Jump to content
Jannat malik

poetry  منظر سمیٹ لائے ہیں جو تیرے گاؤں کے

Rate this topic

Recommended Posts

 منظر سمیٹ لائے ہیں جو تیرے گاؤں کے

نیندیں چرا رہے ہیں وہ جھونکے ہواؤں کے

تیری گلی سے چاند زیادہ حسیں نہیں

کہتے سنے گئے ہیں مسافر خلاؤں کے

پل بھر کو تیری یاد میں دھڑکا تھا دل مرا

اب دور تک بھنور سے پڑے ہیں صداؤں کے

داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں

ہم نے مٹا دئیے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

جب تک نہ کوئی آس تھی، یہ پیاس بھی نہ تھی

بے چین کر گئے ہمیں سائے گھٹاؤں کے

ہم نے لیا ہے جب بھی کسی راہزن کا نام

چہرے اتر اتر گئے کچھ رہنماؤں کے

اُگلے گا آفتاب کچھ ایسی بلا کی دھوپ

رہ جائیں گے زمین پہ کچھ داغ چھاؤں کے

(قتیل شفائی)

11193288_825608930826851_2113998000724061996_n.jpg

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,924
    Total Topics
    8,042
    Total Posts
×