Jump to content

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to create topics, post replies to existing threads, give reputation to your fellow members, get your own private messenger, post status updates, manage your profile and so much more. If you already have an account, login here - otherwise create an account for free today!

Welcome to our forums
Welcome to our forums, full of great ideas.
Please register if you'd like to take part of our project.
Urdu Poetry & History
Here you will get lot of urdu poetry and history sections and topics. Like/Comments and share with others.
We have random Poetry and specific Poet Poetry. Simply click at your favorite poet and get all his/her poetry.
Thank you buddy
Thank you for visiting our community.
If you need support you can post a private message to me or click below to create a topic so other people can also help you out.

Search the Community

Showing results for tags 'urdu poetry'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Help Support
    • Announcement And Help
    • Funday Chatroom
  • Poetry
    • Shair o Shairy
    • Famous Poet
  • Islam - اسلام
    • QURAN O TARJUMA قرآن و ترجمہ
    • AHADEES MUBARIK آحدیث مبارک
    • Ramazan ul Mubarik - رمضان المبارک
    • Deen O Duniya - دین و دنیا
  • Other Forums
    • Quizzes
    • Movies and Stars
    • Chit chat And Greetings
    • Urdu Adab
    • Entertainment
    • Common Rooms
  • Science, Arts & Culture
    • Education, Science & Technology
  • IPS Community Suite
    • IPS Community Suite 4.1
    • IPS Download
    • IPS Community Help/Support And Tutorials

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.

Categories

  • IPS Community Suite 4.4
    • Applications 4.4
    • Plugin 4.4
    • Themes/Ranks
    • IPS Languages 4.4
  • IPS Community Suite 4.3
    • Applications 4.3
    • Plugins 4.3
    • Themes 4.3
    • Language Packs 4.3
    • IPS Extras 4.3
  • IPS Community Suite 4
    • Applications
    • Plugins
    • Themes
    • Language Packs
    • IPS Extras
  • Books
    • Urdu Novels
    • Islamic
    • General Books
  • XenForo
    • Add-ons
    • Styles
    • Language Packs
    • Miscellaneous XML Files
  • Web Scripts
  • PC Softwares
  • Extras

Categories

  • Islamic
  • Funny Videos
  • Movies
  • Songs
  • Seasons
  • Online Channels

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Facebook ID


FB Page/Group URL


Bigo Live


Website URL


Instagram


Skype


Interests


Location


ZODIAC

Found 77 results

  1. وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں حیات کیا ہے ، خیال و نظر کی مجذوبی خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں عجب مزا ہے ، مجھے لذت خودی دے کر وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستی شوق نہ مال و دولت قاروں ، نہ فکر افلاطوں سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دما دم صدائے 'کن فیکوں' علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں
  2. Dil Hai Be-Khabar, Zara Hosla دلِ بے خبر ، ذرا حوصلہ نہیں مُستقِل کوئی مَرحلہ کوئی ایسا گھر بھی ھے شہر میں جہاں ھر مکین ھو مطمئن کوئی ایسا دن بھی کہیں پہ ھے جسے خوفِ آمدِ شب نہیں یہ جو گردبادِ زمان ھے یہ ازل سے ھے کوئی اب نہیں دلِ بے خبر ، ذرا حوصلہ نہیں مُستقِل کوئی مَرحلہ یہ جو خار ھیں تیرے پاؤں میں یہ جو زخم ھیں تیرے ھاتھ میں یہ جو خواب پھرتے ھیں دَر بہ دَر یہ جو بات اُلجھی ھے بات میں یہ جو لوگ بیٹھے ھیں جا بجا کسی اَن بَنے سے دیار میں سبھی ایک جیسے ھیں سر گراں غَمِ زندگی کے فشار میں یہ سراب ، یونہی سدا سے ھیں اِسی ریگزارِ حیات میں یہ جو رات ھے تیرے چار سُو نہیں صرف تیری ھی گھات میں دلِ بے خبر ، ذرا حوصلہ نہیں مُستقِل کوئی مَرحلہ تیرے سامنے وہ کتاب ھے جو بِکھر گئی ھے وَرَق وَرَق ھمیں اپنے حصّے کے وقت میں اِسے جَوڑنا ھے سَبق سَبق ھیں عبارتیں ذرا مُختلف مگر ایک اصلِ سوال ھے جو سمجھ سکو ، تو یہ زندگی کسی ھفت خواں کی مثال ھے دلِ بے خبر، ذرا حوصلہ نہیں مُستقِل کوئی مَرحلہ کیا عجب ، کہ کل کو یقیں بنے یہ جو مُضطرب سا خیال ھے کسی روشنی میں ھو مُنقَلِب کسی سرخوشی کا نَقِیب ھو یہ جو شب نُما سی ھے بے دِلی یہ جو زرد رُو سا مَلال ھے۔ دلِ بے خبر، ذرا حوصلہ دِلِ بے خبر ، ذرا حوصلہ امجد اسلام امجؔد
    book of heart balloon of love love of life
  3. غزل دیواروں پہ کیا لکھا ہے شہر کا شہر ہی سوچ رہا ہے غم کی اپنی ہی شکلیں ہیں درد کا اپنا ہی چہرہ ہے عشق کہانی بس اتنی ہے قیس کی آنکھوں میں صحرا ہے کو زہ گر نے مٹی گوندھی چاک پہ کوئی اور دھرا ہے عنبر تیرے خواب ادھورے تعبیروں کا بس دھوکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نادیہ عنبر لودھی اسلام آباد
  4. تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں تجھ سے خوشبو کے مراسم تجھے کیسے کہیں میری سوچوں کا اُفق تیری محبت کا فُسوں میرے جذبوں کا دل تیری عنایت کی نظر کیسے خوابوں کے جزیروں کو ہم تاراج کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اب کوئی اور نہیں میری تمنا کا دل اب تو باقی ہی نہیں کچھ جسے برباد کریں تیری تقسیم کسی طور ہمیں منظور نہ تھی پھر سرِ بزم جو آئے تو تہی داماں آئے چُن لیا دردِ مسیحائی تیری دلدار نگاہی کے عوض ہم نے جی ہار دیئے لُٹ بھی گئے کیسےممکن ہے بھلا خود کو تیرے سحر سے آزاد کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اس قدر سہل نہیں میری چاہت کا سفر ہم نے کانٹے بھی چُنے روح کے آزار بھی سہے ہم سے جذبوں کی شرح نہ ہو سکی کیا کرتے بس تیری جیت کی خواہش نے کیا ہم کو نِڈھال اب اسی سوچ میں گزریں گے ماہ و سال میرے تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں پروین شاکر
  5. ہجر میں خون رلاتے ہو کہاں ہوتے ہو لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو کہاں ہوتے ہو مجھ سے بچھڑے ہو تو محبوب نظر ہو کس کے آج کل کس کو مناتے ہو کہاں ہوتے ہو شب کی تنہائی میں اکثر یہ خیال آتا ہے اپنے دکھ کس کو سناتے ہو کہاں ہوتے ہو تم تو خوشیوں کی رفاقت کے لیے بچھڑے تھے اب اگر اشک بہاتے ہو تو کہاں ہوتے ہو شہر کے لوگ بھی اب یہ سوال کرتے ہیں اب کم کم نظر آتے ہو کہاں ہوتے ہو
  6. ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے ہر ایک لب پہ ہیں میری وفا کے افسانے تیرے ستم کو ابھی لازوال ہونا ہے بجا کہ خار ہیں لیکن بہار کی رت میں یہ طے ہے اب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے تمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ہے ہماری روح پہ جب بھی عذاب اتریں گے تمہاری یاد کو اس دل کی ڈھال ہونا ہے کبھی توروئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میں کبھی تو اسکی ہنسی کو زوال ہونا ہے ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں بس انتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پر محبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے زمانہ جس کے خم و پیچ میں الجھ جائے ہماری ذات کو ایسا سوال ہونا ہے وصی یقین ہے مجھ کو وہ لوٹ آئے گا !... اس کو بھی اپنے کیے کا ملال ہونا ہے ❤ وصی شاہ Wasi Shah
  7. میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی محسن نقوی
  8. فرحت عباس شاہ میرا شام سلونا شاہ پیا ♡ کبھی جڑوں میں زہر اتار لِيا کبھی لبوں کے پیچھے مار لِيا اس ڈر سے کہ دُکھ کی شدت میں کہیں نکل نہ جائے آہ پِيا ميرا شام سلونا شاہ پِيا ♡ ہمیں جنگل جنگل بھٹکا دو ہمیں سُولی سُولی لٹکا دو جو جی چاہے سو يار کرو ہم پڑ جو گئے تيری راہ پِيا ميرا شام سلونا شاہ پِيا ♡ تيری شکل بصارت آنکھوں کی تيرا لمس رياضت ہاتھوں کی تيرا نام لبوں کی عادت ہے ميری اک اک سانس گواہ پِيا ميرا شام سالونا شاہ پِيا ♡ کہیں روح میں پياس پُکارے گی کہیں آنکھ میں آس پُکارے گی کہیں خون کہیں دل بولے گا کبھی آنا مقتل گاہ پِيا ميرا شام سلونا شاہ پِيا ♡ ہمیں مار گئی تيری چاہ پِيا ♡
  9. درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد محسن نقوی دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد کوئی پیغام نہ دلدارِنوا تیرے بعد خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد لب پے اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد دھوپ عارض کی نہ زلفوں کہ گھٹا تیرے بعد ہجر کی رت ہے کہ محبس کی فضا تیرے بعد لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد پرچمِ تار گریباں کو ہوا تیرے بعد پیرہن اپنا نہ سلامت نہ قبا تیرے بعد بس وہی ہم ہیں وہی صحرا کی ردا تیرے بعد نکہت و نے ہے نہ دستِ قضا تیرے بعد شاخِ جاں پر کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد دل نہ مہتاب سے اجلا نہ جلا تیرے بعد ایک جگنو تھا چپ چاپ بجھا تیرے بعد درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد کونسے رنگوں کے بھنور کیسی حنا تیرے بعد اپنا خون میری ہتھیلی پے سجا تیرے بعد تجھ سے بچھڑا تو مرجھا کے ہوا برد ہوا کون دیتا مجھے کھلنے کی دعا تیرے بعد ایک ہم ہیں کہ بے برگ و نوا تیرے بعد ورنہ آباد ہے سب خلقِ خدا تیرے بعد ایک قیامت کی خراشیں میرے چہرے پہ سجیں ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد اے فلکِ ناز میری خاک نشانی تیری میں نے مٹی پہ تیرا نام لکھا تیرے بعد تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد یہ الگ بات ہے کہ افشاں نہ ہوا تو ورنہ میں نے کتنا تجھے محسوس کیا تیرے بعد ملنے والے کئی مفہوم پہن کر آئے کوئی چہرہ بھی نہ آنکھوں نے پڑھا تیرے بعد بجھے جاتے ہیں خد و خال مناظر افق پھیلتا جاتا ہے خواہش کا خلا تیرے بعد میرے دکھتی ہوئی آنکھوں سے گواہی لینا میں نے سوچا تجھے اپنے سے سوا تیرے بعد سہہ لیا دل نے تیرے بعد ملامت کا عذاب ورنہ چبھتی ہے رگِ جاں میں ہوا تیرے بعد جانِ محسن میرا حاصل یہی مبہم سطریں شعر کہنے کا ہنر بھول گیا تیرے بعد ‏ ‏
  10. ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﯿﺐ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ” ﻣﺤﺴﻦ ” ﺟﻮ ﺍِﺱ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣُﮍ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
  11. مجھے معلوم ہے کہ "میں" زمانے بھر کی آنکھوں میں بڑی شدت سے چبھتی ہوں میری باتیں ، میری سوچیں زمانے بھر کی سانسوں میں بڑی تکلیف بھرتی ہیں مجھے معلوم ہے کہ "میں" " کبھی کچھ تھی ، نہ اب کچھ ہوں" مگر پھر بھی زمانہ سرد آنکھوں سے مجھے کیوں تکتا رہتا ہے کسی کو کیا میں جو لکھوں ، جہاں لکھوں " کسی کو جان جاں لکھوں " یا نہ لکھوں جلا دوں شاعری اپنی یا اس کو طاق پر رکھوں کسی کو اس سے کیا مطلب کسی کو مجھ سے کیا مطلب تو اب جو لوگ مجھ کو اپنا کہتے ہیں مجھے نفرت سے تکتے ہیں کہ میں نے اب تلک سارے زمانے کی نگاہوں کو فقط پیاسا ہی رکھا ہے انھیں تسکیں نہیں بخشی مگر بخشوں تو کیوں بخشوں کسی لمحے جو میں سوچوں بھلا کیوں نہ کروں ایسا زمانے بھر کی آنکھوں میں نمی بھردوں زمانے بھر کی سانسوں میں کمی کردوں مگر کیسے کروں ایسا "زمانہ اپنی ہی موت آپ مر جائے تو اچھا ہے" کہ میں اس کی ان آنکھوں کو نکالوں گی - تو دکھ ہوگا
  12. جب سے یہ فاصلے بڑھائے ہیں آپ ہی آپ پاس آئے ہیں قاصدوں جان مانگ لو چاہے گر خبر آپ ان کی لائے ہیں ہم کو لکھا کہ جا چلا جا تو کیسے جائیں کہ تیرے سائے ہیں ایک میں ہی نہیں مکیں اپنا آپ مہمان بن بلائے ہیں خاک آئے کوئی حسین نظر آپ جب آنکھ میں سمائے ہیں آپ تو دے کے زخم بھول گئے ہم نے مرہم وہ سب بنائے ہیں عشق کے روگ نے ستایا تھا اب طبیبوں کے ہم ستائے ہیں آپ کو زندگی کہا کیونکہ زندگی کو بھی ہم نہ بھائے ہیں کون کافر کرے جفا ابرک وہ خیالوں میں مسکرائے ہیں مانتا ہوں وفا نہیں لازم خواب کیوں باوفا دکھائے ہیں
  13. Darwaza Jo Khula Tu Nazar Aye Khare Wo دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ بُھولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ ! راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات خوشبو سی برسنے لگی، یوں پُھول جھڑے وہ ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ بچے کی طرح چاند کو چُھونے کی تمنا دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ پروین شاکر
  14. Yun Duniya Mai Huta Kab Hai یوں دنیامیں ہوتاکب ہے جوبچھڑےوہ ملتاکب ہے آئینہ کیادیکھ سکےگا وہ صورت میں اُتراکب ہے بھولےسےتم آتوگئےہو یہ توبتاؤ جاناکب ہے دیواروں پردرج ہےکیاکیا دیکھنےوالا،پڑھتاکب ہے رہبرجس پرلےکےچلاہے یہ منزل کارستہ کب ہے کیسےاس کی شکل بنےگی ہم نےاس کودیکھاکب ہے عرض نیازعشق پہ بولے "ہم نےتم سےپوچھاکب ہے" سن لیتاہےبات کبھی تو چاندتمہارےجیساکب ہے عقل نےکیاکیاسمجھایابھی عشق کسی کی سنتاکب ہے کام توکشتی ہی آئےگی دوست کسی کادریاکب ہے آجائےوہ لوٹ کےامجؔد ایسابخت ہماراکب ہے ۔ امجداسلام امجد
  15. Tootate Jaate Hain Sab Aaina Khane Mere ٹوٹتے_جاتے_ہیں_سب_آئینہ_خانے_میرے وقت_کی_زد_میں_ہیں_یادوں_کے_خزانے_میرے زندہ_رہنے_کی_ہو_نیّت_تو_شکایت_کیسی میرے_لب_پر_جو_گِلے_ہیں_وہ_بہانے_میرے رخشِ_حالات_کی_باگیں_تو_مرے_ہاتھ_میں_تھیں صرف_میں_نے_کبھی_احکام_نہ_مانے_میرے میرے_ہر_درد_کو_اس_نے_اَبَدیّت_دے_دی یعنی_کیا_کچھ_نہ_دیا_مجھ_کو_خدا_نے_میرے میری_آنکھوں_میں_چراغاں_سا_ہے_مستقبل_کا اور_ماضی_کا_ہیولٰی_ہے_سَرھانے_میرے تُو_نے_احسان_کیا_تھا_تو_جتایا_کیوں_تھا اس_قدر_بوجھ_کے_لائق_نہیں_شانے_میرے راستہ_دیکھتے_رہنے_کی_بھی_لذّت_ہے_عجیب زندگی_کے_سبھی_لمحات_سہانے_میرے جو_بھی_چہرہ_نظر_آیا_ترا_چہرہ_نکلا تو_بصارت_ہے_مری__یار_پرانے_میرے سوچتا_ہوں_مری_مٹّی_کہاں_اڑتی_ہوگی اِک_صدی_بعد_جب_آئیں_گے_زمانے_میرے صرف_اِک_حسرتِ_اظہار_کے_پر_تو_ہیں_ندیم میری_غزلیں_ہوں_کہ_نظمیں_کہ_فسانے_میرے احمد ندیم قاسمی
  16. Itni Mudat Baad Mile Hu Kin Socho Mai Ghum Rahte Hu اِتنی مُدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسن تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو محسن نقوی
  17. Roosh Roosh Py Hain Nikhat Fashan, Ghulab Ky Phol رَوش رَوش پہ ھیں نکہت فشاں ، گُلاب کے پھول حسیں گلاب کے پھول ، ارغواں گُلاب کے پھول اُفق اُفق پہ زمانوں کی دُھند سے اُبھرے طّیور، نعمے ، ندی ، تتلیاں ، گلاب کے پھول کس انہماک سے بیٹھی کشید کرتی ھے عروسِ گُل بہ قبائے جہاں ، گلاب کے پھول جہانِ گریہ شبنم سے کس غرور کے ساتھ گزر رھے ھیں ، تبسّم کناں ، گلاب کے پھول یہ میرا دامنِ صد چاک ، یہ ردائے بہار یہاں شراب کے چھینٹے وھاں ، گلاب کے پھول کسی کا پُھول سا چہرہ اور اس پہ رنگ افروز گندھے ھوئے بہ خمِ گیسواں ، گلاب کے پھول خیالِ یار ! تیرے سلسلے نشوں کی رُتیں جمالِ یار ! تیری جھلکیاں گلاب کے پھول میری نگاہ میں , دورِ زماں کی ھر کروٹ لہو کی لہر ، دِلوں کا دُھواں ، گلاب کے پھول سلگتے جاتے ھیں ، چُپ چاپ ھنستے جاتے ھیں مثالِ چہرۂ پیغمبراں ، گلاب کے پھول یہ کیا طلسم ھے ، یہ کس کی یاسمیں بانہیں ؟؟ چھڑک گئی ھیں جہاں در جہاں ، گلاب کے پھول کٹی ھے عمر ، بہاروں کے سوگ میں اَمجد مری لحد پہ کھلیں , جاوداں گلاب کے پھول ”مجید امجد“
  18. بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی نہ وہ مِلتا ہے نہ مِلنے کا اِشارہ کوئی کیسے اُمّید کا چمکے گا سِتارہ کوئی حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبّت کرنا جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پُوچھا ہے کیا کہَیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی سب تعلّق ہیں ضرورت کے یہاں پر، مُحسنؔ نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی محسؔن نقوی
  19. Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy Wo Ajnabi sy chahre wo khuwab khaime rawan rawan sy وہ اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں رواں سے بسے ہوۓ ہیں ابھی نظر میں سبھی مناظر دھواں دھواں سے یہ عکس داغ شکست پیماں وہ رنگ زخم خلوص یاراں میں غمگساروں میں سوچتا ہوں کہ بات چھیڑوں کہاں کہاں سے؟ یہ سنگریزے عداوتوں کے وہ آبگینے سخاوتوں کے دل مسافر قبول کر لے، ملا ہے جو کچھ جہاں جہاں سے بچھڑنے والے بچھڑ چلا تھا تو نسبتیں بھی گنوا کے جاتا ترے لیے شہر بھر میں اب بھی میں زخم کھاؤں زباں زباں سے مری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ہو کے آیا وہاں وہاں سے تو ہمنفس ہے نہ ہمسفر ہے کسے خبر ہے کہ تو کدھر ہے؟ میں دستکیں دے کے پوچھ بیٹھا مکیں مکیں سے مکاں مکاں سے ابھی محبت کا اسم اعظم لبوں پہ رہنے دے جان محسن! ابھی ہے چاہت نئی نئی سی، ابھی ہیں جذبے جواں جواں سے محسن نقوی
  20. Bila-Jawaaz Nahi Hy Falak Sy Jung Meri بلا جواز نہیں ہے فلک سے جنگ مری اٹک گئی ہے ستارے میں اک پتنگ مری - پھر ایک روز مرے پاس آ کر اس نے کہا یہ اوڑھنی ذرا قوس قزح سے رنگ مری - جو کائنات کنارے سے جا کے مل جائے وہی فراغ طلب ہے زمین تنگ مری - میں چیختے ہوئے صحرا میں دور تک بھاگا نہ جانے ریت کہاں لے گئی امنگ مری - فنا کی سرخ دوپہروں میں رقص جاری تھا رگیں نچوڑ رہے تھے رباب و چنگ مری - لہو کی بوند گری روشنی کا پھول کھلا پھر اس کے بعد کوئی اور تھی ترنگ مری
  21. kahain Ishq Ki Dekhi Ebtida ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺳُﻮﻟﯽ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﺎ ﻧﯿﺰﮮ ﭘﺮ ﺳﺮ ﮔﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔِﺮ ﮔﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺳﺠﺪﮮ ﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺩﺭﺱِ ﻭﻓﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺣﺴﻦِ ﺍﺩﺍ ﺑﻨﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﺳﺎﻧﭗ ﺳﮯ ﮈﺳﻮﺍ ﺩﯾﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﻗﻀﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺳﯿﻒِ ﺧﺪﺍ ﺑﻨﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺷﯿﺮ ﺧﺪﺍ ﺑﻨﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﻃُﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺫﺑﺢ ﮐﻮ ﺗﯿﺎ ﺭ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﺑﮩﮑﺎ ﺩﯾﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﺷﺎﮦِ ﻣﺼﺮ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﻮﮦِ ﻃُﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺗُﻮ ﮨﯽ ﺗُﻮ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺍﻟﻠﮧ ﮨُﻮ ﮨﮯ۔۔۔۔
  22. .درِ قفس سے پرے جب صبا گزرتی ہے کسے خبر کہ اسیروں پہ کیا گزرتی ہے تعلقات ابھی اس قدر نہ ٹوٹے تھے کہ تیری یاد بھی دل سے خفا گزرتی ہے وہ اب ملے بھی تو ملتا ہے اس طرح جیسے بجھے چراغ کو چھو کر ہوا گزرتی ہے فقیر کب کے گئے جنگلوں کی سمت مگر گلی سے آج بھی ان کی صدا گزرتی ہے یہ اہلِ ہجر کی بستی ہے احتیاط سے چل مصیبتوں کی یہاں انتہا گزرتی ہے بھنور سے بچ تو گئیں کشتیاں مگر اب کے دلوں کی خیر کہ موجِ بلا گزرتی ہے نہ پوچھ اپنی انا کی بغاوتیں محسنؔ درِ قبول سے بچ کر دعا گزرتی ہے محسن نقوی
  23. ہم نے بھی پیار کیا Poet: HuKhaN ایک روز خود کو جو ہم نے تلاش کیا اس کی ہر بات کو جب ہم نے یاد کیا اس کی زات میں پایا خود کو عجب ہی کمال کیا اسی طرح ہم نے دل ناشاد کو شاد کیا ہر بار اس کی نگاہ نے ایک حسین پیغام دیا ہر سانس اس نے ہمارے ہی نام کیا صبح نے بھی ہمیں یہ ہی ایک پیام دیا برسوں بعد دل نے ہمارے یہ حسین کام کیا خان کہہ دو ہاں میں نے بھی پیار کیا
  24. ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﻨﯽ ﮨﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻋﺪﮦ ﻧﺒﮭﺎﻧﺎ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﻨﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼﻧﺎ ﮨﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﯾﺮ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﯿﺮ ﻧﯿﺎﺯﯼ
  25. اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم ایک ساعت بھی شبِ وَصل کی بھولی نہ ہمیں آج بھی تیری ملن رات پہ مجبور ہیں ہم چشمِ تر قَلب حزیِں آبلہ پاؤں میں لئے تری الفت سے ترے پیار سے معمور ہیں ہم انکی محفل میں ہمیں اِذنِ تکّلم نہ ملا ان کو اندیشہ رہا سرمد و منصور ہیں ہم یوں ستاروں نے سنائی ہے کہانی اپنی گویا افکار سے جذبات سے محروم ہیں ہم اس نے لکھا ہے جہاں میں کریں شکوہ کس سے دل گرفتہ ہیں غم و درد سے بھی چور ہیں ہم تیرا بیگانوں سا ہم سے ہے رویہ محسن باوجود اس کے ترے عشق میں مشہور ہیں ہم محسن نقوی
×
×
  • Create New...