Jump to content

Recommended Posts

ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی

اس گھر کی کھلی چھت پہ چمکتے ہوئے تارو
کہتے ہو کبھی جا کے وہاں بات یہاں کی ؟

اللہ کرے میرؔ کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی

ہوتا ہے یہی عشق میں انجام سبھی کا
باتیں یہی دیکھی ہیں محبت زدگاں کی

پڑھتے ہیں شب و روز اسی شخص کی غزلیں
غزلیں یہ حکایات ہیں ہم دل زدگاں کی

تم چرخِ چہارم کے ستارے ہوئے لوگو
تاراج کرو زندگیاں اہلِ جہاں کی

انشاؔ سے ملو، اس سے نہ روکیں گے وہ، لیکن
اُس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی

مشہور ہے ہر بزم میں اس شخص کا سودا
باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام، میاں کی

اے دوستو! اے دوستو! اے درد نصیبو
گلیوں میں، چلو سیر کریں، شہرِ بتاں کی

ہم جائیں کسی سَمت، کسی چوک میں ٹھہریں
کہیو نہ کوئی بات کسی سود و زیاں کی

انشاؔ کی غزل سن لو، پہ رنجور نہ ہونا
دیوانا ہے، دیوانے نے اک بات بیاں کی

 

1.jpg

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

ﮨﻢ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺳﺨﺘﯽ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ۔۔۔۔ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﻓﻘﯿﺮ ﺭﮨﮕﺰﺭ۔۔۔
ﺭﺳﺘﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺭﻭﮐﺎ ﺗﯿﺮﺍ۔۔۔ﺩﺍﻣﻦ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﮭﺎﻣﺎ ﺗﯿﺮﺍ۔۔۔۔؟؟

ﺍﺑﻦ ﺍﻧﺸﺎ

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Your content will need to be approved by a moderator

Guest
You are commenting as a guest. If you have an account, please sign in.
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,985
    Total Topics
    8,225
    Total Posts
×