Jump to content

Please Disable Your Adblocker. We have only advertisement way to pay our hosting and other expenses.  

Search the Community

Showing results for tags 'raat'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • Premium Files
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Product Groups

There are no results to display.

Categories

  • Clothes
    • Kids collection
  • Organic
  • Mobiles & Accessories
  • Jewelry

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 7 results

  1. From the album: Urdu Poetry Wallpaper Design Fundayforum

    اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے

    © fundayforum.com

  2. اک پہیلی زندگی چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن ’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘ وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن سودائے آذری میں ہوئے صنم گری وہ بت پرستیوں میں عبادت کے رات دِن اِک سادہ دِل ، دیارِ کرشمہ گراں میں گم اِک قریۂ طلسم میں حیرت کے رات دِن لب ہائے نارسیدہ کی لرزش سے جاں بلب صہبائے ناچشیدہ کی لذت کے رات دِن روئے نگار و چشمِ غزالیں کے تذکرے گیسوئے یار و حرف و حکایت کے رات دِن ناکردہ کاریوں پہ بھی بدنامیوں کا شور اختر شماریوں پہ بھی تہمت کے رات دِن سوداگرانِ منبر و مکتب سے رو کشی جاں دادگانِ دانش و حکمت کے رات دِن اہلِ قبا و اہلِ ریا سے گریز پا وہ واعظانِ شہر سے وحشت کے رات دِن میر و انیس و غالب و اقبال سے الگ راشد ، ندیم ، فیض سے رغبت کے رات دِن فردوسی و نظیری و حافظ کے ساتھ ساتھ بیدل ، غنی ، کلیم سے بیعت کے رات دِن شیلے کا سحر ، کیٹس کا دُکھ ،بائرن کی دھج ان کافرانِ عشق سے نسبت کے رات دِن تشکیک و ملحدانہ رویے کے باوجود رومی سے والہانہ عقیدت کے رات دِن جیسے مئے سخن سے صراحی بھری ہوئی زورِ بیان و ُحسنِ طبیعت کے رات دِن یاروں سے شاعرانہ حوالے سے چشمکیں غیروں سے عاشقانہ رقابت کے رات دِن شعری سفر میں بعض بزرگوں سے اختلاف پیرانِ میکدہ سے بغاوت کے رات دِن رکھ کر کتابِ عقل کو نسیاں کے طاق پر وہ عاشقی میں دِل کی حکومت کے رات دِن ہر روز ، روزِ ابر تھا ہر رات چاند رات آزاد زندگی تھی ، فراغت کے رات دِن وہ صبح و شام دربدری ، ہم سنوں کے ساتھ آوارگی و سیر و سیاحت کے رات دِن اِک محشرِ خیال کے ہجراں میں کانٹا تنہائی کے عذاب ، قیامت کے رات دِن اک لعبتِ جمال کو ہر وقت سوچنا اور سوچتے ہی رہنے کی عادت کے رات دِن اِک رازدارِ خاص کو ہر وقت ڈھونڈنا بے اعتباریوں میں ضرورت کے رات دِن وہ ہر کسی سے اپنا ہی احوال پوچھنا اپنے سے بھی تجاہل و غفلت کے رات دِن بے وجہ اپنے آپ کو ہر وقت کوسنا بے سود ہر کسی سے شکایت کے رات دِن رُسوائیوں کی بات تھی رُسوائیاں ہوئیں رُسوائیوں کی عمر میں شہرت کے رات دِن اِک دُشمنِ وفا کو بھلانے کے واسطے چارہ گروں کے پند و نصیحت کے رات دِن پہلے بھی جاں گُسل تھے مگر اس قدر نہ تھے اِک شہرِ بے اَماں میں سکونت کے رات دِن اس دولتِ ہنر پہ بھی آزارِ مفلسی اس روشنیٔ طبع پہ ظلمت کے رات دِن پھر یہ ہوا کہ شیوئہ دِل ترک کر دیا اور تج دیئے تھے ہم نے محبت کے رات دِن ہر آرزو نے جامۂ حسرت پہن لیا پھر ہم تھے اور گوشۂ عزلت کے رات دِن ناداں ہیں وہ کہ جن کو ہے گم نامیوں کا رنج ہم کو تو راس آئے نہ شہرت کے رات دِن فکرِ معاش ، شہر بدر کر گئی ہمیں پھر ہم تھے اور قلم کی مشقت کے رات دِن ’’خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا‘‘ اور مدعی تھے صنعت و حرفت کے رات دِن کیا کیا ہمیں نہ عشق سے شرمندگی ہوئی کیا کیا نہ ہم پہ گزرے ندامت کے رات دِن آکاس بیل پی گئی اِک سرو کا لہو آسیب کھا گیا کسی قامت کے رات دِن کاٹی ہے ایک عمر اسی روزگار میں برسوں پہ تھے محیط ، اذیت کے رات دِن ساماں کہاں کہ یار کو مہماں بلایئے اِمکاں کہاں کہ دیکھئے عشرت کے رات دِن پھرتے تھے میر خوار کوئی پوچھتا نہ تھا قسمت میں جب تلک تھے قناعت کے رات دِن سو یہ بھی ایک عہدِ زیاں تھا ، گزر گیا کٹ ہی گئے ہیں جبرِ مشیت کے رات دِن نوواردانِ شہرِ تمنا کو کیا خبر ہم ساکنانِ کوئے ملامت کے رات دِن احمد فراز
  3. View File Andheri raat mein jugnoo by Farzana Gilani Andheri raat mein jugnoo by Farzana Gilani Download free online Urdu books, free online reading social / Romantic Urdu novel complete in pdf. This novel is taken from Pakeeza Digest December 2007. Click the Button on sidebar to download. Submitter waqas dar Submitted 06/10/2017 Category Urdu Novels Writer/Author Farzana Gilani
  4. ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی اس گھر کی کھلی چھت پہ چمکتے ہوئے تارو کہتے ہو کبھی جا کے وہاں بات یہاں کی ؟ اللہ کرے میرؔ کا جنت میں مکاں ہو مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی ہوتا ہے یہی عشق میں انجام سبھی کا باتیں یہی دیکھی ہیں محبت زدگاں کی پڑھتے ہیں شب و روز اسی شخص کی غزلیں غزلیں یہ حکایات ہیں ہم دل زدگاں کی تم چرخِ چہارم کے ستارے ہوئے لوگو تاراج کرو زندگیاں اہلِ جہاں کی انشاؔ سے ملو، اس سے نہ روکیں گے وہ، لیکن اُس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی مشہور ہے ہر بزم میں اس شخص کا سودا باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام، میاں کی اے دوستو! اے دوستو! اے درد نصیبو گلیوں میں، چلو سیر کریں، شہرِ بتاں کی ہم جائیں کسی سَمت، کسی چوک میں ٹھہریں کہیو نہ کوئی بات کسی سود و زیاں کی انشاؔ کی غزل سن لو، پہ رنجور نہ ہونا دیوانا ہے، دیوانے نے اک بات بیاں کی
  5. اے کملی کی جھرمٹ والے (حبیب!)، آپ رات کو (نماز میں) قیام فرمایا کریں مگر تھوڑی دیر (کے لئے)، آدھی رات یا اِس سے تھوڑا کم کر دیں، یا اس پر کچھ زیادہ کر دیں اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں، ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری فرمان نازل کریں گے، بے شک رات کا اُٹھنا (نفس کو) سخت پامال کرتا ہے اور (دِل و دِماغ کی یک سُوئی کے ساتھ) زبان سے سیدھی بات نکالتا ہے، بے شک آپ کے لئے دن میں بہت سی مصروفیات ہوتی ہیں، اور آپ اپنے رب کے نام کا ذِکر کرتے رہیں اور (اپنے قلب و باطن میں) ہر ایک سے ٹوٹ کر اُسی کے ہو رہیں،
  6. aapki yaad aati rahi raat bhar chaandani dil dukhati rahi raat bhar gaah jalti huii, gaah bujhti huii shaame gham jhilmilaati rahi raat bhar koi khushboo badalti rahii pairahan koi taswir gaati rahi raat bhar phir saba saaya e shakhe gul ke talay koi qissa sunaati rahi raat bhar jo naa aaya usay koi zanjir e dar har sadaa par bulaati rahii raat bhar ek umeed se dil behelta raha ek tamanna satati rahi raat bhar
  7. کچھ ایسے تیری ذات کو تکمیل کر دیا۔۔ یکسر تیرے مزاج کو تبدیل کر دیا۔۔ برسات کر کے اشکوں کی تیرے وجود پر صحرا کی خاک سے تجھے اک جھیل کردیا۔۔ تیری خراب عادتیں ساری قبول تھیں تیرے ہر ایک حکم کو تعمیل کر دیا۔۔ وعدہ کیا تھا تجھ سے نبھائیں گے تاحیات لے دیکھ آج وعدہ وہ تکمیل کر دیا۔۔ زہرا جو کل تلک تھا سیاہ رات کی طرح اب ہم نے اس کو چاند کی تمثیل کر دیا۔۔
×