Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'itna'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 2 results

  1. ہے سکوں اتنا کہ آزار کی ضد کرتے ہیں ہم وہ مجرم ہیں کہ خود دار کی ضد کرتے ہیں تھک گیا ہوں در و دیوار سے کہتے کہتے اب تو یہ غم کسی غمخوار کی ضد کرتے ہیں ہم اصولوں کے نہیں ہم ہیں اناؤں والے سر کٹا دیتے ہیں دستار کی ضد کرتے ہیں ہے تباہی کہ ہمیں راس نہیں آزادی ہم وہ در ہیں کہ جو دیوار کی ضد کرتے ہیں کوئی سمجھے تو مری دھرتی کی مشکل کو ذرا بے وفا سب ہیں وفادار کی ضد کرتے ہیں بہ خوشی تخت نشیں اب وہ کئے جاتے یہاں زندہ بستی میں جو مردار کی ضد کرتے ہیں خود کو بیچ آئے جو اغیار کے ہاتھوں سارے ہم سے وہ بھی یہاں کردار کی ضد کرتے ہیں ہاتھ آ جائے کوئی عیب ہمارا ان کے سر قلم کرنے کو تلوار کی ضد کرتے ہیں ہے گھٹن اتنی کہ لفظوں کا بھی دم گھٹتا ہے لوگ سادہ ہیں کہ اشعار کی ضد کرتے ہیں مانا غفلت میں ہے ڈوبی یہ مری قوم مگر اب بھی زندہ ہیں جو انکار کی ضد کرتے ہیں اپنے ہاتھوں ہی بدلنا ہے زمانہ ابرک کون کہتا ہے کہ بے کار کی ضد کرتے ہیں اتباف ابرک
  2. اَدائیں حشر جگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خیال حرف نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بہشتی غنچوں میں گوندھا گیا صراحی بدن گلاب خوشبو چرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بدن بنانے کو کرنوں کا سانچہ خلق ہُوا خمیر ، خُم سے اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے قدم ، اِرم میں دَھرے ، خوش قدم تو حور و غلام چراغ گھی کے جلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے یہ جھاڑو دیتی ہیں پلکوں سے یا حسیں حوریں قدم کی خاک چرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جھلک دِکھانے کی رَکھیں جو شرط جوئے شیر ہزاروں کوہ کن آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جنہوں نے سایہ بھی دیکھا وُہ حور کا گھونگھٹ مُحال ہے کہ اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے چمن کو جائے تو دَس لاکھ نرگسی غنچے زَمیں پہ پلکیں بچھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے یہ شوخ تتلیاں ، پیکر پری کا دیکھیں تو اُکھاڑ پھینکیں قبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے غزال قسمیں ستاروں کی دے کے عرض کریں حُضور! چل کے دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حسین اِتنا کہ منکر خدا کا لگتا ہے بت اُس کو کلمہ پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ پنکھڑی پہ اَگر چلتے چلتے تھک جائے تو پریاں پیر دَبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے گُل عندلیب کو ٹھکرا دے ، بھنورے پھولوں کو پتنگے شمع بجھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے اُداس غنچوں نے جاں کی اَمان پا کے کہا یہ لب سے تتلی اُڑائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خطیب پہلے پڑھیں حُسنِ حور پر آیت پھر اُس کا عکس دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جو آنکھ کھلتی ہے غنچوں کی شوخ ہاتھوں پر تو اَمی کہہ کے بُلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ بھیگی پنکھڑی پہ خشک ہونٹ رَکھے ذِرا تو پھول پیاس بجھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حسین تتلیاں پھولوں کو طعنے دینے لگیں کہا تھا ایسی قبائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے ذِرا سا بوسے پہ راضی ہُوا تو سارے گلاب نفی میں سر کو ہلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے غزال نقشِ قدم چوم چوم کر پوچھیں کہاں سے سیکھی اَدائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حریر ، اَطلس و کمخواب ، پنکھڑی ، ریشم دَبا کے ہاتھ لگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بشارت اُس کی نُجومی سے سنتے ہی فرعون حنوط خود کو کرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے شریر مچھلیاں کافِر کی نقل میں دِن بھر مچل مچل کے نہائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جو کام سوچ رہے ہیں جناب دِل میں اَبھی وُہ کام بھول ہی جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے زَمیں پہ خِرمنِ جاں رَکھ کے ہوشمند کہیں بس آپ بجلی گرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ چاند عید کا اُترے جو دِل کے آنگن میں ہم عید روز منائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے عقیق ، لولو و مرجان ، ہیرے ، لعلِ یمن اُسی میں سب نظر آئیں ، وُہ اتنا دلکش ہے جفا پہ اُس کی فدا کر دُوں سوچے سمجھے بغیر ہزاروں ، لاکھوں وَفائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے ہمیں تو اُس کی جھلک مست مور کر دے گی شراب اُس کو پلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے صراحی جسم کی جھومے تو جام رَقص کریں دَرخت وَجد میں آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے بدل کے ننھے فرشتے کا بھیس جن بولا مجھے بھی گود اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے نُجومی دیر تلک بے بسی سے دیکھیں ہاتھ پھر اُس کو ہاتھ دِکھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے ہزار جنّوں کو بند کر دے ایک بوتل میں تو اُف بھی لب پہ نہ لائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے سنا ہے ملکۂ جنّات رو کے کہنے لگی مرے میاں کو چھڑائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جو مڑ کے دیکھے تو ہو جائیں دیوتا پتھر ’’نہیں‘‘ بھی کہنے نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خطیب دیکھے گزرتا تو تھک کے لوگ کہیں حُضور خطبہ سنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے اَگر لفافے پہ لکھیں ، ’’ملے یہ ملکہ کو‘‘ تو خط اُسی کو تھمائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے چرا کے عکس ، حنا رَنگ ہاتھ کا قارُون خزانے ڈُھونڈنے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حسین پریاں چلیں ساتھ کر کے ’’سترہ‘‘ سنگھار اُسے نظر سے بچائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے صنم کدے میں جو پہنچے تو چند پہنچے صنم دُعا کو ہاتھ اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے گلی میں شوخ کی دائم مشاعرے کا سماں شجر بھی شعر سنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے گلی سے اُس کی گزر کر جو شاعری نہ کرے تو اُس کو اُردو پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے کمر کو کس کے دوپٹے سے جب چڑھائے پینگ دِلوں میں زَلزلے آئیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے کبوتر اُس کے قریب آنے کے لیے بابو پیام جعلی بنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے اُسی کے نام سے اِہلِ سلوک پہنچے ہُوئے نمازِ عشق پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے جسے وُہ مست کرے حشر میں بھی نہ اُٹھے بلا سے حوریں اُٹھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے غُبارِ راہ ہُوا غازہ اَپسراؤں کا نہا نہا کے لگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے خدا کے سامنے گن گن کے جھکنے والے سخی قیام بھول ہی جائیں ، ’’وُہ‘‘ اِتنا دِلکش ہے جہاں پہ ٹھہرے وُہ خوشبو کی جھیل بن جائے گلاب ڈُوبتے جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے وُہ ہنس کے کہہ دے جو حوروں پہ پردہ ساقط ہے دُکان شیخ بڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے نقاب اُٹھائے تو سورج کا دِن نکلتا ہے چراغ دیکھ نہ پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے گلاب ، موتیا ، چنبیلی ، یاسمین ، کنول اُسے اَدا سے لُبھائیں ، وُہ اتنا دلکش ہے شراب اور ایسی کہ جو ’’دیکھے‘‘ حشر تک مدہوش شرابی آنکھ جھکائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے شباب ہے کہ ہے آتش پرستی کی دعوت بدن سے شمع جلائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے حجاب اُتارے تو پھر بھی اُسے ثواب ملے کہ رِند جام گرائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
×