Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'hy-'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 1 result

  1. اَدائیں حشر جگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خیال حرف نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بہشتی غنچوں میں گوندھا گیا صراحی بدن گلاب خوشبو چرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بدن بنانے کو کرنوں کا سانچہ خلق ہُوا خمیر ، خُم سے اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے قدم ، اِرم میں دَھرے ، خوش قدم تو حور و غلام چراغ گھی کے جلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے یہ جھاڑو دیتی ہیں پلکوں سے یا حسیں حوریں قدم کی خاک چرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جھلک دِکھانے کی رَکھیں جو شرط جوئے شیر ہزاروں کوہ کن آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جنہوں نے سایہ بھی دیکھا وُہ حور کا گھونگھٹ مُحال ہے کہ اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے چمن کو جائے تو دَس لاکھ نرگسی غنچے زَمیں پہ پلکیں بچھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے یہ شوخ تتلیاں ، پیکر پری کا دیکھیں تو اُکھاڑ پھینکیں قبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے غزال قسمیں ستاروں کی دے کے عرض کریں حُضور! چل کے دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حسین اِتنا کہ منکر خدا کا لگتا ہے بت اُس کو کلمہ پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ پنکھڑی پہ اَگر چلتے چلتے تھک جائے تو پریاں پیر دَبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے گُل عندلیب کو ٹھکرا دے ، بھنورے پھولوں کو پتنگے شمع بجھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے اُداس غنچوں نے جاں کی اَمان پا کے کہا یہ لب سے تتلی اُڑائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خطیب پہلے پڑھیں حُسنِ حور پر آیت پھر اُس کا عکس دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جو آنکھ کھلتی ہے غنچوں کی شوخ ہاتھوں پر تو اَمی کہہ کے بُلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ بھیگی پنکھڑی پہ خشک ہونٹ رَکھے ذِرا تو پھول پیاس بجھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حسین تتلیاں پھولوں کو طعنے دینے لگیں کہا تھا ایسی قبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے ذِرا سا بوسے پہ راضی ہُوا تو سارے گلاب نفی میں سر کو ہلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے غزال نقشِ قدم چوم چوم کر پوچھیں کہاں سے سیکھی اَدائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حریر ، اَطلس و کمخواب ، پنکھڑی ، ریشم دَبا کے ہاتھ لگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بشارت اُس کی نُجومی سے سنتے ہی فرعون حنوط خود کو کرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے شریر مچھلیاں کافِر کی نقل میں دِن بھر مچل مچل کے نہائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جو کام سوچ رہے ہیں جناب دِل میں اَبھی وُہ کام بھول ہی جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے زَمیں پہ خِرمنِ جاں رَکھ کے ہوشمند کہیں بس آپ بجلی گرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ چاند عید کا اُترے جو دِل کے آنگن میں ہم عید روز منائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے عقیق ، لولو و مرجان ، ہیرے ، لعلِ یمن اُسی میں سب نظر آئیں ، وُہ اتنا دلکش ہے جفا پہ اُس کی فدا کر دُوں سوچے سمجھے بغیر ہزاروں ، لاکھوں وَفائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے ہمیں تو اُس کی جھلک مست مور کر دے گی شراب اُس کو پلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے صراحی جسم کی جھومے تو جام رَقص کریں دَرخت وَجد میں آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بدل کے ننھے فرشتے کا بھیس جن بولا مجھے بھی گود اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے نُجومی دیر تلک بے بسی سے دیکھیں ہاتھ پھر اُس کو ہاتھ دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے ہزار جنّوں کو بند کر دے ایک بوتل میں تو اُف بھی لب پہ نہ لائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے سنا ہے ملکۂ جنّات رو کے کہنے لگی مرے میاں کو چھڑائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جو مڑ کے دیکھے تو ہو جائیں دیوتا پتھر ’’نہیں‘‘ بھی کہنے نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خطیب دیکھے گزرتا تو تھک کے لوگ کہیں حُضور خطبہ سنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے اَگر لفافے پہ لکھیں ، ’’ملے یہ ملکہ کو‘‘ تو خط اُسی کو تھمائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے چرا کے عکس ، حنا رَنگ ہاتھ کا قارُون خزانے ڈُھونڈنے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حسین پریاں چلیں ساتھ کر کے ’’سترہ‘‘ سنگھار اُسے نظر سے بچائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے صنم کدے میں جو پہنچے تو چند پہنچے صنم دُعا کو ہاتھ اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے گلی میں شوخ کی دائم مشاعرے کا سماں شجر بھی شعر سنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے گلی سے اُس کی گزر کر جو شاعری نہ کرے تو اُس کو اُردو پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے کمر کو کس کے دوپٹے سے جب چڑھائے پینگ دِلوں میں زَلزلے آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے کبوتر اُس کے قریب آنے کے لیے بابو پیام جعلی بنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے اُسی کے نام سے اِہلِ سلوک پہنچے ہُوئے نمازِ عشق پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جسے وُہ مست کرے حشر میں بھی نہ اُٹھے بلا سے حوریں اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے غُبارِ راہ ہُوا غازہ اَپسراؤں کا نہا نہا کے لگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خدا کے سامنے گن گن کے جھکنے والے سخی قیام بھول ہی جائیں ، ’’وُہ‘‘ اِتنا دِلکش ہے جہاں پہ ٹھہرے وُہ خوشبو کی جھیل بن جائے گلاب ڈُوبتے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ ہنس کے کہہ دے جو حوروں پہ پردہ ساقط ہے دُکان شیخ بڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے نقاب اُٹھائے تو سورج کا دِن نکلتا ہے چراغ دیکھ نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے گلاب ، موتیا ، چنبیلی ، یاسمین ، کنول اُسے اَدا سے لُبھائیں ، وُہ اتنا دلکش ہے شراب اور ایسی کہ جو ’’دیکھے‘‘ حشر تک مدہوش شرابی آنکھ جھکائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے شباب ہے کہ ہے آتش پرستی کی دعوت بدن سے شمع جلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حجاب اُتارے تو پھر بھی اُسے ثواب ملے کہ رِند جام گرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
×