Jump to content

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to create topics, post replies to existing threads, give reputation to your fellow members, get your own private messenger, post status updates, manage your profile and so much more. If you already have an account, login here - otherwise create an account for free today!

Welcome to our forums
Welcome to our forums, full of great ideas.
Please register if you'd like to take part of our project.
Urdu Poetry & History
Here you will get lot of urdu poetry and history sections and topics. Like/Comments and share with others.
We have random Poetry and specific Poet Poetry. Simply click at your favorite poet and get all his/her poetry.
Thank you buddy
Thank you for visiting our community.
If you need support you can post a private message to me or click below to create a topic so other people can also help you out.

Search the Community

Showing results for tags 'mohsin naqvi shairy'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Categories

  • Islamic
  • Funny Videos
  • Movies
  • Songs
  • Seasons
  • Online Channels

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 7 results

  1. میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی
  2. درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد محسن نقوی دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد کوئی پیغام نہ دلدارِنوا تیرے بعد خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد لب پے اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد دھوپ عارض کی نہ زلفوں کہ گھٹا تیرے بعد ہجر کی رت ہے کہ محبس کی فضا تیرے بعد لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد پرچمِ تار گریباں کو ہوا تیرے بعد پیرہن اپنا نہ سلامت نہ قبا تیرے بعد بس وہی ہم ہیں وہی صحرا کی ردا تیرے بعد نکہت و نے ہے نہ دستِ قضا تیرے بعد شاخِ جاں پر کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد دل نہ مہتاب سے اجلا نہ جلا تیرے بعد ایک جگنو تھا چپ چاپ بجھا تیرے بعد درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد کونسے رنگوں کے بھنور کیسی حنا تیرے بعد اپنا خون میری ہتھیلی پے سجا تیرے بعد تجھ سے بچھڑا تو مرجھا کے ہوا برد ہوا کون دیتا مجھے کھلنے کی دعا تیرے بعد ایک ہم ہیں کہ بے برگ و نوا تیرے بعد ورنہ آباد ہے سب خلقِ خدا تیرے بعد ایک قیامت کی خراشیں میرے چہرے پہ سجیں ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد اے فلکِ ناز میری خاک نشانی تیری میں نے مٹی پہ تیرا نام لکھا تیرے بعد تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد یہ الگ بات ہے کہ افشاں نہ ہوا تو ورنہ میں نے کتنا تجھے محسوس کیا تیرے بعد ملنے والے کئی مفہوم پہن کر آئے کوئی چہرہ بھی نہ آنکھوں نے پڑھا تیرے بعد بجھے جاتے ہیں خد و خال مناظر افق پھیلتا جاتا ہے خواہش کا خلا تیرے بعد میرے دکھتی ہوئی آنکھوں سے گواہی لینا میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد سہہ لیا دل نے تیرے بعد ملامت کا عذاب ورنہ چبھتی ہے رگِ جاں میں ہوا تیرے بعد جانِ محسن میرا حاصل یہی مبہم سطریں شعر کہنے کا ہنر بھول گیا تیرے بعد ‏ ‏
  3. Itni Mudat Baad Mile Hu Kin Socho Mai Ghum Rahte Hu اِتنی مُدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسن تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو محسن نقوی
  4. بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی نہ وہ مِلتا ہے نہ مِلنے کا اِشارہ کوئی کیسے اُمّید کا چمکے گا سِتارہ کوئی حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبّت کرنا جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پُوچھا ہے کیا کہَیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی سب تعلّق ہیں ضرورت کے یہاں پر، مُحسنؔ نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی محسؔن نقوی
  5. Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy وہ اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں رواں سے بسے ہوۓ ہیں ابھی نظر میں سبھی مناظر دھواں دھواں سے یہ عکس داغ شکست پیماں وہ رنگ زخم خلوص یاراں میں غمگساروں میں سوچتا ہوں کہ بات چھیڑوں کہاں کہاں سے؟ یہ سنگریزے عداوتوں کے وہ آبگینے سخاوتوں کے دل مسافر قبول کر لے، ملا ہے جو کچھ جہاں جہاں سے بچھڑنے والے بچھڑ چلا تھا تو نسبتیں بھی گنوا کے جاتا ترے لیے شہر بھر میں اب بھی میں زخم کھاؤں زباں زباں سے مری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ہو کے آیا وہاں وہاں سے تو ہمنفس ہے نہ ہمسفر ہے کسے خبر ہے کہ تو کدھر ہے؟ میں دستکیں دے کے پوچھ بیٹھا مکیں مکیں سے مکاں مکاں سے ابھی محبت کا اسم اعظم لبوں پہ رہنے دے جان محسن! ابھی ہے چاہت نئی نئی سی، ابھی ہیں جذبے جواں جواں سے محسن نقوی
  6. .درِ قفس سے پرے جب صبا گزرتی ہے کسے خبر کہ اسیروں پہ کیا گزرتی ہے تعلقات ابھی اس قدر نہ ٹوٹے تھے کہ تیری یاد بھی دل سے خفا گزرتی ہے وہ اب ملے بھی تو ملتا ہے اس طرح جیسے بجھے چراغ کو چھو کر ہوا گزرتی ہے فقیر کب کے گئے جنگلوں کی سمت مگر گلی سے آج بھی ان کی صدا گزرتی ہے یہ اہلِ ہجر کی بستی ہے احتیاط سے چل مصیبتوں کی یہاں انتہا گزرتی ہے بھنور سے بچ تو گئیں کشتیاں مگر اب کے دلوں کی خیر کہ موجِ بلا گزرتی ہے نہ پوچھ اپنی انا کی بغاوتیں محسنؔ درِ قبول سے بچ کر دعا گزرتی ہے محسن نقوی
  7. اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم ایک ساعت بھی شبِ وَصل کی بھولی نہ ہمیں آج بھی تیری ملن رات پہ مجبور ہیں ہم چشمِ تر قَلب حزیِں آبلہ پاؤں میں لئے تری الفت سے ترے پیار سے معمور ہیں ہم انکی محفل میں ہمیں اِذنِ تکّلم نہ ملا ان کو اندیشہ رہا سرمد و منصور ہیں ہم یوں ستاروں نے سنائی ہے کہانی اپنی گویا افکار سے جذبات سے محروم ہیں ہم اس نے لکھا ہے جہاں میں کریں شکوہ کس سے دل گرفتہ ہیں غم و درد سے بھی چور ہیں ہم تیرا بیگانوں سا ہم سے ہے رویہ محسن باوجود اس کے ترے عشق میں مشہور ہیں ہم محسن نقوی
×
×
  • Create New...