Jump to content

Rate this topic

Recommended Posts

 
 

یوم السبت ،، کچھ دن پہلے میں کسی کا بیان سن رہا تھا جس میں یوم السبت والے لوگوں کا تذکرہ ہوا یعنی ہفتے کہ دن والے،،
جو مجھ سمجھ میں آیا سوچا آپ کو بھی بتا دوں
یہ قوم ہفتے میں 6 دن اپنے روز مرہ کہ کام کرتے اور ہفتے والے دن صرف اللہ کی عبادت کرتے،،
ان کا پیشہ مچھلی پکڑنا تھا
یہ پورے ہفتے میں 6 دن مچھلیاں پکڑتے مگر 7ویں روز یعنی ہفتہ اللہ کی عبادت کرتے،،
قدرت کا کرشمہ سمجھئے اسے کہ 6دنوں میں اتنی مچھلیاں نہیں آتی جتنی ہفتے والے دن آتے،،
پہلے تو وہ لوگ معمول کہ مطابق مچھلیاں پکڑتے اور 7واں روز اللہ کی عبادت میں گزارتے،،
مگر پھر شیطان کا زور ان پہ  بھڑنے لگا اور وہ دل ہی دل میں تمنا کرتے کہ کاش ہمیں عبادت نہ کرنی پڑے اور ہم اس دن مچھلیاں پکڑ لیں خیر وہ اس بات کو دل میں لئے سوچتے کہ کیا کیا جائے،،
 ان میں سے کچھ افراد جو ذہین تھے انہوں نے کہا کیوں نہ کوئی ایسی ترکیب کریں کہ عبادت بھی ہو جائے اور مچھلیاں بھی پکڑی جائیں،،
 تو انہوں نے پانی سے اپنے گھروں تک نالیاں بنا لی اور عبادت بھی کرنے لگے اب جب ہفتے کا دن آتا تو مچھلخاں اپنی موج میں ادھر ادھر ہوتی ہوئیں ان نالیوں کہ زریعے ان کہ گھروں میں خود با خود آ جاتی

اب وہ خوش بھی تھے کہ عبادت بھی ہوتی اور زریعہ معاش بھی ہو رہا،، یہ تین گروہ تھے پہلا وہ جو مچھلیاں پکڑتا تھا دوسرا وہ جو مچھلیاں نہیں تھا مگر ان کو منع بھی کرتا تھا کہ یہ کام غلط ہے باز آ جاو دین میں تھوڑی سی لالچ کہ بدلے کمی بیشی نہ کرو
اور تیسرا گروہ وہ تھا جو چپ کر کہ بھٹھا تھا نہ تو خود مچھلیاں پکڑتا نہ دوسروں کو منع کرتا،،
 پھر ہوا یہ کہ جو گروہ ان کو منع کرتا تھا اور خود بھی منع تھا سوائے اس کہ باقی دونوں گروہوں پہ اللہ کا عذاب آیا جو مچھلیاں پکڑتے یعنی تھوڑی سی لالچ کہ بدلے عبادت تو کرتے مگر ساتھ میں اپنی تیز دماغی کہ باعث مچھلیاں بھی پکڑ لیتے دیکھنے والوں کو اس میں کوئی بھی خامی نظر نہیں آتی تھی
 کیوں کہ وہ تو عبادت کرتے تھے مچھلیاں تو خود با خود ان نالیوں کہ زریعے ان کہ گھروں میں آ جاتی تھی،،
مگر پھر بھی اللہ کا عذاب ہوا ،،
اور ان پہ بھی جو جانتے تھے کہ یہ غلط ہے مگر پھر بھی ان کو منع نہیں کرتے تھے،،
چپ تھے ان پہ بھی اللہ کا عذاب آیا اور وہ ذلیل بندر ہو گئے،،

اب بات یہ ہے انہوں نے تو نالیاں بنائی تھی عبادت تو وہ ویسے ہی کرتے تھے جمعہ کہ دن نالیاں بنا کہ ہفتے کو عبادت کرتے مگر 
انہوں نے کیا غلطی کی ،،
بات یہ ہی سوچنے والی ہے ،،
کہ اللہ کہ ساتھ وعدہ جو تھا اللہ کا حکم جو تھا وہ اس میں اپنی ذہنی قابلیت  کو استعمال کر کہ ایسی ترکیب بنائے ہوئے تھے کہ عبادت ہو مگر ساتھ میں زریعہ معاش بھی ہو،،

صرف اک چھوٹی سے کوتاہی کہ بدلے اک چھوٹے سے حکم کی نافرمانی کہ بدلے اللہ نے ان کو انسان سے ذلیل بندر بنا دیا،،
غلطی تو کوئی بھی نہیں لگتی دیکھنے والوں کو،، کیوں کہ وہ جمعہ کہ دن نالیاں بناتے ،،
ہفتے کہ دن تو صرف عبادت کرتے مچھلیاں خود ہی آتی تھی،،
تو پھر غلطی کیا،،
جو اتنا بڑا عذاب ہوا،،
 غلطی یہ کہ انہوں سے صبر نہ ہوا،، اور لالچ کہ باعث دین میں ایسی راہیں ڈھونڈنے لگے،، جس سے ان کا دین بھی پورا رہے اور دنیا بھی پوری رہے چاہے وہ کام اللہ نے جس سے منع کیا ہو وہ ہی ہو،،

قرآن نصیحت حکمت ڈر سنانے والی خوش خبری دینے والی،، راہ دیکھانے والی،، کتاب اللہ ہے،،
 اللہ نے اس میں مسلمانوں اور پوری کائنات کو نصیحت فرمائی اور بتایا پچھلی امتوں پہ کن کن باتوں کے باعث ان پہ عذاب ہوا تم ویسے نہ ہو جانا پھر ویسا عمل نہ کرنا،،
 اللہ سے ڈرتے رہنا اور ان باتوں ان امتوں کہ قصوں کو نصیحتا یاد رکھنا،، اور ان کاموں سے روکے رہنا جو انہوں نے کئے،،
 وہ کرنا جن کو کرنے پہ اللہ نے انعام فرمایا،،

اب ہم غور کریں ہم نے اس قصے سے کیا نصیحت حاصل کی ہمیں کن کاموں سے باز رہنے کا حکم ہوا،،
اور کن کاموں میں ہم نے تھوڑی سے لالچ کہ بدلے ویسی  دماغی حکمت عملی کو اپنا کہ دین کہ ساتھ جوڑا ہوا ہے

مطلب ہم کہتے ہیں اللہ نے دین و دنیا کو ساتھ ساتھ لے کہ چلنے کا حکم دیا ہے،،
 مگر یاد رکھئیے اللہ نے ہرگز ہرگز ان کاموں کو دین کہ ساتھ ملا کہ کرنے کا کہیں حکم نہیں دیا جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے،،
تو اب ہم ان کاموں کو دنیا کا حصہ بتا کہ دین کہ ساتھ شامل نہیں کر سکتے
مثلا اس بیان میں کہا گیا جیسے سود،،
سود کو اللہ نے منع فرمایا،،
چاہے کوئی لے یا دے دنوں پہ سخت بیان ہوا،،
 مگر آج کل بینکنگ میں ہر جگہ پہ سود ہے ہم اپنی پاک کمائی حلال کمائی کو اس طرح سود سے گندہ کر رہے جو ظاہری طور پہ ہمیں خامی نظر نہیں آتی مگر ہم کر رہے،،
ہر جگہ ہر ادارے میں بڑے ناز سے سود لے دے رہے،، 
کوئی اس بات کا حساب نہیں لگاتا کہ یہ سود ہے کہ نہیں کوئی منع بھی نہیں کرتا بس  یہ سوچ کہ لئے دئے جا رہے کہ یہ جدید دور ہے،، ہماری ضرورت ہے،،
جائز ہے ہم مجبور ہیں،،
سبھی لیتے ہیں بڑے بڑے عالم لیتے ہیں ہم تو پھر بھی تھوڑا سا لیتے،،
تو ان کی بات سن کہ میرے دماغ میں کچھ آیات آتی،،
جن میں اللہ نے صاف فرمایا ہے ہر بندہ اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے،،
اگر کوئی دیکھا دیکھی انجانے میں غلطی کر لے تو سمجھ آنے پہ اس کو توبہ کرنی چاہئے،،
نہ کہ یہ سوچ کہ غلطی دوہرائے کہ سب کر رہے ہیں،،
روز محشر نہ تو باپ اپنی اولاد کہ اعمال کا ذمہ دار ہو گا نہ اولاد اپنے باپ کی،،
ہر اک سے اس کہ متعلق سوال ہو گا،،
اور پوچھا جائے گا کیا تم میں میرا نبی نہیں آیا کیاں تم قرآن نہیں پڑھتے تھے،،
کیا میں نے تم کو نصیحت نہیں کی تھی کیا میں نے تم کو ڈر نہیں سنایا تھا،،
کیا میں نے تمہیں عقل نہیں دی تھی،،
بات تو یہ ہے تم دنیا کی زندگی کو ہی سب سمجھ بیٹھے تھے،،
اور سوچتے تھے قیامت کب آئے گی،،
اور جو تم کو منع کرتا تھا ان کو پاگل کہت تھے اب رہوں اپنے عمل کہ سبب جہنم میں
 یہ کچھ آیات ہیں جو میں نے اپنی سمجھ میں جو آئی ان کو سمجھانے کہ لئے لکھا ہو بہو نہیں ہے کوئی غلطی ہو تو اللہ سے معافی مانگتا ہوں
تو پھر کس لئے دیکھا دیکھی کام کرتے یا برا عمل ہوتا دیکھ منع نہیں کرتے،،
اس کہ بعد رشوت آ جاتی ہے،،
جو اب ہر ادارے ہر جگہ چلتی ہے،،
کہیں پہ مال کی کہیں پہ جھوٹی گواہی کی اور کہیں پہ جھوٹی خوشامند کی،،
اور لوگ بڑے فخر سے لے دے رہیں ہیں،،
کسی کو اس بات کی تمیز نہیں کہ وہ کیا کر رہے،،
وہ نمازیں تو اللہ کی پڑھتے صدقہ بھی کرتے سب کرتے مگر اس رشوت سے ملے مال  کو یا دئیے ہوئے مال کی وجہ سے اپنا سارا رزق عمل حرام کر رہے اور اللہ حرام چیز کی کوئی بھی عبادت قبول نہیں کرتا،،
 یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے کہ ہم سمجھ نہیں پا رہے کہا کہا کدھر کدھر سے ہم رشوت لے رہے اور کہا کہا دے رہے ہیں 
 کوئی حلال حرام کا پتا نہیں عبادتیں کر رہے صدقہ دے رہے مگر ان کو پتا نہیں کن رشوت بڑے راستوں سے وہ اپنی محنت کو حرام میں بدل رہے،،
کہہ دو تو کہتے ہیں سبھی کرتے،، نہ کریں تو کھائیں گے کیسے،،
اس بات کو کرتے وہ یہ بات ظاہر کر دیتے ہیں کہ ان کا اللہ پہ کتنا یقین ہے
 اللہ نے انسان کو صاف کہا ہے جتنا رزق میں نے تمہارے مقدر میں لکھا اس کو کوئی کم یا زیادہ نہیں کر سکتا میرے سوا،،
جو آسائش خوشی میں نے تیرے لئے رکھی کوئی اس کو نہیں چھین سکتا،،
بندوں کا خوف نہ کھا میرا خوف رکھ میں تیرا خدا ہوں،،
 مگر کہاں کوئی اس بات کو مانتا نہیں دعوے ہر کوئی کرتا مگر،،

اس کہ بعد دوسرے مسائل آتے ہیں ھو دین میں منع ہیں مگر ہم ان کو دنیا میں لوگوں میں مقبولیت پانے کہ لئے دین کہ ساتھ ساتھ کرتے اور سوچتے یہی اس میں کیا حرج ہے،،
ان میں جھوٹ بھی ہے،،
جو ہم مخلتف اموار پہ بے جھا بولتے ہیں ،،
ان اور سوچتے ہی نہیں کیا یہ دین ہے،،
 مختلف اقسام کی جھوٹی کہانیاں بنا کہ جھوٹی باتیں بنا کہ جھوٹی قسمیں کھا کہ مال جمع کرتے پھر اس کو خرچ دین پہ کرتے اور سمجھتے یہ کون سی بری بات ہے جھوٹ ہی ہے،، حالانکہ جھوٹ تمام گناہوں کی ماں ہے،،
بس ہمیں ان جگہوں پہ بولنے پہ منع  نہیں کیا گیا جو جھوٹ کسی کی ناحق جان قتل ہوتی بچا سکے کسی کی عزت غرق ہوتی بچا سکے،، اور تب جب اس جھوٹ سے کسی کو نفع نقصان بھی نہ ہو آپ کا کوئی مقصد بھی نہ ہو بس کسی کی عزت بچ جائے کسی کی جان بچ جائے،، وہ چھوٹی موٹی غلطیوں کوتاہیوں کو دیکھ بولا جا سکتا ہے،،
نہ کسی کو بے وقوف بنا اس کا بعد میں تمسخر اڑا،،
 یا آپ میں کوئی عیب ہے جس کی آپ توبہ کرتے ہیں یا کر چکے ہیں کوئی اپ کا وہ عیب پوچھے ،، کیوں کہ گناہ کر کہ بتانا گناہ ہے،،
مگر ہم ان صورتوں میں جھوٹ نہیں بڑے فخر سے سچ بولتے ہیں 
،،
اس کہ بعد غیبت آ جاتی،،
 غیبت کبیرہ گناہوں میں سے ہے ،، ہم مسجد میں بیٹھے ہوتے لوگوں کی غیبت کر رہے ہوتے نیکی کر رہے ہوتے ساتھ میں دوسروں کی باتیں کر رہے ہوتے،،
جو بھی ہو مگر ہم کو محسوس ہی نہیں ہوتا،، ہم کیا کئے جا رہے،،
 ہماری طرف سے تو ہم لوگوں کو برائی سے بچنے کا بتا رہے ہوتے ،، آپ خود بھلا اس برائی کا مدرسہ کھول کہ بیٹھے ہوں،،
اس کہ بعد دیکھاوا آ جاتا ہے،،
دین اسلام میں سب عبادتیں سب کچھ اللہ کی رضا کہ لئے ہے،،
چاہے نماز ہو چاہے قربانی چاہے صدقہ،،
 کوئی بھی عمل ہو اللہ کہ لئے خالص ہونا چاہئے ہاں کچھ جگہوں پہ فرائض ادا کر کہ دیکھانے چاہئے تاکہ ان میں کرنے کی چاہ ہو،،
مگر نہیں دیکھاوا اتنا سر پہ سوار ہے،،
لوگ مخلتف گناہوں میں  میں شمولیت کر کہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال سر پہ قرض چڑھا ناجائز حرام اعمال اپنا کچھ عمل ایسے کرتے جو بس صاحب حصیت پہ فرض ہیں مگر محض دکھاوے کہ طور پہ ہم ان فرائض کو انجام دیتے ہیں سوچتے بھی نہیں کیا حرام کام کیا کر رہے ،، کدھر ناانصافی ہوئی کدھر قرض لیا،،
اس کی کون پرواہ کرے بس انسانوں میں واہ واہ ہونی چاہئے،،
 یہ وہ کام ہے جیسے قربانی ،، جو قرض لے کہ مال حرام راستے سے کما کہ کرتے دوسرے سے زیادہ پیسہ لگاتے اک دوسرے کہ ساتھ دور لگاتے،،
اس کہ بعد حج عمرہ آ جاتا ہے،،
 انسان نماز پڑھتا نہیں سر پہ قرض ہے گھر میں کھانے کو نہیں،، بے حیائی سرعام ہو رہی رات رات بے حیائی والے کام ہو رہے زناء ہو رہا مگر بس مجھے اللہ سے محبت ہے میں نے اس کہ گھر جانا ہے دل کرتا ہے،، 
عشق میں تو جان چلی جاتی ہے یہ کیسا عشق ہے جو ساری عبادتوں کو چھوڑ سارے گناہوں کو اپنا  بس حرم جانا ہے تاکہ لوگوں کو پتا چل سکے کہ اپ ادھر ہو کہ آئیں،،
بس عبادات ہی کرنی ہے چاہے جو مرضی گناہ کر کہ کرو،،
 قبول اللہ نے کرنی ہیں مگر اللہ کی حدود ہیں ان میں رہ کہ ہوتی،،

اس کہ بعد جواء آ جاتا ہے انسان یہ سوچ کہ اپنا سارا مال لگا دیتا ہے قسمت ہوئی دوگنا ہو جاے گا،،
پھر اس سے صدقہ خیرات قربانی کرو گا،،
جواء اسلام میں حرام ہے،،
اور حرام چیز سے کوئی عبادت صدقہ خیرات نہیں ہوتا،،
باقی اللہ جس کو معاف کرے جس کی توبہ قبول کرے،،،
اس کی بعد آج کل کا جدید دور ہے بے پردگئ،،
 جس کی مثال میں صرف اس بات پہ دیتا ہوں جہاں لڑکیاں میک اپ کر کہ لڑکوں میں جاتی اب وہ کوئی بھی ہو،،
بس دکھاتی کہ ہم ہیں اور پھر لڑکے بھی ان کی خاطر عالم بن جاتے،،
یہ چیز آج کل شوشل میڈیا پہ ہے ،،
مختلف پروگرام ہیں جن مین صدقہ خیرات کا بہانہ بنا کہ لڑکے لڑکیوں کو  کو کھیل مین شمولیت کروائی جاتی،،
اور اس اس طرح کی باتیں ہوتی جس کی اسلام میں سخت ممانعت فرمائی،،
اسلام میں حکم ہے جس میں حیاء نہیں اسے چاہئے پھر جو مرضی کرے،،
 اور اک حدیث میں ہے اگر لڑکی خوشبو لگا کہ کسی غیر محرم کہ پاس سے گزرتی ہے تو وہ اس کی خوشبو کو سونگتا ہے یعنی اس لڑکے کو وہ خوشبو آتی ہے تو وہ لڑکی گھر ایسے آئی جیسے زنا کر کہ ائے ہو،،
آپ کسی کو کہہ کہ دیکھ لیں آپ کو مار مار کہ بندر نہ بنا دیا تب کہنا،،
یا آپ کہ اگلے پچھلے سارے گناہ اکٹھے ہو کہ اپ کہ منہ پہ نا مارے جانے لگے تب کہنا،،
 خیر بات یہ پورہی تھی سرعام صدقہ بھی ہو رہا ہے اور لوگوں کو اس طرح دعوت دی جاتی جس میں سج سنور کہ لوگ اتے اور ایسے فری ہوتے جیسے 263a.png
 اس کہ بعد مخلتف پروگرام میں باقاعدہ مختلف چیزوں پہ لڑکے لڑکیاں وہ باتیں کرتی جو منع ہیں مگر ساتھ میں کوئی اک آدھی نصیحت بھی کر دی جاتی تاکہ ان کا دین مکمل ہو جائے،،
کیا یہ سب ہفتے کہ دن والوں کی طرح نہیں،،
 انہون نے تو اک راہ بنائی تھی دین کہ ساتھ ہم نے تو ان راہوں پہ تھوڑا سا دین جوڑ کہ اس کو اسلام کا نام دے دیا ہے،،
اس کہ بعد ا جاتی ہے کمپیوٹر کی دنیا،،
 جس میں محض لائکس کمنٹس لینے کہ لئے مخلتف پوسٹ ہوتی مخلتف اسلامی پوسٹ شئیر ہوتی جن کہ ساتھ ہے لڑکی کی تصاویر بہودگی شئیر ہو جاتی،،
مختلف قسم کی تصاویر بنا کہ قسمیں دی جاتی ،، ایمان مضبوط اور کمزور بتایا جاتا،،
 اور ہم دیکھا دیکھی لگے ان کو لائکس دینے کوئی بات جس کی تصدیق نہین جھوٹ پہ مبنی ساری کہانی،،
 تصاویر بنا کہ شئیر کر دیتے اب بندہ مسجد میں جانے کی بجائے ادھر ہی بیٹھا ہے فیس بک پہ ثواب گناہ کما رہا ہے،،
کوئی عمل نہیں مگر مجھے اللہ چاہئے،،
نیچے لکھا میں ضدی ہوں پرنسز تیرا باپ ہے 1f622.png😢1f622.png😢1f622.png😢
پتا نہیں کیا لکھا ہوتا سب کہ سب بس دکھواتا دیکھا دیکھی بیٹھے رہتے،،
،،
کیا یہ دین میں ملاوت نہیں،،
عمل کوئی نہ دکھوائے مکدے نہیں،،
اس کہ بعد لڑکا لڑکی سے فحش بات کرتا کرتا مسجد میں جانے کاکہہ دیتا ہے کہ ا کہ بات کرو گا ،،
کیا یہ دین ہے،،
خیر اس میں بہت سی باتیں اجاتی،،
کچھ میرے اندر بھی ہوں گی،،
آپ کہ اندر بھی،،
اللہ ہمیں معاف کرے اور ان سے بچائے رکھے،،
 دعا تب اثر کرتئ جب عمل ہو ساتھ،،

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Is Topic Main kuch cheezen reh gyein 

matlib abi sirf kuch amliyat ka tazkra howa jo deen main mana hein magar hum un ko deen k sath mila k kr rhein

kuch nahi bohat c hein

aur us ko jadeed zamana k deen samjhty hein

aur jis jis ko woh cheezein nazar ayein woh is main add kar dein

aur abi aik hi topic howa ibadat makmal krty waqt hi sath main duniya se faida b chahty hein

Khaas Allah ki ibadit nahi krty

baki do aur cheezein hein is qisay main

woh yeh ik jo deen main bura cheez hota deikh na rokay woh b un main shamal hy jo hy jo bura kaam krein 

aur dosra woh hein jo us se khud ko see dour rakhein magar sath dosroun ko b rokay

aur akhar main un se dour ho jaye,,

 

kiyo k hadees main hy 

us main hazoor pak S.A.W.W se kisi sahabi ne posha 

Ay Allah k nabi yeh kiyo hy galti ik kary to saza sab ko mily

To HAzoor PAk S.A.W.W ne us ki tang pe apna la'abdhen laga diya jo shahed se zaydah metha tha...

to us k ko chatne khane k liye keriya un ki tang pe aketha hone lagi 

aur kitne sari keerioun ik dosre k sath mil k aekthi ho k us ko chatne lagi

isi isna main ik keeri ne un sahabi ki tang pe kat diya,,

to us sahabi ne yakdum is amal k hone pe zoor se hatha mara to sabi keeriya mar gyein jo us k nichy ayein

To hazoor pak S.A.W.W ne un sahabi se kaha k kata tum ko ik ne tha magar tum ne baki sari begunah ko kiyo mara

 

 

ok woh ider mare computer main urdu nahi select ho rahi

to jis jis ko is tarif dhyan ho woh is k matliq koi hawala ho woh us ko urdu main type ker dy yeh main ne apni facebook se copy kiya tha jo mobile main likha tha

ok

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

:jaza:   

bohat achi sharing bhai. ALLAH app ko khush rakhye or aisi achi or mayari information pohnchane k liye bohat bohat shukriyaa thanks alot ..

app ny ghalt jagah topic bana diya th QURAN O TARJUMA k ander. khair mai move ker diya hy is ko deen o duniya mai. keep sharing :) 

 

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,929
    Total Topics
    8,050
    Total Posts
×