Jump to content

Please Disable Your Adblocker. We have only advertisement way to pay our hosting and other expenses.  

Search the Community

Showing results for tags 'hain'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Premium Files
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Categories

  • Releaste Notes

Categories

  • Islam
  • General Knowledge
  • Sports

Marker Groups

  • Members
  • Historical Places

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 16 results

  1. ہے سکوں اتنا کہ آزار کی ضد کرتے ہیں ہم وہ مجرم ہیں کہ خود دار کی ضد کرتے ہیں تھک گیا ہوں در و دیوار سے کہتے کہتے اب تو یہ غم کسی غمخوار کی ضد کرتے ہیں ہم اصولوں کے نہیں ہم ہیں اناؤں والے سر کٹا دیتے ہیں دستار کی ضد کرتے ہیں ہے تباہی کہ ہمیں راس نہیں آزادی ہم وہ در ہیں کہ جو دیوار کی ضد کرتے ہیں کوئی سمجھے تو مری دھرتی کی مشکل کو ذرا بے وفا سب ہیں وفادار کی ضد کرتے ہیں بہ خوشی تخت نشیں اب وہ کئے جاتے یہاں زندہ بستی میں جو مردار کی ضد کرتے ہیں خود کو بیچ آئے جو اغیار کے ہاتھوں سارے ہم سے وہ بھی یہاں کردار کی ضد کرتے ہیں ہاتھ آ جائے کوئی عیب ہمارا ان کے سر قلم کرنے کو تلوار کی ضد کرتے ہیں ہے گھٹن اتنی کہ لفظوں کا بھی دم گھٹتا ہے لوگ سادہ ہیں کہ اشعار کی ضد کرتے ہیں مانا غفلت میں ہے ڈوبی یہ مری قوم مگر اب بھی زندہ ہیں جو انکار کی ضد کرتے ہیں اپنے ہاتھوں ہی بدلنا ہے زمانہ ابرک کون کہتا ہے کہ بے کار کی ضد کرتے ہیں اتباف ابرک
  2. سال بہ سال ، یہ سال بدل جاتے ہیں ایّامِ زیست کمال ، زوال بدل جاتے ہیں اِک لمحہ خاص بھی ہوجاتے ہیں خاک لوگ بھی کیا کیا ، کمال بدل جاتے ہیں مُحبتیں ، عشق ، نفرتیں ، دائمی جُدائیاں دھیرے دھیرے سب خیال بدل جاتے ہیں تشنہ لبیِ مانندِ دشت صحرا جاتی نہی جواب مل جائیں تو سوال بدل جاتے ہیں سمجھ جاؤں ، جب فریب یار و اغیار کے سب یہ میرے پھر نئی چَال بدل جاتے ہیں مطلب ہوجائیں پورے ، جب بے وفاؤں کے حسبِ ضرورت ، یہ حال بدل جاتے ہیں پہلو میں روز ، نئے لوگ بدلتے ہوئے یہ لوگ سمتیں جنوب سے شمال بدل جاتے ہیں خواہشِ وصلِ حُسن کو جب مل جائے تعبیر پھر نظریں ، زاویہ جمال بدل جاتے ہیں جفا ، دھوکہ ، فریب ، جھوٹ ، خود غرضی مطلب ، ضرورتیں ، رویّے ، اشکال بدل جاتے ہیں
  3. کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے کتنی گرہیں اب باقی ہیں پاؤں میں پائل باہوں میں کنگن گلے میں ہنسلی کمر بند، چھلّے اور بِچھوے ناک کان چِھدوائے گئے ہیں اور زیور زیور کہتے کہتے رِیت رواج کی رسیوں سے میں جکڑی گئی اُف کتنی طرح میں پکڑی گئی اب چِھلنے لگے ہیں ہاتھ پاؤں اور کتنی خراشیں اُبھری ہیں کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے کتنی رسّیاں اتری ہیں اَنگ اَنگ، میرا روپ رنگ میرے نقش نین، میرے بول بین میری آواز میں کوئل کی تعریف ہوئی میری زلف سانپ، میری زلف رات زلفوں میں گھٹا، میرے لَب گلاب آنکھیں شراب غزلیں اور نظمیں کہتے کہتے میں حُسن اور عشق کے افسانوں میں جکڑی گئی اُف کتنی طرح میں پکڑی گئی میں پوچھوں ذرا آنکھوں میں شراب دِکھی سب کو آکاش نہیں دیکھا کوئی ساون بھادو تو دِکھے مگر کیا درد نہیں دیکھا کوئی فن کی جِھلّی سی چادر میں بُت چِھیلے گئے عریانی کے تاگا تاگا کر کے، پوشاک اُتاری گئی میرے جسم پہ فن کی مشق ہوئی اور آرٹ کا نام کہتے کہتے سنگِ مرمر میں جکڑی گئی اُف کتنی طرح میں پکڑی گئی بتلائے کوئی، بتلائے کوئی کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے کتنی گرہیں اب باقی ہیں
  4. میری خواہشوں کی چادر چور چور ہو چکی ہےجو صرف میرا تھا، وہ اب میرا نہیں رہا!میں ندی کنارے پتھر پر سر رکھ کر پتھر مزاج لوگوں کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔۔۔شام کی اداسی میری روح پیاسی کو ناجانے کب قرار آئے ،ندی کنارے ،ٹھنڈی ہوا بار بار مجھے اس کی یادوں سے فرار کا راستہ دیکھا رہی ہے ،نہ جانے اسے مجھ میں کیا اچھا لگتا ہے وہ کہتی ہے جو مجھے تم میں دیکھائی دیتا ہے کسی اور میں نہیں اور اسی بات پر میں ناچاہتے ہوئے بھی ہنس دیتا ہوں ،کیوں کہ وہ کہتی ہے تمہاری اس ہنسی میں میرے لیئے بہت سی خوشیاں رکھی ہیں ندی کی سر د ہوا نے میرے جسم میں کپکپی تاری کر دی ہے،شاید مجھے اٹھ کر چلے جانا چاہیئے،وہ پری چہرا لوگوں کی داستانوں سنوں،کسی پرستان میں میرا گھر ہو ،کوہکاف کا شہزدہ لگنا چاہتا ہوں،پتھر پر سویا سویا میرا سر تھکن سے شل ہو گیا ہے،نظریں آسمان کی طرف ،بادل چل رہے ہیں۔۔۔۔۔۔نہیں نہیں چاند سفر میں ہے ،پھر نظریں ہٹا کر پھر آسمان کو دیکھتا ہوں میری مجبوریاں میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہیں اور مجھے واپس لوٹ جانے کے واسطے دے رہی ہیں خدا جانے کیا ہونیوالا ہے ،قربتیں دوریاں بڑھاتی ہیں یہ اس کا کہنا ہے قریب ہو کر دور جانا تو میری آوازوں کی یادیں اور میری قربتیں مجھے لوٹا کے جانا ،فیصلہ تو تم کر چکے ہو ،اب کبھی نہ لوٹنا میری انگلیوں پر تسبی پھرتی ہے ،میری انگلیاں اپنی آنکھوں او ر اپنے ہونٹوں پر پھیر لو ان میں بہت سی برکتیں ہیں۔میری چاہتوں کو کبھی کسی ترازو میں مت تولنا ،اور ہی کوہکاف میں جا کر کسی پری کو میری داستانیں سنانا،جو ہوا اسے بھول جانا اور کبھیواپس مت آنا میرا ساتھ یہی تک تھا شاید،کہا تھا نا قربتیں دوریاں بڑھاتی ہیں
  5. ستارے کیا کہتے ہیں؟؟ یہ سراسرایمان شکن باتیں ہیں ان پر یقین کرنا انسان کو شرک کی گمراہی تک لے جاسکتا ہے لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ نہ صرف ان باتوں کا انکارکریں بلکہ ان اخبارات اور رسائل کی حوصلہ شکنی بھی کریں اور اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ :اس پر کثرت سے احادیث موجود ہیں یہاں پر ستاروں سے متعلق صحیح مسلم کی چند احادیث پیش خدمت ہیں امام مسلم رحمہ الله نے "کتاب الایمان" میں ایک باب باندھا ہے جس کا نام "باب بَيَانِ كُفْرِ مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِالنَّوْءِ(اس شخص کے کفر کا بیان جو کہے کہ بارش ستاروں کی گردش ہوتی ہے)" رکھا ہے۔ اس باب سے چند احادیث یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ حدیث: 231 دَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَاءِ، كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: قَالَ: " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي، مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے، رسول الله ﷺ نے نماز پڑھائی صبح کی ہمیں حدیبیہ میں (جو ایک مقام کا نام ہے قریب مکہ کے) اور رات کو بارش ہو چکی تھی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا: ”تم جانتے ہو تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا؟“ انہوں نے کہا: الله اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے کہا: ”الله تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بعض کی صبح ایمان پر ہوئی اور بعض کی کفر پر، تو جس نے کہا: پانی برسا الله کے فضل اور رحمت سے وہ ایمان لایا مجھ پراورانکاری ہوا ستاروں سے اور جس نے کہا: پانی برسا ستاروں کی گردش سے وہ کافر ہوا میرے ساتھ اور ایمان لایا تاروں پر۔ حدیث: 232 حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، ومحمد بن سلمة المرادي ، قَالَ الْمُرَادِيُّ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، وَقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالَ: " مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ، إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ الْكَوَاكِبُ وَبِالْكَوَاكِبِ سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے، رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں دیکھتے جو فرمایا تمہارے رب نے، فرمایا اس نے، میں نے کوئی نعمت نہیں دی اپنے بندوں کو مگر ایک فرقے نے ان میں سے صبح کو اس کا انکار کیا اور کہنے لگے: تارے تارے۔ حدیث: 234 وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ، وَمِنْهُمْ كَافِرٌ "، قَالُوا: هَذِهِ رَحْمَةُ اللَّهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فَلا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ حَتَّى بَلَغَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ سورة الواقعة آية 75 - 82 سیدنا ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے، پانی برسا رسول الله ﷺ کے زمانے میں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ” صبح کی لوگوں نے بعض نے شکر پر اور بعض نے کفر پر تو جنہوں نے شکر پر صبح کی۔ انہوں نے کہا: یہ الله کی رحمت ہے۔ اور جنہوں نے کفر کیا انہوں نے کہا کہ فلاں نوء فلاں نوء سچ ہوئے۔“ پھر یہ آیت اتری «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» اخیر «وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ» تک ان احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ ستاروں پر علم رکھنا جاہلیت کا کام ہے لیکن افسوس کہ آج کل ہمارا میڈیا ان باتوں سے بھرا پڑا ہے اور ان بدبختوں نے ان کوعقرب، ثور،سرطان، اسد، حمل اور سنبلہ وغیرہ نام دئیے ہیں تاکہ ہرآدمی اپنی قسمت وہاں تلاش کرے۔ یہ باتیں سرار قرآن وسنت کے خلاف ہیں کیونکہ غیب کا علم صرف الله کے پاس ہے اور کسی کو یہ نہیں پتہ کہ وہ کل کیا کرے گا۔ :الله عزوجل قرآن میں فرماتے ہیں {إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ بےشک الله تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا (یاد رکھو) الله تعالیٰ پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔( سورۃ لقمان:31 - آيت:34 اور یہی وجہ ہے کہ جو نجومیوں اور غیب کا دعوی کرنے والوں کی باتوں پر یقین کرتے ہیں تووہ دراصل قرآن وسنت کا انکار کرتےہیں کیوں کہ قرآن کہتا ہے کہ غیب کا علم صرف الله کے پاس ہے اور جیسے اوپرذکر کی گئی آیت سے ہمیں معلوم ہوا کہ انسان تو یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا تو وہ یہ لوگ یہ دعوی کیسے کرتے ہیں کہ آپ کا ہفتہ کیسے گزرے گا۔ :نبی کریم ﷺ نے فرمایا مَنْ أَتَى كَاهِنًا، أَوْ عَرَّافًا، فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ جو کسی کاہن یا نجومی کے پاس گیا اور جو وہ کہتا ہے اس کی تصدیق کی تو اس نے محمدﷺ پر جو نازل ہوا ہے اس کا کفر کیا. (أخرجه أحمد والأربعة، وصححه الألباني في صحيح الترغيب والترهيب برقم (3047)) اسی طرح دوسری حدیث میں فرمایا: مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً جوشخص عراف(چھپی باتیں بتانے والا) کے پاس جائے اس سے کوئی بات پوچھے تو اس کی چالیس(400) دن کی نماز قبول نہ ہو گی (أخرجه إمام مسلم في صحيح مسلم ، كتاب السلام برقم (5821)) الله سبحانه وتعالى ہمیں شرک اور بدعت کی گمراہیوں سے بچائے اور جادوگروں، عاملوں اور علم نجوم کے نام پر لوگوں کے ایمان و دولت کے ساتھ کھیلنے والوں کے شر سے بچائے۔ اس پیغام کو پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے لہذا جتنا ممکن ہو پہنچائیں ! کیا پتہ کسی کو اس کے ذریعہ ہدایت مل جائے ***
  6. Tootate Jaate Hain Sab Aaina Khane Mere ٹوٹتے_جاتے_ہیں_سب_آئینہ_خانے_میرے وقت_کی_زد_میں_ہیں_یادوں_کے_خزانے_میرے زندہ_رہنے_کی_ہو_نیّت_تو_شکایت_کیسی میرے_لب_پر_جو_گِلے_ہیں_وہ_بہانے_میرے رخشِ_حالات_کی_باگیں_تو_مرے_ہاتھ_میں_تھیں صرف_میں_نے_کبھی_احکام_نہ_مانے_میرے میرے_ہر_درد_کو_اس_نے_اَبَدیّت_دے_دی یعنی_کیا_کچھ_نہ_دیا_مجھ_کو_خدا_نے_میرے میری_آنکھوں_میں_چراغاں_سا_ہے_مستقبل_کا اور_ماضی_کا_ہیولٰی_ہے_سَرھانے_میرے تُو_نے_احسان_کیا_تھا_تو_جتایا_کیوں_تھا اس_قدر_بوجھ_کے_لائق_نہیں_شانے_میرے راستہ_دیکھتے_رہنے_کی_بھی_لذّت_ہے_عجیب زندگی_کے_سبھی_لمحات_سہانے_میرے جو_بھی_چہرہ_نظر_آیا_ترا_چہرہ_نکلا تو_بصارت_ہے_مری__یار_پرانے_میرے سوچتا_ہوں_مری_مٹّی_کہاں_اڑتی_ہوگی اِک_صدی_بعد_جب_آئیں_گے_زمانے_میرے صرف_اِک_حسرتِ_اظہار_کے_پر_تو_ہیں_ندیم میری_غزلیں_ہوں_کہ_نظمیں_کہ_فسانے_میرے احمد ندیم قاسمی
  7. Shadi ky jo afsaane hain rangeen bohat hain شادی کے جو افسانے ہیں رنگین بہت ہیں لیکن جو حقائق ہیں وہ سنگین بہت ہیں ابلیس بچارے ہی کو بے کار نہ کوسو انسان کے اندر بھی شیاطین بہت ہیں بخشیش کی صورت انہیں دیتے رہو رشوت سرکار کے دفتر میں مساکین بہت ہیں اس دور کے مردوں کی جو کی شکل شماری ثابت ہوا دنیا میں خواتین بہت ہیں جب حضرت ناصح نے کیا مرغ تناول فرمایا کہ دالوں میں پروٹین بہت ہیں محسوس ہوا سن کے تقاریر مغلظ اب اہل سیاست میں بھی چرکین بہت ہیں تنخواہ کا ہو جائے گا پل بھر میں کباڑا بیگم تری فرمائشیں دو تین بہت ہیں خدشہ ہے کہ اس شوخ کا بڑھ جائے نہ بی پی شاہدؔ ترے اشعار جو نمکین بہت ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرفراز شاہد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  8. Samandar Me Utarta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Teri Ankhon Ko Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Tumhara Nam Parhne Ki Ijazat Chin Gai Jab Se Koi Bhi Lafz Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Me Huns Kar Jhail Leta Hun Judai Ki Sabhi Rasmen Galy Jab Us K Lagta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Na-Jany Ho Gaya Hun Is Qadar Hassas Me Kab Se Kisi Se Bat Karta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Wo Sab Guzry Hue Lamhaat Mujh Ko Yad Ate Hain Tumhare Khat Jo Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Me Sara Din Bohat Masroof Rehta Hun Magr Junhi Qadam Chokhat Pe Rakhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Har Aik Muflis K Mathy Par Alam Ki Dastany Hain Koi Chehra Bhi Parhta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Bary Logon K Oonchy, Bad-Numa Or Sard Mehlon Ko Gareeb Ankhon Se Takta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Tere Koochy Se Ab Mera Ta'aluq Wajabi Sa Hai Magr Jab Bhi Guzrta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain Hazar Mosamon Ki Hukmarani Hai Mere Dil Pe WASI Me Jab Bhi Hansta Hun To Ankhain Bheeg Jati Hain...
  9. Mohabbat Ki Koi Manzil Nahi Hai, Mohbbat Mouj Hai Saahil Nahi Hai Meri Afsurdagi Peh Hanse Wale, Tere Pehlo Mein Shayad Dil Nahi Hai Ajj Hum nay youn he khushi karli, Dil jala kar he roshni karli Atay jatay raha karo sahib, Anay janay main kyun kami karli Doub Kar teri neli anhkhon main, Ghark hum na tu zindagi karli Ek fakat teri dosti ka liya, Sari duniya say dushmani karli Sar jis paa na jhuk jaya, Osay Daar nahi kahatay Her Daar pa jo jhook jaya, Osay Sar nhai Kahtay Kya Tujh ko jaha walay sitamgar nahi kahatay Kahatay honga lakin teray mou pa nahi kahatay Kabay main her ek Sajaday ko kahaty hain Ibadat Mainkhanay main her jaam ko Sagar nahi kahatay Kabay main Muslma ko bhi kah detain hain Kafir Mainkhanay main Kafir ko bhi Kafir nahi kahaty Jo nazar aar par ho jaye, Wohi dil ka qaraar ho jay Apni zulfon ka daal do saya, Teergi khushgawar ho jay Teri Nazron ko dekh paye agar, Shaikh bhi maigusaar ho jay Tujh ko daikhe jo ik nazar Foran, Chand bhi sharam saar ho jay Aaina apne samnay se hata, Yeh na ho khud se pyar ho jay Mout Kiss tarhay aya Bali per, Tuo agar ek baar ho jay Aap Baithe Hain Balin Peh Meri, Mout ka zoor chalta nahi hai Mout mujh ko gawara hai lakin, Kya karo dum nikalta nahi hai Yaa adda yaa Nazakat Brasil, Mera dil tum pa Kurban lakin Kya Sambhalo ga tum meray dil ko, Jab ya Anchal sambhalta nahi hai Mero Naalo soun kar Zamanay, Hoo gai Moum kitni chataanay Main na Pighla diya Pathraon ko, Ek tera dil pighalta nahi hai Sheikh jee ke nasiyat bhi achi, Baat waiz ke khoob lakin Jab bhi chaatee hai Kaali Ghataya, Bin piya kam chalta nahi hai Dekha lay meri maiyat ka manzar, Loug khanda badlatay chalaya hain Ek teri bhi Doli chali hai, Koi Khanda badlata nahi hai Mainkdha ka sabhi peenay walay, Larkhara kar Sambhlatay hain lakin Teri nazroon ka jo jaam pee la, Umer bhar wo Sambhlata nahi hai Aap Baithe Hain Balin Peh Meri, Mout ka zoor chalta nahi hai
  10. Mohabbat Ki Koi Manzil Nahi Hai, Mohbbat Mouj Hai Saahil Nahi Hai Meri Afsurdagi Peh Hanse Wale, Tere Pehlo Mein Shayad Dil Nahi Hai Ajj Hum nay youn he khushi karli, Dil jala kar he roshni karli Atay jatay raha karo sahib, Anay janay main kyun kami karli Doub Kar teri neli anhkhon main, Ghark hum na tu zindagi karli Ek fakat teri dosti ka liya, Sari duniya say dushmani karli Sar jis paa na jhuk jaya, Osay Daar nahi kahatay Her Daar pa jo jhook jaya, Osay Sar nhai Kahtay Kya Tujh ko jaha walay sitamgar nahi kahatay Kahatay honga lakin teray mou pa nahi kahatay Kabay main her ek Sajaday ko kahaty hain Ibadat Mainkhanay main her jaam ko Sagar nahi kahatay Kabay main Muslma ko bhi kah detain hain Kafir Mainkhanay main Kafir ko bhi Kafir nahi kahaty Jo nazar aar par ho jaye, Wohi dil ka qaraar ho jay Apni zulfon ka daal do saya, Teergi khushgawar ho jay Teri Nazron ko dekh paye agar, Shaikh bhi maigusaar ho jay Tujh ko daikhe jo ik nazar Foran, Chand bhi sharam saar ho jay Aaina apne samnay se hata, Yeh na ho khud se pyar ho jay Mout Kiss tarhay aya Bali per, Tuo agar ek baar ho jay Aap Baithe Hain Balin Peh Meri, Mout ka zoor chalta nahi hai Mout mujh ko gawara hai lakin, Kya karo dum nikalta nahi hai Yaa adda yaa Nazakat Brasil, Mera dil tum pa Kurban lakin Kya Sambhalo ga tum meray dil ko, Jab ya Anchal sambhalta nahi hai Mero Naalo soun kar Zamanay, Hoo gai Moum kitni chataanay Main na Pighla diya Pathraon ko, Ek tera dil pighalta nahi hai Sheikh jee ke nasiyat bhi achi, Baat waiz ke khoob lakin Jab bhi chaatee hai Kaali Ghataya, Bin piya kam chalta nahi hai Dekha lay meri maiyat ka manzar, Loug khanda badlatay chalaya hain Ek teri bhi Doli chali hai, Koi Khanda badlata nahi hai Mainkdha ka sabhi peenay walay, Larkhara kar Sambhlatay hain lakin Teri nazroon ka jo jaam pee la, Umer bhar wo Sambhlata nahi hai Aap Baithe Hain Balin Peh Meri, Mout ka zoor chalta nahi hai
  11. Suna hai log usay aankh bhar kay daikhtay hain, So us kay sheher main kuch din theher kay daikhtay hain, Suna hai rabt hai usko kharab haaloun say, so apnay aap ko barbaad kar kay daikhtay hain, Suna hai dard ki gahak hai chashm-e-naaz uski, so ham bhi us ki gali say guzar kay daikhtay hain, suna hai us ko bhi hai sher o shayari say shaghaf, so ham bhi mojzay apnay hunar kar dekhtay hain, suna hai bolay to batoun say phool jhartay hain, yeh bat hai t chalo bat kar kay daikhtay hain, Suna hai rat usay chand takta rehta hai, sitaray baam e falat se utar kay daikhtay hain, suna hai din ko usay titliyan stati hain, suna hai rat ko jugno theher kay daikhtay hain, suna hai hashr hain us ki ghazaal si ankhain, suna hai us ko hiran dhasht bhar kay daikhtay hain, suna hai us ki syah chashmagi qayamat hai, so usko surmah faroosh aah bhar kay dekhtay hain, Suna hai us kay laboun say ghulab jaltay hain, so ham bahar pay ilzam dhar kay daikhtay hain, suna hai aaina tamsaal hai jabeen us ki, jo saada dil hain usay ban sanwar kay daikhtay hain, suna hai us k badan ki tareash aisi hai, k phool apni kabayen katar kay daikhtay hain, bas ik nigaah main lut’ta hai qaafila dil ka, so rah rawan e tamanna bhi dar k daikhtay hain, suna hai us kay shabistaan say mutasssil hai bakhisht, makeen udhar kay bhi jalway idhar kay dekhtay hain, kisay naseeb kay be pairhan usay daikhay, kabhi kabhi dar-o-deewar ghar kay dekhty hain, rukay to ghardishain uska taqaaf karti hain, chalay to usko zamanay theher k daikhtay hain, kahaniyan hi sahi, sab mubalghay hi sahi, agar yeh khwab hai tabeer hai tabeer kar kay daikhtay hain ab us kay sheher main thehrain kay kooch kar jayen, Faraz aao sitaray safar kay daikhtay hain,
  12. ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﻟﻮﮒ ﺍُﺳﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﭨﮭﮩﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺑﻮﻟﮯ ﺗﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺟﮭﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭼﻠﻮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺑﻂ ﮬﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺧﺮﺍﺏ ﺣﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﺳﺘﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺟﮕﻨﻮ ﭨﮭﮩﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺗﺮﺍﺵ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﮐﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺷﻌﺮ ﻭ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺳﮯ ﺷﻐﻒ ﺳﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺠﺰﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﮬُﻨﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﮔﺎﮨﮓ ﮨﮯ ﭼﺸﻢِ ﻧﺎﺯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺣﺸﺮ ﮨﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻏﺰﺍﻝ ﺳﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﮨﺮﻥ ﺩﺷﺖ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﮦ ﭼﺸﻤﮕﯿﮟ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮨﮯ ﺳﻮ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺳُﺮﻣﮧ ﻓﺮﻭﺵ ﺁﮦ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺍﺕ ﺍُﺳﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﺗﮑﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺑﺎﻡِ ﻓﻠﮏ ﺳﮯ ﺍُﺗﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﮨﯿﮟ ﮐﺎﮐﻠﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺳﺎﺋﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻟﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮ ﮨﻢ ﺑﮩﺎﺭ ﭘﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺷﺒﺴﺘﺎﮞ ﺳﮯ ﻣُﺘﺼﻞ ﮨﮯ ﺑﮩﺸﺖ ﻣﮑﯿﮟ ﺍُﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﻠﻮﮮ ﺍِﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺗﻤﺜﺎﻝ ﮨﮯ ﺟﺒﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺳﺎﺩﮦ ﺩﻝ ﮨﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺑﻦ ﺳﻨﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﭼﺸﻢِ ﺗﺼﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﺷﺖِ ﺍِﻣﮑﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﻨﮓ ﺯﺍﻭﯾﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺭُﮐﮯ ﺗﻮ ﮔﺮﺩﺷﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻃﻮﺍﻑ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﭨﮭﮩﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺲ ﺍِﮎ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﻟُﭩﺘﺎ ﮨﮯ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﻮ ﺭﺍﮨﺮﻭﺍﻥِ ﺗﻤﻨّﺎ ﺑﮭﯽ ﮈﺭ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﯾﮟ ﯾﺎ ﮐُﻮﭺ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻓﺮﺍﺯ ﺁﺅ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ (ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ)
  13. ABHI JURM-MUHABBAT MAI FAQT BHEEGI HAIN YA ANKHAIN ابھی جرمِ محبت میں فقط بھیگی ہیں یہ آنکھیں ابھی تو ہجر کے دشت و بیاباں پار کرنے ہیں ابھی ان ریگزاروں میں لہو بہنا ھے وعدوں کا ابھی راہوں کے سب کا نٹے مجھے پلکوں سے چننے ہیں ابھی پر خار راہوں میں مجھے تنہا نہیں چھوڑو ابھی تو ٹھیک سے مجھکو سنبھلنا بھی نہیں آتا رسیور میں مقید ہیں تمہارے رس بھرے لہجے ابھی پاؤں سے لپٹے ہیں وصال و قرب کے لمحے ہمارے درمیان رشتے ابھی نازک سے دھاگے ہیں انہیں جھٹکے سے مت کھولو یہ سارے ٹوٹ جائیں گے ابھی تم ہاتھ مت چھوڑو سنو کچھ دن ٹھہر جاؤ تیرے لہجے سے لگتا ھے بچھڑنا اب مقدر ھے پلٹنا گر ضروری ھے چلو کچھ خواب دے جاؤ جلا کے انہی خوابوں کو اندھیرے دور کر لوں گی تمہاری روح میں پھنسی میری سانسیں امانت ہیں انہیں پورا تو ہونے دو ابھی تم دور مت جاؤ سنو کچھ دن ٹھہر جاؤ ابھی رستہ نہیں بدلو ابھی تو ٹھیک سے مجھکو سنبھلنا بھی نہیں آتا ابھی تو ٹھیک سے مجھکو بچھڑنا بھی نہیں آتا
    Tears of love Love HurtsJurm e Mohabbat
  14. ایک دل تھا گنوائے بیٹھے ہیں اس لیے سر جھکائے بیٹھے ہیں دل میں دل دار آئے بیٹھے ہیں ہاتھ پر اُن کے تتلی بیٹھ گئی گل سبھی خار کھائے بیٹھے ہیں دستِ نازک پہ تتلی نے سوچا گل ، حنا کیوں لگائے بیٹھے ہیں رنگ اُڑا لے گئے وہ تتلی کا گل کی خوشبو چرائے بیٹھے ہیں شائبہ تک نہیں شرارت کا کیسی صورت بنائے بیٹھے ہیں اس سے بڑھ کر بھی کوئی ہے نازک؟ روشنی سے نہائے بیٹھے ہیں اس لیے پاؤں میں دباتا ہوں وہ مرا دل دبائے بیٹھے ہیں اس لیے مطمئن ہیں کوہِ گراں ہم امانت اٹھائے بیٹھے ہیں دوسرا موقع قیس کیسے ملے؟ ایک دل تھا گنوائے بیٹھے ہیں
  15. Hamare zakhm-e-tamanna puraane hogaye haiN K us gali mein gaye ab zamaane hogaye hiaN Tum apne chaahne waloN ki baat mat suniyo! Tumhaare chaahne waale diwaane hogaye haiN Wo zulf, dhup mein furqat ki ayi hai jab yad To baadal aye haiN aur shamiyaane hogaye haiN Jo apne taur se hum ne kabhi guzaare the Wo subh-o-shaam to jaise fasaane hogaye haiN Ajab mahak thi mere gul tere shabishtaaN ki So bulbuloN ke wahaaN aashiyaane hogaye haiN Hamaare baad jo aayeiN unhein mubarak ho JahaaN the kunj wahaaN kaarkhane hogaye haiN....
  16. Zarnish Ali

    poetry Labo pe Phool khilte hain

    ﻟﺒﻮﮞ ﭘﮧ ﭘُﮭﻮﻝ ﮐِﮭﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩِﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﯾﭗ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﺮﺍﻍِ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻗِﺼّﮧ ﭼﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮩﯽ ﺗﺎﺭﮮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﯽ ﭼﻠﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﮩﯽ ﺳُﻮﺭﺝ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗُﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺎﻡ ﺳﮯ، ﭘﮩﻠﮯ ﺩِﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮕﻤﮕﺎﺗﯽ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺗﺎﺭﺍﺝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻋﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺷﺎﻡ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺍﺏ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﮐِﺲ ﻃﺮﺡ ﺭﻭﮐﯿﮟ، ﻧﻮﺍﺡِ ﺩﺍﻡ ﺳﮯ ، ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺭﻧﮓ ﻣُﺮﺩﮦ ﺗﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺷﮑﻞ ﺑﻨﻨﮯ ﺗﮏ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺣﺮﻑ ﻣﮩﻤﻞ ﺗﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨُﻮﺍ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﮔﺮ ﻣُﻨﺼﻒ ﺗﻮ ﺍﻣﺠﺪ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁً ﮨﻢ ﺳﺰﺍ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻣﺠﺪ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻣﺠﺪ
×