Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'mai'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 30 results

  1. waqas dar

    qurbato k barf khano mai raha

    Qurbato k barf khano mai raha ik aztaraab. Hijer ky atish kadon mai ik sakoon hasil raha.

    © https://fundayforum.com/

  2. Kab meri takhreeb mai tera taghafil th shareek.. Kab teri taameer mai mera laho shamil raha...

    © https://fundayforum.com/

  3. Hum safar wasif ali , Gard e safar mai rah gaye... Mujh ko ahsaas e nadamat yun saare munzil raha...

    © https://fundayforum.com/

  4. عشق میں کوئی رعایت نہیں ملنے والی سوچنے کی بھی اجازت نہیں ملنے والی حُسن قاضی ھے , محبت ھے وکیلوں میں سے اس عدالت سے ضمانت نہیں ملنے والی کوئی دُرہ , کوئی کوڑا , کوئی چابک لاءو ھم کو لفظوں سے نصیحت نہیں ملنے والی اپنی ھمت سے کوئی حشر بپا کر ڈالو مانگنے سے تو قیامت نہیں ملنے والی کام سمجھو گے تو پھر عشق نہ کر پاءو گے ایسے بے گار کی اجرت نہیں ملنے والی ملنا اگر ھو تو طبیعت کا بہانہ کیسا سچ ھے یہ , آپ کی نیت نہیں ملنے والی عشق جب ھو ھی گیا ھے تو تڑپنا کیسا اس سے زیادہ تو اذیت نہیں ملنے والی
  5. View File Is dil mai base hu tum Novel by Anum Khan PDF Complete Download Is Dil Me Base Ho Tum by Anum Khan is Romantic Urdu Novel published online for Reading and PDF Download at Fundayforum. Is Dil Me Base Ho Tum Urdu Novel is based on story of 4 close friends who met again after 8 years and catch up with each other about these 8 years. They learn all the good and bitter things about their lives. They also give support to each other to resolve issues and problems. Is Dil Me Base Ho Tum is also story of Mustabashra Jamal & Ali Ayan Khan and Mahrosh Saeed & Murad Mansoor. We hope Fundayforum Readers will like this beautiful Urdu Romantic Novel and give their feedback. Submitter waqas dar Submitted 12/17/2018 Category Urdu Novels Writer/Author Anam Khan  
  6. Free

    Version

    13 downloads

    Is Dil Me Base Ho Tum by Anum Khan is Romantic Urdu Novel published online for Reading and PDF Download at Fundayforum. Is Dil Me Base Ho Tum Urdu Novel is based on story of 4 close friends who met again after 8 years and catch up with each other about these 8 years. They learn all the good and bitter things about their lives. They also give support to each other to resolve issues and problems. Is Dil Me Base Ho Tum is also story of Mustabashra Jamal & Ali Ayan Khan and Mahrosh Saeed & Murad Mansoor. We hope Fundayforum Readers will like this beautiful Urdu Romantic Novel and give their feedback.
  7. ھُوں مَیں احوال فراموش مِرے ساتھ رھو آج سچ مُچ ھُوں مَیں بےہوش مِرے ساتھ رھو میری مستی کو ہے آغوشِ محبّت کی ھوَس اور نایاب ہے آغوش مِرے ساتھ رھو اے مِرے ہم نفسانِ روِش نیم شبی ھوچُکی بادہ سر جوش مِرے ساتھ رھو بس سُنے جاؤ تُمھاری ھی کہے جاؤں گا میرے یارو ہمہ تن گوش مِرے ساتھ رھو خواب کی شب کا ھُوں مَیں ھی تو بس خوش گُفتار خواب کے شہر میں خاموش مِرے ساتھ رھو کیا خبر راہ میں مُجھ سے کوئی سر ٹکرا دے ھوں گے کُچھ اور بھی مدھوش مِرے ساتھ رھو پی کے آیا تھا مَیں پھر ساتھ تمھارا بھی دیا میکشو تُم کہ ھو کم نوش مِرے ساتھ رھو وعدہء شام کا مطلب ہے سَحر کا وعدہ وہ ہے اِک وعدہ فراموش مِرے ساتھ رھو تُم مِرے ساتھ رھو مست خیالو تم کو فِکر فردا نہ غم دوش مِرے ساتھ رھو۔۔۔! جونؔ ایلیا
  8. ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے ہر ایک لب پہ ہیں میری وفا کے افسانے تیرے ستم کو ابھی لازوال ہونا ہے بجا کہ خار ہیں لیکن بہار کی رت میں یہ طے ہے اب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے تمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ہے ہماری روح پہ جب بھی عذاب اتریں گے تمہاری یاد کو اس دل کی ڈھال ہونا ہے کبھی توروئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میں کبھی تو اسکی ہنسی کو زوال ہونا ہے ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں بس انتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پر محبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے زمانہ جس کے خم و پیچ میں الجھ جائے ہماری ذات کو ایسا سوال ہونا ہے وصی یقین ہے مجھ کو وہ لوٹ آئے گا !... اس کو بھی اپنے کیے کا ملال ہونا ہے ❤ وصی شاہ Wasi Shah
  9. Mai Ishq Ki Shidat Sy Pereshan Bohat Hun میں عشق کی شدت سے پریشان بہت ہوں اے جاں تری چاہت سے پریشان بہت ہوں ہاں شورشِ ہجراں سے یہ دل شاد بہت تھا ہاں وصل کی راحت سے پریشان بہت ہوں چاہوں تو تجھے چھوڑ دوں میں غیر کی خاطر بس نکتہ وحدت سے پریشان بہت ہوں انصاف کی دنیا ہے فقط خواب کی دنیا یا رب میں حقیقت سے پریشان بہت ہوں جگنو، یہ چاند، تارے، بہاریں صدایئں دیں اف، میں تیری شہرت سے پریشان بہت ہوں ! غنچہ یا کوئی پھول کہوں، پنکھڑی کہوں ہونٹوں کی نزاکت سے پریشان بہت ہوں کیوں اے دل کم فہم تو مانے ہے انا کی؟ آمر کی حکومت سے پریشان بہت ہوں ہر ایک عمل پہ کہے 'یوں تو نہیں، یوں۔۔۔' ناصح تیری عادت سے پریشان بہت ہوں لڑکی ہوں، پگھل جاتی ہوں نظروں کی تپش سے میں حسن کی نعمت سے پریشان بہت ہوں وہ جان تکلم نہ بنا لے مجھے مداح اس زور خطابت سے پریشان بہت ہوں دنیا یہ فقط تجھ پہ جیا! کیوں ہے مہربان لہجوں کی ملاحت سے پریشان بہت ہوں
  10. اَپنی آنکھوں کے سمندر میں اُتر جانے دے تیرا مجرم ہوں مجھے ڈوب کے مرجانے دے اے نئے دوست میں سمجھوں گا تجھے بھی اپنا پہلے ماضی کا کوئی زخم تو بھر جانے دے آگ دنیا کی لگائی ہوئی بجھ جائے گی کوئی آنسو میرے دامن پہ بکھر جانے دے زخم کتنے تیری چاہت سے ملے ہیں مجھ کو سوچتا ہوں کہ کہوں تجھ سے مگر جانے دے زندگی! میں نے اسے کیسے پرویا تھا نہ پوچھ ہار ٹوٹا ہے تو موتی بھی بکھر جانے دے ان اندھیروں سے ہی سورج کبھی نکلے گا رات کے سائے ذرا اور نکھر جانے دے
  11. تر ی پنا ہو ں میں سات رنگو ں کا جال ہوگا کمال ہوگا مرے سنور نے کا سلسلہ جب بحال ہوگا کمال ہوگا یہ جھیل آنکھیں جو کھینچتی ہیں نظر کی ڈوریں محبّتوں سے اگر میں ان میں اتر گئی تو وصال ہوگا کمال ہوگا وہ رہبر ِ کاروان ِ الفت میں نقش ِِ مقصود ِ دلبری ہوں سو اب دم ِ وصل وحشتوں کا زوال ہوگا کمال ہوگا نوید ِ شاہ ِ محب کو سن کر تمام درباری جھومتے ہیں خبر اڑی ہے کہ اس برس بھی دھما ل ہوگا کمال ہوگا میں بچ بچا کے غلا ظتو ں سے بس اس بھروسے پہ چل رہی ہوں صنم جو میرا نصیب ہوگا غزال ہوگا کمال ہوگا نگاہ ِ من میں جواں محبّت کا ابر ِ بارا ں ہے محو ِ رقصا ں جمال ِ حسن ِ نظر میں جو یر غما ل ہوگا کمال ہوگا برستی بارش اور اسکی یادیں پھر اس پہ یہ جنو ری کا موسم حرا تمھارا جو ایسے موسم میں حال ہوگا کمال ہوگا ڈاکٹر حرا ارشد
  12. ویکھ نی ماں میں بدل گیا واں روٹی ٹھنڈی کھا لینا واں گندے کپڑے پا لینا واں غصہ سارا پی جانا واں ہر دکھ تے لب سی جانا واں ساریاں گلاں جر لینا واں ٹھنڈا ہوکا بھر لینا واں پر کسے نوں کجھ نئیں دسدا ہر ویلے میں ریہندا ہنسدا اندر جھاتی کوئ نا پاوے دکھ تیرا منوں کھائ جاوے تیرے باجھ منوں کوئ نا پُچھدا ہن تے میں کسے نال نئیں رُسدا ویکھ نی ماں میں بدل گیا واں
  13. غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا دم کے جانے کا نہایت غم رہا حسن تیرا تھا بہت عالم فریب خط کے آنے پر بھی اک عالم رہا دل نہ پہنچا گوشہء داماں تلک قطرہء خوں تھا مژہ پر جم رہا سنتے ہیں لیلٰی کے خیمہ کو سیاہ اس میں مجنوں کا ولے ماتم رہا جامہء احرامِ زاہد پر نہ جا تھا حرم میں لیک نا محرم رہا زلفیں کھولے تو ٹک آیا نظر عمر بھر یاں کام دل برہم رہا اس کے لب سے تلخ ہم سُنتے رہے اپنے حق میں آبِ حیواں سَم ریا میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی ایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا صبحِ پیری شام ہونے آئی میر تو نہ جیتا یاں بہت دن کم رہا
  14. waqas dar

    Yun Duniya Mai Huta Kab Hai

    Yun Duniya Mai Huta Kab Hai یوں دنیامیں ہوتاکب ہے جوبچھڑےوہ ملتاکب ہے آئینہ کیادیکھ سکےگا وہ صورت میں اُتراکب ہے بھولےسےتم آتوگئےہو یہ توبتاؤ جاناکب ہے دیواروں پردرج ہےکیاکیا دیکھنےوالا،پڑھتاکب ہے رہبرجس پرلےکےچلاہے یہ منزل کارستہ کب ہے کیسےاس کی شکل بنےگی ہم نےاس کودیکھاکب ہے عرض نیازعشق پہ بولے "ہم نےتم سےپوچھاکب ہے" سن لیتاہےبات کبھی تو چاندتمہارےجیساکب ہے عقل نےکیاکیاسمجھایابھی عشق کسی کی سنتاکب ہے کام توکشتی ہی آئےگی دوست کسی کادریاکب ہے آجائےوہ لوٹ کےامجؔد ایسابخت ہماراکب ہے ۔ امجداسلام امجد
  15. Itni Mudat Baad Mile Hu Kin Socho Mai Ghum Rahte Hu اِتنی مُدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسن تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو محسن نقوی
  16. میں جس کے در گیا ,,,,,,,,,, وہی عالی مقام تھا سب حاکموں کے شہر میں , میں ہی عوام تھا کٹھ پتلیوں کی طرح سے ہے ,,,,,,,, اب نچا رہا ظالم ,,,,,,,,,,, کبھی یہ وقت بھی اپنا غلام تھا نکلا جو داستاں سے تو ,,,,,, اس پہ شباب تھا آیا جو لوٹ کر ہوں تو ,,,,,,,,,,, قصہ تمام تھا کتنے خلوص سے کوئی ,,,,,,,,,,, پھر اجنبی ہوا بھولا ہے گھر کا راستہ ,,,,, جس میں قیام تھا یہ دل عجیب شے ہے ,,,, سمجھتا نہیں کبھی اس کے کئے سلام کو ,,,,,,,,,, سمجھا سلام تھا مڑ کر جو دیکھوں آج ,,,,,,,,, پشیمانیاں بہت دو پل کی زندگی میں ,,,,,,, جو چاہا دوام تھا ابرک ! تمھارے بعد بھی ,,,,,,,,,,, لکھا گیا بہت پر مستند وہی تھا ,,,,,,,,,, جو پچھلا کلام تھا اتباف ابرک
  17. waqas dar

    poetry Mai Ishq Kahlata Hun

    Mai Ishq Kahlata Hun میں عشق کہلاتا ہوں Poet: ابریش انمول عشق کیا ہے میں آواراپرندہ ہو پکارہ عشق کے نام سے جاتا ہو خوش بخت ہوتے ہے جنہیں آباد کرتا ہو امومن لوگوں کو برباد کرتا ہو ہمیشہ سفر میں ہی رہتا ہو منزل کو نہ کبھی پا سکو آئی پر جب اپنی آتا ہو نوابوں کو بھی غلام بناتا ہو ایسا ہی کچھ کمال رکھتا ہو ہنستے ہوۓ کو رولاتا ہو روتے ہوۓ کو ہنساتا ہو ویسے اتنا بھی برا نہیں ہو میں ہر کسی پر ظلم نہیں کرتا ہو جن کے ستارے نہیں ملتے بس ان کو ہی تڑپاتا ہو میں عشق کہلاتا ہو
  18. Jiski Jhankaar mai Dil Ka AraamTh - Wo Tera Naam Th جسکی جھنکار میں دل کا آرام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ میرے ہونٹوں پہ رقصاں جو اک نام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،تہمتیں مجھ پہ آتی رہی ہیں کئی، ایک سے اک نئی خوبصورت مگر جو اک الزام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ دوست جتنے تھے نا آشنا ہوگئے، پارسا ہوگئے، ساتھ میرے جو رسوا سرِ عام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،صبح سے شام تک جو میرے پاس تھی، وہ تیری آس تھی شام کے بعد جو کچھ لبِ بام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،مجھ پہ قسمت رہی ہمیشہ مہرباں، دے دیا سارا جہاں پر جو سب سے بڑا ایک انعام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،غم نے تاریکیوں میں اچھالا مجھے، مار ڈالا مجھے اک نئی چاندنی کا جو پیغام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،تیرے ہی دم سے ہے یہ قتیل آج بھی شاعری کاولی اس کی غزلوں میں کل بھی جو الہام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ قتیل شفائی
  19. Ashk Daman Mai Bhare Khuwab Kamar Per Rakhye اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا Poet: Ahmad Mushtaq اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا پھر قدم ہم نے تری راہ گزر پر رکھا ہم نے ایک ہاتھ سے تھاما شب غم کا آنچل اور اک ہاتھ کو دامان سحر پر رکھا چلتے چلتے جو تھکے پاؤں تو ہم بیٹھ گئے نیند گٹھری پہ دھری خواب شجر پر رکھا جانے کس دم نکل آئے ترے رخسار کی دھوپ مدتوں دھیان ترے سایۂ در پر رکھا جاتے موسم نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا مشتاقؔ رہ گیا ساغر گل سبزۂ تر پر رکھا
  20. نعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا کاؤکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا خشت پشتِ دستِ عجز و قالب آغوشِ وداع پُر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔ جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا بس کہ ہوں غالبؔ، اسیری میں بھی آتش زیِر پا !!...موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
  21. Mai Dil Pe jabar Kero Ga, Tuje Bhula Dun Ga میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی میرے گھر کا ہی کیوں‌ مقدر ہو ؟ میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا اسی خیال میں گزری ہے شامِ درد اکثر کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا تو آسماں کی صورت ہے گر پڑے گا کبھی زمیں ہوں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا بڑھا رہی ہیں میرے دکھ، نشانیاں تیری میں تیرے خط، تری تصویر تک جلا دوں گا بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسن اس آئینے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا محسن نقوی
  22. Mere Qaatil Ko Pukaro Ky Mai Zinda Hun Abhi میرے قاتل کو پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی پھر سے مقتل کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ شب ہجر تو ساتھی ہے میری برسوں سے جاؤ سو جاؤ ستارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ پریشان سے گیسو دیکھے نہیں جاتے اپنی زلفوں کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی لاکھ موجوں میں گھرا ہوں ، ابھی ڈوبا تو نہیں مجھ کو ساحل سے پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی قبر سے آج بھی محسن کی آتی ہے صدا تم کہاں ہو میرے یارو کے میں زندہ ہوں ابھی محسن نقوی شہید
  23. IK DIYA DIL MAI JALANA BHI, BUJHA BHI DENA اک دیا دل میں جلانا بھی، بجھا بھی دینا یاد کرنا بھی اسے روز، بھلا بھی دینا کیا کہوں میری چاہت ہے یا نفرت اس کی نام لکھنا بھی میرا، لکھ کے مٹا بھی دینا پھر نہ ملنے کو بچھڑتا ہوں تجھ سے لیکن مڑ کے دیکھوں تو پلٹنے کی دعا بھی دینا خط بھی لکھنا اسے مایوس بھی رہنا اس سے جرم کرنا بھی مگر خود کو سزا بھی دینا مجھ کو رسموں کا تکلف بھی گوارا لیکن جی میں آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا اس سے منسوب بھی کر لینا پرانے قصے اس کے بالوں میں نیا پھول سجا بھی دینا صورتِ نقش ِ قدم، دشت میں رہنا محسن اپنے ہونے سے نہ ہونے کا پتہ بھی دینا
  24. Hum tu yun khush th ky ik taara girebaan mai hy ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے کیا خبر تھی کہ بہار اس کے بھی ارمان میں ہے - ایک ضرب اور بھی اے زندگیِ تیشہ بدست سانس لینے کی سکت اب بھی مری جان میں ہے - میں تجھے کھو کے بھی زندہ ہوں یہ دیکھا تو نے کس قدر حوصلہ ہارے ہوئے انسان میں ہے - فاصلے قرب کے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں میں ترے شہر سے دُور اور تُو مرے دھیان میں ہے - سرِ دیوار فروزاں ہے ابھی ایک چراغ اے نسیمِ سحری! کچھ ترے امکان میں ہے - دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے گاہے گاہے جیسے اب بھی تری آواز مرے کان میں ہے - خلقتِ شہر کے ہر ظلم کے با وصف فرازؔؔ ہائے وہ ہاتھ کہ اپنے ہی گریبان میں ہے
    Ahmad Fraz Poetry Waiting for love Sad Poetry
×