Jump to content

Welcome to Fundayforum

Welcome to Fundayforum

Take the free tour and meet people! 😍

Things are going to change

Things are going to change

This year you must stay, you deserve it.

When you think things go wrong

When you think things go wrong

There is always someone who will give you a hand.

Where are you going tonight?

Where are you going tonight?

Some day we'll go back there, our secret place.

Do you remember those moments?

Do you remember those moments?

This is going to get sweet!

I really feel younger.

I really feel younger.

Maybe I'll give it a little taste.

Oh pretty mama, you're the best!

Oh pretty mama, you're the best!

I do not think I'll ever forget it, thanks.

Search the Community

Showing results for tags 'shairy o shairy'.

The search index is currently processing. Current results may not be complete.


More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 453 results

  1. دل دے اندر خانہ کعبہ، ساڈا ہویا گھر وِچ حَج آپ اِمام تے آپ نمازی، آپے بانگاں دیواں اَج نیڑے آ کے ویہڑے ساڈے وَسنا ای تے وَس چمکاں مار نہ دُوروں سانُوں، اینویں نہ پیا گَج تیرا اِک علاج میں دَسّاں، جا کے شِیشہ ویخ اپنا کُجھ تے نظر نہ آوے، سانُوں دَسنا ایں بَج آپے لاوے عِشق عدالت، آپے پھائیاں پاوے آپ وکیل تے آپے مُلزم، آپے بَنیا اپنا جَج لَے میں پنجواں بال کے چَلّی، رکِھیں میرِیاں شَرماں تُوں لجپال سداؤندا واصفؔ، پالِیں میری لَج
  2. Urooj Butt

    دشوار

    کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی تجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھی کیسی آداب نمائش نے لگائیں شرطیں پھول ہونا ہی نہیں پھول نظر آنا بھی دل کی بگڑی ہوئی عادت سے یہ امید نہ تھی بھول جائے گا یہ اک دن ترا یاد آنا بھی جانے کب شہر کے رشتوں کا بدل جائے مزاج اتنا آساں تو نہیں لوٹ کے گھر آنا بھی ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں تیرا ہونا بھی نہیں اور ترا کہلانا بھی خود کو پہچان کے دیکھے تو ذرا یہ دریا بھول جائے گا سمندر کی طرف جانا بھی جاننے والوں کی اس بھیڑ سے کیا ہوگا وسیمؔ اس میں یہ دیکھیے کوئی مجھے پہچانا بھی
  3. Hareem Naz

    Tera Ehsas chuno

    میں لفظ چُنوں .. دلکش چُنوں پھر ان سے تیرا احساس بُنوں تجھے لکھوں میں دھڑکن اس دل کی یا تجھ کو ابر کی رم جھم لکھوں ستاروں کی عجب جھلمل کبھی پلکوں کی تجھے شبنم لکھوں .. کبھی کہہ دوں تجھے میں جاں اپنی کبھی تجھ کو میں اپنا محرم لکھوں کبھی لکھ دوں تجھے ہر درد اپنا کبھی تجھ کو زخم کا مرہم لکھوں تو زیست کی ہے امید میری میں تجھ کو خوشی کی نوید لکھوں لفظوں پہ نگاہ جو ڈالوں کبھی ہر لفظ کو بیاں سے عاجز لکھوں! میں تجھ کو تکوں.. تکتی جاؤں میں تجھ کو میری تمہید لکھوں! تو گفت ہو میرے اس دل کی.. میں تجھ کو فقط شنید لکھوں....
  4. تُو سمجھتا ہے محبت سے گزر جائے گا ؟ تُو جو نکلے گا کناروں سے تو مر جائے گا یہ ضروری تو نہیں ہجر کے لمحات گنوں "وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گا" یہ ترے بس کا نہیں روگ، میاں چھوڑ اسے تُو بدن چاٹ کے الفت سے مکر جائے گا میرے رونے سے سمندر میں اضافہ نہ سہی کم سے کم آنکھ کا دریا تو اتر جائے گا اے مرے عکسِ جنوں دیکھ مرے چہرے کو تُو بھی خاموش رہے گا تو بکھر جائے گا قیس کو قیس نما اور مجھے قیس کہا میں نہ کہتا تھا مجھے دیکھ کے ڈر جائے گا
  5. جب کوئی پیار سے بلائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے لذت غم سے آشنا ہو کر اپنے محبوب سے جدا ہو کر دل کہیں جب سکوں نہ پائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا تیرے لب پہ نام ہو گا پیار کا شمع دیکھ کر جلے گا دل تیرا جب کوئی ستارہ ٹمٹمائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا زندگی کے درد کو سہو گے تم دل کا چین ڈھونڈتے رہو گے تم زخم دل جب تمہیں ستائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا جب کوئی پیار سے بولائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا
  6. Urooj Butt

    محبت کا یقیں

    ‏تجھ کا آتا ہی نہیں میری محبت کا یقیں کب سے یہ ہاتھ تیری سمت بڑھا رکھا ہے دل کی گھاٹی میں دبے پاؤں اتر جاتی ہیں تیری آنکھوں نے تو دیوانہ بنا رکھا ہے
  7. Urooj Butt

    محبت راستہ ہوتی

    محبت راستہ ہوتی تو اس پہ عمر بهر چلتے کہیں تهک کے جو رک جاتے تو تیری آرزو کرتے تمہیں لا کر خیالوں میں تمهی سے گفتگو کرتے تمهی کو سوچتے پہروں تمهاری جستجو کرتے اگر تم زخم بهی دیتے تو ہم اس کو رفو کرتے کوئی شکوہ گلہ ہو تا تو وہ بھی رو برو کرتے محبت راستہ ہوتی تو اس پر عمر بهر چلتے
  8. ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا اُسے یاد کر کے نہ دل دُکھا، جو گزر گیا سو گزر گیا نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے، یونہی راستے میں جُدا ہوئے نہ تُو بے وفا نہ میں بے وفا، جو گزر گیا سو گزر گیا وہ غزل کی ایک کتاب تھا، وہ گُلوں میں ایک گلاب تھا ذرا دیر کا کوئی خواب تھا ، جو گزر گیا سو گزر گیا مجھے پت جھڑوں کی کہانیاں ،نہ سنا سنا کر اداس کر تُو خزاں کا پھول ہے مُسکرا ، جو گزر گیا سو گزر گیا وہ اُداس دھوپ سمیٹ کر، کہیں وادیوں میں اُتر چکا اُسے اب نہ دے میرے دل صدا، جو گزر گیا سو گزر گیا یہ سفر بھی کتنا طویل ہے، یہاں وقت بھی کتنا قلیل ہے کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا، جو گزر گیا سو گزر گیا وہ وفائیں تھیں یا جفائیں تھیں، یہ نہ سوچ کس کی خطائیں تھیں وہ تیرا ہے اُس کو گلے لگا ، جو گزر گیا سو گزر گیا تجھے اعتبار و یقیں نہیں، نہیں دنیا اتنی بُری نہیں نہ ملال کر میرے ساتھ آ ، جو گزر گیا سو گزر گیا
  9. waqas dar

    poetry Kabhi Mayoos Mut Huna

    ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﮐﺘﻨﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﮨﻮ ﺳﺤﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ،ﺳﻮﯾﺮﺍ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ،ﺗﻼﻃﻢ ﺁﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﺳﻔﯿﻨﮯ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ،ﺳﻔﺮ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﺘﺎ ،ﻣﺴﺎﻓﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻣﮕﺮ ﻣﺎﻧﺠﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮑﺘﺎ ،ﺳﻔﺮ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺧﺪﺍ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﮯ ﻧﺎﻇﺮ ﺑﮭﯽ ،ﺧﺪﺍ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﻣﻨﻈﺮ ﺑﮭﯽ ،ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ،ﻭﮨﯽ ﺳﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ ،ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻢ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ،ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﮈﮬﻠﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﺱ ﮐﯽ ﮔﺎﮔﺮ ،ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﮨﻮﺍ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﮨﻮ ،ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﮍﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯽ ﭼﮑّﯽ ،ﺫﺭﺍ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ ،ﻣﮕﺮ ﭼﮑّﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﭨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ،ﺑﮩﺖ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﭘﺴﺘﺎ ﮨﮯ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ،ﻭﮨﺎﮞ ﺳﺘﺮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ،ﻧﯿﺖ ﺗﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﭘﻠﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ،ﻋﻤﻞ ﻧﺎﭘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ،ﻭﮨﺎﮞ ﺟﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ،ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ،ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺩﮮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺩﺭﯾﺪﮦ ﺩﺍﻣﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﮦ ،ﺭﻓﻮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ،ﺍﮔﺮ ﮐﺶ ﮐﻮﻝ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮ ،ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﻮﺏؑ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ،ﺯﻣﯿﮟ ﭼﺸﻤﮧ ﺍﺑﻠﺘﯽ ﮨﮯ ،ﮐﮩﯿﮟ ﯾﻮﻧﺲؑ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ،ﺍﮔﺮ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ ،ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺠﺮ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﭘﺮ ،ﮐﺪﻭ ﮐﯽ ﺑﯿﻞ ﺍﮔﺘﯽ ﮨﮯ ،ﺟﻮ ﺳﺎﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ،ﻋﻼﺝِ ﻧﺎ ﺗﻮﺍﻧﯽ ﺑﮭﯽ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﭨﯿﺴﻮﮞ ﮐﻮ ،ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺩُﮐﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﺗﻤﻨﺎ ﮐﺎ ﺩﯾﺎ ﻋﺎﺻﻢؔ ﮐﺒﮭﯽ ،ﺑﺠﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺁﺱ ﮐﺎ ﺩﺭﯾﺎ ،ﮐﮩﯿﮟ ﺭﮐﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺟﺐ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺭﺣﻢ ﮐﺎ ﺳﺎﮔﺮ ،ﭼﮭﻠﮏ ﮐﮯ ﺟﻮﺵ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،ﻗﮩﺮ ﮈﮬﺎﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺳﻮﺭﺝ ،ﯾﮑﺎ ﯾﮏ ﮐﺎﻧﭗ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،ﮨﻮﺍ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﮩﺮﺍ ﮐﺮ ،ﮔﮭﭩﺎ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺗﯽ ﮨﮯ ،ﺟﮩﺎﮞ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﺗﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ ،ﻭﮨﯿﮟ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ ،ﺗﺮﺳﺘﮯ ﺭﯾﮓ ﺯﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ،ﺍﺑﺮ ﺑﮩﮧ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﻧﻈﺮ ﻭﮦ ﺍﭨﮫ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ،ﮐﺮﻡ ﮨﻮ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﭼﻤﮑﺘﺎ ﺩﻥ ،ﺍﻣﺮ ﮨﻮ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ
  10. سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں دل کو برباد روح کو ناشاد خُود کو آباد سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں ہر بار کامل جفا ہمیشہ بے خطا کبھی نہ وفا سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں نئے عُذر تراشنا نئے بہانے بنانا جھوٹی قسمیں کھانا سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں محبت میں مُنافقت مُنافقت میں رفاقت جُھوٹ میں صداقت سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں یار بدل لینا پیار بدل لینا اطوار بدل لینا سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں ہر اِک سے فریب ہونا سراپأِ فریب رہنا دیدہ زیب سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں کیسے کرتے ہیں بے و فائیاں کیسے کرتے ہیں کج ادائیاں کیسے کرتے ہیں نئی آشنائیاں سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
  11. بس ایک بات ہی پوچھی بچھڑنے والے نے کبھی کہیں پہ ملے تو ۔۔۔۔سلام ہو گا ناں ؟؟ کبھی کبھار ہی لیکن ۔۔پکارتے ہیں تجھے ہمارا چاہنے والوں میں نام ۔۔۔ہو گا ناں ؟؟ افتخار شاہد
  12. Urooj Butt

    کچھ بول پیا

    ذات کا گنجل کھول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ اس رات کی کالی چادر کو یہ چاند ستارے اوڑھ چکے۔۔۔ کچھ جان سے پیارے یار سجن دل توڑ چکے، مکھ موڑ چکے۔۔۔ خود آپ بھٹکتی راہوں میں یہ تن تنہا مت رول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ وہ عشوہ و غمزہ دیکھ لیا اب رات کٹے گی خوابوں میں۔۔۔ میں نام ترے جیون جیون تم اب تک دور سرابوں میں۔۔۔ جو راکھ ہوئی ان خوابوں میں یہ ہستی ہے انمول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ تو جب تک اپنے پاس رہا گرداب کا گھیرا راس رہا۔۔۔ پر تول چکا، سب بول چکا اب من پنچھی بے آس رہا۔۔۔ جذبات نہیں معصیت کے یوں زہر نہ ان میں گھول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ دربار لگا ہے زخموں کا دردوں کی نمائش جاری ہے۔۔۔ رِستا ہے لہو ان پھولوں سے خاروں کی ستائش جاری ہے۔۔۔ ہر زخم مہکنے لگ جائے اک بول تو ایسا بول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔
  13. Urooj Butt

    میں کہتی تھی

    ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭨُﻮﭨﮯ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺁﺯﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺁﺯﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﺤﺮﺍ ﺳُﻠﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﯾﺎ ﺑِﻠﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺳُﻠﮕﺘﮯ ﺷﺮﺍﺭﮮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻠﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎ ﮔﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺤﺾ ﺍﮎ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺍﻧﮕﺎﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﮐﯿﺎ ﺭﮐﮭﻮﮞ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍِﺳﮯ ﺗﻢ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﺍﻥ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺧﺎﺭ ﺳﺎ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﭼُﮭﻮ ﮐﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﭘَﻞ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺍِﺱ ﺣﺼﺎﺭِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﻢ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﻟﻤﺤﮯ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﺭﻗﻢ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺮﺕ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺳُﻠﮕﺘﮯ ﺯﺧﻢ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺍِﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ، ﺑُﮭﻼ ﺩﻭ ﺟﻮ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺣﺮ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﮭﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯿﺎﮞ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﻮﻧﮑﺎ ﻣﮕﺮ ﮐُﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ، ﺑُﺖ ﮐﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ، ﺑﺖ ﺷﮑﻦ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺗﻢ ﺧﺎﮎ ﭨﮭﮩﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﯾﮩﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺭﺱ ﻧﮧ ﺗُﻮ ﺳﻮﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐُﮩﺮ ﮐﺐ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺁﺧﺮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳُﻠﮕﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﻘﺪﯾﺮﯾﮟ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺁﺳﺘﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮯ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﺐ ﺻﺤﺮﺍ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺑﻨﺠﺎﺭﮦ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﺍُﺳﮯ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﭧ ﮐﺮ ﮨﺎﺭﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻟِﺒﺎﺩﮮ ﺯﺭﺩ ﮐﯿﻮﮞ ﭨﮭﮩﺮﮮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺧﺰﺍﮞ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﺮ ﺍِﮎ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﮐﺌﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺩِﯾﮯ ﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻠﺘﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺮﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺑﮭﻼ ﺭﮐﮭﺎ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﮕﻤﮕﺎﺗﮯ ﺳﺐ ﺩﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺭﮐﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﯽ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﯽ ﮐﯿﺎ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺲ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺳُﻨﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﮍ ﺟﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﺫﺍﺕ ﮨﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺯِﻧﺪﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺎ ﺷﺐ ﺑﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﺳﺎﻧﺲ ﺍﮐﺜﺮ ہی ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮔﺮ ﯾﮩﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗُﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺯَﺩ ﭘﮧ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﯿﺴﯽ؟ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺭﻭﺡ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﺒﮭﯽ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﻣﺪﮬﻢ ﮨیں ﻭﮦ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﻭﻗﻒ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﺴﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﭘﺎﺅ ﮔﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮨﻮﮐﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮔُﻢ ﺗﮭﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺍُﻧﮕﻠﯽ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﮔِﻦ ﻟﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺷِﺪّﺕ ﺳﮯ ﺷﺮﯾﺎﻧﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﻨﺎﺅ ﺣﺎﻝ ﺍُﺱ ﺷﺐ ﮐﺎ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ، ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﯽ ﺷﺐ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺷﺐ ﭨﻮﭦ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﺩﻥ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﺪﮬﮯ ﭘﮧ ﺭﻭﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺷﺎﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺁﻧﺴﻮ ﺳﮯ ﮔﮭﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﺰﺭﯼ ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮭﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﻮ ﺍُﺱ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺑﺎﺑﺖ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﺣَﺪ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮩﺎ ﻭﮦ ﻋﺸﻖ ﺟﯿﺴﮯ ﺭُﻭﺡ ﮐﺎ ﺳﺮﻃﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﻮ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﯾﮧ ﮨﻮﮔﺎ؟ !ﮐﮩﺎ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﻘﺶِ ﭘﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺩُﮐﮫ ﺩﺭﺩ ﺣﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺫﺭّﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣُﺴﻦ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﯾﮏ ﺫﺭّﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮧ ﮐﺐ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﮕﯽ ﺗﻢ ﮐﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺐ ﭼﮭﻮ ﻟﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮈﻭﺑﺘﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮐﺜﺮ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮩﺮﮦ ﺟﻮ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮨﻮ ﺍﺏ ﺗﮏ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﮎ ﮐﻨﻮﻝ ﺭﺥ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺣﺮ ﺳﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﻣﻘﺘﻞ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻢ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍِﮎ ﺷﺎﻡ ﮐﺎﭨﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺫّﯾﺖ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺗُﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮭﻼ ﺍﺏ ﺩﺍﺅ ﭘﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﭘﺎﺱ، ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮨﺎﺭ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮐﺐ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭼﭗ ﺗﯿﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﻮ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﺑﮑﮭﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﻨﺎﺭﺍ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻥ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺑﻮﺟﮫ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﺏ ﺧﻮﻑ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮨﻠﯿﺰ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﺎ ﺩَﺭ ﻭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺪﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺎﻧﭻ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﮧ ﺣﺴﺮﺕ ﮐﺎ ﻟﮩﻮ ﺟﮭﻠﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﭨﻮﭨﯽ ﮨﻮ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺍُﺳﯽ ﻟﻤﺤﮯ، ﻣﺠﮭﮯ ﺟﺐ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﮞ، ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﻣُﺴﻠﺴﻞ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﻋﺚ ﯾﮧ ﺭَﺗﺠﮕﮯ ﻣُﺴﻠﺴﻞ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮑﮭﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﮯ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺷﺐ ﮐﻮ ﺭﻭﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﺩُﻋﺎﺋﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﮐﺘﻨﺎ؟ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﭘﻞ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﺑﻮﻻ ﺧﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺍِﮎ ﺩُﻋﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﮕﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺩُﻋﺎ ﮐﺎ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺲ ﻭﮨﯽ ﺟﻮ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﻃﮧ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻢ؟ ﮐﮩﺎ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ، ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ، ﺳُﻨﻮ ﺳﺎﺣﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﻟﮯ ﮔﯽ ﻟﮕﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺷﺪّﺕ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﮐﺎﺗِﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﻮﮞ ﺗﻢ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﻮﻧﮑﺎ ﻣﮕﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺩﺭﯾﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﮨَﻮﺍ ﮐﻮ ﮐﺐ ﺑﻼﺅ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺍُﻣﯿﺪ ﮐﯽ ﺷﻤﻌﯿﮟ ﺟﻼﺅﮞ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺷﺎﮦِ ﻣﻦ ﺍﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﺠﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺎﻧﭻ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺍﺗﺮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺐ ﺑﮭﺮ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﺗﺎﺭﮮ ﺗﺒﮭﯽ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﺟﺐ ﮨﻢ ﻭﮨﯽ ﻗِﺼّﮧ ﺗﻮ ﺩﻭﮨﺮﺍﺅ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣُﻮﻧﺪ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ﺑﮍﯼ ﻟﻤﺒﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﻼ ﮐﺲ ﻣﻮﮌ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺩﻭ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺭﺷﺘﮧ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﺎ ﺗﻮﮌﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮨﺮ ﻟﻤﺤﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻮﺳﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﺯﮎ ﺩﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺷﮧ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﻏﻢ ﺯﺩﮦ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮﺷﮧ ﻧﺸﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﺭﻡ ﺟِﮭﻢ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﺟَﻞ ﺗﺮﻧﮓ ﺩﻝ ﺟﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﮐﯿﺎ؟ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺲ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮐﮩﺎ ﺟُﮭﮑﺘﯽ ﺟﺒﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ، ﺍُﭨﮭﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺒﯿﻦ ﻭ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻟﮑﮭﯽ ﺟﺎﭼﮑﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﮧ ﺗﻘﺪﯾﺮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﻭ ﺍﭘﻨﺎ، ﺟﺒﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺩﻭﮞ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﯾﮧ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳُﻨﻮ ﺳﺎﺣﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺴﺮﺕ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﯾﮧ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺯﺧﻢ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺪﮬﻢ ﺳﮯ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳُﻨﻮ ﺳﺎﺣﺮ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻏﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﻮ ﮔﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻧَﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﺎﮞ ﺍِﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﻧَﻢ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮐﮩﺎ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺩُﮐﮫ ﮨﻮﮞ ﮐﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟُﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺍِﻥ ﮐﮯ ﺑﻦ ﺟﺬﺑﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺍِﺗﻨﺎ ﮐﮩﻮ ﺩُﮐﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﻧﭩﻮ ﮔﮯ؟ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺗﺐ ﺑﻮﻻ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺩُﮐﮫ ﮨﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺩُﮐﮫ ﺩﺭﺩ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﯽ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﮭﺮ ﺑُﻼﺗﮯ ﺗﮭﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺍﻓﺴﺎﻧﮯ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺳﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﻓِﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﮑﮫ ﺑﮭﺮﻭﮞ ﮐﯿﺴﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﻨﮑﮭﮍﯼ ﮐُﻮﻧﺞ ﮐﮯ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘَﺮ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﺗﺮﻭﮞ؟ ﮐﮩﺎ ﺑﮯ ﺁﺏ ﻣﺎﮨﯽ ﮐﺎ ﺳﺎ ﭘﯿﺮﺍﮨﻦ ﭘﮩﻦ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻧَﺲ ﻧَﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮩﻮ ﮐﺎ ﺯﮨﺮ ﭘﮭﯿﻼ ﮨﮯ ﮐﮩﺎ ﺍِﺱ ﺯﮨﺮ ﮐﺎ ﺗﺮﯾﺎﻕ ﮨﮯ ﺑﺲ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮ ﮨﻮﮔﺎ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﭨﻮﭨﮯ ﮔﯽ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺧﻮﺍﺏِ ﺯﯾﺴﺖ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﭨﻮﭨﮯ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻃﮯ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﮞ ﯾﮩﯽ ﻃﮯ ﮨﮯ ﺗُﮩﺎﺭﮮ ﻟﻔﻆ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺳَﺮﺍﺑﯽ ﮨﻢ ﺗﮭﮯ ﯾﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮨﯽ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﺗﮭﯽ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﭘﯿﺎﺱ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﺧﻮﺩ ﭘُﮑﺎﺭﮮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮨﺎﺭ ﺟﺎﺅﮔﯽ ﺳُﻨﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺗﻢ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮦ ﺟﺎﺅ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺣﻠﻘﮧﺀ ﯾﺎﺭﺍﮞ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﻤﮑﻦ ﯾﮧ ﺩُﮐﮫ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮨﮯ ﺩُﮐﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﺯﻣﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺁﺯﻣﺎﺅﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺑﺲ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﮏ، ﺟﺐ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﺟﺎﺅﮔﮯ ﭘﮭﺮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐِﺘﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ
  14. دل ﻣﻀﻄﺮ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺩﻝ ﻧﮯ ﺗﮍﭘﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺗﺮﮎِ ﺁﺭﺯﻭ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻭﮦ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺗﺒﺴﻢ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺎ ﺑﮭﯽ ، ﺑﮯ ﺭﺧﯽ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﺘﻢ ﺑﮩﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺟﻠﺘﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ❤ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ
  15. فراق یار کی بارش، ملال کا موسم ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم وہ اک دعا میری جو نامراد لوٹ آئی زباں سے روٹھ گیا پھر سوال کا موسم بہت دنوں سے میرے ذہن کے دریچوں میں ٹھہر گیا ہے تمھارے خیال کا موسم جو بے یقیں ہو بہاریں اجڑ بھی سکتی ھیں تو آ کے دیکھ لے میرے زوال کا موسم محبتیں بھی تیری دھوپ چھاوں جیسی ھیں کبھی یہ ہجر کبھی یہ وصال کا موسم کوئی ملا ہی نہیں جس کو سونپتے محسن ہم اپنے خواب کی خوشبو خیال کا موسم
  16. کو ئی ایسا شبد لکھے کوئی جو دلگیروں کا گیت بنے کوئی لفظ تحمّل والا ھو کوئی بات کہ جیسے ماں بولے جسے سن کر زخم بھریں دل کے جسے چُھو کے رنج نہ ھو کوئی کوئی ایسا شبد لکھے کوئی جو ٹھنڈک ھو، آزار نہ ھو جو جیون بھر کا عطر بنے جو رستہ ھو دیوار نہ ھو کوئی کافی شاہ عنایت سی کوئی رمز بِھٹائی چاھت سی کوئی ھُوک سچل سرمست بھری جس لفظ کی گدڑی کے اندر انسان کی اک پہچان بھی ھو جو پورب پچھم سے آگے بغداد بھی ھو ملتان بھی ھو کوئی ایسا شبد لکھے کوئی جسے پڑھ کر اک حیرانی ھو جسے کھول کے دیکھیں تو اس میں ھر مشکل کی آسانی ھو جو طنز نہ ھو تحقیر نہ ھو کوئی ھو جو ایسا شبد لکھے وہ چاھے سنت فقیر نہ ھو بھلے ناسخ غالب میر نہ ھو پر ھو تو سہی کوئی ایسا کوئی ایسا _____جو یہ شبد لکھے جو دلگیروں کا گیت بنے جو انسانوں کا میت بنے ۔۔
  17. میں نازک دل دا مالک ہاں میڈا دل نہ یار دکھایا کر نہ کوڑے وعدے کیتے کر نہ کوڑیاں قسماں چایا کر تیکوں کئی واری میں آکھیا ہے میکوں ول ول نہ آزمایا کر تیڈی یاد وچ "سجن" مر ویساں میکوں اتنا ❤❤❤یاد نہ آیا کر
  18. ‏فُضول بیٹھ کے صفحات بھرتی رہتی ہُوں میں اَپنے آپ کو اِلہام کرتی رہتی ہُوں اَگر ، مگر ، نہیں ، ہرگز کی کند قینچی سے اَنوکھے خوابوں کے پَر ، شَر کترتی رہتی ہُوں میں سانس نگری کی بے حد عجیب مالی ہُوں لگائے پودوں کے بڑھنے سے ڈَرتی رہتی ہُوں نجانے کس نے اُڑا دی کہ ’’ دِن معین ہے ‘‘۔ یقین مانیے میں روز مرتی رہتی ہُوں مرے وُجود کو اَشکوں نے گوندھ رَکھا ہے ذِرا بھی خشک رَہوں تو بکھرتی رہتی ہُوں دُعا کو ہاتھ اُٹھاتی تو اُس پہ حرف آتا اَبھی تو سستی پہ اِلزام دَھرتی رہتی ہُوں کسی کے حُسن کا ہے رُعب اِس قَدَر مجھ پر میں خواب میں بھی گلی سے گزرتی رہتی ہُوں بہت سے شعروں کے آگے لکھا ہے ’’ نامعلوم ‘‘۔ بہت سے شعر میں کہہ کر مکرتی رہتی ہُوں اُدھورے قصے کئی کاندھا مانگتے ہیں مرا میں کھنڈرات میں اَکثر ٹھہرتی رہتی ہُوں تمام لوگ مرا آئینہ ہیں ، اُن کے طفیل میں اَپنی ذات کے اَندر اُترتی رہتی ہُوں بہت سے کاموں میں خود کار ہو گئی ہُوں ' میں خود کو کہہ کے ’’ سدھر جا ‘‘ ، سدھرتی رہتی ہُوں
  19. Hareem Naz

    Titliyon ka Mosam

    ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﭼﻨﺎ ﮔﻼﺑﻮﮞ ﮐﺎ ............... ﺭﯾﺖ ﺍﺱ ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ .............. ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﺎ ﻧﺸﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ................... ﺭﯾﺖ ﺍﺱ ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ ............... ﺗﻢ ﺍﺑﮭﯽ ﻧﺌﮯ ﮨﻮ ﻧﺎﮞ ! ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﮞ ﮨﻮ .............. ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﻮ .................. ﺁﻓﺘﯿﮟ ﺟﺐ ﺁﻧﯽ ﮨﻮﮞ ، ﭨﻮﭨﻨﺎ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ .................... ﺭﯾﺖ ﺍﺱ ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ .................. ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺷﻨﺪﮮ ﺑﻮ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﮯ ............... ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻓﺼﻞ ﮨﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ .................. ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﺎ ﺳﺮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ................. ﺭﯾﺖ ﺍﺱ ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ ................. ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺳﮯ ............. ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺮ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﻮ ﺩﺍﺋﻤﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﻨﺎ ......................... ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺑﭽﮭﮍ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﺎ .................. ﺭﯾﺖ ﺍﺱ ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ ............. .......... ﺧﺎﻣﺸﯽ ﻣﺮﺍ ﺷﯿﻮﮦ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮨﻨﺮ ﺍُﺱ ﮐﺎ ............. ............... ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﮔﻨﺎﮨﯽ ﮐﻮ ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻧﯿﮟ ﮔﮯ ............. ............... ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﺣﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ............................ ﺭﯾﺖ ﺍﺱ ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ
  20. میری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانا تمھارے کام آئے گا، یہ سامان لے جانا تمھارے بعد کیا رکھنا اَنا سے واسطہ کوئی؟ تم اپنے ساتھ میرا عمر بھر کا مان لے جانا شکستہ دل کے کچھ ریزے پڑے ہیں فرش پر چن لو اگر تم جوڑ سکتے ہو تو یہ گلدان لے جانا ادھر لماریوں میں چند اوراق پریشاں ہیں مرے یہ باقی ماندہ خواب میری جان لے جانا تمھیں ایسے تو خالی بات رخصت کر نہیں سکتے پرانی دوستی ہے، اس کی کچھ پہچان لے جانا ارادہ کر لیا ہے گر تم نے سچ مچ بچھڑنے کا تو پھر اپنے یہ سارے وعدہ و پیمان لے جانا اگر تھوڑی بہت ہے شاعری سے اُن کو دلچسپی تو ان کے سامنے تیم میرا یہ دیوان لے جانا
  21. Urooj Butt

    انصاف کرو

    تم کن پر نظمیں لکھتے ھو ؟؟ تم کن پر گیت بناتے ھو ؟؟ تم کن کے شعلے اوڑھتے ھو؟؟ تم کن کی آگ بجھاتے ھو ؟؟ اے دیدہ ورو انصاف کرو اُس آگ پہ تم نے کیا لکھا؟؟ جس آگ میں سب کچھ راکھ ھُوا مری منزل بھی ، میرا رستہ بھی مرا مکتب بھی ، میرا بستہ بھی مرے بستے کے لشکارے بھی مرے ست رنگے غبارے بھی مرے جگنو بھی ، میرے تارے بھی اے دیدہ ورو انصاف کرو وہ راہ نہیں دیکھی میں نے جو مکتب کو جاتی ھے اِس ھَوا نے مجھ کو چُھوا نہیں جو نیندوں کو مہکاتی ھے اور میٹھے خواب دکھاتی ھے اس کرب پہ تم نے کیا لکھا ؟؟ اے دیدہ ورو انصاف کرو مری تختی کیسے راکھ ھُوئی ؟؟ مرا بستہ کس نے چھین لیا ؟؟ مری منزل کس نے کھوٹی کی ؟؟ مرا رستہ کس نے چھین لیا ؟؟ انصاف کرو اے دیدہ ورو انصاف کرو (اعتبار ساجد)
  22. لگتا تو یوں ہے جیسے سمجھتا نہیں ہے وہ معصوم جتنا لگتا ہے اتنا نہیں ہے وہ مجھ میں بسا ہوا بھی ہے وہ سر سے پیر تک اور کہہ رہا ہے یہ بھی کہ میرا نہیں ہے وہ کر دونگا موم باتوں میں سوز و گداز سے جذبات کی تپش سے مبرا نہیں ہے وہ واضح یہ کر چکا ہے یقیں دل کے وہم پر میرا ہے صرف اور کسی کا نہیں ہے وہ رہتا ہے اس کے ساتھ ہمیشہ مرا خیال تنہایوں میں رہ کے بھی تنہا نہیں ہے وہ ہوگا غلط بیان میں مجبوریوں کا ہاتھ حق بات ورنہ یہ ہے کہ جھوٹا نہیں ہے وہ ٹھہرا وہ پھول، بوسے لبوں کے ملے اسے پتوں کی طرح پیروں میں آیا نہیں ہے وہ مرنے کے بعد آیا ہے کرنے مرا علاج مانا کہ چارہ گر ہے. مسیحا نہیں ہے وہ جاوید رات دن ہے ترا انتظار اسے کہنے کو تیرے پیار کا بھوکا نہیں ہے وہ ڈاکٹر جاوید جمیل
  23. اِک سوچ عقل سے پھسل گئی مجھے یاد تھی کےبدل گئ میری سوچ تھی کے وہ خواب تھا میری زندگی کا حساب تھا میری جستجو کے بر عکس تھی میری مشکلوں کا وہ عکس تھی مجھے یاد ہو تو وہ سوچ تھی جو نہ یاد ہو تو گُمان تھا مجھے بیٹھے بیٹھے گُماں ہوا گُماں نہیں تھا وہ خُدا تھا میری سوچ نہیں تھی-خُدا تھا وہ وہ خُدا کے جس نے زباں،دِل دیا جان دی وہ زباں کے جسے نا چلا سکیں وہی دِل جسے نا منا سکیں وہی جاں جسے نا لگا سکیں کبھی مل تو تُجھے بتا ئیں ہم تُجھے اس طرح سےستائیں ہم تیرا عشق تُجھ سے چھین کر تُجھے مے پِلا کے رُلائیں ہم تُجھ درد دوں تو نہ سہے َسکے تُجھے دوں زُباں تو نا کہے سَکے تُجھے دوں مکاں تو نہ رہے سَکے تُجھے مشکلوں میں گِھرا کر میں کوئی ایسا رستا نکال دوں تیرے درد کی میں دوا کروں کسی غرض کے میں سوّا کروں تُجھے ہر نظر پے عُبور دوں تُجھے زندگی کا شعور دوں کبھی مل بھی جائیں گے غم نہ کر ہم گر بھی جائیں گے غم نہ کر تیرے ایک ہونے میں شَک نہیں میری نِیّتوں کو تُو صاف کر تیری شان میں بھی کَمّی نہیں میرے اس کلام کو تُو معاف کر.. علی ہمدانی
  24. Message for PTI ہر اِک دے نال پنگا اوہدا ، ہر اِک نال لڑائی اے وطن میرے دی عزت غیرت دھرنیاں وچ نچائی اے اَہی پی ٹی آئی اے ، بس اَہی پی ٹی آئی اے شرم حیا دئیاں ساریاں کندھاں چھالاں مار کے ٹَپی اوئے نت سن لو لیڈر اوہدا سب توں وادہ کھپتی دو ، تِن سگڑیٹ کوکین دے پی کے ہو جاندا شدائی اے اَہی پی ٹی آئی اے ، بس اَہی پی ٹی آئی اے سچ تے اپ منا لیندا اے ، چوٹھ کدئے نہ مناں جتھے جا کے متھا ٹیکیا ، اوتھے ہی لائیاں سناں ؟ اوہی گھر دی مالک بن گئی جو بچیاں دی تائی اے اَہی پی ٹی آئی اے ، بس اَہی پی ٹی آئی اے گھر سادا پنجاب دوستو کسے نوں کھون نہیں دینا مج تے رہ گئی اک پاسے اَسی کٹا جون نہیں دینا اسی پاک وطن دی اے دھرتی لہو دے کے سجائی اے اتھے نوں لیگ نے آنا اے ، اتھے نون لیگ ہی آئی اے
  25. Urooj Butt

    چائے

    لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے عشق پِیتا ہے کڑک چاہتوں والی چائے کیتلی ہجر کی تھی , غم کی بنا لی چائے وصل کی پی نہ سکے ,ایک پیالی چائے میرے دالان کا منظر کبھی دیکھو آ کر درد میں ڈوبی ہوئی شام ,سوالی چائے ہم نے مشروب سبھی مضر ِ صحت ترک کئے ایک چھوڑی نہ گئی ہم سے یہ سالی , چائے یہ پہیلی کوئی بُوجھے تو کہ اُس نے کیونکر اپنے کپ سے مرے کپ میں بھلا ڈالی , چائے میں یہی سوچ رہا تھا کہ اجازت چاہوں اُس نے پھر اپنے ملازم سے منگالی چائے اس سے ملتا ہے محبت کے ملنگوں کو سکوں دل کے دربار پہ چلتی ہے دھمالی چائے رنجشیں بھول کے بیٹھیں کہیں مل کر دونوں اپنے ہاتھوں سے پِلا خیر سگالی ,چائے عشق بھی رنگ بدل لیتا ہے جان ِ احمد ! ٹھنڈی ہو جائے تو پڑ جاتی ہے کالی, چائے اعجاز احمد
×