات دِن اہلِ قبا و اہلِ ریا سے گریز پا وہ واعظانِ شہر سے وحشت کے رات دِن میر و انیس و غالب و اقبال سے الگ راشد ، ندیم ، فیض سے رغبت کے رات دِن فردوسی و نظیری و حافظ کے ساتھ ساتھ بیدل ، غنی ، کلیم سے بیعت کے رات دِن شیلے کا سحر ، کیٹس کا دُکھ ،بائرن کی دھج ان کافرانِ عشق سے نسبت کے رات دِن تشکیک و ملحدانہ رویے کے باوجود رومی سے والہانہ عقیدت کے رات دِن جیسے مئے سخن سے صراحی بھری ہوئی زورِ بیان و ُحسنِ طبیعت کے رات دِن یاروں سے شاعرانہ حوالے سے چشمکیں غیروں سے عاشقانہ رقابت کے رات دِن شعری سفر میں بعض بزرگوں سے اختلاف پیرانِ میکدہ سے بغاوت کے رات دِن رکھ کر کتابِ عقل کو نسیاں کے طاق پر وہ عاشقی میں دِل کی حکومت کے رات دِن ہر روز ، روزِ ابر تھا ہر رات چاند رات آزاد زندگی تھی ، فراغت کے رات دِن وہ صبح و شام دربدری ، ہم سنوں کے ساتھ آوارگی و سیر و سیاحت کے رات دِن اِک محشرِ خیال کے ہجراں میں کانٹا تنہائی کے عذاب ، قیامت کے رات دِن اک لعبتِ جمال کو ہر وقت سوچنا اور سوچتے ہی رہنے کی عادت کے رات دِن اِک رازدارِ خاص کو ہر وقت ڈھونڈنا بے اعتباریوں میں ضرورت کے رات دِن وہ ہر کسی سے اپنا ہی احوال پوچھنا اپنے سے بھی تجاہل و غفلت کے رات دِن بے وجہ اپنے آپ کو ہر وقت کوسنا بے سود ہر کسی سے شکایت کے رات دِن رُسوائیوں کی بات تھی رُسوائیاں ہوئیں رُسوائیوں کی عمر میں شہرت کے رات دِن اِک دُشمنِ وفا کو بھلانے کے واسطے چارہ گروں کے پند و نصیحت کے رات دِن پہلے بھی جاں گُسل تھے مگر اس قدر نہ تھے اِک شہرِ بے اَماں میں سکونت کے رات دِن اس دولتِ ہنر پہ بھی آزارِ مفلسی اس روشنیٔ طبع پہ ظلمت کے رات دِن پھر یہ ہوا کہ شیوئہ دِل ترک کر دیا اور تج دیئے تھے ہم نے محبت کے رات دِن ہر آرزو نے جامۂ حسرت پہن لیا پھر ہم تھے اور گوشۂ عزلت کے رات دِن ناداں ہیں وہ کہ جن کو ہے گم نامیوں کا رنج ہم کو تو راس آئے نہ شہرت کے رات دِن فکرِ معاش ، شہر بدر کر گئی ہمیں پھر ہم تھے اور قلم کی مشقت کے رات دِن ’’خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا‘‘ اور مدعی تھے صنعت و حرفت کے رات دِن کیا کیا ہمیں نہ عشق سے شرمندگی ہوئی کیا کیا نہ ہم پہ گزرے ندامت کے رات دِن آکاس بیل پی گئی اِک سرو کا لہو آسیب کھا گیا کسی قامت کے رات دِن کاٹی ہے ایک عمر اسی روزگار میں برسوں پہ تھے محیط ، اذیت کے رات دِن ساماں کہاں کہ یار کو مہماں بلایئے اِمکاں کہاں کہ دیکھئے عشرت کے رات دِن پھرتے تھے میر خوار کوئی پوچھتا نہ تھا قسمت میں جب تلک تھے قناعت کے رات دِن سو یہ بھی ایک عہدِ زیاں تھا ، گزر گیا کٹ ہی گئے ہیں جبرِ مشیت کے رات دِن نوواردانِ شہرِ تمنا کو کیا خبر ہم ساکنانِ کوئے ملامت کے رات دِن احمد فراز
  24. پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہے جذبہ عشق سرِ دار مجھے کھینچتا ہے میں محبت کے مضافات کا باشندہ ہوں کیوں ترا شہرِ پُر اسرار مجھے کھینچتا ہے یہ بھی حیرت ہے عجب، خود مری تمثال کے ساتھ آئینہ بھی پسِ دیوار مجھے کھینچتا ہے دم بھی لینے نہیں دیتا ہے مسافت کاجنون پَا برہنہ وہ سرِ خار مجھے کھینچتا ہے پھر کوئی تیر ہدف کرتا ہے مشکیرہ کو پھر کوئی دستِ کماں دار مجھے کھینچتا ہے بولیاں جس کی لگے میں کوئی یوسف تو نہیں کس لئے مصر کا بازار مجھے کھینچتا ہے ہے کوئی گریہ کن حرف پسِ خیمہ جاں پھر کوئی نالہ آزار مجھے کھینچتا ہے تجھ کو معلوم ہے شاہدؔ بھی ہے مغرور بہت کیوں ترا حُسن انادار مجھے کھینچتا ہے
×