Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'nazm'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 104 results

  1. کب اس کا وصال چاہیے تھا بس اک خیال چاہیے تھا کب دل کو جواب سے غرض تھی ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا شوق اک نفس تھا اور وفا کو پاسِ مہ و سال چاہیے تھا اک چہرہِ سادہ تھا جو ہم کو بے مثل و مثال چاہیے تھا اک کرب میں ذات و زندگی میں ممکن کو مُحال چاہیے تھا میں کیا ہوں بس اک ملالِ ماضی اس شخص کو حال چاہیے تھا ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو کچھ دن تو ملال چاہیے تھا وہ جسم ، جمال تھا سراپا اور مجھ کو جمال چاہیے تھا وہ شوخِ رمیدہ مجھ کو اپنی بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا تھا وہ جو کمال' شوقِ وصلت خواہش کو زوال چاہیے تھا جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے وہ سال بہ سال چاہیے تھا جون_ایلیاء
  2. لہو کی آنکھ سے پڑھ میرے ضبط کی تحریر لبوں پہ لفظ نہ گن _____ کپکپاہٹیں پہچان www.fundayforum.com ‏تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے ― جون ایلیا
  3. تم کہ سنتے رہے اوروں کی زبانی لوگو ہم سُناتے ہیں تمہیں اپنی کہانی لوگو کون تھا دشمنِ جاں وہ کوئی اپنا تھا کہ غیر ہاں وہی دُشمنِ جاں دلبرِ جانی لوگو زُلف زنجیر تھی ظالم کی تو شمشیر بدن رُوپ سا رُوپ جوانی سی جوانی لوگو سامنے اُسکے دِکھے نرگسِ شہلا بیمار رُو برو اُسکے بھرے سَرو بھی پانی لوگو اُسکے ملبوس سے شرمندہ قبائے لالہ اُس کی خوشبو سے جلے رات کی رانی لوگو ہم جو پاگل تھے تو بے وجہ نہیں تھے پاگل ایک دُنیا تھی مگر اُس کی دِوانی لوگو ایک تو عشق کیا عشق بھی پھر میر سا عشق اس پہ غالب کی سی آشفتہ بیانی لوگو ہم ہی سادہ تھے کِیا اُس پہ بھروسہ کیا کیا ہم ہی ناداں تھے کہ لوگوں کی نہ مانی لوگو ہم تو اُس کے لئے گھر بار بھی تج بیٹھے تھے اُس ستمگر نے مگر قدر نہ جانی لوگو کس طرح بھُول گیا قول و قسم وہ اپنے کتنی بے صرفہ گئی یاد دہانی لوگو اب غزل کوئی اُترتی ہے تو نوحے کی طرح شاعری ہو گئی اب مرثیہ خوانی لوگو شمع رویوں کی محبت میں یہی ہوتا ھے رہ گیا داغ فقط دل کی نشانی لوگو ( احمد فراز ) AHMAD FRAZ
  4. Urooj Butt

    بھلے دنوں کی بات ہے

    بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن عام ہو نہ دیکھنے میں عام سینہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سا سفر لگے کوئی بھی رت ہو اسکی چھب، فضا کا رنگ و روپ تھی وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی، وہ سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہےنہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہونہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے ۔ ۔ ۔ نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو کبھی تو بات بھی خفی، کبھی سکوت بھی سخنکبھی تو کشت زاعفراں، کبھی اداسیوں کا بنسنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جان فزا تو کیا ،فراق جانگسسل کی بھی سوایک روز کیا ہوا ، وفا پہ بحث چھڑ گئی میں عشق کو امر کہوں ،وہ میری بات سے چڑ گئی میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے کہ عمر بھر کے ساتھ کو بدتر از ہوس کہےشجر ہجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پابہ گل رہےنہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں میں کوئی پینٹنگ نہیں کی ایک فریم میں رہوں وہی جو من کا میت ہو اسی کہ پریم میں رہوںنہ یس کو مجھ پر مان تھا، نہ مجھ کو اس پہ زعم ہیجب عہد ہی کوئی نہ ہو، تو کیا غم شکستی سو اپنا اپنا راستہ خوشی خوشی بدل لیا وہ اپنی راہ چل پڑی ، میں اپنی راہ چل دیا بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اس کی دوستی اب اس کی یاد رات دن نہیں مگر کبھی کبھی
  5. Ik hunar hai jo kar gaya hon mein Sab ke dil se utar gaya hon mein Kaise apni hansi ko zabt karon Sun raha hon ki ghir gaya hon mein Kya bataon ki mar nahin paata Jeeteji jab se mar gaya hon mein Ab hai bas apna samna darpaish Har kisi se guzar gaya hon mein Wahi naaz-o-ada wahi ghamze Sar-ba-sar aap par gaya hon mein Ajab ilzam hon zamane ka Ki yahan sab ke sar gaya hon mein Kabhi ḳhud tak pohanch nahin paaya Jab ki waan umar bhar gaya hon mein Tum se janan mila hon jis din se Be-tarah ḳhud se dar gaya hon mein Koo-e-janan main sog barpa hai Ki achanak sudhar gaya hon mein
  6. ! پھڑ ونجھلی بدل تقدیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا تیری اک ذات نال وسدا جہان اے تن من کیتا اساں تیتھوں قربان اے ! سچے پیار دے گواہ پنج پیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا اکھاں تینوں ویکھیا تے ہو گیاں تیریاں میریاں تے سانہواں ہن رہیاں نہیں میریاں ! وِسے من وچ تیری تصویر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا بھلا ہووے رانجھنا بختاں دے تارے دا راہ جہنے دسیا اے تخت ہزارے دا ! میری جند جان تیری جاگیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھا مجھیاں دا چاک نئیں توں جگ تیرا چاک اے دنیا دا روپ تیرے جوڑیاں دی خاک اے ! تیرے جوڑیاں اچ ہووے گی اخیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا کیدو بھانویں دیندا رہوے پہرا ساڈے پیار دا سنگ تیرا ہووے تے کی خوف اے سنسار دا ! وے میں رسماں دی توڑاں گی زنجیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا بنا ساقی جس طرح میخانیاں دے حال نیں تیرے بنا بیلے دیاں رونقاں محال نیں ! مر جاواں جے میں بدلاں ضمیر رانجھنا ! تیری ونجھلی تے لگی ہوئی ہیر رانجھنا
    Heer Ranjha Ranjha Wallpaper vanjli
  7. اک پہیلی زندگی چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن ’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘ وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن سودائے آذری میں ہوئے صنم گری وہ بت پرستیوں میں عبادت کے رات دِن اِک سادہ دِل ، دیارِ کرشمہ گراں میں گم اِک قریۂ طلسم میں حیرت کے رات دِن لب ہائے نارسیدہ کی لرزش سے جاں بلب صہبائے ناچشیدہ کی لذت کے رات دِن روئے نگار و چشمِ غزالیں کے تذکرے گیسوئے یار و حرف و حکایت کے رات دِن ناکردہ کاریوں پہ بھی بدنامیوں کا شور اختر شماریوں پہ بھی تہمت کے رات دِن سوداگرانِ منبر و مکتب سے رو کشی جاں دادگانِ دانش و حکمت کے رات دِن اہلِ قبا و اہلِ ریا سے گریز پا وہ واعظانِ شہر سے وحشت کے رات دِن میر و انیس و غالب و اقبال سے الگ راشد ، ندیم ، فیض سے رغبت کے رات دِن فردوسی و نظیری و حافظ کے ساتھ ساتھ بیدل ، غنی ، کلیم سے بیعت کے رات دِن شیلے کا سحر ، کیٹس کا دُکھ ،بائرن کی دھج ان کافرانِ عشق سے نسبت کے رات دِن تشکیک و ملحدانہ رویے کے باوجود رومی سے والہانہ عقیدت کے رات دِن جیسے مئے سخن سے صراحی بھری ہوئی زورِ بیان و ُحسنِ طبیعت کے رات دِن یاروں سے شاعرانہ حوالے سے چشمکیں غیروں سے عاشقانہ رقابت کے رات دِن شعری سفر میں بعض بزرگوں سے اختلاف پیرانِ میکدہ سے بغاوت کے رات دِن رکھ کر کتابِ عقل کو نسیاں کے طاق پر وہ عاشقی میں دِل کی حکومت کے رات دِن ہر روز ، روزِ ابر تھا ہر رات چاند رات آزاد زندگی تھی ، فراغت کے رات دِن وہ صبح و شام دربدری ، ہم سنوں کے ساتھ آوارگی و سیر و سیاحت کے رات دِن اِک محشرِ خیال کے ہجراں میں کانٹا تنہائی کے عذاب ، قیامت کے رات دِن اک لعبتِ جمال کو ہر وقت سوچنا اور سوچتے ہی رہنے کی عادت کے رات دِن اِک رازدارِ خاص کو ہر وقت ڈھونڈنا بے اعتباریوں میں ضرورت کے رات دِن وہ ہر کسی سے اپنا ہی احوال پوچھنا اپنے سے بھی تجاہل و غفلت کے رات دِن بے وجہ اپنے آپ کو ہر وقت کوسنا بے سود ہر کسی سے شکایت کے رات دِن رُسوائیوں کی بات تھی رُسوائیاں ہوئیں رُسوائیوں کی عمر میں شہرت کے رات دِن اِک دُشمنِ وفا کو بھلانے کے واسطے چارہ گروں کے پند و نصیحت کے رات دِن پہلے بھی جاں گُسل تھے مگر اس قدر نہ تھے اِک شہرِ بے اَماں میں سکونت کے رات دِن اس دولتِ ہنر پہ بھی آزارِ مفلسی اس روشنیٔ طبع پہ ظلمت کے رات دِن پھر یہ ہوا کہ شیوئہ دِل ترک کر دیا اور تج دیئے تھے ہم نے محبت کے رات دِن ہر آرزو نے جامۂ حسرت پہن لیا پھر ہم تھے اور گوشۂ عزلت کے رات دِن ناداں ہیں وہ کہ جن کو ہے گم نامیوں کا رنج ہم کو تو راس آئے نہ شہرت کے رات دِن فکرِ معاش ، شہر بدر کر گئی ہمیں پھر ہم تھے اور قلم کی مشقت کے رات دِن ’’خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا‘‘ اور مدعی تھے صنعت و حرفت کے رات دِن کیا کیا ہمیں نہ عشق سے شرمندگی ہوئی کیا کیا نہ ہم پہ گزرے ندامت کے رات دِن آکاس بیل پی گئی اِک سرو کا لہو آسیب کھا گیا کسی قامت کے رات دِن کاٹی ہے ایک عمر اسی روزگار میں برسوں پہ تھے محیط ، اذیت کے رات دِن ساماں کہاں کہ یار کو مہماں بلایئے اِمکاں کہاں کہ دیکھئے عشرت کے رات دِن پھرتے تھے میر خوار کوئی پوچھتا نہ تھا قسمت میں جب تلک تھے قناعت کے رات دِن سو یہ بھی ایک عہدِ زیاں تھا ، گزر گیا کٹ ہی گئے ہیں جبرِ مشیت کے رات دِن نوواردانِ شہرِ تمنا کو کیا خبر ہم ساکنانِ کوئے ملامت کے رات دِن احمد فراز
  8. سال بہ سال ، یہ سال بدل جاتے ہیں ایّامِ زیست کمال ، زوال بدل جاتے ہیں اِک لمحہ خاص بھی ہوجاتے ہیں خاک لوگ بھی کیا کیا ، کمال بدل جاتے ہیں مُحبتیں ، عشق ، نفرتیں ، دائمی جُدائیاں دھیرے دھیرے سب خیال بدل جاتے ہیں تشنہ لبیِ مانندِ دشت صحرا جاتی نہی جواب مل جائیں تو سوال بدل جاتے ہیں سمجھ جاؤں ، جب فریب یار و اغیار کے سب یہ میرے پھر نئی چَال بدل جاتے ہیں مطلب ہوجائیں پورے ، جب بے وفاؤں کے حسبِ ضرورت ، یہ حال بدل جاتے ہیں پہلو میں روز ، نئے لوگ بدلتے ہوئے یہ لوگ سمتیں جنوب سے شمال بدل جاتے ہیں خواہشِ وصلِ حُسن کو جب مل جائے تعبیر پھر نظریں ، زاویہ جمال بدل جاتے ہیں جفا ، دھوکہ ، فریب ، جھوٹ ، خود غرضی مطلب ، ضرورتیں ، رویّے ، اشکال بدل جاتے ہیں
  9. جاؤ قرارِ بے دِلاں ! شام بخیر شب بخیر صحن ھُوادھواں دھواں !شام بخیرشب بخیر شامِ وصال ہے قریب ، صبح کمال ہے قرب پھرنہ رہیں گےسرگراں !شام بخیرشب بخیر وجد کرے گی زندگی،جسم بہ جسم،جاں بہ جاں جسم بہ جسم، جاں بہ جاں !شام بخیرشب بخیر اے میرےشوق کی اُمنگ ، میرےشباب کی ترنگ تجھ پہ شفق کاسائباں ! شام بخیر شب بخیر تُومیری شاعری میں ہے، رنگ طرازوگُل فشاں تیری بہار بے خزاں ! شام بخیر شب بخیر تیراخیال خواب خواب، خلوتِ جاں کی آب وتاب جسم جمیل و ناتواں ! شام بخیر شب بخیر ہے میرا نام ارجمند ، تیرا حصار سر بلند بانوشہرجسم وجاں ! شام بخیرشب بخیت دید سے جانِ دید تک، دل سے رُخِ امید تک کوئی نہیں ہےدرمیاں ! شام بخیر شب بخیر ھو گئ دیر جاؤ تم ، مجھ کو گلے لگاؤ تم تُومیری جاں ہے،میری جاں!شام بخیرشب بخیر شام بخیر شب بخیر، موجِ شمیمِ پیرہن تیری مہک رہےگی یاں!شام بخیرشب بخیر جون ایلیا
  10. تم کہ سنتے رہے اوروں کی زبانی لوگو ہم سُناتے ہیں تمہیں اپنی کہانی لوگو کون تھا دشمنِ جاں وہ کوئی اپنا تھا کہ غیر ہاں وہی دُشمنِ جاں دلبرِ جانی لوگو زُلف زنجیر تھی ظالم کی تو شمشیر بدن رُوپ سا رُوپ جوانی سی جوانی لوگو سامنے اُسکے دِکھے نرگسِ شہلا بیمار رُو برو اُسکے بھرے سَرو بھی پانی لوگو اُسکے ملبوس سے شرمندہ قبائے لالہ اُس کی خوشبو سے جلے رات کی رانی لوگو ہم جو پاگل تھے تو بے وجہ نہیں تھے پاگل ایک دُنیا تھی مگر اُس کی دِوانی لوگو ایک تو عشق کیا عشق بھی پھر میر سا عشق اس پہ غالب کی سی آشفتہ بیانی لوگو ہم ہی سادہ تھے کِیا اُس پہ بھروسہ کیا کیا ہم ہی ناداں تھے کہ لوگوں کی نہ مانی لوگو ہم تو اُس کے لئے گھر بار بھی تج بیٹھے تھے اُس ستمگر نے مگر قدر نہ جانی لوگو کس طرح بھُول گیا قول و قسم وہ اپنے کتنی بے صرفہ گئی یاد دہانی لوگو اب غزل کوئی اُترتی ہے تو نوحے کی طرح شاعری ہو گئی اب مرثیہ خوانی لوگو شمع رویوں کی محبت میں یہی ہوتا ھے رہ گیا داغ فقط دل کی نشانی لوگو ( احمد فراز )
  11. پیام آئے ہیں اُس یارِ بے وفا کے مجھے جسے قرار نہ آیا کہیں، بُھلا کے مجھے جدائیاں ہوں تو ایسی کہ عمر بھر نہ مِلیں فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم کہ لے اڑا ہے کوئی دوش پر ہَوا کے مجھے میں خود کو بُھول چکا تھا، مگر جہاں والے اُداس چھوڑ گے آئنہ دِکھا کے مجھے تمہارے بام سے اب کم نہیں ہے رفعتِ دار جو دیکھنا ہو تو دیکھو نظر اُٹھا کے مجھے کھنچی ہُوئی ہے مِرے آنسوؤں میں اِک تصویر فراز! دیکھ رہا ہے وہ، مُسکرا کے مجھے احمد فراز
  12. :کلام احمد فرازؔ تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو! کرّۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ ! رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
  13. Hareem Naz

    nazm bht yaad ati ha

    بہت یاد آتی ہیں __ باتیں پرانی یہی زندگی ___ قہقہے شادمانی ہمیشہ حسینوں سے آنکھیں لڑانی سدا کامیابی، سدا کامرانی بہت یاد آتی ہیں باتیں پُرانی وہ دن رات کوئے نگاراں کے پھیرے وہ کمرے فیروزاں وہ زینے اندھیرے وہ زلفوں کے حلقے وہ بانہوں کے گھیرے وہیں مدتوں جا کے راتیں بیتانی بہت یاد آتی ہیں __ باتیں پرانی سجی خلوتوں میں کبھی شغلِ مینا وہ محبوب خوش ادا خوش قرینہ کبھی اس کے ہاتھوں سے ضد کر کے پینا کبھی اپنے ہاتھوں سے اسکو پلانی بہت یاد آتی ہیں __ باتیں پرانی وہ سردی کی راتیں _ وہ جاڑے کا جوبن لحافوں میں کم سِن دلوں کی وہ دھڑکن چھڑانا اُن ہاتھوں سے اپنا وہ دامن وہ آنگن میں مہکی ہوئی رات رانی بہت یاد آتی ہیں __ باتیں پرانی نہ وہ دل نہ وہ دل کی نادانیاں ہیں نہ وہ ہم نہ _ وہ بزم سامانیاں ہیں نہ وہ دوستوں کی گل افشانیاں ہیں نہ وہ فکرِ رنگیں کی جولانیاں ہیں گئی شعر گوئی رہی نوحہ خوانی وہ بیتی جوانی__ وہ بیتی جوانی بہت یاد آتی ہیں __ باتیں پرانی
  14. اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ اے شبِ فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز ہے ہے خدا نہ کرے کہ تجھے بھی رلائیں ہم احمد فراز
  15. Wohi Hisaab e Tamana Hai Ab Bhi Aa Jao - Joan Elia وہی حساب تمنا ہے اب بھی آ جاؤ وہی ہے سر وہی سودا ہے ، اب بھی آ جاؤ جسے گئے ہوے خود سے ایک زمانہ ہوا وہ اب بھی تم میں بھٹکتا ہے, اب بھی آ جاؤ وہ دل سے ہار گیا ہے پر اپنی دانست میں وہ شخص اب بھی یگانہ ہے, اب بھی آ جاؤ میں خود نہیں ہوں کوئی اور ہے میرے اندر جو تم کو اب بھی ترستا ہے, اب بھی آجاؤ میں یاں سے جانے ہی والا ہوں اب ، مگر اب تک وہی ہے گھر وہی حجرہ ہے ، اب بھی آ جاؤ وہی کشاکش احساس ہے با ہر لمحہ وہی ہے دل وہی دنیا ہے ،اب بھی آ جاؤ تمہیں تھا ناز بہت جس کی نام داری پر وہ سارے شہر میں رُسوا ہے اب بھی آ جاؤ یہاں سے ساتھ ہی خوابوں کے شہر جائیں گے وہی جُنوں، وہی صحرا ہے، اب بھی آ جاؤ مری شراب کا شہرہ ہے اب زمانے میں سو یہ کرم ہے تو کس کا ہے، اب بھی آ جاؤ یہ طور !جان جو ہے میری بد شرابی کا مجھے بھلا نہیں لگتا ہے، اب بھی آ جاؤ کسی سے کوئی بھی شکوا نہیں مگر تم سے ابھی تلک مجھے شکوا ہے، اب بھی آ جاؤ وہ دل کہ اب ہے لُہو تُھوکنا ہُنر جس کا وہ کم سے کم ابھی زندہ ہے ، اب بھی آ جاؤ نہ جانے کیا ہے کہ اب تک مرا خود اپنے سے وہی جو تھا وہی رشتہ ہے، اب بھی آ جاؤ وجود ایک تماشا تھا ہم جو دیکھتے تھے وہ اب بھی ایک تماشا ہے، اب بھی آجاؤ ابھی صدئے جرس کا نہیں ہوا آغاز غبار ابھی نہیں اُٹّھا ہے، اب بھی آ جاؤ ہے میرے دل کی گزارش کہ مجھ کو مت چھوڑو یہ میری جاں کا تقاضا ہے، اب بھی آ جاؤ کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آ جاؤ میں لڑکھڑاتا ہوا موت کی طرف ہوں رواں بس آخری ہے جو لمحہ ہے، اب بھی آ جاؤ وہ جون کون ہے جانے جو کچھ نہیں سنتا ہے جانے کون جو کہتا ہے، اب بھی آ جاؤ باباِ جون
  16. حسن کی جنس خریدار لیے پھرتی ہے ساتھ بازار کا بازار لیے پھرتی ہے در بدر حسرت دل دار لیے پھرتی ہے سر ہر کوچہ و بازار لیے پھرتی ہے عدم آباد میں آنے کا سبب ہے ظاہر جستجوئے کمر یار لیے پھرتی ہے دل سوزاں سے نہیں کوئی نشان ظلمت مشعل آہ شب تار لیے پھرتی ہے آتے ہی فصل خزاں بلبل شیدا بہکی ہر طرف گل کی جگہ خار لیے پھرتی ہے دیر و مسجد میں تمنائے زیارت کس کی تم کو اے کافر و دیں دار لیے پھرتی ہے دشت میں قیس کو کیا آئے نظر جب لیلیٰ ساتھ میں گرد کی دیوار لیے پھرتی ہے دور ساغر میں نہیں کف سر بادہ ساقی دخت رز شیخ کی دستار لیے پھرتی ہے خون فرہاد سے بے چین ہے روح شیریں بے ستوں سے بھی گراں بار لیے پھرتی ہے گل سے کیوں کہہ نہیں دیتی ہے پیام بلبل اپنے سر باد صبا بار لیے پھرتی ہے مانتا ہی نہیں لیلیٰ کہ کرے کیا لیلیٰ ساتھ میں قیس کو ناچار لیے پھرتی ہے صدمہ پہنچا کسی گل کو کہ چمن میں بلبل خوں میں ڈوبی ہوئی منقار لیے پھرتی ہے کشتۂ ناز کی تربت نہ ملے گی بلبل پھول منقار میں بے کار لیے پھرتی ہے طائر دل کو ہوائے خم زلف صیاد صورت مرغ گرفتار لیے پھرتی ہے جنبش پا سے ہے گلیوں میں قیامت برپا ساتھ محشر تری رفتار لیے پھرتی ہے کوہ کن خود تو سبک دوش ہوا، پر شیریں سر پہ الزام کا کہسار لیے پھرتی ہے دشت غربت میں نہیں پھرتا ہوں خود آوارہ گردش چرخ ستم گار لیے پھرتی ہے ساتھ دنیا کا نہیں طالب دنیا دیتے اپنے کتوں کو یہ مردار لیے پھرتی ہے حسرت دید اثرؔ حضرت آتشؔ کی طرح پیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے
  17. Silsilay Tor Gaya Woh Sabhi Jatay Jatay Warna Itne To Marasim The Ke Aate Jate Shikwa e Zulmat e Shab Sey Tou Behter Tha Apney Hissay Ki Koi Shamma Jalatay Jatay Kitna Asaan Tha Teray Hijr Mein Marna Janaa Phir Bhee Ik Umr Lagi Jaan Se Jatay Jatay Jashn e Maqtal Hi Na Barpa Hua Warna Hum Pa’ Bajoulaan Hi Sahi, Nachte Gaate Jatay Us Ki Woh Jane Usey Pass e Wafa Tha Keh Na Tha Tum Apni Taraf Se To Faraz Nibhate Jate. Silsilay Tor Gaya Woh Sabhi Jatay Jatay Warna Itne To Marasim The Ke Aate Jate...
  18. Ganwaai kis ki tamana mein zindagi mainey... wo koun hai jisey dekha nhi kabhi mainey... tera khayal to hai par tera wajood nahi.n... tere liye to ye mehfil sajai thi mainey... tere adam ko ganwara na tha wajood mera... so apni baikh kani mein kami na ki mainey... hai meri zaat sey mansoob sad fasana_e_ishq... aur ek satar bhi ab tak nahi.n likhi mainey khud apney ashwa_o_andaaz ka shaheed hon mein... khud apni zaat sey barti hai berukhi mainey... merey hareef merey yka taziyon pey nisar... tmaam umar haleefon sey jang ki mainey... kharash_e_naghma sey seena chila hoa hai mera... fugaan k tark na ki naghma parwari mainey... dawa sey faida maqsood tha hi kab k faqat... dawa k shok meinseyht tbaah ki mainey... zbaana zan tha jigar soz tushnagi ka azaab... so jof_e_seena mein dozakh andail li mainey... sarvar_e_may pey b ghaliib raha shaoor mera... k har reayat_e_gham zehen mein rakhi mainey... gham_e_shaoor koi dam to mujh ko mohlat dey... tamaam umr jalaya hai apna ji mainey.. ilaaj ye hai k majboor kar diya jaaon... wagarna yun to kisi ki nahi suni mainey... raha mein shahid_e_tanha nasheen_e_msand_e_gham... aur apne karb_e_anaa sey gharaz rakhi mainey... Jaun Elia
  19. Zarnish Ali

    poetry جو چل سکو تو....

    ﺟﻮ ﭼﻞ ﺳﮑﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﺎﻝ ﭼﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻤﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ____ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﺷﻌﻠﮕﯽ ﮨﻮ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺳﻮ ﻻﺯﻣﯽ ﺗﮭﺎ ____ ﺗﺮﮮ ﭘﯿﺮﮨﻦ ﮐﺎ ﺟﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻣﺎﮞ ____ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﺁﭘﮩﻨﭽﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ____ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮕﺎ ____ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺳﺠﯽ ﺳﺠﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﻮﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻮﺭﺧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻘﺎﺑﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ____ ﻣﺤﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍِﺳﯽ ﺳﺎﻋﺖِ ﺯﻭﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ____ ﺳﺒﮭﯽ ﺳﻮﺭﺟﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ____ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﺍﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﮞ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ____ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ
  20. Momina Haseeb

    poetry Mein ab bikhar jaun tu behtar ha

    سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
  21. Mere Qaatil Ko Pukaro Ky Mai Zinda Hun Abhi میرے قاتل کو پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی پھر سے مقتل کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ شب ہجر تو ساتھی ہے میری برسوں سے جاؤ سو جاؤ ستارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ پریشان سے گیسو دیکھے نہیں جاتے اپنی زلفوں کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی لاکھ موجوں میں گھرا ہوں ، ابھی ڈوبا تو نہیں مجھ کو ساحل سے پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی قبر سے آج بھی محسن کی آتی ہے صدا تم کہاں ہو میرے یارو کے میں زندہ ہوں ابھی محسن نقوی شہید
  22. Anabiya Haseeb

    poetry Umer guzregi imtihan men kiya,,,

    umar guzregi imtehaan mein kya daagh hi denge mujh ko daan mein kya meri har baat be asar hi rahi naqs hai kuch mere bayaan mein kya mujh ko to koi tokta bhi nahin yahi hota hai khandaan mein kya apni mehroomiyan chhupate hain hum ghareebon ki aan baan mein kya khud ko jaana juda zammane se aa gaya tha mere gumaan mein kya bolte kyun nahin mere haqq mein aable paR gaye zubaan mein kya dil kay aate hain jis ko dhyaan bohot khud bhi aata hai apne dhyaan mein kya woh mile to yeh poochhna hai mujhe ab bhi hun main teri amaan mein kya yun jo takta hai aasmaan ko tu koi rehta hai aasmaan mein kya yeh mujhe chain kyun nahin parta aik hi shakhs tha jahan mein kya....
  23. Anabiya Haseeb

    poetry Zabt kar ke hansi ko bhool geya..

    Zabt kar ke hansi ko bhool geya,Main to us zakhm hi ko bhool geya, Zaat-dar-zaat hamsafar reh kar, Ajnabi ajnabi ko bhool geya, Subh tak vajh-e-jaan-kani thi jo baat, Main usay shaam hi ko bhool geya, Ehd-e-vabastagi guzaar ke main, Vajh-e-wabastagi ko bhool geya, Sab daleelen to mujh ko yaad rahin, Behss kya thi ussi ko bhool geya main, Kyun na ho naaz is zehaanat par, Ek main har kisi ko bhool geya, Sab se pur-amn waaqiya hai yeh, Aadmi aadmi ko bhool geya, Qehqaha maartay hi deewana, Har gham-e-zindagi ko bhool geya, Kya qayamat hui agar ik shakhss, Apni khush-qismati ko bhool geya, Sab buray mujh ko yaad rehte hain, Jo bhalaa tha usii ko bhool geya, Un se vaada to kar liya lekin, Apni kam-fursati ko bhool geya, Khawb-ha-khawb jis ko chaha tha, Rang-ha-rang ussi ko bhool geya, Bastiyo ab to rasta dedo, Ab to main us gali ko bhool geya, Us ne goya mujhi ko yaad rakha, Main bhi goya usi ko bhool geya, Yaani tum woh ho waqeyi ? Hadh hai, Main to sach-much sabhi ko bhool geya, Ab to har baat yaad rehti hai, Ghaliban main kisi ko bhool geya, Us ki khushiyon se jalne wala Jaun, Apni eeza-dahi ko bhool geya.. Zabt kar ke hansi ko bhool geya..
  24. سراپا اشک ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
×