Jump to content
Jannat malik

جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رُلائیں

Rate this topic

Recommended Posts

 

جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رُلائیں
ممکن ہے کہ ہم آپ کو پھر یاد نہ آئیں
ہم چھیڑ تو دیں گے ترا محبوب فسانہ
کھنچ آئیں گی فردوس کی مدہوش فضائیں
پھر تشنہ لبی زخم کی دیکھی نہیں جاتی
پھر مانگ رہا ہوں ترے آنے کی دعائیں
پھر بیت نہ جائے یہ جوانی، یہ زمانہ
آؤ تو یہ اُجڑی ہوئی محفل بھی سجائیں
پھر لوٹ کے آئیں گے یہیں قافلے والے
اُٹھتی ہیں اُفق سے کئی غمناک صدائیں
شاید یہی‌ شعلہ مری ہستی کو جلا دے
دیتا ہوں میں اڑتے ہوئے جگنو کو ہوائیں
اے کاش ترا پاس نہ ہوتا مرے دل کو
اٹھتی ہیں پر رک جاتی ہیں سینے میں‌ صدائیں
اک آگ سی بھر دیتا ہے رگ رگ میں تبسّم
اس لطف سے اچھی ہیں حسینوں کی جفائیں
معبود ہو اُن کے ہی تصّور کی تجلّی
اے تشنہ لبو آؤ!‌ نیا دَیر بنائیں
ہم سنگِ دریا پہ بے ہوش پڑے ہیں
کہہ دے کوئی جبریل سے، بہتر ہے، نہ آئیں
ہاں، یاد تو ہوگا تمہیں راوی کا کنارا
چاہو تو یہ ٹوٹا ہوا بربط بھی بجائیں
توبہ کو ندیم آج تو قربان کرو گے
جینے نہیں دیتیں مجھے ساون کی گھٹائیں
احمد ندیم قاسمی

FB_IMG_1495092438003.jpg.6ff4a666ae7b2ae9fd27e4e223270d71.jpg

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

اوڑھ لی ہے خاموشی، گفتگو نہیں کرنی
!!! دل کو مار دینا ہے ، آرزو نہیں کرنی۔۔۔۔
اب تمہاری راہوں میں دھول بھی نہیں ہونا
!!!  اور تم کو پانے کی جستجو نہیں کرنی۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,934
    Total Topics
    8,057
    Total Posts
×