Jump to content

Recommended Posts

کوئی سوال جو پُوچھے ،تو کیا کہوں اُس سے
بچھڑنے والے!سبب تو بتا جدائی کا

پروین شاکر

شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا
سِوا ہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا

تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہو گا
ہمیں بھی شوق تھا کُچھ بخت آزمائی کا

جو میرے سر سے دوپٹہ نہ ہٹنے دیتا تھا
اُسے بھی رنج نہیں میری بے ردائی کا

سفر میں رات جو آئی تو ساتھ چھوڑ گئے
جنھوں نے ہاتھ بڑھایا تھا رہنمائی کا

ردا چھٹی مرے سر سے،مگر میں کیا کہتی
کٹا ہُوا تو نہ تھا ہاتھ میرے بھائی کا

ملے تو ایسے، رگِ جاں کو جیسے چھُو آئے
جُدا ہُوئے تو وہی کرب نارسائی کا

کوئی سوال جو پُوچھے ،تو کیا کہوں اُس سے
بچھڑنے والے!سبب تو بتا جدائی کا

میں سچ کو سچ ہی کہوں گی ،مجھے خبر ہی نہ تھی
تجھے بھی علم نہ تھا میری اس بُرائی کا

نہ دے سکا مجھے تعبیر،خواب تو بخشے
میں احترام کروں گی تری بڑائی کا

 

1.jpg

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

سب سے نظر بچا کے وہ، مجھ کو تھا ایسے دیکھتا.
ایک دفعہ تو رک گئی، گردش_ ماہ و سال بھی.
بات وہ آدھی رات کی، رات وہ پورے چاند کی.
چاند بھی عین چیت کا، اس پہ تیرا جمال بھی.
میری طلب تھا ایک شخص، وہ جو نہیں ملا تو پھر.
ہاتھ دعا سے یوں گرا، کہ بھول گیا سوال بھی.
(پروین شاکر)

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,934
    Total Topics
    8,057
    Total Posts
×