Jump to content

Welcome to Fundayforum. Please register your ID or get login for more access and fun.

Signup  Or  Login

house fdf.png

ADMIN ADMIN

Search the Community

Showing results for tags 'shairy'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 522 results

  1. بھوک و افلاس ....کی ماری ہوئی اس دنیا میں عشق ہی صرف حقیقت نہیں ، کچھ اور بھی ہے
  2. تم کو وحشت تو سکھا دی ہے تم کو وحشت تو سکھا دی ہے، گزارے لائق اور کوئی حکم،؟ کوئی کام،؟ ہمارے لائق،؟ معذرت! میں تو کسی اور کے مصرف میں ہوں ڈھونڈ دیتا ہوں مگر کوئی،،،،،،،، تمہارے لائق ایک دو زخموں کی گہرائی اور آنکھوں کے کھنڈر اور کچھ خاص نہیں مجھ میں،،،،،،، نظارے لائق گھونسلہ، چھاؤں، ہرا رنگ، ثمر، کچھ بھی نہیں دیکھ،،،،،، مجھ جیسے شجر ہوتے ہیں آرے لائق دو وجوہات پہ،،،،،،، اس دل کی اسامی نہ ملی ایک-> درخواست گزار اتنے؛ دو-> سارے لائق اس علاقے میں اجالوں کی جگہ کوئی نہیں صرف پرچم ہے یہاں،،،،، چاند ستارے لائق مجھ نکمے کو چنا اس نے ترس کھا کے ! دیکھتے رہ گئے حسرت سے، بچارے لائق
  3. ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡﮐﮧ ﻟﮩﻮ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﭖ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﮟ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺩﯾﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺷﻮﻕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﯾﺎﺭِ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮋﮦ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺩﻝ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺣﺒﺲِ ﺟﻨﻮﮞ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐِﮭﻞ ﺳﮑﻮ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﻮ ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺭ ﺟﻮ ﻣﻠﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺳﮑﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﻮ ﻣﺮﺍ ﺩﺭﺩ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺰﻝ ﺑﻨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺿﺎﺑﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﻭ ﻧﮧ ﺷﮑﺴﺖِ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﻮ ﻧﮧ ﺳﻨﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﭘﮭﺮﻭ، ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﻧﮧ ﺍُﺟﮍ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺳﻤﭧ ﺳﮑﯿﮟ ، ﻧﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺳﮑﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ !!
  4. دل دے اندر خانہ کعبہ، ساڈا ہویا گھر وِچ حَج آپ اِمام تے آپ نمازی، آپے بانگاں دیواں اَج نیڑے آ کے ویہڑے ساڈے وَسنا ای تے وَس چمکاں مار نہ دُوروں سانُوں، اینویں نہ پیا گَج تیرا اِک علاج میں دَسّاں، جا کے شِیشہ ویخ اپنا کُجھ تے نظر نہ آوے، سانُوں دَسنا ایں بَج آپے لاوے عِشق عدالت، آپے پھائیاں پاوے آپ وکیل تے آپے مُلزم، آپے بَنیا اپنا جَج لَے میں پنجواں بال کے چَلّی، رکِھیں میرِیاں شَرماں تُوں لجپال سداؤندا واصفؔ، پالِیں میری لَج
  5. میرے بے خبر تُجھے کیا پتا تيری آرزوں کے دوش پر تيری کيفِيت کے جام میں میں جو کِتنی صديوں سے قید ہوں تيرے نقش میں، تيرے نام میں میرے زاِئچے، میرے راستے میرے ليکھ کی یہ نِشانِياں تيری چاہ میں ہیں رُکی ہوئی کبھی آنسوں کی قِطار میں کبھی پتھروں کے حِصار میں کبھی دشتِ ہجر کی رات میں کبھی بدنصيبی کی گھاٹ میں کئی رنگ دھوپ سے جل گئے کئی چاند شاخ سے ڈھل گئے کئی تُن سُلگ کے پگھل گئے تيری اُلفتوں کے قیام میں تيرے درد کے در و بام میں کوئی کب سے ثبتِ صليب ہے تيری کائنات کی رات میں تيرے اژدھام کی شام میں تُجھے کیا خبر تُجھے کیا پتا میرے خواب ميری کہانیاں میرے بے خبر تُجھے کیا پتا !!!!!
    Sad Boy Where are you Sad Urdu Poetry
  6. Hareem Naz

    Dard e tanhai

    اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں چار سو گونجتی رسوائی کسے کہتے ہیں اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو کوئی لمحہ ہو تِری یاد میں کھو جاتے ہیں اب تو خود کو بھی میسر نہیں آپاتے ہیں رات ہو دن ہو ترے پیار میں ہم بہتے ہیں درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں اَب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو جو بھی غم آئے اُسے دل پہ سہا کرتے تھے ایک وہ وقت تھا ہم مل کے رہا کرتے تھے اب اکیلے ہی زمانے کے ستم سہتے ہیں درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو ہم نے خوداپنے ہی رستے میں بچھائے کانٹے گھر میں پھولوں کی جگہ لاکے سجائے کانٹے زخم اس دِل میں بسائے ہوئے خود رہتے ہیں درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسی کہتے ہیں اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو یوں تو دنیا کی ہر اک چیزحسیں ہوتی ہے پیار سے بڑھ کے مگر کچھ بھی نہیں ہوتی ہے راستہ روک کے ہر اک سے یہی کہتے ہیں اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں چار سو گونجتی رسوائی کسے کہتے ہیں اب جو بچھڑے ہیں تو……….!!
  7. بہلتے کس جگہ ، جی اپنا بہلانے کہاں جاتے تری چوکھٹ سے اُٹھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے نہ واعظ سے کوئی رشتہ، نہ زاہد سے شناسائی اگر ملتے نے رندوں کو تو پیمانے کہاں جاتے خدا کا شکر ، شمعِ رُخ لیے آئے وہ محفل میں جو پردے میں چُھپے رہتے تو پروانے کہاں جاتے اگر ہوتی نہ شامل رسمِ دنیا میں یہ زحمت بھی کسی بے کس کی میّت لوگ دفنانے کہاں جاتے اگر کچھ اور بھی گردش میں رہتے دیدہِ ساقی نہیں معلوم چکّر کھا کے میخانے کہاں جاتے خدا آباد رکّھے سلسلہ اِس تیری نسبت کا وگرنہ ہم بھری دنیا میں پہچانے کہاں جاتے نصیرؔ اچھا ہوا در مل گیا اُن کا ہمیں ، ورنہ کہاں رُکتے ، کہاں تھمتے ، خدا جانے کہاں جاتے
  8. شوہر لاکھ بھلا چاہے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو بیگم نے کہا ہوتا ہے غم ہو کس بات کا بیگم کو خریداری کا بل تو شوہر کے ہی بٹوے سے ادا ہوتا ہے درد جوڑوں کا بس جوڑے ہی جانتے ہیں اور اس درد کا درماں بھی کہاں ہوتاہے ایک طرف ماں ہے اور دوسری جانب بیگم جیسے آلو کوئی سینڈوچ میں دبا ہوتا ہے بعد شادی کے یہی کہتا پھرے ہے شوہر وقتِ کنوارگی کا اپنا ہی مزا ہوتا ہے
    Husband wife funny, I miss you funny husband wife pic
  9. Hareem Naz

    Ishq zada

    َموت بر حق ہے یہ ایمان ہے میرا لیکن تم مجھے مار کے کہتے ہو خدا نے مارا تم چراغوں کو بجھانے میں بہت ہو مشاق اور یہ الزام لگاتے ہو، ہوا نے مارا مجھ کو پہچان لو میں عشق زدہ، ہجر زدہ ہاں مرے بارے میں لکھ دو کہ وفا نے مارا بیچ کر جھوٹی مسیحائی منافعے کے لیے کتنے آرام سے کہتے ہو وبا نے مارا قتل کر پاتے مجھے کانٹے یہ جرات ان کی میں تو وہ گُل ہوں جسے دستِ صبا نے مارا کوئی مرتا ہے سڑک پر کوئی بیماری سے ہائے وہ شخص جسے چشمِ خفا نے مارا کیا ہی اچھا تھا کہ تُو چپ ہی کھڑا رہ جاتا اک مسافر تھا جسے تیری صدا نے مارا لوگ لکھیں گے مِرے بارے مرے مرنے پر ایک صحرائے محبت کو گھٹا نے مارا مرنے والا تری نفرت سے کہاں تھا فرحت میرے دل کو تو محبت کی شفا نے مارا !!
  10. Urooj Butt

    اے کوزہ گر

    اے کُوزہ گر اس بار جو آوے میں دھریو ہر ذرّے میں اِک دِل رکھیو اور دِل میں اپنی چاہت بس ہاں چاہت میں وہ رنگ اپنا جو لاکھ چُھٹائے نہ چُھوٹے جو مال رہے پامال رہے بس مگن سا ہو اے کُوزہ گر اس بار جو آوے میں دھریو ہر ذرّے میں اِک دِل رکھیو جسے آنکھ میں ڈھلنا آتا ہو جسے بادل برکھا دِل میں سنْجونا آتے ہوں جو منظر ناظر نظر بھی ہو جو رنگ بھی ہو اور خوشبو بھی ہاں بِینا ہو بِینائی بھی سُن یار تیری شیدائی بھی اے کُوزہ گر اے کُوزہ گر
  11. .... سنو اے مہربان لڑکی میں اکثر سوچتا ہوں کوئی ایسا نام تم کو دوں کہ جو منسوب ہو تم سے تو تم کو جاوداں کر دے ہو کوئی نام ایسا تو جو مجسمہ حُسن فطرت ہو بہت ہی خوبصورت ہو کسی نازک پری جیسا کہ جو حُسن جہاں رنگ و بو کا استعارہ ہو تیرےملکوتی پیکر کو مگر تشبیہ کس سے دوں اگر میں گُل کہوں تم کو؟ مگر پھول تو مرجھا کے آخر سوکھ جاتے ہیں اگر تارہ کہوں تم کو؟ ستارے ٹوٹ کر لیکن فضا میں کھو جاتے ہیں کہوں قوس قزح لیکن ؟ سبھی رنگ اکٹھے مِل کر بھی تیری روح سے چھلکتی نور کی کرنوں کو نہ پہنچے حِنا کا نام دوں تم کو؟ مگر رنگ حِنا تو چار دن میں روٹھ جاتا ہے اگر بادل کہوں تم کو؟ گھٹاؤں سے سوا لیکن تیرے جزبات کی شدت ہے تمہیں ساون کہوں کیسے؟ تمھارے پیار کی بارش تو ہر موسم برستی ہے نسیم صبح کہہ دو یا کہوں باد صبا تم کو؟ مگر فطرت ہوا کی تو ازل سے بیوفائی ہے تیری وارفتگی سوچوں, سمندر کی لہر کہہ دوں ؟ مگر موجوں کی طغیانی تو اک پونم کی شب تک ہے تیری آنکھیں اگر سوچوں, تمہیں مے کا بدل کہہ دوں؟ خمار مے تو لیکن رات بھر کی بات ہوتی ہے اگر سایہ کہوں, جھونکا کہوں, خوشبو کہوں تم کو؟ مگر تم تو مجسمہ ہو بہت کچھ سوچتا ہوں میں تمھارا نام کیا رکھوں؟ کہوں جادو, چراغ راہ یا منزل کہوں تم کو؟ کہوں میں جستجو کوشش کہوں یا دل کہوں تم کو؟ شفق کہہ دوں سحر کہہ دوں یا کہہ دوں چاندنی تم کو؟ اگر خواہش کہوں یا آرزو یا زندگی تم کو؟ اگر ساحر کہوں, نشہ کہوں یا بے خودی تم کو؟ ادا کہہ دوں, وفا کہہ دوں, حیاء کہہ دوں اگر تم کو؟ اگر ساحل کہوں, کشتی کہوں یا ناخدا تم کو؟ اگر تقدیر یا انعام یا قسمت کہوں تم کو؟ اگر غنچہ کہوں ,لالہ کہوں, نرگس کہوں تم کو؟ کہوں میں جان یا جاناں یا جان جاں تم کو؟ اگر جھرنا کہوں, دریا کہوں, ساگر کہوں تم کو؟ کِرن کہہ دوں, گھٹا کہہ دوں یا پھر رِم جھِم کہوں تم کو؟ اگر جگنو کہوں,شعلہ کہوں, شبنم کہوں تم کو؟ اگر شیشہ کہوں, موتی کہوں, ریشم کہوں تم کو؟ .... یہ سارے نام تیری ذات کے پہلو سہی لیکن مگر جچتا نہیں کوئی یہ سارے نام فانی ہیں تمھارا نام ایسا ہو جو تم کو جاوداں کر دے .... تمھیں پورا بیان کردے .... سنو! اے مہربان لڑکی بہت ہی سوچ کر میں نے تمھارا نام رکھا ہے.... #محبت
  12. آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے، شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے پہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی، اب تو جب دیکھئے مسکرانے لگے ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا، محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھا آپ کے واسطے ہم نے یہ بھی کیا، ملنے جلنے لگے، آنے جانے لگے ہم نے جب آپ کی دیکھیں دلچسپیاں، آگئیں چند ہم میں بھی تبدیلیاں اک مصور سے بھی ہوگئی دوستی، اور غزلیں بھی سننے سنانے لگے آپ کے بارے میں پوچھ بیٹھا کوئی، کیا کہیں ہم سے کیا بدحواسی ہوئی کہنے والی جو تھی بات ہو نہ سکی، بات جو تھی چھپانی، بتانے لگے عشق بے گھر کرے، عشق بے در کرے، عشق کا سچ ہے کوئی ٹھکانا نہیں ہم جو کل تک ٹھکانے کے تھے آدمی، آپ سے مل کے کیسے ٹھکانے لگے جاوید اختر
  13. Sab MayA hAi Sab Dhalti Phirtii Chaya hAi Is Ishq Mein hUm Ney jO khOya jO Paya hAi jO tUm Ney Kha "Faiz" Ney Jo Farmaya hAi Sab MayA hAi Haan Gahay Gahay Deed Ki dOulat Haath Aaii Ya Eik Wo Lazat nAam hAi Jis Ka rUSwaii Bus Is K Siwa To jO Bhe Sawaab KamayA hAi Sab MayA hAi Eik nAam To baQii Rehta hAi Gar jAan Nhien jAb Dekh Leya Is SOuday Mein NuQsAan Nhien Tab Shama Pey jAan Dainay Patanga AayA hAi Sab MayA hAi malOom Hamein Sab "Qais" Miyaan Ka QiSsa Bhe Sab Eik Sey hAin Yeh Ranjha Bhe Yeh "InSha" Bhe Farhaad Bhe Jo Eik Nehar Sii khOud K LayA hAi Sab MayA hAi kyOu dArd K Namay Likhtay Likhtay Raat Karo Jis Saat Samandar Paar Ki Naar Ki Baat Karo Us Naar Sey kOii Eik Ney dhOka KhayA hAi Sab MayA hAi Jis gOrii Par Hum Eik Ghazal Har Shaam Likhien Tum jAntay hO , hUm kyOu Kar Us Ka nAam Likhien Dil Us Ki Bhe Chokhat ChOom Ka Wapis AayA hAi Sab MayA hAi Wo Larki Bhe Jo Chand Nagar Kii Ranii Thii Wo Jis Ki Alhar AankhOun Mein KhaiRanii Thii Aaj Us Ney Bhe PaiGham Yahii BhijwayA hAi Sab MayA hAi Jo Abhe Tak nAam Waffa Ka Laitay hAin Wo jAan K dhOkay Khatay dhOkay Daitay hAin Haan Tho'k Baja Kar hUm Ney hUkam LagayA hAi Sab MayA hAi Jab Dekh Leya Har Shakhs Yhaan HarjAii hAi Is Sehar Sey dOor , Eik Kutya hUm Ney Banaii hAi Or Us Kutya K Mathay Par LikhwayA hAi Sab MayA hAi By: Ibne Insha [dil.e.wehshi]
  14. ﻋﺸﺮﺕِ ﻗﻄﺮﮦ ﮨﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﻓﻨﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺣﺪ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﺎ ﮨﮯ ﺩﻭﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﺮﺯﺍ ﻏﺎﻟﺐ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ
  15. چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ وہ آنکھیں میری ہو جائیں کوئی صوم صلوٰۃ دُرُود بتا کہ وجّد وُجُود میں آ جائے کوئی تسبیح ہو کوئی چِلا ہو کوئی وِرد بتا وہ آن ملے مُجھے جینے کا سامان ملے گر نہیں تو میری عرضی مان مُجھے مانگنے کا ہی ڈھنگ سِکھا کہ اشّک بہیں میرے سجّدوں میں اور ہونٹ تھرا تھر کانپیں بّس میری خاموشی کو بھّید مِلے کوئی حرف ادا نہ ہو لیکن میری ہر اِک آہ کا شور وہاں سرِ عرش مچّے میرے اشکوں میں کوئی رنگ مِلا میرے خالی پن میں پُھول کِھلا مُجھے یار ملا سرکار ملا اے مالک و مُلک، اے شاہ سائیں مُجھے اور نہ کوئی چاہ سائیں مری عرضی مان، نہ خالی موڑ مُجھے مان بہت مرا مان نہ توڑ چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ وہ آنکھیں میری ہوجائیں ۔ کوئی ایسا جادو ٹونہ کر۔ مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو۔ یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔ میں شمع، وہ پروانہ ہو۔ زرا دیکھ کے چال ستاروں کی۔ کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔ جو کر دے بخت سکندر سا کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔ کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے ۔ کوئی ایسا دے تعویز مجھے۔ وہ مجھ پر عاشق ہو جائے۔۔ کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔ مری راہ میں پھول گلاب آئیں۔ کوئی پانی پھوک کے دے ایسا۔ وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔ کوئی ایسا کالا جادو کر جو جگمگ کر دے میرے دن۔ وہ کہے مبارک جلدی آ ۔ اب جیا نہ جائے تیرے بن۔ کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے ۔ جس رہ سے وہ دلدار ملے۔ کوئی تسبیح دم درود بتا ۔ جسے پڑھوں تو میرا یار ملے کوئی قابو کر بے قابو جن۔ کوئی سانپ نکال پٹاری سے کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔ کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔ وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔ کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔ وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔ کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔ اسے لگے میں چاند کے جیسی ہوں ۔ جو مرضی میرے یار کی ہے۔ اسے لگے میں بالکل ویسی ہوں۔ کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔ جو اشک بہا دے سجدوں میں۔ اور جیسے تیرا دعوی ہے محبوب ہو میرے قدموں میں ۔ پر عامل رک، اک بات کہوں۔ یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟ محبوب تو ہے سر آنکھوں پر۔ مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا۔ اور عامل سن یہ کام بدل۔ یہ کام بہت نقصان کا ہے۔ سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ جو مالک کل جہان کا ہے
  16. عشق میں کوئی رعایت نہیں ملنے والی سوچنے کی بھی اجازت نہیں ملنے والی حُسن قاضی ھے , محبت ھے وکیلوں میں سے اس عدالت سے ضمانت نہیں ملنے والی کوئی دُرہ , کوئی کوڑا , کوئی چابک لاءو ھم کو لفظوں سے نصیحت نہیں ملنے والی اپنی ھمت سے کوئی حشر بپا کر ڈالو مانگنے سے تو قیامت نہیں ملنے والی کام سمجھو گے تو پھر عشق نہ کر پاءو گے ایسے بے گار کی اجرت نہیں ملنے والی ملنا اگر ھو تو طبیعت کا بہانہ کیسا سچ ھے یہ , آپ کی نیت نہیں ملنے والی عشق جب ھو ھی گیا ھے تو تڑپنا کیسا اس سے زیادہ تو اذیت نہیں ملنے والی
  17. کبھی شعر و نغمہ بن کے، کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے وہ مجھے ملے تو لیکن، ملے صورتیں بدل کر یہ وفا کی سخت راہیں، یہ تمہارے پائے نازک نہ لو انتقام مجھ سے، مرے ساتھ ساتھ چل کے وہی آنکھ بے بہا ہے جو غمِ جہاں میں روئے وہی جام جامِ ہے جو بغیرِ فرق چھلکے یہ چراغِ انجمن تو ہیں بس ایک شب کے مہماں تُو جلا وہ شمع اے دل! جو بجھے کبھی نہ جل کے نہ تو ہوش سے تعارف، نہ جنوں سے آشنائی یہ کہاں پہنچ گئے ہم تری بزم سے نکل کے کوئی اے خمار ان کو مرے شعر نذر کر دے جو مخالفینِ مخلص نہیں معترف غزل کے
  18. ﻋﺸـﻖ ﺗﯿـــــــــﺮﺍ ﮐﻤﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﮨﺮ ﮔﮭﮍﯼ ﮨـــﮯ ﯾﮧ ﺣﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﺗﯿــــﺮﯼ ﻧﻔﺮﺕ ﮨــﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿـﺮﯼ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺎ ﺧـــــﯿـﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﺫﮐﺮ ﺗﯿــــﺮﺍ ﮨــﮯ ﻟﺐ ﭘﮧ ﻣﯿــﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﮨــــﮯ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺩﮬـــﻤﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﺩﺭﺩ ﺍﻟﻔﺖ ﺳـــــﮯ ﻧﺎﭼـــﻨﺎ، ﺭﺣﻤﺖ ﯾﺎ ﮨـــــــﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻭﺑﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﻗﯿـــﺪ ﺳـــــﮯ ﺭﮨﺎ ﮬﻮ ﮐﺮ ﮨﺮ ﻣﮩــﯿـﻨـﮧ ﻭ ﺳـــــــﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﺑﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﮏ ﮐــــﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺍ ﮬﻮﮞ، ﭘﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺑﺤﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﺳﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮬﻮ ! ﮨﺎﺋــــﮯ ﺗﯿــــــﺮﺍ ﺳـــﻮﺍﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﺟﯿﺴـــﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﯾﮧ ﺭﻭﺡ ﮐـﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺗﯿـــــﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭــﯿﮟ ﻏــﺰﺍﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﭼﺎﻧﺪ ﺳﻮﺭﺝ ﮨﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘــــﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮬﻮﮞ ﺑﺲ ﻧﻘــﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﻋﺸـــﻖ ﮐﮭﻮﻧـــــﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨــــﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺍﺱ ﻟﯿــــــــﮯ ﺑﻦ ﻣــــﻼﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ.
  19. Urooj Butt

    میں ٹھیک ہاں

    ﻣﯿﮉﯼ ﻣَﺮﺽ ﺩﯼ ﻓِﮑﺮ ﻃﺒِﯿﺐ ﻧﮧ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺟﻮﮌ ﺩﻭﺍ ، ﻣﯿﮟ ﭨِﮭﯿﮏ ﮨﺎﮞ ﻧﮧ ﺷَﺮﺑﺖ ﻋﺮﻕ ﺍِﻧﺠﯿﮑﺸﻦ ﺩﮮ ﻧﮧ ﺑﻮﺗﻼﮞ ﭼﺎ ، ﻣﯿﮟ ﭨِﮭﯿﮏ ﮨﺎﮞ ﺗﯿﮉﮮ ﮐُﻞ ﻧُﺴﺨﮯ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮔﺌﮯ ﻧﮧ ﺯﮨﻦ ﮐﮭﭙﺎ ، ﻣﯿﮟ ﭨِﮭﯿﮏ ﮨﺎﮞ ﺳﺎﮐُﻮﮞ ﻟﻮﮌ ﻧﺌﯿﮟ ﺗﯿﺮﯾﺎﮞ ﭘَﮭﮑِﯿﺎﮞ ﺩﯼ ﻣﯿﮑُﻮﮞ ﺳَﺠﻦ ﻣِﻼ ، ﻣﯿﮟ ﭨِﮭﯿﮏ ﮨﺎﮞ
  20. Hareem Naz

    Raah e zindagani

    میں راہِ زندگانی پر قدم جب بھی بڑھاتا ہوں کہیں کانٹوں سے بچنا ہے کہیں دل کو کچلنا ہے کہیں اپنوں کی بے رخیاں کہیں غیروں کے طعنے ہیں میں تھک کر بیٹھ جاتا ہوں نگاہ اوپر اٹھاتا ہوں خدایا رستہ مشکل ہے میں ہمت کم ہی پاتا ہوں کہیں پھر پاس سے دل کے صدا اک خوب آتی ہے کہ راہیں جنّتوں کی کب بھلا آسان ہوتی ہیں ،،؟ کہیں صحرا کی تپتی ریت کہیں طائف کے پتھر ہیں کہیں اپنے ہی تلواریں لیے اس جاں کے در پے ہیں اگرچہ ہے بہت مشکل مگر اس راہ سے پہلے بھی کتنے لوگ گزرے ہیں انہی قدموں پہ چلنا ہے کہ پھر اک حسین منزل تمہاری منتظر ہو گی بس یہ یاد رکھنا تم منازل جب حسیں ہوں تو راہیں دشوار ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔
  21. بیتاب ہیں، ششدر ہیں، پریشان بہت ہیں کیوں کر نہ ہوں، دل ایک ہے، ارمان بہت ہیں کیوں یاد نہ رکّھوں تجھے اے دُشمنِ پنہاں! آخر مِرے سَر پر تِرے احسان بہت ہیں ڈھونڈو تو کوئی کام کا بندہ نہیں مِلتا کہنے کو تو اِس دور میں انسان بہت ہیں اللہ ! اِسے پار لگائے تو لگائے کشتی مِری کمزور ہے طوفان بہت ہیں دیکھیں تجھے، یہ ہوش کہاں اہلِ نظر کو تصویر تِری دیکھ کر حیران بہت ہیں ارمانوں کی اِک بھیڑ لگی رہتی ہے دن رات دل تنگ نہیں، خیر سے مہمان بہت ہیں یُوں ملتے ہیں، جیسے نہ کوئی جان نہ پہچان دانستہ نصیرؔ آج وہ انجان بہت ہیں
  22. Hareem Naz

    Shikwa jwb e shikwa

    شکوہ جوابِ شکوہ شکوہ : عمرِ درازی کی صنم بس وحشتیں ہیں عشق میں ہر ایک لمحہ جان لیوا دہشتیں ہیں عشق میں دیکھا جو میں نے جھانک کر حیرت کدوں میں بارہا دیکھی نہیں ہیں باخدا جو حیرتیں ہیں عشق میں ان کی حزینِ داستاں سن کر بڑا ہی دکھ ہوا ساری کی ساری لٹ گئیں جو راحتیں ہیں عشق میں وعدہ وفا کی آڑ میں کرتے رہے بیوپار جو ہیں تخمِ ناہنجار لوٹیں عصمتیں ہیں عشق میں بے چینیوں کا طبل بجتا ہی رہا دل میں مرے یہ جھوٹ ہے کہتے ہیں جو کہ راحتیں ہیں عشق میں مقتل میں جا کے روٹھ بیٹھے ہیں مرے ارمانِ دل پالا تھا ہم کو شوق سے کہ چاہتیں ہیں عشق میں ان کی جفاوؑں کا صنم جب بھی ہوا ہے تذکرہ دلبر گماں ہوتا رہا بس نفرتیں ہیں عشق میں جوابِ شکوہ : عمرِ درازی کی صنم بس راحتیں ہیں عشق میں ہر ایک لمحہ یار کی بس چاہتیں ہیں عشق میں حیرت کدوں میں جھانک کر دیکھا تو ہے تُو نے صنم حیران ہے جن سے جہاں وہ حاجتیں ہیں عشق میں کہتے نہیں اس کو حزیں یہ دلبری شیوہ نہیں دلدار پر کردو فدا جو راحتیں ہیں عشق میں بیوپار جو کرتے رہے جسموں پہ وہ مرتے رہے نفسِ طلب کی باخدا کب حاجتیں ہیں عشق میں دلدار کو دلدار سے فرصت کبھی ملتی نہیں اک پل قضا ہوتا نہیں وہ ساعتیں ہیں عشق میں پالا ہے جن کو شوق سے میرے جنونِ عشق نے ارمانِ دل وہ آج سارے قربتیں ہیں عشق میں جب بھی وصالِ یار کا دلبر گماں ہوتا رہا کامل یقیں ہوتا رہا کہ صحبتیں ہیں عشق میں
  23. Hareem Naz

    intakhab e Man

    نفع کی صورت ہؤا ، جتنا بھی خمیازہ ہؤا ، غم سہا جاتا ہے کیسے، ہم کو اندازہ ہؤا ۔۔۔ زندگی درویش کی مانند ہی میں نے کاٹ دی جب سے مجھ پہ بند اُس کے گھر کا دروازہ ہؤا ۔۔۔ موسمٍ گل! تیرا آنا بھی سزا سے کم نہیں ، وقت نے جو بھر دیا تھا ، زخم پھر تازہ ہؤا ۔۔۔ فکر کا سیاح میرے جیتے جی لوٹا نہیں ، جو مرے احساس میں باقی تھا شیرازہ ہؤا ۔۔۔ ایسا لگتا ہے دُعا مقبول میری ہو گئ! آج اپنی حیثیت کا مجھ کو اندازہ ہؤا ۔۔۔ مصلحت کوشی تجھے منزل تلک لے جائے گی! روح کی گہرائیوں میں ایسا آوازہ ہؤا ۔۔۔ تیرے چہرے کی اُداسی وہ چھپا سکتا ہے اب ، آجکل ایجاد پارس ایسا بھی غازہ ہؤا ۔۔۔!
  24. تم ابرِ گریزاں ہو میں صحرا کی مانند ہوں دو بوند جو برسو گے بے کار میں برسو گے ہے خشک بہت مٹی ہر سمت بگولے ہیں صحرا کے بگولوں سے اٹھتے ہوئے شعلے ہیں تم کھل کہ اگر برسو تو صحرا میں گلستاں ہو پر تم سے کہیں کیسے تم ابرِ گریزاں ہو جل تھل جو اگر کر دو تن من میں نمی بھر دو ہے خشک بہت مٹی پوری جو کمی کر دو پھر تم کو بتائیں گے تم میری محبت ہو لیکن تم تو ابرِ گریزاں ہو اور میں صحرا کی مانند ہوں تم ابرِ گریزاں ہو تم ابرِ گریزاں ہو
×