Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'urdu poetry'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair-o-Shaa'eri
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Chitchat and Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 53 results

  1. وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں حیات کیا ہے ، خیال و نظر کی مجذوبی خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں عجب مزا ہے ، مجھے لذت خودی دے کر وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستی شوق نہ مال و دولت قاروں ، نہ فکر افلاطوں سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دما دم صدائے 'کن فیکوں' علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں
  2. تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں تجھ سے خوشبو کے مراسم تجھے کیسے کہیں میری سوچوں کا اُفق تیری محبت کا فُسوں میرے جذبوں کا دل تیری عنایت کی نظر کیسے خوابوں کے جزیروں کو ہم تاراج کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اب کوئی اور نہیں میری تمنا کا دل اب تو باقی ہی نہیں کچھ جسے برباد کریں تیری تقسیم کسی طور ہمیں منظور نہ تھی پھر سرِ بزم جو آئے تو تہی داماں آئے چُن لیا دردِ مسیحائی تیری دلدار نگاہی کے عوض ہم نے جی ہار دیئے لُٹ بھی گئے کیسےممکن ہے بھلا خود کو تیرے سحر سے آزاد کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اس قدر سہل نہیں میری چاہت کا سفر ہم نے کانٹے بھی چُنے روح کے آزار بھی سہے ہم سے جذبوں کی شرح نہ ہو سکی کیا کرتے بس تیری جیت کی خواہش نے کیا ہم کو نِڈھال اب اسی سوچ میں گزریں گے ماہ و سال میرے تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں پروین شاکر
  3. waqas dar

    poetry kahan hute hu

    ہجر میں خون رلاتے ہو کہاں ہوتے ہو لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو کہاں ہوتے ہو مجھ سے بچھڑے ہو تو محبوب نظر ہو کس کے آج کل کس کو مناتے ہو کہاں ہوتے ہو شب کی تنہائی میں اکثر یہ خیال آتا ہے اپنے دکھ کس کو سناتے ہو کہاں ہوتے ہو تم تو خوشیوں کی رفاقت کے لیے بچھڑے تھے اب اگر اشک بہاتے ہو تو کہاں ہوتے ہو شہر کے لوگ بھی اب یہ سوال کرتے ہیں اب کم کم نظر آتے ہو کہاں ہوتے ہو
  4. ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے ہر ایک لب پہ ہیں میری وفا کے افسانے تیرے ستم کو ابھی لازوال ہونا ہے بجا کہ خار ہیں لیکن بہار کی رت میں یہ طے ہے اب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے تمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ہے ہماری روح پہ جب بھی عذاب اتریں گے تمہاری یاد کو اس دل کی ڈھال ہونا ہے کبھی توروئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میں کبھی تو اسکی ہنسی کو زوال ہونا ہے ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں بس انتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پر محبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے زمانہ جس کے خم و پیچ میں الجھ جائے ہماری ذات کو ایسا سوال ہونا ہے وصی یقین ہے مجھ کو وہ لوٹ آئے گا !... اس کو بھی اپنے کیے کا ملال ہونا ہے ❤ وصی شاہ Wasi Shah
  5. میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی
  6. فرحت عباس شاہ میرا شام سلونا شاہ پیا ♡ کبھی جڑوں میں زہر اتار لِيا کبھی لبوں کے پیچھے مار لِيا اس ڈر سے کہ دُکھ کی شدت میں کہیں نکل نہ جائے آہ پِيا ميرا شام سلونا شاہ پِيا ♡ ہمیں جنگل جنگل بھٹکا دو ہمیں سُولی سُولی لٹکا دو جو جی چاہے سو يار کرو ہم پڑ جو گئے تيری راہ پِيا ميرا شام سلونا شاہ پِيا ♡ تيری شکل بصارت آنکھوں کی تيرا لمس رياضت ہاتھوں کی تيرا نام لبوں کی عادت ہے ميری اک اک سانس گواہ پِيا ميرا شام سالونا شاہ پِيا ♡ کہیں روح میں پياس پُکارے گی کہیں آنکھ میں آس پُکارے گی کہیں خون کہیں دل بولے گا کبھی آنا مقتل گاہ پِيا ميرا شام سلونا شاہ پِيا ♡ ہمیں مار گئی تيری چاہ پِيا ♡
  7. درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد محسن نقوی دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد کوئی پیغام نہ دلدارِنوا تیرے بعد خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد لب پے اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد دھوپ عارض کی نہ زلفوں کہ گھٹا تیرے بعد ہجر کی رت ہے کہ محبس کی فضا تیرے بعد لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد پرچمِ تار گریباں کو ہوا تیرے بعد پیرہن اپنا نہ سلامت نہ قبا تیرے بعد بس وہی ہم ہیں وہی صحرا کی ردا تیرے بعد نکہت و نے ہے نہ دستِ قضا تیرے بعد شاخِ جاں پر کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد دل نہ مہتاب سے اجلا نہ جلا تیرے بعد ایک جگنو تھا چپ چاپ بجھا تیرے بعد درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد کونسے رنگوں کے بھنور کیسی حنا تیرے بعد اپنا خون میری ہتھیلی پے سجا تیرے بعد تجھ سے بچھڑا تو مرجھا کے ہوا برد ہوا کون دیتا مجھے کھلنے کی دعا تیرے بعد ایک ہم ہیں کہ بے برگ و نوا تیرے بعد ورنہ آباد ہے سب خلقِ خدا تیرے بعد ایک قیامت کی خراشیں میرے چہرے پہ سجیں ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد اے فلکِ ناز میری خاک نشانی تیری میں نے مٹی پہ تیرا نام لکھا تیرے بعد تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد یہ الگ بات ہے کہ افشاں نہ ہوا تو ورنہ میں نے کتنا تجھے محسوس کیا تیرے بعد ملنے والے کئی مفہوم پہن کر آئے کوئی چہرہ بھی نہ آنکھوں نے پڑھا تیرے بعد بجھے جاتے ہیں خد و خال مناظر افق پھیلتا جاتا ہے خواہش کا خلا تیرے بعد میرے دکھتی ہوئی آنکھوں سے گواہی لینا میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد سہہ لیا دل نے تیرے بعد ملامت کا عذاب ورنہ چبھتی ہے رگِ جاں میں ہوا تیرے بعد جانِ محسن میرا حاصل یہی مبہم سطریں شعر کہنے کا ہنر بھول گیا تیرے بعد ‏ ‏
  8. Zarnish Ali

    Favorite poetry of mohsin naqvi

    ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﯿﺐ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ” ﻣﺤﺴﻦ ” ﺟﻮ ﺍِﺱ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣُﮍ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
  9. Darwaza Jo Khula Tu Nazar Aye Khare Wo دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ بُھولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ ! راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات خوشبو سی برسنے لگی، یوں پُھول جھڑے وہ ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ بچے کی طرح چاند کو چُھونے کی تمنا دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ پروین شاکر
  10. Tootate Jaate Hain Sab Aaina Khane Mere ٹوٹتے_جاتے_ہیں_سب_آئینہ_خانے_میرے وقت_کی_زد_میں_ہیں_یادوں_کے_خزانے_میرے زندہ_رہنے_کی_ہو_نیّت_تو_شکایت_کیسی میرے_لب_پر_جو_گِلے_ہیں_وہ_بہانے_میرے رخشِ_حالات_کی_باگیں_تو_مرے_ہاتھ_میں_تھیں صرف_میں_نے_کبھی_احکام_نہ_مانے_میرے میرے_ہر_درد_کو_اس_نے_اَبَدیّت_دے_دی یعنی_کیا_کچھ_نہ_دیا_مجھ_کو_خدا_نے_میرے میری_آنکھوں_میں_چراغاں_سا_ہے_مستقبل_کا اور_ماضی_کا_ہیولٰی_ہے_سَرھانے_میرے تُو_نے_احسان_کیا_تھا_تو_جتایا_کیوں_تھا اس_قدر_بوجھ_کے_لائق_نہیں_شانے_میرے راستہ_دیکھتے_رہنے_کی_بھی_لذّت_ہے_عجیب زندگی_کے_سبھی_لمحات_سہانے_میرے جو_بھی_چہرہ_نظر_آیا_ترا_چہرہ_نکلا تو_بصارت_ہے_مری__یار_پرانے_میرے سوچتا_ہوں_مری_مٹّی_کہاں_اڑتی_ہوگی اِک_صدی_بعد_جب_آئیں_گے_زمانے_میرے صرف_اِک_حسرتِ_اظہار_کے_پر_تو_ہیں_ندیم میری_غزلیں_ہوں_کہ_نظمیں_کہ_فسانے_میرے احمد ندیم قاسمی
  11. Itni Mudat Baad Mile Hu Kin Socho Mai Ghum Rahte Hu اِتنی مُدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسن تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو محسن نقوی
  12. بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی نہ وہ مِلتا ہے نہ مِلنے کا اِشارہ کوئی کیسے اُمّید کا چمکے گا سِتارہ کوئی حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبّت کرنا جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پُوچھا ہے کیا کہَیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی سب تعلّق ہیں ضرورت کے یہاں پر، مُحسنؔ نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی محسؔن نقوی
  13. Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy وہ اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں رواں سے بسے ہوۓ ہیں ابھی نظر میں سبھی مناظر دھواں دھواں سے یہ عکس داغ شکست پیماں وہ رنگ زخم خلوص یاراں میں غمگساروں میں سوچتا ہوں کہ بات چھیڑوں کہاں کہاں سے؟ یہ سنگریزے عداوتوں کے وہ آبگینے سخاوتوں کے دل مسافر قبول کر لے، ملا ہے جو کچھ جہاں جہاں سے بچھڑنے والے بچھڑ چلا تھا تو نسبتیں بھی گنوا کے جاتا ترے لیے شہر بھر میں اب بھی میں زخم کھاؤں زباں زباں سے مری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ہو کے آیا وہاں وہاں سے تو ہمنفس ہے نہ ہمسفر ہے کسے خبر ہے کہ تو کدھر ہے؟ میں دستکیں دے کے پوچھ بیٹھا مکیں مکیں سے مکاں مکاں سے ابھی محبت کا اسم اعظم لبوں پہ رہنے دے جان محسن! ابھی ہے چاہت نئی نئی سی، ابھی ہیں جذبے جواں جواں سے محسن نقوی
  14. .درِ قفس سے پرے جب صبا گزرتی ہے کسے خبر کہ اسیروں پہ کیا گزرتی ہے تعلقات ابھی اس قدر نہ ٹوٹے تھے کہ تیری یاد بھی دل سے خفا گزرتی ہے وہ اب ملے بھی تو ملتا ہے اس طرح جیسے بجھے چراغ کو چھو کر ہوا گزرتی ہے فقیر کب کے گئے جنگلوں کی سمت مگر گلی سے آج بھی ان کی صدا گزرتی ہے یہ اہلِ ہجر کی بستی ہے احتیاط سے چل مصیبتوں کی یہاں انتہا گزرتی ہے بھنور سے بچ تو گئیں کشتیاں مگر اب کے دلوں کی خیر کہ موجِ بلا گزرتی ہے نہ پوچھ اپنی انا کی بغاوتیں محسنؔ درِ قبول سے بچ کر دعا گزرتی ہے محسن نقوی
  15. Zarnish Ali

    ضروري بات

    ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﻨﯽ ﮨﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻋﺪﮦ ﻧﺒﮭﺎﻧﺎ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﻨﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼﻧﺎ ﮨﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﯾﺮ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﯿﺮ ﻧﯿﺎﺯﯼ
  16. اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم ایک ساعت بھی شبِ وَصل کی بھولی نہ ہمیں آج بھی تیری ملن رات پہ مجبور ہیں ہم چشمِ تر قَلب حزیِں آبلہ پاؤں میں لئے تری الفت سے ترے پیار سے معمور ہیں ہم انکی محفل میں ہمیں اِذنِ تکّلم نہ ملا ان کو اندیشہ رہا سرمد و منصور ہیں ہم یوں ستاروں نے سنائی ہے کہانی اپنی گویا افکار سے جذبات سے محروم ہیں ہم اس نے لکھا ہے جہاں میں کریں شکوہ کس سے دل گرفتہ ہیں غم و درد سے بھی چور ہیں ہم تیرا بیگانوں سا ہم سے ہے رویہ محسن باوجود اس کے ترے عشق میں مشہور ہیں ہم محسن نقوی
  17. Mere Qaatil Ko Pukaro Ky Mai Zinda Hun Abhi میرے قاتل کو پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی پھر سے مقتل کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ شب ہجر تو ساتھی ہے میری برسوں سے جاؤ سو جاؤ ستارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ پریشان سے گیسو دیکھے نہیں جاتے اپنی زلفوں کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی لاکھ موجوں میں گھرا ہوں ، ابھی ڈوبا تو نہیں مجھ کو ساحل سے پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی قبر سے آج بھی محسن کی آتی ہے صدا تم کہاں ہو میرے یارو کے میں زندہ ہوں ابھی محسن نقوی شہید
  18. Bajiz hawa koi jaane na silsile tere ! ! ﺑﺠﺰ ﮨﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﻮﮞ، ﮐﺮﻭﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ؟ ! ﯾﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﻗﺮﺏ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺍﮮ ﻧﮕﺎﺭِ ﭼﻤﻦ ﮨﻮﺍﻣﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﻧﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﺫﺍﺋﻘﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺘﺎ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ﺗﮭﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻻﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﻋﮑﺲ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﺧﻢ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺷﮏ ﮐﮩﻮﮞ ﺳﻨﺎﺅﮞ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺗﺒﺼﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯﮐﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮧ ﻣﻼ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺗﯿﺮﮮ ! ﺟﺪﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺭﻻ ﮔﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﭼﺮﺍﻍ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺑﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺰﺍﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﺟﻼﺅﮞ ﺗﺮﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﻭﮦ ﺭﺗﺠﮕﮯ ﺗﯿﺮﮮ ، ﮨﻮﺍﺋﮯ ﻣﻮﺳﻢِ ﮔﻞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﺭﯾﺎﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﺴﮯ ﺧﺒﺮ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮨﯿﮟ ﻣﺤﺴﻦ ﻭﮦ ﮐﺮﻭﭨﯿﮟ ﺷﺐِ ﻏﻢ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ محسن نقوی
    Love Waiting Rain Feel
  19. Tujh per b afsoon daher ka- Chal jaye ga akhir تجھ پر بھی فسوں دہر کا ــ چل جائے گا آخر دُنیا کی طرح تو بھی ــ بدل جائے گا آخر پھیلی ہے ہر اِک سمت ـ ـ ـ حوادث کی کڑی دُھوپ پتھر ہی سہی ــ وہ بھی پگھل جائے گا آخر اَے میرے بدن ـ ـ ـ رُوح کی دولت پہ نہ اِترا یہ تیر بھی ــ ترکش سے نکل جائے گا آخر وہ صُبح کا تارہ ہے ـ ـ ـ تو پھر ماند بھی ہو گا چڑھتا ہُوا سُورج ہے ــ تو ڈھل جائے گا آخر دِل تُجھ سے بچھڑ کر بھی ـ ـ ـ کہاں جائے گا اَے دوست ؟ یادوں کے کھلونوں سے ــ بہل جائے گا آخر آوارہ و بدنام ہے محسن ـ ـ ـ تو ہمیں کیا؟؟ خُود ٹھوکریں کھا کھا کے ــ سنبھل جائے گا آخر شاعر: محسن نقوی
  20. ABHI JURM-MUHABBAT MAI FAQT BHEEGI HAIN YA ANKHAIN ابھی جرمِ محبت میں فقط بھیگی ہیں یہ آنکھیں ابھی تو ہجر کے دشت و بیاباں پار کرنے ہیں ابھی ان ریگزاروں میں لہو بہنا ھے وعدوں کا ابھی راہوں کے سب کا نٹے مجھے پلکوں سے چننے ہیں ابھی پر خار راہوں میں مجھے تنہا نہیں چھوڑو ابھی تو ٹھیک سے مجھکو سنبھلنا بھی نہیں آتا رسیور میں مقید ہیں تمہارے رس بھرے لہجے ابھی پاؤں سے لپٹے ہیں وصال و قرب کے لمحے ہمارے درمیان رشتے ابھی نازک سے دھاگے ہیں انہیں جھٹکے سے مت کھولو یہ سارے ٹوٹ جائیں گے ابھی تم ہاتھ مت چھوڑو سنو کچھ دن ٹھہر جاؤ تیرے لہجے سے لگتا ھے بچھڑنا اب مقدر ھے پلٹنا گر ضروری ھے چلو کچھ خواب دے جاؤ جلا کے انہی خوابوں کو اندھیرے دور کر لوں گی تمہاری روح میں پھنسی میری سانسیں امانت ہیں انہیں پورا تو ہونے دو ابھی تم دور مت جاؤ سنو کچھ دن ٹھہر جاؤ ابھی رستہ نہیں بدلو ابھی تو ٹھیک سے مجھکو سنبھلنا بھی نہیں آتا ابھی تو ٹھیک سے مجھکو بچھڑنا بھی نہیں آتا
    Tears of love Love HurtsJurm e Mohabbat
  21. ایک دل تھا گنوائے بیٹھے ہیں اس لیے سر جھکائے بیٹھے ہیں دل میں دل دار آئے بیٹھے ہیں ہاتھ پر اُن کے تتلی بیٹھ گئی گل سبھی خار کھائے بیٹھے ہیں دستِ نازک پہ تتلی نے سوچا گل ، حنا کیوں لگائے بیٹھے ہیں رنگ اُڑا لے گئے وہ تتلی کا گل کی خوشبو چرائے بیٹھے ہیں شائبہ تک نہیں شرارت کا کیسی صورت بنائے بیٹھے ہیں اس سے بڑھ کر بھی کوئی ہے نازک؟ روشنی سے نہائے بیٹھے ہیں اس لیے پاؤں میں دباتا ہوں وہ مرا دل دبائے بیٹھے ہیں اس لیے مطمئن ہیں کوہِ گراں ہم امانت اٹھائے بیٹھے ہیں دوسرا موقع قیس کیسے ملے؟ ایک دل تھا گنوائے بیٹھے ہیں
  22. waqas dar

    Shaher dil ki galiyun mai.

    شہرِ دل کی گلیوں میں شام سے بھٹکتے ہیں !چاند کے تمنائی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی روح جاں کو ڈستی یے روح و جاں میں بستی ہے شہرِ دل کی گلیوں میں تاک شب کی بیلوں پر شبنمیں سر شکوں کی بے قرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یاد گار چھوڑی ہے اتنی بات تھوڑی ہے صد ہزار باتیں تھیں حیلۂ شکیبائی صورتوں کی زیبائی قامتوں کی رعنائی ان سیاہ راتوں میں ایک بھی نہ یاد آئی جا بجا بھٹکتے ہیں کس کی راہ تکتے ہیں چاند کے تمنائی یہ نگر کبھی پہلے اس قدر نہ ویراں تھا کہنے والے کہتے ہیں قریہ نگاراں تھا خیر اپنے جینے کا یہ بھی ایک ساماں تھا آج دل میں ویرانی ابر بن کے گھر آئی آج دل کو کیا کہیے با وفا نہ ہرجائی پھر بھی لوگ دیوانے آ گئے ہیں سمجھانے اپنی وحشت دل کے بن لیے ہیں افسانے خوش خیال دنیا نے گرمیاں تو جاتی ہیں وہ رتیں بھی آتیں ہیں جب ملول راتوں میں دوستوں کی باتوں میں جی نہ چین پائے گا اور اوب جائے گا آہٹوں سے گونجے گی شہرِ دل کی پہنائی اور چاند راتوں میں چاندنی کے شیدائی ہر بہانے نکلیں گے آزمانے نکلیں گے آرزو کی گہرائی ڈھونڈنے کو رسوائی سرد سرد راتوں کو زرد چاند بخشے گا بے حساب تنہائی بے حجاب تنہائی !!!شہرِ دل کی گلیوں میں ابنِ انشاء
  23. Share your fav Ashaar of wasi shah Wasi shah aj k jadeed door k bahtreen shairoo mai se aik hain. jin ki poetry dil ko choo jati hai. tu dosto lets shair his best poetry ashaar here Please sirf text poetry share kerain yahan wasi shah sahib ki. Image poetry allow nahi yahan so kindly do not share in this topic any picture poetry.Thanks ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﺎﻧﮑﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺎﺭ ﺩﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
  24. جسم کے جزیرے میں ، یہ جو دل کی وادی ہے اس پہ راج ہے جس کا ، تو وہ شہزادی ہے اپنے در پہ سجدوں کی راہ کیا دکھا دی ہے تو نے میرے ماتھے پر زندگی سجا دی ہے تجھ کو بھولنا چاہوں ، اور شکست کھا جاؤں کتنی بے وقار اپنی قوت اِرادی ہے جستجو کے صحرا میں اب کہاں کوئی آنچل میں نے اپنی چھاؤں بھی دھوپ میں گنوا دی ہے یاد کر کبھی اے تاج تو بھی اس محبت کو جس نے تیرے مرمر کو چاندنی پلا دی ہے میرا ساتھ کیا دے گا شیخ بر سرِ محفل وہ تو چپ ہے بیچارہ جھومنے کا عادی ہے دوست سب قتیل اپنے تل گئے رقابت پر میں نے کوئی دل کی بات جب انہیں سنا دی ہے (قتیل شفائی) Jism Ke Jazeeray Mein, Ye Jo Dil Ki Vaadi Hai Is Pe Raaj Hai Jis Ka, TU Wo Shehzaadi Hai Apnay Dar Pe Sajdon Ki Raah Kia Dikha Di Hai TU Ne Mere Maathay Per Zindagi Sajaa Di Hai Tujh Ko Bhoolna Chaahon, Aur Shikast Khaa Jaon Kitni Be-Waqar Apni Quwwat-e-Iraadi Hai Justuju Ke Sehraa Mein Ab Kahan Koi Aanchal Mein Ne Apni Chhaon Bhi Dhoop Mein Ganwa Di Hai Yaad Kar Kubhi Ay Taaj Tu Bhi Os Mohabbat Ko Jis Ne Tere Mar mar Ko Chaandni Pila Di Hai Mera Saath Kia Dega Shaikh Barsar-e-Mehfil Wo TOu Chhup hy Baichaarah Jhoomnay Ka Aadi Hai Dost Sab Qateel Apnay Tul Gaye Raqaabat Per Mein Ne Koi Dil Ki Baat Jub Unhain Suna Di Hai (Qateel Shifa)
  25. Zarnish Ali

    dakhta hai...

    ﺍٓﺳﻤﺎﮞ ﺟﮭﯿﻞ ﮐﮯ ﭘﯿﺎﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﮨﺎﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﮯ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣُﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺍُﭨﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ، ﻣِﺮﺍ ﺳﺎﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺕ ﺩﻥ ﺩﺭﺩ ﮐﮯ ﺟﺎﻟﮯ ﺳﮯ ﻣُﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﺷﺖ ﺍِﮎ ﺍﻭﺭ ﻣِﺮﯼ ﺭﮦ ﻣِﯿﮟ ﺑﭽﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻋﺸﻖ ﺟﺐ ﺭُﻭﺡ ﮐﮯ ﭼﮭﺎﻟﮯ ﺳﮯ ﻣُﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﺭﺩ ﮨﻮﮞ ، ﺧُﻮﺏ ﭼﻤﮑﺘﺎ ﮨُﻮﮞ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺍُﺟﺎﻟﮯ ﻣِﯿﮟ ﻣُﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻓﺮﺣﺖ ﻋﺒﺎﺱ ﺷﺎﮦ
×