Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'shair-o-shairy'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 108 results

  1. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  2. روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں اک تماشا دکھا گئیں آنکھیں مل کے ان کی نگاہ جادو سے دل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں مجھ کو دکھلا کے راہ کوچہء یار کس غضب میں پھنسا گئیں آنکھیں اس نے دیکھا تھا کس نظر سے مجھے دل میں گویا سما گئیں آنکھیں محفل یار میں بہ ذوق نگاہ لطف کیا کیا اٹھا گئیں آنکھیں حال سنتے وہ میرا کیا حسرت وہ تو کہئے سنا گئیں آنکھیں
  3. waqas dar

    poetry kahan hute hu

    ہجر میں خون رلاتے ہو کہاں ہوتے ہو لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو کہاں ہوتے ہو مجھ سے بچھڑے ہو تو محبوب نظر ہو کس کے آج کل کس کو مناتے ہو کہاں ہوتے ہو شب کی تنہائی میں اکثر یہ خیال آتا ہے اپنے دکھ کس کو سناتے ہو کہاں ہوتے ہو تم تو خوشیوں کی رفاقت کے لیے بچھڑے تھے اب اگر اشک بہاتے ہو تو کہاں ہوتے ہو شہر کے لوگ بھی اب یہ سوال کرتے ہیں اب کم کم نظر آتے ہو کہاں ہوتے ہو
  4. تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا لکھ نماز ، کروڑاں سجدے پھُوڑی اُتّے مَتھے بَھجدے ذکر جَلی وِچ تسبی رولی پر عیباں دی گنڈھ نہ کھولی منبر تے لمیاں تقریراں پاپی مَن دِیاں سو تفسیراں ڈھینچوں سِکھیا عقل دا کھوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا گھت مُصلّی، خیریں سَلّا چِلّے کیتے پڑھ پڑھ اللہ گلّاں دا کھڈکار نگلّا من ریہا جَھلّے دا جَھلّا عقل نے کِیتا کم اولّا اپنے سِر وِچ ماریا کھّلا پاپاں دے وِچ ہو گیا سوتا تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا ویکھن والے ویکھ نہ سَکّے نظراں دِتّے سو سو دَھکّے کَن وچارے سُن سُن تَھکّے بولن والے ہوٹھ نہ اَکّے اَج تَن تیرتھ، کل تن مَکّے کِسے وی تھائیں مِلے نہ سکّے ٹیں ٹیں کردا فقہ دا طوطا !!... تَن دھوتا، پر مَن نہیں دھوتا، مَن مَیلے دا مَیلا
  5. عجب یہ حجر کا قصہ ہے عجب یہ شبِ جدائی ہے نہ میری آنکھ جھپکی ہے نہ دل نے لی اَنگڑائی ہے نہ اُنکو بھولا دل میرا نہ اُنکی یاد سے غافل کہ جسکو فرض کی مانند ہر اک پل یاد رکھنا ہو کہ جسکو قرض کی مانند ہر اک پل ساتھ رکھنا ہو بھلا کیسے بھلاتا دل کہ انکو یاد نہ کرنا وَبالِ جان بن جائے یہ سانسیں گھونٹ لی جائیں یہ آنکھیں موندھ لی جائیں جو ہوں ہم یاد سے غافل تو دھڑکن روک دی جائیں چلو یہ سب سمبھل جائیں مگر جو روح تڑپ جائے بتاو کیا کریں اُسکا کہ روح سےروح کا رشتہ ہے ازلوں سے یونہی لِپٹا وہ ہم کو بھول بھی جائیں تو ہم پےفرض ہوتا ہے اُنہیں دل کے باغیچے سے ان آنکھوں کےدریچے سے کسی مالا کی کلیوں سے کسی کوئل کی کو کو سے ہم اپنے آپ میں بھر لیں کہ ہر اک لفظ اپنے میں اُنہی کا رنگ و بو بھر لیں کہ جو بھی لفظ پرکھے گا ہمارے ہاتھ سے لکھے ہمیں بھی یاد رکھے گا کہ ذکرِ حسن جب ہو گا ہمارے لفظ کھوجے گا مگر پھر سحر میں جکڑا حوالے یوں بھی کچھ دے گا عجب وہ حجر کا قصہ تھا عجب وہ شبِ جدائی تھی نہ اسکی آنکھ جھپکی تھی نہ دل نے لی اَنگڑائی تھی مگر وہ ٹھان بیٹھا تھا اُسے لفظوں میں جَڑ دے گا محبت اَمر کر دے گا سو جَڑ ڈالا ہے ظالم نے نِصابوں میں حوالوں میں محبت کے سب بابوں میں! ©S.S Writes
  6. دِلِ گمشدہ ... کبھی مِل ذرا مجھے وقت دے، مری بات سُن مری حالتوں کو تو دیکھ لے مجھے اپنا حال بتا کبھی کبھی پاس آ, کبھی مِل سہی! مرا حال پوچھ! بتا مجھے مرے کس گناہ کی سزا ہے یہ؟ تُو جنون ساز بھی خود بنا مری وجہِ عشق یقیں ترا مِلا یار بھی تو، ترے سبب وہ گیا تو ، تُو بھی چلا گیا؟ دِلِ گمشدہ؟ ، یہ وفا ہے کیا؟ اِسے کِس ادا میں لکھوں بتا؟ اِسے قسمتوں کا ثمر لکھوں؟ یا لکھوں میں اِس کو دغا، سزا؟ دِلِ گمشدہ......... دِلِ گمشدہ
  7. مَن عِشق کی اگنی جلتی ہے تم بَنہیّاں تھامو جان پِیا میں رُوپ سہاگن دھارَن کو راہ دیکھوں نینَن تان پِیا بس ایک جھلک پہ جَگ سارا تَج تیرے پیچھے چل نِکلی تو عِشق میرا، تو دِین میرا تو عِلم میرا اِیمان پِیا میں ننگے پَیروں نَقش تیرے قدموں کے چُنتی آئی ہوں اب جان سے ہاری راہوں میں یہ رستہ تو انجان پِیا سِر مانگے تو میں حاضِر ہوں زَر مانگو تو میں بے زَر ہوں تم عِشق کی دولت دان کرو میں ہو جاؤں دَھنوان پِیا میں بھُول بھٹک کے ہار گئی ہر بار تمہارا نام لِیا اِس عِشق کی کملی جوگن کے ہر قِصّے کا عُنوان پِیا میں پیاس سجائے آنکھوں میں سب دَیر حرم میں ڈھونڈ پھری اب دیِپ جلائے مَن مندِر چُپ چاپ کھڑی حیران پِیا یہ عشق ادب سے عاری ہیں ان نینن سے کیا بات کروں تم بھید دلوں کے جانن ہو تم پر رکھتے ہیں مان پِیا میں عشق سمندر ڈُوب مروں میں دار پہ تیرے جھول رہوں میں پریم سفر پہ نکلی ہوں کیا جانوں خِرد گیان پِیا میں خاک کی جلتی بھٹی میں سب خاک جلا کر آئی ہوں اس خاک کی فانی دنیا کا ہر سودا تو نقصان پِیا جب من سے غیر ہٹا آئی سب کاغذ لفظ جلا آئی پھر کس کو اپنا حال کہوں تُو حال میرا پہچان پِیا پھر سُورج بجھتا جاتا ہے پھر رات کا کاجل پھیلے گا تُم کاجل نینن والوں کے مَن میں ٹھہرو مہمان پِیا میں ایک جھلک کو ترسی ہوں کچھ دید نما انوار کرو میں ایک جھلک کے صدقے میں ساری تیرے قربان پِیا
  8. من مورکھ مٹی کا مادھو، ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے اس کو تم کیا دھوکا دو گے بات کی بات بہل جاتا ہے جی کی جی میں رہ جاتی ہے آیا وقت ہی ٹل جاتا ہے یہ تو بتاؤ کس نے کہا تھا، کانٹا دل سے نکل جاتا ہے جھوٹ موٹ بھی ہونٹ کھلے تو دل نے جانا، امرت پایا ایک اک میٹھے بول پہ مورکھ دو دو ہاتھ اچھل جاتا ہے جیسے بالک پا کے کھلونا، توڑ دے اس کو اور پھر روئے ویسے آشا کے مٹنے پر میرا دل بھی مچل جاتا ہے جیون ریت کی چھان پھٹک میں سوچ سوچ دن رین گنوائے بیرن وقت کی ہیرا پھیری پل آتا ہے پل جاتا ہے میرا جی روشن کر لوجی، بن بستی جوگی کا پھیرا دیکھ کر ہر انجانی صورت پہلا رنگ بدل جاتا ہے
  9. Urooj Butt

    poetry چُوڑیاں

    اُس کو ِجتنے بھی رنگ بَھاتے ہیں ویسی سب چُوڑیاں ہیں میرے پاد
  10. چلو ھم مان لیتے ھیں۔ محبت اور سیاست میں سبھی اطوار جائز ھیں انا کی جنگ میں جاناں غلط بھی ٹھیک ھوتا ھے مگر یہ جنگ کیسی ھے تم ھی میرے مقابل ھو چلو ھم جیت کی خواھش تم ھی پہ وار دیتے ھیں دھنک کے پل پہ چل کے گگن کے پار جاتے ھیں چلو ھم ھار جاتے ھیں
  11. محبت مت سمجھ لینا کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا محبت کا لبادہ پانیوں کے رنگ جیسا ہے محبت ساتھ پردوں میں نہاں ہو کر عیاں ہے، یہ حقیقت ہے اور اس کی خوشبوؤں کو ہم دھنک میں ڈھونڈ سکتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کو جس نے پایا ہے وہ اپنا آپ کھو بیٹھا یہ مل کر بھی نہیں ملتی کسی کے ساتھ چلنے اور دُکھ سُکھ کی شرکت کو محبت مت سمجھ لینا کہ کس کو چُھو لیا جائے خُدا وہ ہو نہیں سکتا محبت ایسا منتر ہے فنا جو ہو نہیں سکتا
  12. Eylaaf Niazi

    poetry Sawan ki buniyaad

    Sawan Ki Buniyad Mein Ye Kis K Ansuu Hain? Sadion Phly Shaid Koi.. Sadion Bhet K Roya Hai
  13. پھر کوئی دست خوش آزار مجھے کھینچتا ہے جذبہ عشق سرِ دار مجھے کھینچتا ہے میں محبت کے مضافات کا باشندہ ہوں کیوں ترا شہرِ پُر اسرار مجھے کھینچتا ہے یہ بھی حیرت ہے عجب، خود مری تمثال کے ساتھ آئینہ بھی پسِ دیوار مجھے کھینچتا ہے دم بھی لینے نہیں دیتا ہے مسافت کاجنون پَا برہنہ وہ سرِ خار مجھے کھینچتا ہے پھر کوئی تیر ہدف کرتا ہے مشکیرہ کو پھر کوئی دستِ کماں دار مجھے کھینچتا ہے بولیاں جس کی لگے میں کوئی یوسف تو نہیں کس لئے مصر کا بازار مجھے کھینچتا ہے ہے کوئی گریہ کن حرف پسِ خیمہ جاں پھر کوئی نالہ آزار مجھے کھینچتا ہے تجھ کو معلوم ہے شاہدؔ بھی ہے مغرور بہت کیوں ترا حُسن انادار مجھے کھینچتا ہے
  14. Zarnish Ali

    poetry 2Line poetry

    سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں داغ دہلوی
  15. Hareem Naz

    poetry gham e Hijraan

    Ghum e Hijran ki tere pass dawa hy ky nahi غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں جاں بلب ہے ترا بیمار ، سنا ہے کہ نہیں وہ جو آیا تھا، تو دل لے کے گیا ہے کہ نہیں جھانک لے سینے میں کم بخت ذرا ، ہے کہ نہیں مخمصے میں تری آہٹ نے مجھے ڈال دیا یہ مرے دل کے دھڑکنے کی صدا ہے کہ نہیں سامنے آنا ، گزر جانا ، تغافل کرنا کیا یہ دنیا میں قیامت کی سزا ہے کہ نہیں اہل دل نے اُسے ڈُھونڈا ، اُسے محسوس کیا سوچتے ہی رہے کچھ لوگ ، خدا ہے ، کہ نہیں تم تو ناحق مری باتوں کا برا مان گئے میں نے جو کچھ بھی کہا تم سے ، بجا ہے کہ نہیں؟ آبرو جائے نہ اشکوں کی روانی سے نصیر سوچتا ہوں ، یہ محبت میں روا ہے کہ نہیں
  16. Zarnish Ali

    poetry عاطف سعيد

    ﮨﺠﺮ ﺍُﮔﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ ﭘﻮﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﺞ ﺑﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﻮ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻋﺎﻃﻒ ﺳﻌﯿﺪ
  17. Zarnish Ali

    poetry 2 line poetry

    خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ حضرت علامہ اقبالؒ
  18. دین سے دور ، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں ڈھنگ کی بات کہے کوئی ، تو بولوں میں بھی مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے مطمئن دل ہے بہت ، جب سے الگ بیٹھا ہوں غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں یہی مسلک ہے مرا، اور یہی میرا مقام آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں عمرکرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں جب سے وہ روٹھ گئے ، تب سے الگ بیٹھا ہوں c میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا سب میں شامل ہوں ، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں
  19. سُننے والوں کے لیے تیری ہنسی نعمت ہے توُ جو روئے تو تُجھے دیکھنے والا روئے آبشاروں کی طرح ، ابرِ مُسلسل کی طرح آپ کی یادمیں آخر کوئی کِتنا روئے جتنے بیزار ہیں مُسکان میّسر سب کو جو بھی اس بزم میں ہو محوِ تماشا روئے اُس کی تقدیر میں اتنا تو تبسُم لکھ دے یاد کر کے اُسے ہم دشت میں جتنا روئے سانحہ یہ تھا کہ تو نے ہمیں مصلوب کیا ملک افلاک پہ گوہر تہہِ دریا روئے اس سے بڑھ جائے گی کُچھ تاب و روانی دلبر چشمِ بے تاب سے کہہ دے لبِ دریا روئے
  20. ظلمت کدے میں میری شب غم کا جوش ہے اک شمع ہے دلیل سحر سو خاموش ہے داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خاموش ہے آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں غالب سریر خامہ نوائے سروش ہے ظلمت کدے میں میری شب غم کا جوش ہے اک شمع ہے دلیل سحر سو خاموش ہے
  21. نعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا کاؤکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا خشت پشتِ دستِ عجز و قالب آغوشِ وداع پُر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔ جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا بس کہ ہوں غالبؔ، اسیری میں بھی آتش زیِر پا !!...موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
  22. Baazicha-E-Atfaal Hai Duniya Mere Aage Hota Hai Shab-O-Roz Tamasha Mere Aage Ik Khel Hai Aurang-E-Sulemaan Mere Nazdeek Ik Baat Hai Ejaaz-E-Masiha Mere Aage Juz Naam Nahin Surat-E-Aalam Mujhe Manzoor Juz Vaham Nahin Hasti-E-Ashiya Mere Aage Hota Hai Nihaan Gard Main Sehraa Mere Hote Ghistaa Hai Jabin Khaak Pe Dariya Mere Aage Mat Pooch Ke Kya Haal Hai Mera Tere Peeche Tu Dekh Ke Kya Rang Hai Tera Mere Aage Sach Kahte Ho Khudbin-O-Khudaara Hoon Na Kyun Hoon Baitha Hai But-E-Aaina Seema Mere Aage Phir Dekhiye Andaaz-E-Gulafshaani-E-Guftaar Rakh De Koi Paimaana-E-Sahabaa Mere Aage Nafrat Ka Gumaan Guzre Hai Main Rashk Se Guzra Kyun Kar Kahoon Lo Naam Na Us Ka Mere Aage Imaan Mujhe Roke Hai Jo Kheenche Hai Mujhe Kufr Kaaba Mere Peeche Hai Kalisa Mere Aage Aashiq Hoon Pe Mashooq Farebi Hai Mera Kaam Majnu Ko Bura Kahti Hai Laila Mere Aage Khush Hote Hain Par Vasl Main Yun Mar Nahin Jaate Aai Shab-E-Hijraan Ki Tamanna Mere Aage Hai Maujzan Ik Qulzum-E-Khoon Kaash! Yahi Ho Aata Hai Abhi Dekhiye Kya-Kya Mere Aage Go Haath Ko Jumbish Nahin Aankhon Main To Dam Hai Rahne Do Abhi Saagar-O-Meena Mere Aage Hampesha-O-Hammasharab-O-Hamraaz Hai Mera ‘Ghalib’ Ko Bura Kyun Kaho Achcha Mere Aage
  23. Zarnish Ali

    poetry جو چل سکو تو....

    ﺟﻮ ﭼﻞ ﺳﮑﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﺎﻝ ﭼﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻤﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ____ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﺷﻌﻠﮕﯽ ﮨﻮ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺳﻮ ﻻﺯﻣﯽ ﺗﮭﺎ ____ ﺗﺮﮮ ﭘﯿﺮﮨﻦ ﮐﺎ ﺟﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻣﺎﮞ ____ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﺁﭘﮩﻨﭽﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ____ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮕﺎ ____ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺳﺠﯽ ﺳﺠﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﻮﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻮﺭﺧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻘﺎﺑﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ____ ﻣﺤﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍِﺳﯽ ﺳﺎﻋﺖِ ﺯﻭﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ____ ﺳﺒﮭﯽ ﺳﻮﺭﺟﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ____ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﺍﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﮞ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ____ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ
  24. ایک بحر میں پانچ غزلیں *********************** 1. نہ آیا ہوں نہ میں لایا گیا ہوں میں حرفِ کن ہوں فرمایا گیا ہوں میری اپنی نہیں ہے کوئی صورت ہر اک صورت سے بہلایا گیا ہوں بہت بدلے میرے انداز لیکن جہاں کھویا وہیں پایا گیا ہوں وجودِ غیر ہو کیسے گوارا تیری راہوں میں بے سایا گیا ہوں نجانے کون سی منزل ہے واصف جہاں نہلا کے بلوایا گیا واصف علی واصف _______ 2. فلک سے خاک پر لایا گیا ہوں کہاں کھویا کہاں پایا گیا ہوں میں زیور ہوں عروسِ زِندگی کا بڑے تیور سے پہنایا گیا ہوں نہیں عرض و گزارش میرا شیوہ صدائے کُن میں فرمایا گیا ہوں بتا اے انتہائے حسنِ دنیا میں بہکا ہوں کہ بہکایا گیا ہوں مجھے یہ تو بتا اے شدتِ وصل میں لِپٹا ہوں کہ لِپٹایا گیا ہوں بدن بھیگا ہوا ہے موتیوں سے یہ کِس پانی سے نہلایا گیا ہوں اگر جانا ہی ٹھہرا ہے جہاں سے تو میں دنیا میں کیوں لایا گیا ہوں یہ میرا دل ہے یا تیری نظر ہے میں تڑپا ہوں کہ تڑپایا گیاہوں مجھے اے مہرباں یہ تو بتا دے میں ٹھہرا ہوں کہ ٹھہرایا گیا ہوں تِری گلیوں سے بچ کر چل رہا تھا تِری گلیوں میں ہی پایا گیا ہوں جہاں روکی گئی ہیں میری کِرنیں وہاں میں صورتِ سایہ گیا ہوں عدیم اِک آرزو تھی زِندگی میں اُسی کے ساتھ دفنایا گیا ہوں عدیم ہاشمی _______ 3. جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں وہیں ڈوبا ہوا پایا گیا ہوں بلا کافی نہ تھی اک زندگی کی دوبارہ یاد فرمایا گیا ہوں سپرد خاک ہی کرنا ہے مجھ کو تو پھر کاہے کو نہلایا گیا ہوں اگرچہ ابرِ گوہر بار ہوں میں مگر آنکھوں سے برسایا گیا ہوں کوئی صنعت نہیں مجھ میں تو پھر کیوں نمائش گاہ میں لایا گیا ہوں مجھے تو اس خبر نے کھو دیا ہے سنا ہے میں کہیں پایا گیا ہوں حفیظ اہل زباں کب مانتے تھے بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں حفیظ جالندھری ______ 4. جہاں معبود ٹھہرايا گيا ہوں وہيں سولی پہ لٹکايا گيا ہوں سنا ہر بار ميرا کلمۂ صدق مگر ہر بار جھٹلايا گيا ہوں مرے نقشِ قدم نظروں سے اوجھل مگر ہر موڑ پر پايا گيا ہوں کبھی ماضی کا جيسے تذکرہ ہو زباں پر اس طرح لايا گيا ہوں جو موسی ہوں تو ٹھکرايا گيا تھا جو عيسی ہوں تو جھٹلايا گيا ہوں جہاں ہے رسم قتلِ انبيا کی وہاں مبعوث فرمايا گيا ہوں ابھی تدفين باقی ہے ابھی تو لہو سے اپنے نہلايا گيا ہوں دوامی عظمتوں کے مقبرے ميں ہزاروں بار دفنايا گيا ہوں ميں اس حيرت سرائے آب و گل ميں بحکمِ خاص بھجوايا گيا ہوں کوئی مہمان ناخواندہ نہ سمجھے بصد اصرار بلوايا گيا ہوں بطورِ ارمغاں لايا گيا تھا بطورِ ارمغاں لايا گيا ہوں ترس کيسا کہ اس دارالبلا ميں ازل کے دن سے ترسايا گيا ہوں اساسِ ابتلا محکم ہے مجھ سے کہ ديواروں ميں چنوايا گيا ہوں کبھی تو نغمۂ داؤد بن کر سليماں کے لئے گايا گيا ہوں نجانے کون سے سانچے ميں ڈھاليں ابھی تو صرف پگھلايا گيا ہوں جہاں تک مہرِ روز افروز پہنچا وہيں تک صورتِ سايہ گيا ہوں رئیس امروہوی ______ 5. تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں دلِ مضطر سے پوچھ اے رونقِ بزم میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں سویرا ہے بہت اے شورِ محشر ابھی بے کار اٹھوایا گیا ہوں قدم اٹھتے نہیں کیوں جانبِ دیر کسی مسجد میں بہکایا گیا ہوں کجا میں اور کجا اے شاد دنیا کہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں شاد عظیم آبادی ♡♡♡♡♡
  25. ﻋﺸﺮﺕِ ﻗﻄﺮﮦ ﮨﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﻓﻨﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺣﺪ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﺎ ﮨﮯ ﺩﻭﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﺮﺯﺍ ﻏﺎﻟﺐ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ
×