Jump to content
News Ticker
  • Welcome to Fundayforum.com
  • Please Register Your ID For More Access.

Search the Community

Showing results for tags 'mai'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 20 results

  1. ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے ہر ایک لب پہ ہیں میری وفا کے افسانے تیرے ستم کو ابھی لازوال ہونا ہے بجا کہ خار ہیں لیکن بہار کی رت میں یہ طے ہے اب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے تمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ہے ہماری روح پہ جب بھی عذاب اتریں گے تمہاری یاد کو اس دل کی ڈھال ہونا ہے کبھی توروئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میں کبھی تو اسکی ہنسی کو زوال ہونا ہے ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں بس انتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پر محبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے زمانہ جس کے خم و پیچ میں الجھ جائے ہماری ذات کو ایسا سوال ہونا ہے وصی یقین ہے مجھ کو وہ لوٹ آئے گا !... اس کو بھی اپنے کیے کا ملال ہونا ہے ❤ وصی شاہ Wasi Shah
  2. Mai Ishq Ki Shidat Sy Pereshan Bohat Hun میں عشق کی شدت سے پریشان بہت ہوں اے جاں تری چاہت سے پریشان بہت ہوں ہاں شورشِ ہجراں سے یہ دل شاد بہت تھا ہاں وصل کی راحت سے پریشان بہت ہوں چاہوں تو تجھے چھوڑ دوں میں غیر کی خاطر بس نکتہ وحدت سے پریشان بہت ہوں انصاف کی دنیا ہے فقط خواب کی دنیا یا رب میں حقیقت سے پریشان بہت ہوں جگنو، یہ چاند، تارے، بہاریں صدایئں دیں اف، میں تیری شہرت سے پریشان بہت ہوں ! غنچہ یا کوئی پھول کہوں، پنکھڑی کہوں ہونٹوں کی نزاکت سے پریشان بہت ہوں کیوں اے دل کم فہم تو مانے ہے انا کی؟ آمر کی حکومت سے پریشان بہت ہوں ہر ایک عمل پہ کہے 'یوں تو نہیں، یوں۔۔۔' ناصح تیری عادت سے پریشان بہت ہوں لڑکی ہوں، پگھل جاتی ہوں نظروں کی تپش سے میں حسن کی نعمت سے پریشان بہت ہوں وہ جان تکلم نہ بنا لے مجھے مداح اس زور خطابت سے پریشان بہت ہوں دنیا یہ فقط تجھ پہ جیا! کیوں ہے مہربان لہجوں کی ملاحت سے پریشان بہت ہوں
  3. اَپنی آنکھوں کے سمندر میں اُتر جانے دے تیرا مجرم ہوں مجھے ڈوب کے مرجانے دے اے نئے دوست میں سمجھوں گا تجھے بھی اپنا پہلے ماضی کا کوئی زخم تو بھر جانے دے آگ دنیا کی لگائی ہوئی بجھ جائے گی کوئی آنسو میرے دامن پہ بکھر جانے دے زخم کتنے تیری چاہت سے ملے ہیں مجھ کو سوچتا ہوں کہ کہوں تجھ سے مگر جانے دے زندگی! میں نے اسے کیسے پرویا تھا نہ پوچھ ہار ٹوٹا ہے تو موتی بھی بکھر جانے دے ان اندھیروں سے ہی سورج کبھی نکلے گا رات کے سائے ذرا اور نکھر جانے دے
  4. تر ی پنا ہو ں میں سات رنگو ں کا جال ہوگا کمال ہوگا مرے سنور نے کا سلسلہ جب بحال ہوگا کمال ہوگا یہ جھیل آنکھیں جو کھینچتی ہیں نظر کی ڈوریں محبّتوں سے اگر میں ان میں اتر گئی تو وصال ہوگا کمال ہوگا وہ رہبر ِ کاروان ِ الفت میں نقش ِِ مقصود ِ دلبری ہوں سو اب دم ِ وصل وحشتوں کا زوال ہوگا کمال ہوگا نوید ِ شاہ ِ محب کو سن کر تمام درباری جھومتے ہیں خبر اڑی ہے کہ اس برس بھی دھما ل ہوگا کمال ہوگا میں بچ بچا کے غلا ظتو ں سے بس اس بھروسے پہ چل رہی ہوں صنم جو میرا نصیب ہوگا غزال ہوگا کمال ہوگا نگاہ ِ من میں جواں محبّت کا ابر ِ بارا ں ہے محو ِ رقصا ں جمال ِ حسن ِ نظر میں جو یر غما ل ہوگا کمال ہوگا برستی بارش اور اسکی یادیں پھر اس پہ یہ جنو ری کا موسم حرا تمھارا جو ایسے موسم میں حال ہوگا کمال ہوگا ڈاکٹر حرا ارشد
  5. ویکھ نی ماں میں بدل گیا واں روٹی ٹھنڈی کھا لینا واں گندے کپڑے پا لینا واں غصہ سارا پی جانا واں ہر دکھ تے لب سی جانا واں ساریاں گلاں جر لینا واں ٹھنڈا ہوکا بھر لینا واں پر کسے نوں کجھ نئیں دسدا ہر ویلے میں ریہندا ہنسدا اندر جھاتی کوئ نا پاوے دکھ تیرا منوں کھائ جاوے تیرے باجھ منوں کوئ نا پُچھدا ہن تے میں کسے نال نئیں رُسدا ویکھ نی ماں میں بدل گیا واں
  6. غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا دم کے جانے کا نہایت غم رہا حسن تیرا تھا بہت عالم فریب خط کے آنے پر بھی اک عالم رہا دل نہ پہنچا گوشہء داماں تلک قطرہء خوں تھا مژہ پر جم رہا سنتے ہیں لیلٰی کے خیمہ کو سیاہ اس میں مجنوں کا ولے ماتم رہا جامہء احرامِ زاہد پر نہ جا تھا حرم میں لیک نا محرم رہا زلفیں کھولے تو ٹک آیا نظر عمر بھر یاں کام دل برہم رہا اس کے لب سے تلخ ہم سُنتے رہے اپنے حق میں آبِ حیواں سَم ریا میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی ایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا صبحِ پیری شام ہونے آئی میر تو نہ جیتا یاں بہت دن کم رہا
  7. Itni Mudat Baad Mile Hu Kin Socho Mai Ghum Rahte Hu اِتنی مُدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسن تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو محسن نقوی
  8. waqas dar

    poetry Mai Ishq Kahlata Hun

    Mai Ishq Kahlata Hun میں عشق کہلاتا ہوں Poet: ابریش انمول عشق کیا ہے میں آواراپرندہ ہو پکارہ عشق کے نام سے جاتا ہو خوش بخت ہوتے ہے جنہیں آباد کرتا ہو امومن لوگوں کو برباد کرتا ہو ہمیشہ سفر میں ہی رہتا ہو منزل کو نہ کبھی پا سکو آئی پر جب اپنی آتا ہو نوابوں کو بھی غلام بناتا ہو ایسا ہی کچھ کمال رکھتا ہو ہنستے ہوۓ کو رولاتا ہو روتے ہوۓ کو ہنساتا ہو ویسے اتنا بھی برا نہیں ہو میں ہر کسی پر ظلم نہیں کرتا ہو جن کے ستارے نہیں ملتے بس ان کو ہی تڑپاتا ہو میں عشق کہلاتا ہو
  9. Jiski Jhankaar mai Dil Ka AraamTh - Wo Tera Naam Th جسکی جھنکار میں دل کا آرام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ میرے ہونٹوں پہ رقصاں جو اک نام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،تہمتیں مجھ پہ آتی رہی ہیں کئی، ایک سے اک نئی خوبصورت مگر جو اک الزام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ دوست جتنے تھے نا آشنا ہوگئے، پارسا ہوگئے، ساتھ میرے جو رسوا سرِ عام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،صبح سے شام تک جو میرے پاس تھی، وہ تیری آس تھی شام کے بعد جو کچھ لبِ بام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،مجھ پہ قسمت رہی ہمیشہ مہرباں، دے دیا سارا جہاں پر جو سب سے بڑا ایک انعام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،غم نے تاریکیوں میں اچھالا مجھے، مار ڈالا مجھے اک نئی چاندنی کا جو پیغام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،تیرے ہی دم سے ہے یہ قتیل آج بھی شاعری کاولی اس کی غزلوں میں کل بھی جو الہام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ قتیل شفائی
  10. Ashk Daman Mai Bhare Khuwab Kamar Per Rakhye اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا Poet: Ahmad Mushtaq اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا پھر قدم ہم نے تری راہ گزر پر رکھا ہم نے ایک ہاتھ سے تھاما شب غم کا آنچل اور اک ہاتھ کو دامان سحر پر رکھا چلتے چلتے جو تھکے پاؤں تو ہم بیٹھ گئے نیند گٹھری پہ دھری خواب شجر پر رکھا جانے کس دم نکل آئے ترے رخسار کی دھوپ مدتوں دھیان ترے سایۂ در پر رکھا جاتے موسم نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا مشتاقؔ رہ گیا ساغر گل سبزۂ تر پر رکھا
  11. نعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا کاؤکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا خشت پشتِ دستِ عجز و قالب آغوشِ وداع پُر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔ جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا بس کہ ہوں غالبؔ، اسیری میں بھی آتش زیِر پا !!...موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
  12. Mai Dil Pe jabar Kero Ga, Tuje Bhula Dun Ga میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی میرے گھر کا ہی کیوں‌ مقدر ہو ؟ میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا اسی خیال میں گزری ہے شامِ درد اکثر کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا تو آسماں کی صورت ہے گر پڑے گا کبھی زمیں ہوں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا بڑھا رہی ہیں میرے دکھ، نشانیاں تیری میں تیرے خط، تری تصویر تک جلا دوں گا بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسن اس آئینے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا محسن نقوی
  13. Mere Qaatil Ko Pukaro Ky Mai Zinda Hun Abhi میرے قاتل کو پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی پھر سے مقتل کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ شب ہجر تو ساتھی ہے میری برسوں سے جاؤ سو جاؤ ستارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ پریشان سے گیسو دیکھے نہیں جاتے اپنی زلفوں کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی لاکھ موجوں میں گھرا ہوں ، ابھی ڈوبا تو نہیں مجھ کو ساحل سے پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی قبر سے آج بھی محسن کی آتی ہے صدا تم کہاں ہو میرے یارو کے میں زندہ ہوں ابھی محسن نقوی شہید
  14. IK DIYA DIL MAI JALANA BHI, BUJHA BHI DENA اک دیا دل میں جلانا بھی، بجھا بھی دینا یاد کرنا بھی اسے روز، بھلا بھی دینا کیا کہوں میری چاہت ہے یا نفرت اس کی نام لکھنا بھی میرا، لکھ کے مٹا بھی دینا پھر نہ ملنے کو بچھڑتا ہوں تجھ سے لیکن مڑ کے دیکھوں تو پلٹنے کی دعا بھی دینا خط بھی لکھنا اسے مایوس بھی رہنا اس سے جرم کرنا بھی مگر خود کو سزا بھی دینا مجھ کو رسموں کا تکلف بھی گوارا لیکن جی میں آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا اس سے منسوب بھی کر لینا پرانے قصے اس کے بالوں میں نیا پھول سجا بھی دینا صورتِ نقش ِ قدم، دشت میں رہنا محسن اپنے ہونے سے نہ ہونے کا پتہ بھی دینا
  15. Hum tu yun khush th ky ik taara girebaan mai hy ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے کیا خبر تھی کہ بہار اس کے بھی ارمان میں ہے - ایک ضرب اور بھی اے زندگیِ تیشہ بدست سانس لینے کی سکت اب بھی مری جان میں ہے - میں تجھے کھو کے بھی زندہ ہوں یہ دیکھا تو نے کس قدر حوصلہ ہارے ہوئے انسان میں ہے - فاصلے قرب کے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں میں ترے شہر سے دُور اور تُو مرے دھیان میں ہے - سرِ دیوار فروزاں ہے ابھی ایک چراغ اے نسیمِ سحری! کچھ ترے امکان میں ہے - دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے گاہے گاہے جیسے اب بھی تری آواز مرے کان میں ہے - خلقتِ شہر کے ہر ظلم کے با وصف فرازؔؔ ہائے وہ ہاتھ کہ اپنے ہی گریبان میں ہے
    Ahmad Fraz Poetry Waiting for love Sad Poetry
  16. میں بُرا تھا یا بھلا تھا اُسے گلا تو نہ تھا میری وجہ سےشہر بھر میں وہ رسواہ تو نہ تھا اُس نے چاھا تھا مجھےجان سے بھڑ کر لیکن چھوڑ کے مجھ کووہ تنہا تھاادھورا تو نہ تھا میں بُرا تھا یا بھلا تھا اُسے گلا تو نہ تھا میں کنارہ تھا مگر بِکھری ہوئ موجوں کی طرح ایک دن اُس کومیرے سر سے گزر جانا تھا وہ میری پیاس تھا لیکن میرا پیاسا تو نہ تھا میں بُرا تھا یا بھلا تھا اُسے گلا تو نہ تھا سایہ ہمسایہ تھا وہ ساتھ کہاں تک دیتا میرا ہو کر بھی وہ میرے لئیے کیا کر لیتا راحتِ دل تھا مگرغم کا ماداوہ تو نہ تھا میں بُرا تھا یا بھلا تھا اُسے گلا تو نہ تھا
  17. ABHI JURM-MUHABBAT MAI FAQT BHEEGI HAIN YA ANKHAIN ابھی جرمِ محبت میں فقط بھیگی ہیں یہ آنکھیں ابھی تو ہجر کے دشت و بیاباں پار کرنے ہیں ابھی ان ریگزاروں میں لہو بہنا ھے وعدوں کا ابھی راہوں کے سب کا نٹے مجھے پلکوں سے چننے ہیں ابھی پر خار راہوں میں مجھے تنہا نہیں چھوڑو ابھی تو ٹھیک سے مجھکو سنبھلنا بھی نہیں آتا رسیور میں مقید ہیں تمہارے رس بھرے لہجے ابھی پاؤں سے لپٹے ہیں وصال و قرب کے لمحے ہمارے درمیان رشتے ابھی نازک سے دھاگے ہیں انہیں جھٹکے سے مت کھولو یہ سارے ٹوٹ جائیں گے ابھی تم ہاتھ مت چھوڑو سنو کچھ دن ٹھہر جاؤ تیرے لہجے سے لگتا ھے بچھڑنا اب مقدر ھے پلٹنا گر ضروری ھے چلو کچھ خواب دے جاؤ جلا کے انہی خوابوں کو اندھیرے دور کر لوں گی تمہاری روح میں پھنسی میری سانسیں امانت ہیں انہیں پورا تو ہونے دو ابھی تم دور مت جاؤ سنو کچھ دن ٹھہر جاؤ ابھی رستہ نہیں بدلو ابھی تو ٹھیک سے مجھکو سنبھلنا بھی نہیں آتا ابھی تو ٹھیک سے مجھکو بچھڑنا بھی نہیں آتا
    Tears of love Love HurtsJurm e Mohabbat
  18. abhi tu ishq mai aisa bhi hal hona hay k ashk rokna tum say muhal huna hay har aikh lab pay hain mere wafa k afsanay teray sitam ko abhi la-zwal hona hay yaja ka khara hain lakin bahar ki rut main yah tay hay ab k hamain bhi nihal hona hay tumhain khabar hi nahin tum tu lout jaou gay tumharay hijar mai lamha bhi saal huna hay hamari rooh pay jab bhi azab utrain gay tumhari yad ko iss dil ki dhal huna hay kabhi tu roay ga woh kisi ki bahon main kabhi tu us ki hansi ko zawal huna hay milain gi hum ko bhi apnay naseeb ki khushian bas yah intazar hay kab yah kamal huna hay har aik shakhs chlay ga hamri rahoon per muhabbaton mai hamain woh bay misal hona hay
  19. جب قرآن پہ پابندی لگیروس میں کمیونزم کا طوطا بولتا تھا بلکہ دنیا تو یہ کہہ رہی تھی کہ بس اب پورا ایشیا سرخ ہوجاے گا ان دنوں 1973 میں ہمارے ایک دوست ماسکو ٹریننگ کے لیے چلے گئے وہ کہتے ہے کہ جمعے کے دن میں نے دوستوں سے کہا کہ چلو جمعہ ادا کرنے کی تیاری کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہاں مسجدوں کو گودام بنا دیا گیا ہے ایک دو مساجد کو سیاحوں کا قیام گاہ بنا دیا گیا ہے صرف دو ہی مسجد اس شہر میں بچے ہے جو کھبی بند اور کھبی کھلے ہوتے ہیں میں نے کہا آپ مجھے مساجد کا پتہ بتا دے میں وہی چلا جاتا ہوں جمعہ ادا کرنے ۔ پتہ لیکر میں مسجد تک پہنچا تو مسجد بند تھی ، مسجد کے پڑوس میں ہی ایک بندے کے ساتھ مسجد کی چابی تھی میں نے اس آدمی کو کہا کہ دروازہ کھول دو مسجد کا ، مجھے نماز پڑھنی ہے ، اس نے کہا دروازہ تو میں کھول دونگا لیکن اگر آپکو کوی نقصان پہنچا تو میں زمہ دار نہیں ہوں گا ، میں نے کہا دیکھیں جناب میں پاکستان میں بھی مسلمان تھا اور روس کے ماسکو میں بھی مسلمان ہی ہوں پاکستان کے کراچی میں بھی نماز ادا کرتا تھا اور روس کے ماسکو میں بھی نماز ادا کروں گا چاہے کچھ بھی ہوجاے ۔ اس نے مسجد کا دروازہ کھولا تو اندر مسجد کا ماحول بہت خراب تھا میں نے جلدی جلدی صفائی کی اور مسجد کی حالت اچھی کرنے کی کوشیش کرنے لگا کام سے فارغ ہونے کے بعد میں نے بلند آواز سے آزان دی ۔۔۔۔۔ آزان کی آواز سن کر بوڑھے بچے مرد عورت جوان سب مسجد کے دروازے پہ جمع ہوے کہ یہ کون ہے جس نے موت کو آواز دی ۔۔۔۔ لیکن مسجد کے اندر کوی بھی نہیں آیا،۔۔۔۔ خیر میں نے جمعہ تو ادا نہیں کیا کیونکہ اکیلا ہی تھا بس ظہر کی نماز ادا کی اور مسجد سے باہر آگیا جب میں جانے لگا تو لوگ مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کہ میں نماز ادا کرکہ باہر نہیں نکلا بلکہ دنیا کا کویی نیا کام متعارف کرواکر مسجد سے نکلا، ایک بچہ میرے پاس آیا اور کہا کہ آپ ہمارے گھر چاۓ پینے آے ۔ اسکے لہجے میں حلوص ایسا تھا کہ میں انکار نہ کرسکا میں انکے ساتھ گیا تو گھر میں طرح طرح کے پکوان بن چکے تھے اور میرے آنے پہ سب بہت خوش دکھائی دے رہے تھے میں نے کھانا کھایا چاے پی تو ایک بچہ ساتھ بیٹھا ہوا تھا میں نے اس سے پوچھا آپکو قرآن پاک پڑھنا آتا ہے ۔ ؟ بچے نے کہا جی بلکل قرآن پاک تو ہم سب کو آتا ہے ، میں نے جیب سے قرآن کا چھوٹا نسحہ نکالا اور کہا یہ پڑھ کر سناو مجھے ۔۔۔ بچے نے قرآن کو دیکھا اور مجھے دیکھا پھر قرآن کو دیکھا اور ماں باپ کو دیکھ کر دروازے کو دیکھا پھر مجھے دیکھا ۔ میں نے سوچا اس کو قرآن پڑھنا نھی آتا لیکن اس نے کہا کیوں کہ اسکو قرآن پڑھنا آتا ہے ۔ میں نے کہا بیٹا یہ دیکھو قرآن کی اس آیت پہ انگلی يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ رکھی تو وہ فر فر بولنے لگا بنا قرآن کو دیکھے ہی ۔۔۔۔ مجھے حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا کہ یہ تو قرآن کو دیکھے بنا ہی پڑھنے لگا میں نے اسکے والدین سے کہا " حضرات یہ کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے مسکرا کر کہا " دراصل ہمارے پاس قرآن پاک موجود نہیں کسی کے گھر سے قرآن پاک کے آیت کا ایک ٹکڑا بھی مل جاے تو اس تمام حاندان کو پھانسی کی سزا دے دی جاتی ھے اس وجہ سے ہم لوگ قرآن پاک نہیں رکھتے گھروں میں " " تو پھر اس بچے کو قرآن کس نے سکھایا کیونکہ قرآن پاک تو کسی کے پاس ہے ہی نہیں " میں نے مزید حیران ہوکر کہا " ہمارے پاس قرآن کے کئ حافظ ہے کوئی درزی ہے کوی دکاندار کوئ سبزی فروش کوئی کسان ہم انکے پاس اپنے بچے بھیج دیتے ہے محنت مزدوری کے بہانے ۔۔۔۔ وہ انکو الحمد اللہ سے لیکر والناس تک زبانی قرآن پڑھاتے ہیں ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ وہ حافظ قرآن بن جاتے ہے کسی کے پاس قرآن کا نسحہ ہے نہیں اسلیئے ہماری نیی نسل کو ناظرہ نہیں آتا بلکہ اس وقت ہمارے گلیوں میں آپکو جتنے بھی بچے دکھائی دے رہے ہیں یہ سب کے سب حافظ قرآن ہے ۔ یہی وجہ ہے جب آپ نے اس بچے کے سامنے قرآن رکھا تو اسکو پڑھنا نہیں آیا ناظرہ کرکہ لیکن جب آپ نے آیت سنائی تو وہ فر فر بولنے لگا اگر آپ نہ روکتے تو یہ سارا قرآن ہی پڑھ کر سنا دیتا ۔ وہ نوجوان کہتا ہے کہ میں نے قرآن کا ایک نہیں کئ ہزار معجزے اس دن دیکھے ، جس معاشرے میں قرآن پہ پابندی لگا دی گئ تھی رکھنے پہ ، اس معاشرے کے ہر ہر بچے بوڑھے مرد عورت کے سینوں میں قرآن حفظ ہوکر رہ گیا تھا میں جب باہر نکلا تو کئ سو بچے دیکھے اور ان سے قرآن سننے کی فرمائش کی تو سب نے قرآن سنا دی ، میں نے کہا " لوگوں ۔۔۔۔۔! تم نے قرآن رکھنے پہ پابندی لگا دی لیکن جو سینے میں قرآن مجید محفوظ ہے اس پہ پابندی نہ لگا سکے ۔تب مجھے احساس ہوا کہ اللہ پاک کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے إِنَّا نَحنُ نَزَّلْنَا الذِّكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ::: بے شک یہ ذِکر (قران) ہم نے نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں احباب سے پرزور اپیل ہے کہ اس تحریر کو دل کھول کہ شیئر کریں آپکا ایک سینکڈ لگے گا اور لوگوں کے علم میں اضافہ ہوگا اور اس کارخیر کا سبب آپ بنو گے... جی ہاں آپ
  20. waqas dar

    Mai tumhain talaq dena chahta hun

    میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں میز پہ کھانا لگاتے ہوئے اسکا پورا دھیان پلیٹیں سجانے میں تھا اور میری آنکھیں اسکے چہرے پہ جمی تھیں۔ میں نے آہستگی سے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ چونک سی گئی "میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں" کافی ہمت جتانے کے بعد بلآخر میرے منہ سے نکلا وہ چپ چاپ کرسی پہ بیٹھ گئی، اسکی نگاہیں چاہے میز پہ مرکوز تھیں پر ان میں سے اٹھتا درد میں بخوبی محسوس کررہا تھا۔ ایک پل کے لیے میری زبان پہ تالہ سا لگ گیا پر جو میرے دماغ میں چل رہا تھا اسے بتانا بہت ضروری تھا۔ "میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔" میری آنکھیں جھک گئیں میری امید کے برعکس اس نے کسی قسم کی حیرانی یا پریشانی کا اظہار نہ کیا بس نرم لہجے میں اتنا پوچھا "کیوں۔۔۔۔۔؟" میں نے اسکا سوال نظرانداز کیا۔ اسے میرا یہ رویہ گراں گزرا۔ ہاتھ میں پکڑا چمچ فرش پہ پھینک کے وہ چلانے لگی اور یہ کہہ کے وہاں سے اٹھ گئی کہ "تم مرد نہیں ہو۔۔۔" رات بھر ہم دونوں نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔ وہ روتی رہی۔ میں جانتا تھا کہ اسکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر ہماری شادی کو ہوا کیا ہے۔۔۔ میرے پاس اس کو دینے کے لیے کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ اسے کیا بتاتا کہ میرے دل میں اسکی جگہ اب کسی اور نے لے لی ہے۔۔۔ اب اسکے لیے میرے پاس محبت باقی نہیں رہی۔ مجھے اس پہ ترس تو بہت آرہا تھا اور ایک پچھتاوا بھی تھا۔ پر اب میں جو فیصلہ کر چکا تھا اس پہ ڈٹے رہنا ضروری تھا۔ طلاق کے کاغذات عدالت میں جمع کرانے سے پہلے میں نے اس کی ایک کاپی اسے تھمائی جس پہ لکھا تھا کہ وہ طلاق کے بعد گھر، گاڑی اور میرے ذاتی کاروبار کے 30 فیصد کی مالکن بن سکتی ہے۔ اس نے ایک نظر کاغذات پہ دوڑائی اور اگلے ہی لمحے اسکے ٹکڑے کرکے زمین پہ پھینک دیے۔ جس عورت کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے دس سال بتائے تھے وہ ایک پل میں اجنبی ہوگئی۔ مجھے افسوس تھا کہ اس نے اپنے انمول جذبات اور قیمتی لمحے مجھ پہ ضائع کیے پر میں بھی کیا کرتا میرے دل میں کوئی اور اس حد تک گھر کر چکا تھا کہ اسے کھونے کا تصور ہی میرے لیے ناممکن تھا۔ بلآخر وہ ٹوٹ کے بکھری اور میرے سامنے ریزہ ریزہ ہوگئی۔ اسکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ شائد یہی وہ چیز تھی جو اس طلاق کے بعد میں دیکھنا چاہتا تھا۔ اگلے روز پورا دن اپنی نئی محبت کے ساتھ بتا کے جب میں تھکا ہارا گھر پہنچا تو وہ میز پہ کاغذ پھیلائے کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔ میں نے اس پہ کوئی دھیان نہ دیا اور جاتے ہی بستر پہ سو گیا۔ دیر رات جب میری آنکھ کھلی تو وہ تب بھی کچھ لکھ رہی تھی۔ اب بھی میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔ صبح جب میں اٹھا تو اس نے طلاق کی کچھ شرائط میرے سامنے رکھ دیں۔ اسے میری دولت اور جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ وہ بس ایک مہینہ مزید میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ اس ایک مہینے میں ہمیں اچھے میاں بیوی کی طرح رہنا تھا۔ اس شرط کی بہت بڑی وجہ ہمارا بیٹا تھا جسکے کچھ ہی دنوں میں امتحانات ہونیوالے تھے۔ والدین کی طلاق کا اسکی تعلیم پہ برا اثر نہ پڑے اس لیے میں اسکی یہ شرط ماننے کو بالکل تیار تھا۔ اسکی دوسری اور احمقانہ شرط یہ تھی کہ میں ہرصبح اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے گھر کے دروازے تک چھوڑنے جاؤں۔ جیسا شادی کے ابتدائی دنوں میں مَیں کرتا تھا۔ وہ جب کام پہ باہر جانے لگتی تو میں خود اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑ آتا تھا۔ حالانکہ میں اسکی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا لیکن ان آخری دنوں میں اسکا دل توڑنا مناسب نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے یہ شرط بھی مان لی۔ اس کی ان شرائط کے بارے میں جب میں نے اپنی نئی محبت سے ذکر کیا تو وہ ہنس کے بولی "وہ چاہے جو بھی کرلے ایک نہ ایک دن طلاق تو اسے ہونی ہی ہے" میری بیوی اور میں نے اپنی طلاق کے معاملے سے متعلق کسی اور سے ذکر نہ کیا۔ شرط کے مطابق پہلے دن جب مجھے اسے اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے جانا تھا تو وہ لمحات ہم دنوں کے لیے بے حد عجیب تھے۔ ہچکچاتے ہوئے میں نے اسے اٹھایا تو اس نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اتنے میں تالیوں کی ایک گونج ہم دونوں کے کانوں میں پڑی "پاپا نے ممی کو اٹھایا ہوا ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہا" ہمارا بیٹا خوشی میں جھوم رہا تھا۔ اسکے الفاظوں سے میرے دل میں ایک درد سا اٹھا اور میری بیوی کی کیفیت بھی لگ بھگ میرے جیسی تھی۔ "پلیز۔۔۔ ! اسے طلاق کے بارے میں کچھ مت بتانا" وہ آہستگی سے بولی میں نے جواباً سر ہلایا اسے دروازے تک چھوڑ کے بعد میں اپنے آفس کی طرف نکل پڑا اور وہ بس سٹاپ کی طرف چل دی۔ اگلی صبح اسے اٹھانا میرے لیے قدرے آسان تھا، اور اسکی ہچکچاہٹ میں بھی کمی تھی۔ اس نے اپنا سر میری چھاتی سے لگا لیا۔ ایک عرصے بعد اسکے جسم کی خوشبو میرے حواس سے ٹکرائی۔ میں بغور اسکا جائزہ لینے لگا۔ چہرے کی گہری جھریاں اور سر کے بالوں میں اتری چاندی اس بات کی گواہ تھیں کہ اس نے اس شادی میں بہت کچھ کھویا ہے۔ چار دن مزید گزرے، جب میں نے اسے باہوں میں بھر کے سینے سے لگایا تو ہمارے بیچ کی وہ قربت جو کہیں کھو سی گئی تھی واپس لوٹنے لگی۔ پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ قربت کے وہ جذبات بڑھتے گئے۔ لمحے دنوں کو پَر لگا کے اڑا لے گئے اور مہینہ پورا ہوگیا۔ اس آخری صبح میں جانے کے لیے تیار ہورہا تھا اور وہ بیڈ پہ کپڑے پھیلائے اس پریشانی میں مبتلا تھی کے آج کونسا لباس پہنے۔ کیوں کہ پرانے سارے لباس اسکے نحیف جسم پہ کھلے ہونے لگے تھے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ شائد اسی لیے میں اسے آسانی سے اٹھا لیتا تھا۔ اسکی آنکھوں میں امڈتے درد کو دیکھ کے نہ چاہتے ہوئے بھی میں اسکے پاس چلا آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔ "پاپا۔۔۔ ! ممی کو باہر گھمانے لے جائیں۔۔۔۔ " ہمارے بیٹے کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ اسکے خیال میں اس پل یہ ضروری تھا کہ میں کسی طرح اسکی ماں کا دل بہلاؤں۔ میری بیوی بیٹے کی طرف مڑی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ یہ لمحہ مجھے کمزور نہ کردے یہ سوچ کے میں نے اپنا رخ موڑ لیا۔ آخری بار میں نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اس نے بھی اپنے بازو میری گردن کے گرد حائل کردیے۔ میں نے اسے مظبوطی سے تھام لیا۔ میری آنکھوں کے سامنے شادی کا وہ دن گردش کرنے لگا جب پہلی بار میں اسے ایسے ہی اٹھا کے اپنے گھر لایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ مرتے دم تک ایسے ہی ہر روز اسے اپنے سینے سے لگا کے رکھوں گا۔ میرے قدم فرش سے شائد جم سے گئے تھے اسی لیے میں بامشکل دروازے تک پہنچا۔ اسے نیچے اتارتے ہوئے میں نے اسکے کان میں سرگوشی کی "شائد ہمارے درمیان قربت کی کمی تھی" وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور میں اسے وہیں چھوڑ کے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے بار بار ایک خوف میرے دل میں گھر کررہا تھا کہ کہیں میں کمزور نہ پڑ جاؤں، اپنا فیصلہ بدل نہ دوں۔ میں نے اس گھر کے دروازے پہ بریک لگائی جہاں نئی منزل میرا انتظار کررہی تھی۔ دروازہ کھلا اور وہ مسکراتے ہوئے میرے سامنے آئی "مجھے معاف کردو۔ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا" میرے منہ سے نکلے یہ الفاظ اسکے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ وہ میرے پاس آئی اور ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے بولی "شائد تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے یا پھر تم مذاق کررہے ہو" "نہیں ۔۔۔ ! میں مذاق نہیں کررہا۔ شائد ہماری شادی شدہ زندگی بے رنگ ہوگئی ہے پر میرے دل میں اسکے لیے محبت اب بھی زندہ ہے۔ بس اتنا ہوا ہم ہر وہ چیز بھول گئے جو اس ساتھ کے لیے ضروری تھی۔ دیر سے سہی پر مجھے سب یاد آگیا ہے۔ اور ساتھ نبھانے کا وہ وعدہ بھی یاد ہے جو شادی کے پہلے دن میں نے اس سے کیا تھا" نئے ہر بندھن کو توڑ کے بعد میں پرانے بندھن کو دوبارہ جوڑنے کے لیے واپس لوٹا۔ میرے ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ تھا جس میں موجود پرچی پہ لکھا تھا "میں ہر روز ایسے ہی تمہیں اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے آؤں گا۔ صرف موت ہی مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے" میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ میرے پاس اپنے بیوی کو دینے کے لیے زندگی کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔ میں جب اس سے چند لمحوں کی دوری پہ تھا تبھی زندگی کی ڈور اسکے ہاتھوں سے سرک گئی۔ کئی مہینوں تک کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے وہ ہار چکی تھی۔ نہ اس نے کبھی اپنی تکلیف کا مجھ سے ذکر کیا اور نہ ہی مصروف زندگی نے مجھے اس سے پوچھنے کا موقع دیا۔ جب اسے میری سب سے زیادہ ضرورت تھی تب میں کسی اور کے دل میں اپنے لیے محبت کھوج رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کے اسکے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کے اسکی موت سے قبل طلاق کا اثر ہمارے بیٹے کے دل میں میرے لیے نفرت کا بیج بو دے۔ اس لیے بیتے ایک مہینے میں اس نے بیٹے کے سامنے انتہائی محبت کرنیوالے شوہر کا میرا روپ نقش کردیا۔۔۔ جو حقیقی تو نہیں تھا پر دائمی ضرور بن گیا یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے بے رنگ رشتوں میں رنگ بھرنے کی بجائے ان سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی بار یہ سمجھنے میں ہم دیر کر دیتے ہیں کہ نئے رشتے قائم کرنا زیادہ صحیح ہے یا پھر پرانے رشتوں میں رنگ بھرے جائیں۔۔۔۔؟ اسکا فیصلہ آپکے ہاتھ میں ضرور ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ آپ وقت پہ فیصلہ نہ کر سکیں اور اس تاخیر میں ہاتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خالی رہ جائیں۔ تو دیر مت کیجئے۔ .....اپنی رائے ضررو دیجئے گا منقول
×