Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'ishq'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 88 results

  1. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  2. روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں مل کے ان کی نگاہ جادو سے دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں مجھ کو دکھلا کے راہ کوچہء یار کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے دل میں گویا سما گئیں آنکھیں محفل یار میں بہ ذوق نگاہ لطف کیا کیا اٹھا گئیں آنکھیں حال سنتے وہ میرا کیا حسرت وہ تو کہئے سنا گئیں آنکھیں
  3. waqas dar

    poetry kahan hute hu

    ہجر میں خون رلاتے ہو کہاں ہوتے ہو لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو کہاں ہوتے ہو مجھ سے بچھڑے ہو تو محبوب نظر ہو کس کے آج کل کس کو مناتے ہو کہاں ہوتے ہو شب کی تنہائی میں اکثر یہ خیال آتا ہے اپنے دکھ کس کو سناتے ہو کہاں ہوتے ہو تم تو خوشیوں کی رفاقت کے لیے بچھڑے تھے اب اگر اشک بہاتے ہو تو کہاں ہوتے ہو شہر کے لوگ بھی اب یہ سوال کرتے ہیں اب کم کم نظر آتے ہو کہاں ہوتے ہو
  4. ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے ہر ایک لب پہ ہیں میری وفا کے افسانے تیرے ستم کو ابھی لازوال ہونا ہے بجا کہ خار ہیں لیکن بہار کی رت میں یہ طے ہے اب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے تمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ہے ہماری روح پہ جب بھی عذاب اتریں گے تمہاری یاد کو اس دل کی ڈھال ہونا ہے کبھی توروئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میں کبھی تو اسکی ہنسی کو زوال ہونا ہے ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں بس انتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پر محبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے زمانہ جس کے خم و پیچ میں الجھ جائے ہماری ذات کو ایسا سوال ہونا ہے وصی یقین ہے مجھ کو وہ لوٹ آئے گا !... اس کو بھی اپنے کیے کا ملال ہونا ہے ❤ وصی شاہ Wasi Shah
  5. عشق جب تم کو راس آئے گا زخم کھاؤ گے، مسکراؤ گے وہ تمہیں توڑ توڑ ڈالے گا تم بہت ٹوٹ ٹوٹ جاؤ گے یاد آئیں گی گمشدہ نیندیں خواب رکھ رکھ کر بھول جاؤ گے
  6. تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا لکھ نماز ، کروڑاں سجدے پھُوڑی اُتّے مَتھے بَھجدے ذکر جَلی وِچ تسبی رولی پر عیباں دی گنڈھ نہ کھولی منبر تے لمیاں تقریراں پاپی مَن دِیاں سو تفسیراں ڈھینچوں سِکھیا عقل دا کھوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا گھت مُصلّی، خیریں سَلّا چِلّے کیتے پڑھ پڑھ اللہ گلّاں دا کھڈکار نگلّا من ریہا جَھلّے دا جَھلّا عقل نے کِیتا کم اولّا اپنے سِر وِچ ماریا کھّلا پاپاں دے وِچ ہو گیا سوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا ویکھن والے ویکھ نہ سَکّے نظراں دِتّے سو سو دَھکّے کَن وچارے سُن سُن تَھکّے بولن والے ہوٹھ نہ اَکّے اَج تَن تیرتھ، کل تن مَکّے کِسے وی تھائیں مِلے نہ سکّے ٹیں ٹیں کردا فقہ دا طوطا !!... تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا
  7. عجب یہ حجر کا قصہ ہے عجب یہ شبِ جدائی ہے نہ میری آنکھ جھپکی ہے نہ دل نے لی اَنگڑائی ہے نہ اُنکو بھولا دل میرا نہ اُنکی یاد سے غافل کہ جسکو فرض کی مانند ہر اک پل یاد رکھنا ہو کہ جسکو قرض کی مانند ہر اک پل ساتھ رکھنا ہو بھلا کیسے بھلاتا دل کہ انکو یاد نہ کرنا وَبالِ جان بن جائے یہ سانسیں گھونٹ لی جائیں یہ آنکھیں موندھ لی جائیں جو ہوں ہم یاد سے غافل تو دھڑکن روک دی جائیں چلو یہ سب سمبھل جائیں مگر جو روح تڑپ جائے بتاو کیا کریں اُسکا کہ روح سےروح کا رشتہ ہے ازلوں سے یونہی لِپٹا وہ ہم کو بھول بھی جائیں تو ہم پےفرض ہوتا ہے اُنہیں دل کے باغیچے سے ان آنکھوں کےدریچے سے کسی مالا کی کلیوں سے کسی کوئل کی کو کو سے ہم اپنے آپ میں بھر لیں کہ ہر اک لفظ اپنے میں اُنہی کا رنگ و بو بھر لیں کہ جو بھی لفظ پرکھے گا ہمارے ہاتھ سے لکھے ہمیں بھی یاد رکھے گا کہ ذکرِ حسن جب ہو گا ہمارے لفظ کھوجے گا مگر پھر سحر میں جکڑا حوالے یوں بھی کچھ دے گا عجب وہ حجر کا قصہ تھا عجب وہ شبِ جدائی تھی نہ اسکی آنکھ جھپکی تھی نہ دل نے لی اَنگڑائی تھی مگر وہ ٹھان بیٹھا تھا اُسے لفظوں میں جَڑ دے گا محبت اَمر کر دے گا سو جَڑ ڈالا ہے ظالم نے نِصابوں میں حوالوں میں محبت کے سب بابوں میں! ©S.S Writes
  8. دِلِ گمشدہ ... کبھی مِل ذرا مجھے وقت دے، مری بات سُن مری حالتوں کو تو دیکھ لے مجھے اپنا حال بتا کبھی کبھی پاس آ, کبھی مِل سہی! مرا حال پوچھ! بتا مجھے مرے کس گناہ کی سزا ہے یہ؟ تُو جنون ساز بھی خود بنا مری وجہِ عشق یقیں ترا مِلا یار بھی تو، ترے سبب وہ گیا تو ، تُو بھی چلا گیا؟ دِلِ گمشدہ؟ ، یہ وفا ہے کیا؟ اِسے کِس ادا میں لکھوں بتا؟ اِسے قسمتوں کا ثمر لکھوں؟ یا لکھوں میں اِس کو دغا، سزا؟ دِلِ گمشدہ......... دِلِ گمشدہ
  9. مَن عِشق کی اگنی جلتی ہے تم بَنہیّاں تھامو جان پِیا میں رُوپ سہاگن دھارَن کو راہ دیکھوں نینَن تان پِیا بس ایک جھلک پہ جَگ سارا تَج تیرے پیچھے چل نِکلی تو عِشق میرا، تو دِین میرا تو عِلم میرا اِیمان پِیا میں ننگے پَیروں نَقش تیرے قدموں کے چُنتی آئی ہوں اب جان سے ہاری راہوں میں یہ رستہ تو انجان پِیا سِر مانگے تو میں حاضِر ہوں زَر مانگو تو میں بے زَر ہوں تم عِشق کی دولت دان کرو میں ہو جاؤں دَھنوان پِیا میں بھُول بھٹک کے ہار گئی ہر بار تمہارا نام لِیا اِس عِشق کی کملی جوگن کے ہر قِصّے کا عُنوان پِیا میں پیاس سجائے آنکھوں میں سب دَیر حرم میں ڈھونڈ پھری اب دیِپ جلائے مَن مندِر چُپ چاپ کھڑی حیران پِیا یہ عشق ادب سے عاری ہیں ان نینن سے کیا بات کروں تم بھید دلوں کے جانن ہو تم پر رکھتے ہیں مان پِیا میں عشق سمندر ڈُوب مروں میں دار پہ تیرے جھول رہوں میں پریم سفر پہ نکلی ہوں کیا جانوں خِرد گیان پِیا میں خاک کی جلتی بھٹی میں سب خاک جلا کر آئی ہوں اس خاک کی فانی دنیا کا ہر سودا تو نقصان پِیا جب من سے غیر ہٹا آئی سب کاغذ لفظ جلا آئی پھر کس کو اپنا حال کہوں تُو حال میرا پہچان پِیا پھر سُورج بجھتا جاتا ہے پھر رات کا کاجل پھیلے گا تُم کاجل نینن والوں کے مَن میں ٹھہرو مہمان پِیا میں ایک جھلک کو ترسی ہوں کچھ دید نما انوار کرو میں ایک جھلک کے صدقے میں ساری تیرے قربان پِیا
  10. من مورکھ مٹی کا مادھو، ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے اس کو تم کیا دھوکا دو گے بات کی بات بہل جاتا ہے جی کی جی میں رہ جاتی ہے آیا وقت ہی ٹل جاتا ہے یہ تو بتاؤ کس نے کہا تھا، کانٹا دل سے نکل جاتا ہے جھوٹ موٹ بھی ہونٹ کھلے تو دل نے جانا، امرت پایا ایک اک میٹھے بول پہ مورکھ دو دو ہاتھ اچھل جاتا ہے جیسے بالک پا کے کھلونا، توڑ دے اس کو اور پھر روئے ویسے آشا کے مٹنے پر میرا دل بھی مچل جاتا ہے جیون ریت کی چھان پھٹک میں سوچ سوچ دن رین گنوائے بیرن وقت کی ہیرا پھیری پل آتا ہے پل جاتا ہے میرا جی روشن کر لوجی، بن بستی جوگی کا پھیرا دیکھ کر ہر انجانی صورت پہلا رنگ بدل جاتا ہے
  11. Urooj Butt

    poetry چُوڑیاں

    اُس کو ِجتنے بھی رنگ بَھاتے ہیں ویسی سب چُوڑیاں ہیں میرے پاد
  12. چلو ھم مان لیتے ھیں۔ محبت اور سیاست میں سبھی اطوار جائز ھیں انا کی جنگ میں جاناں غلط بھی ٹھیک ھوتا ھے مگر یہ جنگ کیسی ھے تم ھی میرے مقابل ھو چلو ھم جیت کی خواھش تم ھی پہ وار دیتے ھیں دھنک کے پل پہ چل کے گگن کے پار جاتے ھیں چلو ھم ھار جاتے ھیں
  13. محبت مت سمجھ لینا کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا محبت کا لبادہ پانیوں کے رنگ جیسا ہے محبت ساتھ پردوں میں نہاں ہو کر عیاں ہے، یہ حقیقت ہے اور اس کی خوشبوؤں کو ہم دھنک میں ڈھونڈ سکتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کو جس نے پایا ہے وہ اپنا آپ کھو بیٹھا یہ مل کر بھی نہیں ملتی کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا کہ کس کو چُھو لیا جائے خُدا وہ ہو نہیں سکتا محبت ایسا منتر ہے فنا جو ہو نہیں سکتا
  14. Eylaaf Niazi

    poetry Sawan ki buniyaad

    Sawan Ki Buniyad Mein Ye Kis K Ansuu Hain? Sadion Phly Shaid Koi.. Sadion Bhet K Roya Hai
  15. Mai Ishq Ki Shidat Sy Pereshan Bohat Hun میں عشق کی شدت سے پریشان بہت ہوں اے جاں تری چاہت سے پریشان بہت ہوں ہاں شورشِ ہجراں سے یہ دل شاد بہت تھا ہاں وصل کی راحت سے پریشان بہت ہوں چاہوں تو تجھے چھوڑ دوں میں غیر کی خاطر بس نکتہ وحدت سے پریشان بہت ہوں انصاف کی دنیا ہے فقط خواب کی دنیا یا رب میں حقیقت سے پریشان بہت ہوں جگنو، یہ چاند، تارے، بہاریں صدایئں دیں اف، میں تیری شہرت سے پریشان بہت ہوں ! غنچہ یا کوئی پھول کہوں، پنکھڑی کہوں ہونٹوں کی نزاکت سے پریشان بہت ہوں کیوں اے دل کم فہم تو مانے ہے انا کی؟ آمر کی حکومت سے پریشان بہت ہوں ہر ایک عمل پہ کہے 'یوں تو نہیں، یوں۔۔۔' ناصح تیری عادت سے پریشان بہت ہوں لڑکی ہوں، پگھل جاتی ہوں نظروں کی تپش سے میں حسن کی نعمت سے پریشان بہت ہوں وہ جان تکلم نہ بنا لے مجھے مداح اس زور خطابت سے پریشان بہت ہوں دنیا یہ فقط تجھ پہ جیا! کیوں ہے مہربان لہجوں کی ملاحت سے پریشان بہت ہوں
  16. پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہے جذبہ عشق سرِ دار مجھے کھینچتا ہے میں محبت کے مضافات کا باشندہ ہوں کیوں ترا شہرِ پُر اسرار مجھے کھینچتا ہے یہ بھی حیرت ہے عجب، خود مری تمثال کے ساتھ آئینہ بھی پسِ دیوار مجھے کھینچتا ہے دم بھی لینے نہیں دیتا ہے مسافت کاجنون پَا برہنہ وہ سرِ خار مجھے کھینچتا ہے پھر کوئی تیر ہدف کرتا ہے مشکیرہ کو پھر کوئی دستِ کماں دار مجھے کھینچتا ہے بولیاں جس کی لگے میں کوئی یوسف تو نہیں کس لئے مصر کا بازار مجھے کھینچتا ہے ہے کوئی گریہ کن حرف پسِ خیمہ جاں پھر کوئی نالہ آزار مجھے کھینچتا ہے تجھ کو معلوم ہے شاہدؔ بھی ہے مغرور بہت کیوں ترا حُسن انادار مجھے کھینچتا ہے
  17. Zarnish Ali

    poetry 2Line poetry

    سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں داغ دہلوی
  18. ﷽ میڈا عشق وی توںﷺ ، میڈا یار وی توںﷺ میڈا دین وی توں ﷺ، ایمان وی توں ﷺ میڈا جسم وی توںﷺ ،میڈا روح وی توںﷺ میڈا قلب وی توںﷺ ،جِند جان وی توں ﷺ میڈا قبلہ ، کعبہ ، مسجد، مندر مُصحف تے قرآن وی توں ﷺ میڈے فرض ، فریضے ، حج ، زکاتاں صوم ،صلوت ، تے ازان وی توںﷺ میڈی زہد ، عبادت ، طاعت ، تقوٰی علم وی توںﷺ، عرفان وی توں ﷺ میڈا زکر وی توںﷺ ، میڈی فکر وی توںﷺ میڈا زوق وی توںﷺ ، وجدان وی توںﷺ میڈا سانول ، مٹھڑا ، شام سلونا من موہن جانان وی توںﷺ میڈا مُرشد ہادی پیر طریقت شیخ حقائق دان وی توںﷺ میڈی آس اُمید تے کھٹیا وٹیا تکیہ مان تران وی توں ﷺ مینڈا دھرم وی توںﷺ ، مینڈا بھرم وی توںﷺ مینڈا شرم وی توں ﷺ ، مینڈا شان وی توںﷺ میڈا دکھ ، سُکھ ، روون ،کھلن وی توں ﷺ میڈا درد وی توں ﷺ، میڈا درمان وی توںﷺ میڈا خوشیاں دا اسباب وی توں ﷺ میڈے سُولاں دا سامان وی توںﷺ میڈا حُسن بھاگ سہاگ وی توں ﷺ میڈا بخت تے نام نشان وی توں ﷺ میڈے ٹھڈرے ساہ تے مونجھ مونجھاری ہنجھڑوں دے طوفان وی توں ﷺ میڈے تلک ،تلوے ، سیندھاں ، مانگاں ناز ، نہوڑے ، تان وی توں ﷺ میڈی میہندی ، کجل ، مساگ وی توں میڈی سُرخی ، بیڑا ، پان وی توں میڈی وحشت ، جوشِ جنون وی توں ﷺ میڈا گریہ ، آہ ، ٖ فغان وی توں ﷺ میڈا اول ،آخر ، اندر ، باہر ظاہر تے پنہان وی توں ﷺ میڈا بادل ،برکھا ، کِھمناں ،گاجاں بارش تے باران وی توں ﷺ میڈا مُلک ملہیر ، تے مارو تھلڑا روہی ، چولستان وی توں ﷺ جے یارﷺ ، فرید قبول کرے سرکار وی توں ،سُلطان وی توں نہ تاں کہتر ، کمتر ، احقر ، ادنٰی لا شۓ ، لا امکان وی توں کلام صوفیانہ حضرت بابا غُلام فرید علیہ الرحمہ میڈا عشق وی توں
  19. جہیڑی عشق دی کھیڈ رچائی اے اے میری سمجھ نا آئی اے ویکھن نوں لگد ا سادا اے اے عشق بڑا ای ڈھڈا اے اے ڈھڈا عشق نچا دیوے پیراں وچ چھالے پا دیوے عرشاں دی سیر کرا دیوے اے رب دے نال ملا دیوے چُپ رہ کے بندہ تَر جاندا جے بولے سولی چڑھ جاندا جہیڑا عشق سمندر ور جاندا او جنیدا وسدا مر جاندا ایس عشق توں کوئی وی بچیا نئیں پر ہر اک وچ اے رچیا نئیں ایس عشق سے کھیڈ نرالے نئیں فقیراں ناں ایدے پالے نئیں اے راتاں نوں جگا دیندا اکھیاں وچ جھریاں لا دیندا اے ہجر دی اگ وچ ساڑ دیندا اے بندہ اندروں مار دیندا ویکھن نوں لگدا سادا اے پر عشق بڑا ای ڈھڈا اے
  20. waqas dar

    Reality of love-mohabbat

    ایک غریب کسان کی شادی نہایت حسین و جمیل عورت سے ہو گئی۔ اُس عورت کے حُسن کی سب سے بڑی وجہ لمبے گھنے سیاہ بال تھے، جن کی فکر صرف اُسے ہی نہیں بلکہ اُن دونوں کو رہتی تھی۔ ایک دِن کسان کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ، "کل واپسی پر آتے ہوئے راستے میں دُکان سے ایک کنگھی تو لیتےآنا، کیونکہ بالوں کو لمبے اور گھنے رکھنے کیلئے اُنہیں بنانا سنوارنا بہت ضروری ہے۔ اور پھر میں کتنے دِن ہمسائیوں سے کنگھی منگواتی رہونگی۔۔۔؟" غریب کسان نے اپنی بیوی سے معذرت کر لی اور بولا، "بیگم! میری تو اپنی گھڑی کا سٹرایپ کافی دِنوں سے ٹوٹا ہوا ہے، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اُسے ٹھیک کروا سکوں، تو میں بھلا کنگھی کیسے لا سکتا ہوں۔ تم کچھ دِن مزید ہمسائیوں کی کنگھی سے گزارا کرو، جب پیسے ہونگے تو لے آونگا۔۔۔!" بیوی اپنے شوہر کی مجبوری کو سمجھ رہی تھی اِس لیے زیادہ تکرار نہیں کیا۔ کسان نے اُس وقت تو بیوی کو چپ کروا دیا، لیکن پھر اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ، میں بھی کتنا بدبخت ہوں کہ اپنی بیگم کی ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتا۔ دوسرے دِن کھیتوں سے واپسی پر کسان ایک گھڑیوں کی دُکان پر گیا اور اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی اونے پونے داموں بیچی اور اُس سے ملنے والے پیسوں سے ایک اچھی سی کنگھی خریدی اور بڑی راز داری سے چھپا کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اُس نے سوچا گھر جا کر بیوی کو سرپرائز دونگا تو وہ بہت خوش ہوگی۔ جب وہ گھر گیا تو کیا دیکھا اُسکی بیوی نے اپنے لمبے بال کٹوا دئیے تھے۔ اور مسکراتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ کسان نے حیرت سے پوچھا، "بیگم! یہ کیا کیا تمنے اپنے بال کیوں کٹوا دئیے، پتہ ہے وہ تمہارے اُوپر کتنے خوبصورت لگتے تھے۔۔۔؟" بیگم بولی، "میرے سرتاج! کل جب آپ نے کہا کہ آپکے پاس گھڑی ٹھیک کروانے کے پیسے بھی نہیں ہیں تو میں بہت افسردہ ہو گئی۔ چنانچہ آج میں قریب کے بیوٹی پارلر پر گئی تھی، وہاں اپنے بال بیچ کر آپکے لیے یہ ایک گھڑی لائی ہوں۔۔۔!" جب کسان نے اُسے کنگھی دیکھائی تو فرطِ جذبات میں دونوں کی آنکھیں نم ہو گئیں محبت صرف کچھ دینے اور لینے کو ہی نہیں کہتے، بلکہ محبت ایک قربانی اور ایثار کا نام ہے جس میں اکثر اپنی خواہشات اور جذبات کو صرف اِس لیے قربان کر دیا جاتا ہے تاکہ رشتوں کا تقدس اور احترام برقرار رہے۔
  21. Hareem Naz

    poetry gham e Hijraan

    Ghum e Hijran ki tere pass dawa hy ky nahi غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں جاں بلب ہے ترا بیمار ، سنا ہے کہ نہیں وہ جو آیا تھا، تو دل لے کے گیا ہے کہ نہیں جھانک لے سینے میں کم بخت ذرا ، ہے کہ نہیں مخمصے میں تری آہٹ نے مجھے ڈال دیا یہ مرے دل کے دھڑکنے کی صدا ہے کہ نہیں سامنے آنا ، گزر جانا ، تغافل کرنا کیا یہ دنیا میں قیامت کی سزا ہے کہ نہیں اہل دل نے اُسے ڈُھونڈا ، اُسے محسوس کیا سوچتے ہی رہے کچھ لوگ ، خدا ہے ، کہ نہیں تم تو ناحق مری باتوں کا برا مان گئے میں نے جو کچھ بھی کہا تم سے ، بجا ہے کہ نہیں؟ آبرو جائے نہ اشکوں کی روانی سے نصیر سوچتا ہوں ، یہ محبت میں روا ہے کہ نہیں
  22. Zarnish Ali

    poetry عاطف سعيد

    ﮨﺠﺮ ﺍُﮔﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ ﭘﻮﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﺞ ﺑﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﻮ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻋﺎﻃﻒ ﺳﻌﯿﺪ
  23. Zarnish Ali

    poetry 2 line poetry

    خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ حضرت علامہ اقبالؒ
  24. waqas dar

    poetry Mai Ishq Kahlata Hun

    Mai Ishq Kahlata Hun میں عشق کہلاتا ہوں Poet: ابریش انمول عشق کیا ہے میں آواراپرندہ ہو پکارہ عشق کے نام سے جاتا ہو خوش بخت ہوتے ہے جنہیں آباد کرتا ہو امومن لوگوں کو برباد کرتا ہو ہمیشہ سفر میں ہی رہتا ہو منزل کو نہ کبھی پا سکو آئی پر جب اپنی آتا ہو نوابوں کو بھی غلام بناتا ہو ایسا ہی کچھ کمال رکھتا ہو ہنستے ہوۓ کو رولاتا ہو روتے ہوۓ کو ہنساتا ہو ویسے اتنا بھی برا نہیں ہو میں ہر کسی پر ظلم نہیں کرتا ہو جن کے ستارے نہیں ملتے بس ان کو ہی تڑپاتا ہو میں عشق کہلاتا ہو
  25. ظلمت کدے میں میری شب غم کا جوش ہے اک شمع ہے دلیل سحر سو خاموش ہے داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خاموش ہے آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں غالب سریر خامہ نوائے سروش ہے ظلمت کدے میں میری شب غم کا جوش ہے اک شمع ہے دلیل سحر سو خاموش ہے
×