Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Search the Community

Showing results for tags 'poet'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Location


Interests

Found 37 results

  1. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  2. Short Biography of Nasir Kazmi a Poet of Modern Urdu Ghazal ناصر کاظمی 8 دسمبر، 1925 ہندوستانی پنجاب کے شہر امبالہ میں ایک ہندوستانی رائل آرمی کے ایک صوبیدار میجر محمد سلطان کے گھر پیدا ہوئے والد کی نوکر ی کی وجہ سے ناصر کو کئی شہروں میں رہنے کا موقع ملتا رہا۔ مگر ناصر کاظمی نے اپنا میٹرک کا امتحان مسلم ہائی اسکول انبالہ سے پاس کیا۔ پھر کالج کی تعلیم کے لیے وہ لاہور کے اسلامیہ کالج آگئے جہاں پر وہ ہاسٹل میں رہائش پزیر رہے۔باوجود اس کے ناصر کاظمی رفیق خاور کے چہیتے شاگرد رہے ناصر کا دل جانے کیو ں پڑھائی سے اچاٹ ہوگیا ۔۔ اور نا صر نے اپنا بی اے بھی ادھورا چھوڑ دیا اور تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا۔ پاکستان بننے کے بعد ناصر کاظمی لاہور منتقل ہوگئے مگر جلد ہی ان کے سر سے والدین کا سایہ شفقت اٹھ گیا۔ جس وجہ سے وہ بہت اداس اور ملول رہنے لگے۔ ناصر کافی عرصہ تک لاہور سے شائع ہونے والے مجلات سے بھی منسلک رہے۔ پھر یہ سب چھوڑ کی ریڈیو پاکستان سے ایسے منسلک ہوئے کے پھر ریڈیو پاکستان اور شاعری کے ہوکر رہے گئے۔ ناصر نے اپنی شعر گوئی کا آغاز تو پاکستان بننے سے پہلے ہی کر دیا تھا۔ناصر کی شعر گوئی کا آغاز ۱۹۴۰ء سے ہوا۔حفیظ ہوشیارپوری سے تلمذ حاصل تھا۔ پاکستان بننے کے بعد ناصر نے جدید غزل کو ایک نیا اسلوب دیا ۔ بہت سے لوگ ان کو نئے دور کی غزل کا موجد بھی کہتے ہیں گو کہ ان کی کچھ نظمیں بالا کی چاشنی اور ادب کا مزاج لے کر مشہور ہویں "برگِ نَے" ”دیوان“ اور ”پہلی بارش“ ناصر کاظمی کی غزلوں کے مجموعے اور ”نشاطِ خواب“ نظموں کا مجموعہ ہے۔ سٔر کی چھایا ان کا منظوم ڈراما ہے۔ برگِ نَے ان کا پہلا مجموعہ کلام تھا جو 1952ء میں شائع ہوا۔ ناصر کاظمی 2 مارچ، 1972ءکو لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔۔ گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر ستارۂ شام بن کے آیا برنگ خواب سحر گیا وہ خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا یوں ہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دور آسماں بھی جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہل دل کے یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں جو قافلہ میرا ہم سفر تھا مثال گرد سفر گیا وہ مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستم گروں کی پلک نہ بھیگی جو نالہ اٹھا تھا رات دل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ وہ مے کدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا صدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصرؔ تری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ nasir kazmi poetry nasir kazmi poetry images nasir kazmi poetry urdu Faiz Ahmad Faiz Poet of Hope Love and Revelation Saghar Siddiqui A Poet of Sadness & Love Urdu Sad Poetry Dukh by Faraz
  3. دین سے دور ، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں ڈھنگ کی بات کہے کوئی ، تو بولوں میں بھی مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے مطمئن دل ہے بہت ، جب سے الگ بیٹھا ہوں غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں یہی مسلک ہے مرا، اور یہی میرا مقام آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں عمرکرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں جب سے وہ روٹھ گئے ، تب سے الگ بیٹھا ہوں c میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا سب میں شامل ہوں ، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں
  4. سُننے والوں کے لیے تیری ہنسی نعمت ہے توُ جو روئے تو تُجھے دیکھنے والا روئے آبشاروں کی طرح ، ابرِ مُسلسل کی طرح آپ کی یادمیں آخر کوئی کِتنا روئے جتنے بیزار ہیں مُسکان میّسر سب کو جو بھی اس بزم میں ہو محوِ تماشا روئے اُس کی تقدیر میں اتنا تو تبسُم لکھ دے یاد کر کے اُسے ہم دشت میں جتنا روئے سانحہ یہ تھا کہ تو نے ہمیں مصلوب کیا ملک افلاک پہ گوہر تہہِ دریا روئے اس سے بڑھ جائے گی کُچھ تاب و روانی دلبر چشمِ بے تاب سے کہہ دے لبِ دریا روئے
  5. تاج تیرے لئے اک مظہر الفت ہی سہی تجھ کو اس وادی ء رنگیں سے عقیدت ہی سہی میری محبوب ! کہیں اور ملا کر مجھ سے بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی ؟ میری محبوب ! پس پردہ تشہیر وفا تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جزبے ان کے لیکن ان کے لئے تشہیر کا سامان نہیں کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے یہ عمارات و مقابر ، یہ فصیلیں یہ حصار مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں سینہ ء دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور جزب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں میری محبوب ! انہیں بھی تو محبت ہو گی جن کی صنائی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل یہ چمن زار ،یہ جمنا کا کنارہ ، یہ محل یہ منقش درو دیوار ، یہ محراب ، یہ طاق اک شہنشاہ نے دولت کا سہارہ لے کر ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مزاق میری محبوب ! کہیں اور ملا کر مجھ سے
  6. ، بہت کوشش کرو گے تُم !!کہ اب موسم جو بدلیں تو، ہماری یاد نہ آۓ ۔۔۔ ،،،،،،مگر ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ،کہیں جو ۔۔۔۔۔۔۔ سرد موسم میں دِسمبر کی ہواؤں میں ۔۔۔۔۔ تُمھارے دل کے گوشوں میں ۔۔۔۔۔ جمی ہیں برف کی طرح ۔۔۔۔۔ وہ یادیں کیسے پگھلیں گی ۔۔۔۔۔ ؟؟؟ ،کبھی گرمی کی تپتی سُرخ گھڑیوں میں میرے ماضی کو سوچو گے ۔۔۔۔۔۔۔ تو آنکھیں بھیگ جائیں گی ۔۔ گھڑی پیچھے کو دوڑے گی ۔۔۔۔ کئی سالوں کی گُم گشتہ، ہماری یاد آۓ گی بچھڑ جاؤ !! مگر سُن لو ۔۔۔۔۔ ہمارے درمیان، ایسی کوئی تو بات بھی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جِسے تُم یاد رکھو گے ۔۔۔۔۔ مُجھے تُم یاد رکھو گے ۔۔۔۔
  7. وہ سامنے بھی آئے ــ تو دیکھا نہ کر اُسے گر بچھڑ بھی جائے ــ تو سوچا نہ کر اُسے اِک بار جو گیا ، سو گیا ـ ـ بُھول جا اُسے وہ گمشُدہ خیال ہے ــ پیدا نہ کر اُسے اب اُس کی بات خالی ہے ـ ـ معنی سے اَے مُنیرؔ کہنے دے جو وہ کہتا ہے ــ روکا نہ کر اُسے
  8. یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہے قطرے میں سمندر ہے ذرّے میں بیاباں ہے اے پیکر ِمحبوبی میں کس سے تجھے دیکھوں جس نے تجھے دیکھا ہے وہ دیدۂِ حیراں ہے سو بار تیرا دامن ہاتھوں میں میرے آیا جب آنکھ کھلی دیکھا اپنا ہی گریباں ہے یہ حُسن کی موجیں ہیں یا جوش ِتمنا ہے اس شوخ کے ہونٹوں پر اک برق سی لرزاں ہے اصغر سے ملے لیکن اصغر کو نہیں دیکھا اشعار میں سنتے ہیں کچھ کچھ وہ نمایاں ہے
  9. ....ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺘﺎﺅ ﺑﮯ ﺳﺒﺐ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﭨﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺫﺭﺍ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﺅﮞ . . . . ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ...ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﺎ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ....ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﮨﯽ ﻧﮩﯽ ﮨﻮﺗﯽ .....ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺘﺎﺅ . . . ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﺗﻨﺎ ؟ .....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ !!ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﺗﻮ ﮨﻮ ﮨﯽ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ...ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺭﻻ ﺩﻭﮞ ﺗﻮ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ....ﻣﺠﮭﮯ ﮈﺭ ﮨﮯ ﮐﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﯿﮓ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ .....ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺘﺎﺅ . . ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ...ﮐﮯ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﮯ ....ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺩﮬﻮﺭﮮ ﮨﯿﮟ ؟ ...ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ...ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺗﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻧﺎ ...ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺘﺎﺅ ﭼﻮﮌﯾﺎﮞ ﮐﯿﺴﯽ ﻟﮕﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ....ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ...ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺮﻭﮞ ﺟﺐ ﻓﻮﻥ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯽ ﺁﺗﯽ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ...ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ، ﺳﻦ ، ﮐﮯ ﺿﺒﻂ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﮯ ....ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮐﺲ ﻟﯿﮯ ﺁﺧﺮ ؟ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ....ﮐﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﻨﯽ ، ﺳﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ...ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ...ﺍﺩﺍﺳﯽ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻟﮑﮫ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﻼ ﺩﻭ ....ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮﮞ ....ﻣﯿﺮﮮ ﺁﮔﮯ ﮐﺮﻭ ﺷﯿﺸﮧ . . . ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮ
  10. ساقی شراب لا کہ طبیعت اُداس ہے مُطرب رُباب اُٹھا کہ طبیعت اُداس ہے چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنی اے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اُداس ہے شاید تیرے لبوں کی چٹک سے ہو جی بہار اے دوست مُسکرا کہ طبیعت اُداس ہے ہے حُسن کا فسوں بھی علاجِ فسُردگی رُخ سے نقاب اُٹھا کہ طبیعت اُداس ہے میں نے کبھی یہ ضد تو نہیں کی پر آج شب اے مہ جبیں نہ جا کہ طبیعت اُداس ہے توبہ تو کر چکا ہوں مگر پھر بھی اے عدم تھوڑا سا زہر لا کہ طبیعت اُداس ہ
  11. حدودِ جاں سے گزر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا کوئی جنوں کی نظر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا وفا کا پودا شجر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا نصیب اس کا ثمر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا زمیں والوں میں گھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ترا فرشتہ بشر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا کہیں نہ کوئی شجر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا جو دھوپ کا ہی سفر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی تو پھرتے ہو دوستوں میں عزیز کوئی جداُ نہیں ہے کوئی اِدھر سے اُدھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا وہ جس کی خاطر زمانے بھر کو بنا رہے ہو تم اپنا دشمن وہی نہ اپنا اگر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی سنا ہے یہ لفظ تم نے تمہیں محبت ملی نہیں ہے کسی کی بانہوں میں گھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا یہ خوش نصیبی ہے شہر بھر میں تمھارا دشمنُ نہیں ہے کوئی کبھی کسی کا جو ڈر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا یہ فاصلہ سا ابھی تلک جو ہمارے دونوں کے درمیاں ہے یہ فاصلہ مختصر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا محبتوں میں تو پتھروں کو بھی موم ہوتے سناُ ہے لیکن تمھارے دل پہ اثر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی تو مشکل نہیں پڑی ہے زمانے والو نبھا رہے ہو کبھی نشانے پہ سر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا پھر ایک لیلیٰ گھری ہوئی ہے نئے زمانے کی تلخیوں میں، پھر ایک وعدہ امر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی تو چہرے بدل بدل کے معیار اپنا بنا رہے ہو کوئی نہ حد نظر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا یہ کیا بچھڑنا کہ شام ہوتے ہی اپنے پیاروں میں لوٹ آنا کبھی جو لمبا سفر ہوا تو !!! محبتوں کا پتہ چلے گا۔۔
  12. آنکه اٹهی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں جدهر اٹهائی نظر قتل عام تم نے کیا قضا کا نام ہوا اور کام تم نے کیا وہ آنکه اٹهی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں ان کی نظروں نے کچھ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں شراب سیخ میں ڈالی کباب شیشے میں ان کی نظروں نظروں نظروں نظروں نے ہم پہ ایسا جادو کیا خود تڑپ کر ان کی جانب دل گیا ہم ہوش بهی اپنے بهول گئے ایمان بهی اپنا بهول گئے اک دل ہی نہیں اس بزم میں ہم نہ جانے کیا کیا بهول گئے جو بات تهی ان کو کہنے کی وہ بات ہی کہنا بهول گئے غیروں کے فسانے یاد رہے ہم اپنا فسانہ بهول گئے کیا کیا نگاہ یار میں تاثیر ہو گئی بجلی کبهی بنی کبهی شمشیر ہو گئ محفل میں بار بار انہیں پہ نظر گئ ہم نے بچائی لاکه مگر پهر ادهر گئی ان کی نگاہ میں کوئی جادو ضرور تها جس پر پڑی اسی کے جگر میں اتر گئی اے بن کے تصویر غم رہ گئے اے کهوئے کهوئے سے ہم رہ گئے بانٹ لی سب نے آپس میں خوشیاں میرے حصے میں غم رہ گئے ہیں اب نہ اٹهنا سرہانے سے میرے اب تو گنتی کے دم رہ گئے ہیں اے صبا ایک زحمت زرااااااا پهر ان کی زلفوں میں خم رہ گئے ہیں کائنات جفا و وفا میں ایک تم ایک ہم رہ گئے ہیں آج ساقی پلا زید کو بھی ایک یہ محترم رہ گئے ہیں نظر ملا کہ میرے پاس آ کہ لوٹ لیا نظر ہٹی تجهے پهر مسکرا کہ لوٹ لیا کوئی یہ لوٹ تو دیکھو کہ اس نے جب چاہا مجهی میں رہ کر مجهی میں سما کہ لوٹ لیا نہ لٹتے ہم مگر ان مست انکهڑیوں نے جگر نظر بچاتے ہوئے ڈبڈبا کے لوٹ لیا ان کی نظروں نے ہم پہ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں ساته اپنا وفا میں نہ چهوٹے کبهی پیار کی ڈور بنده کر نہ چهوٹے کبهی چهوٹ جائے زمانہ کوئی غم نہیں ہاته تیرا رہے بس میرے ہاته میں آنکه اٹهی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں جدهر اٹهائی نظر قتل عام تم نے کیا قضا کا نام ہوا اور کام تم نے کیا وہ آنکه اٹهی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں ان کی نظروں نے کچھ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں شراب سیخ میں ڈالی کباب شیشے میں ان کی نظروں نظروں نظروں نظروں نے ہم پہ ایسا جادو کیا خود تڑپ کر ان کی جانب دل گیا ہم ہوش بهی اپنے بهول گئے ایمان بهی اپنا بهول گئے اک دل ہی نہیں اس بزم میں ہم نہ جانے کیا کیا بهول گئے جو بات تهی ان کو کہنے کی وہ بات ہی کہنا بهول گئے غیروں کے فسانے یاد رہے ہم اپنا فسانہ بهول گئے کیا کیا نگاہ یار میں تاثیر ہو گئی بجلی کبهی بنی کبهی شمشیر ہو گئ محفل میں بار بار انہیں پہ نظر گئ ہم نے بچائی لاکه مگر پهر ادهر گئی ان کی نگاہ میں کوئی جادو ضرور تها جس پر پڑی اسی کے جگر میں اتر گئی اے بن کے تصویر غم رہ گئے اے کهوئے کهوئے سے ہم رہ گئے بانٹ لی سب نے آپس میں خوشیاں میرے حصے میں غم رہ گئے ہیں اب نہ اٹهنا سرہانے سے میرے اب تو گنتی کے دم رہ گئے ہیں اے صبا ایک زحمت زرااااااا پهر ان کی زلفوں میں خم رہ گئے ہیں کائنات جفا و وفا میں ایک تم ایک ہم رہ گئے ہیں آج ساقی پلا زید کو بھی ایک یہ محترم رہ گئے ہیں نظر ملا کہ میرے پاس آ کہ لوٹ لیا نظر ہٹی تجهے پهر مسکرا کہ لوٹ لیا کوئی یہ لوٹ تو دیکھو کہ اس نے جب چاہا مجهی میں رہ کر مجهی میں سما کہ لوٹ لیا نہ لٹتے ہم مگر ان مست انکهڑیوں نے جگر نظر بچاتے ہوئے ڈبڈبا کے لوٹ لیا ان کی نظروں نے ہم پہ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں ساته اپنا وفا میں نہ چهوٹے کبهی پیار کی ڈور بنده کر نہ چهوٹے کبهی چهوٹ جائے زمانہ کوئی غم نہیں ہاته تیرا رہے بس میرے ہاته میں آنکه اٹهی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں
  13. ایک دل تھا گنوائے بیٹھے ہیں اس لیے سر جھکائے بیٹھے ہیں دل میں دل دار آئے بیٹھے ہیں ہاتھ پر اُن کے تتلی بیٹھ گئی گل سبھی خار کھائے بیٹھے ہیں دستِ نازک پہ تتلی نے سوچا گل ، حنا کیوں لگائے بیٹھے ہیں رنگ اُڑا لے گئے وہ تتلی کا گل کی خوشبو چرائے بیٹھے ہیں شائبہ تک نہیں شرارت کا کیسی صورت بنائے بیٹھے ہیں اس سے بڑھ کر بھی کوئی ہے نازک؟ روشنی سے نہائے بیٹھے ہیں اس لیے پاؤں میں دباتا ہوں وہ مرا دل دبائے بیٹھے ہیں اس لیے مطمئن ہیں کوہِ گراں ہم امانت اٹھائے بیٹھے ہیں دوسرا موقع قیس کیسے ملے؟ ایک دل تھا گنوائے بیٹھے ہیں
  14. waqas dar

    nazm usey maine hi likha th

    اسے میں نے ہی لکھا تھا کہ لہجے برف ہوجاٰئیں تو پھر پگھلا نہیں کرتے پرندے ڈر کر اڑ جائیں تو پھر لوٹا نہیں کرتے یقیں اک بار اٹھ جائے کبھی واپس نہیں آتا ہواؤں کا کوئی طوفاں بارش نہیں لاتا اسے میں نے ہی لکھا تھا جو شیشہ ٹوٹ جائے تو کبھی پھر جڑ نہیں پاتا جو راستے سے بھٹک جائیں وہ واپس مڑ نہیں پاتا اسے کہنا وہ بے معنی ادھورے خط اسے میں نے ہی لکھا تھا !!اسے کہنا کے دیوانے مکمل خط نہیں لکھتے۔ ۔ ۔
  15. waqas dar

    Titliyun ko choo ker

    تتلیوں کو چھو کر بہت سے عام لوگوں میں بہت ہی عام سے ہیں ہم کہ بالکل شام سے ہیں ہم کہ جیسے شام ہوتی ہے بہت چپ چاپ اور خاموش بہت ہی پر سکوں لیکن کسی پہ مہرباں جیسے مگر بے چین ہوتی ہے کوئی ہو رازداں جیسے خفا صبح کی کرنوں سے کہ جیسے شام ہوتی ہے یوں بالکل شام سے ہیں ہم بہت ہی عام سے ہیں ہم مگر ان عام لوگوں میں دل حساس رکھتے ہیں بہت کچھ خاص رکھتے ہیں اگرچہ عام سے ہیں ہم
  16. ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨـﮯ __ ﺗﻢ ﺁﻓﺲ ﺳﮯ ﺗﮭﮑـــ ﮐﮯ ﺁﺅ ﺁﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﭩﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺑﺎﻝ ﺳِﮩﻼﺅﮞ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻓﺲ ﮐﯽ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﺭُﻭﺩﺍﺩ ﺳﻨﺎﺅ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﻭ ﺍِﮐــــ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﮐﺎ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻣُﺤﺒّﺖ ﺍﻭﺭ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﺭُﻭﭨﮫ ﮐﮯ ﻣُﻮﮈ ﺑﻨﺎﺅﮞ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴُﻮ ﺑﮭﺮ ﻻﺅﮞ ﭘﮭﺮ ﺗُﻢ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﯼ ﺑﻮﻟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﺱ ﮔﮭﻮﻟﻮ " ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨـﮯ " ﺳﺮﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺑُﮑــــ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺗﻢ ﻻﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻮ۔۔۔۔ ﮨﺮ ﺳُﻮ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮑﮭﻮ، ﻣُﺠﮭﮑﻮ ﺳﻮﭼﻮ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﺗُﻤﮭﺎﺭﮮ ﭘﯿﭽﮭـﮯ ﺁﮐﺮ ﺍﭘﻨـﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﯾﺦ ﮨﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺭﮐﮫ ﺩُﻭﮞ ﺗﻢ ﺟﮭﻨﺠﮭﻼﺅ ﻣﻮﮈ ﺑﻨﺎﺅ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳـﮯ ﮨﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﭩﺎﺅ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻣُﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺧُﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ " ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨـﮯ " ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﻮ ﺭِﻡ ﺟﮭﻢ ﺑﺎﺭﺵ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﭩﺎ ﮨﻮ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺳﻨﮕــــ ﺳﻨﮕــــ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺗﺎﺭﮐﻮﻝ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﮍﮐــــ ﭘﺮ۔۔۔۔ ﭼﻠﺘﯽ ﺟﺎﺅﮞ ﭼﻠﺘﯽ ﺟﺎﺅﮞ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺧُﻮﺏ ﺳﻨﺎﺅﮞ " ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨـﮯ " ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣُﺠﮭـﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩُﮐﮫ ﺗﮍﭘﺎﺋـﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﮭﺮ ﺁﺋـﮯ ﺩُﻧﯿﺎ ﻧﺖ ﻧﺌـﮯ ﺯﺧﻢ ﻟﮕﺎﺋـﮯ ﺗﺐ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨـﮯ ﺁﺅ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳـﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺍُﭨﮭﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﺋﯽ ﮨﻮ۔۔۔؟؟ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﭘﻮﻧﭽﮫ ﮐـﮯ ﮨﻨﺲ ﺩُﻭﮞ۔۔۔۔ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﻨﺪﮬـﮯ ﭘﺮ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﺩُﻭﮞ ﭘﻠﮑﯿﮟ ﻣﻮﻧﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﻮ ﺟﺎﺅﮞ ﮨﺮ ﺩُﮐﮫ ﺳـﮯ ﺑـﮯ ﺧﺒﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺅﮞ " ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨـﮯ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﻧﺎﮞ !!__
  17. با وضو ہو کے روئیے صاحب !!!.....کیجئیے احترام اداسی کا ●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●● وہ قافلہ کسی اندھے نگر سے آیا تھا ہر ایک شخص کا تکیہ کلام آنکھیں تھی ●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●● اب یہ حسرت ہے سینے سے لگا کر تجھ کو اس قدر روؤں کہ ___ آنکھوں میں لہو آ جائے ●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●● جو خمار ہے تیرے عشق کا اسے موت کیسے فنا کرے ●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●● یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں ●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
  18. تنہائیوں میں ایسا بھی ھو جاتا ھے اکثر دل دھڑکنوں کی گونج میں کھو جاتا ھے اکثر - آتا ھے جو بھی چارہ جُو بہرِ غمِ یاراں دے دے کے دلاسے مجھے رو جاتا ھے اکثر - اک عمر سے بیدار تھا جو آس میں تیری اب خواب میں بھی جا کے وہ سو جاتا ھے اکثر - بھٹکے ھوئے رستوں کو دکھاتا ھے جو منزل وہ آ کے ترے شہر میں کھو جاتا ھے اکثر - رندوں کو پلاتے ھوئے مے ، ساقئ محفل خود ھوش سے بیگانہ بھی ہو جاتا ھے اکثر - خوابوں کے سرھانے پہ ھی تھک ھار کے مزدور بھوکا کسی فٹ پاتھ پہ سو جاتا ھے اکثر - ملتا ھے مجھے جب بھی سرِ راہِ تمنّا صحرائے جاں میں تشنگی بو جاتا ھے اکثر - اعجاز ھے یہ شانِ کریمئ الہٰی اک اشک بھی تقصیر کو دھو جاتا ھے اکثر - عشق ایسی گزرگاہِ عجب گام ھےجس پر آتا ھی نہیں لوٹ کے ، جو جاتا ھے ، اکثر - جاتا نہیں پھولوں کی سیاحت کو فقط امـؔر کانٹوں پہ بہار آئے بھی تو جاتا ھے اکثر - ‫#‏امـؔـر‬ رُوحانی
  19. دل وچ پیار دی ہلچل پا دے سجناں سُتے لیکھ جگا دے میَں پانا واں پانی مٹھا توں عشقے دی فصل اگا دے رانجھا مجنوں بھُلن سب نوں ایسا مینوں جوگ سکھا دے چار چوفیرے گھُپ ہنیرا ساہواں دے وچ ساہواں پا دے عشق سکولے داخل کر لے پور پور نوں عشق پڑھا دے یار صفی دا آکھا من کے پیار دا وکھرا شہر وسا دے
  20. waqas dar

    poetry Mohhabat mat samjh lena

    محبت ﻣﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩُﮐﮫ ﺳُﮑﮫ ﮐﯽ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺩﮦ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻧﮓ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﺮﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﮞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻋﯿﺎﮞ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﮨﻢ ﺩﮬﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﯾﮧ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩُﮐﮫ ﺳُﮑﮫ ﮐﯽ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﮐﮧ ﮐﺲ ﮐﻮ ﭼﮭُﻮ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺧُﺪﺍ ﻭﮦ ﮨﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻨﺘﺮ ﮨﮯ __ﻓﻨﺎ ﺟﻮ ﮨﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ
  21. تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہے تجھے الگ سوچوں تو عجیب لگتا ہے جسے نہ حسن سے مطلب نہ عشق سے سروکار وہ شخص مجھ کو بہت بدنصیب لگتا ہے حدودِ ذات سے باہر نکل کے دیکھ ذرا نہ کوئی غیر نہ کوئی رقیب لگتا ہے یہ دوستی، یہ مراسم، یہ چاہتیں، یہ خلوص کبھی کبھی مجھے سب عجیب لگتا ہے افق پہ دور چمکتا ہوا کوئی تارہ مجھے چراغ دیارِ حبیب لگتا ہے (جاں نثار اختر)
  22. ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﻬﯽ ,ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﻬﺮ ﺳﮯ ﺑﻬﺎﮒ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻬﺎ .....ﺑﮩﺖ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﺗﻬﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﻣﺠﻬﻪ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﻬﯽ ﮐﮧ ﺷﺎﻡ . ﻫﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﭽﻬﻪ ﭘﮩﻠﮯ .......ﺗﻮ ﮔﻬﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮐﺮ ,ﺑﻼﺋﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ,ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ...ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ........ﺑﮩﺖ ﺁﺳﯿﺐ ﻫﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ........ﺗﻮ ﮔﻬﺮ ﮐﻮ . ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﻬﺮ ﺑﻬﯽ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﮔﻬﺮ ﺳﮯ ﺑﻬﺎﮒ ﮐﺮ ﯾﺎﺭﻭ ﮔﻠﯽ ﮐﻮﭼﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﯿﺎﺑﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻬﻨﮉﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ ﻣﺎﺭﺍ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﺗﻬﺎ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﮎ ﺷﻮﻕ ﺭﻫﺘﺎ ﺗﻬﺎ !!!...ﺑﻼﺋﯿﮟ ﮐﭽﻬﻪ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﻬﻮﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﯿﺐ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ......ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮍﯾﻞ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮩﺮﻭﭖ ﺍﭼﻬﮯ ﻣﯿﮟ !!!....ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺭﻗﺺ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﻬﻮﮞ ﻣﯿﮟ . ﺍﺳﮑﮯ ﺍﻟﭩﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﺬﮐﺮﮦ ..ﭼﻬﯿﮍﻭﮞ ,ﺗﻮ ﺟﻬﭧ ﺳﮯ ﺭﻭﭖ ﺑﺪﻟﮯ ﻭﮦ ..ﺍﻭﺭ ﺍﺻﻠﯽ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ...ﺗﻮ ﮈﺭ ﮐﮯ ﺑﻬﺎﮒ ﺟﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﻬﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﯾﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ .....ﮐﺌﯽ ﻗﺼﮯ ﺳﻨﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ !!!.........ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺑﭽﭙﻦ ﯾﻮﮞ .... ﺗﺠﺴﺲ ﺑﮯ ﺛﻤﺮ !!!....ﮔﺬﺭﺍ ....ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﯿﺐ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﻬﺎ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻬﯽ ﺑﻼ ﺩﯾﮑﻬﯽ !!!.............ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺑﻬﯽ ﻧﮧ ﻣﻞ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺁﺝ ﻣﺪﺕ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺑﻬﯽ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﯽ ﻫﮯ ﻫﻮﺍ ﺩﻫﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﻫﮯ ,ﺍﻧﺪﻫﯿﺮﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ....ﺫﺭﺍ ﺳﺎ ﭼﻬﺎ ﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﻫﮯ ......ﻣﺠﻬﮯ ﮈﺭ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﻫﮯ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﻫﺠﺮﻭ ﻏﻢ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﯿﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ........ﺭﻭﺣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮕﻦ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻬﯿﺎﻧﮏ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ..ﺑﮯ ﮨﻨﮕﻢ ﺷﻮﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ,ﺍﻭﺭ ﭘﻬﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻑ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ .....ﮈﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﮩﻤﺎ ﺭﻫﺘﺎ ﻫﻮﮞ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﺏ ﺷﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺁﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺁﺯﺍﺭ ﻟﮕﺘﺎ ﻫﮯ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﺏ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ .........ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﮐﺎﺭ ﻟﮕﺘﺎ ﻫﮯ ...ﻣﺠﻬﮯ ﺍﻣﯽ ﮐﺎ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﻫﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﺎ ﻫﮯ .....ﺑﻼﺋﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ...ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ .....ﺑﮩﺖ ﺁﺳﯿﺐ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯿﮟ ....ﺗﻮ ﮔﻬﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮐﺮ!!!....ﺗﻮ ﮔﻬﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮐﺮ
  23. waqas dar

    tumhain maine bataya th

    ...ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ !ﺷﮑﺴﺘﮧ ﭘﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺷﮑﺴﺘﮧ ﺭﻭﺡ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﻣﻔﻠﻮﺝ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﯿﺎﺕِ ﻧﻮ ﮐﺎ ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﻣﺖ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﯾﻨﺎ، ﻣﺮﯼ ﺑﮯﻧﻮﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﻮﯾﺪِ ﺧﻮﺍﺏِ ﺍﻟﻔﺖ ﻣﺖ ﺳﻨﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﮐﮧ ﻣﺪﺕ ﺳﮯ ﻣﺮﮮ ﻣﻌﺬﻭﺭ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﯽ !..ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﮨﮯ ﻣﺮﮮ ﭨﻮﭨﮯ ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﺫﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ !ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺿﺪ ﺗﮭﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺿﺪ ﺗﮭﯽ ﻣﺮﮮ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﺗﻠﮯ ﭘﻠﮑﯿﮟ ﺑﭽﮭﺎﺅ ﮔﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺿﺪ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺩﮬﮍﮐﺘﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺭﮐﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺿﺪ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﺠﮭﺘﯽ ﺭﻭﺡ ﭘﺮ ﺗﻢ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺁﮒ ﺭﮐﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺿﺪ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮨﺎﺭ ﻣﺎﻧﯽ، ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺍﮎ ﺩﻡ ﺗﻮﮌﺗﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺎ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﻤﮩﮟ ﺳﻮﻧﭙﺎ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﺍﺏ ﮐﮯ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ﻣﺮﮮ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﮍ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺟﮍ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻣﮑﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ، ﺍﺏ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ !....ﺭﻭﺡ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮔﯽ
  24. دکھ کی لہر نے چھیڑا ھوگا یاد نے کنکر پھینکا ھوگا آج تو میرا دل کہتا ھے تو اس وقت اکیلا ھوگا میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے اوروں کو خط لکھتا ھوگا بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں تو اب تھک کے سویا ھوگا ریل کی گہری سیٹی سن کر رات کا جنگل گونجا ھوگا شہر کے خالی اسٹیشن پر کوئی مسافر اترا ھوگا آنگن میں پھر چڑیاں بولیں تو اب سو کر اٹھا ھوگا یادوں کی جلتی شبنم سے پھول سا مکھڑا دھویا ھوگا موتی جیسی شکل بنا کر آئینے کو تکتا ھوگا شام ہوئی اب تو بھی شاید اپنے گھر کو لوٹا ھوگا نیلی دھندلی خاموشی میں تاروں کی دھن سنتا ھوگا میرا ساتھی شام کا تارا تجھ سے آنکھ ملاتا ھوگا شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو میرا سلام تو بھیجا ھوگا پیاسی کرلاتی کونجوں نے میرا دکھ تو سنایا ھوگا میں تو آج بہت رویا ھوں تو بھی شاید رویا ھوگا ناصر تیرا میت پرانا تجھ کو یاد تو آتا ھوگا۔۔
  25. میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں عمر بھر کے لیے آزار ہوئی جاتی ہے زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشاں سی تھی اب تو ہر سانس گراں بار ہوئی جاتی ہے میری اجڑی ہوئی نیندوں کے شبستانوں میں تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ہے کبھی اپنی سی، کبھی غیر نظر آئی ہے کبھی اخلاص کی مورت کبھی ہرجائی ہے پیار پر بس تو نہیں ہے مرا لیکن پھر بھی تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ہے جنہیں ان تمناوں کا اظہار کروں یا نہ کروں تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن میری راتیں تری خوشبو سے بسی رہتی ہیں تو کہیں بھی ہو ترے پھول سے عارض کی قسم تیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رہتی ہیں تیرے ہاتھوں کی حرارت، ترے سانسوں کی مہک تیرتی رہتی ہے احساس کی پہنائی میں ڈھونڈھتی رہتی ہیں تخیل کی بانہیں تجھ کو سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں تیرا اندازِ کرم ایک حقیقت ہے مگر یہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو تیری مانوس نگاہوں کا یہ محتاط پیام دل کے خوں کرنے کا ایک اور بہانہ ہی نہ ہو کون جانے میرے امروز کا فردا کیا ہے قربتیں بڑھ کے پشیمان بھی ہو جاتی ہیں دل کے دامن سے لپٹتی ہوئی رنگیں نظریں دیکھتے دیکھتے انجان بھی ہو جاتی ہیں میری درماندہ جوانی کی تمناوں کے مضمحل خواب کی تعبیر بتادے مجھ کو تیرے دامن میں گلستاں بھی ہیں ویرانے بھی میرا حاصل مری تقدیر بتا دے مجھ کو
×