Jump to content

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

News Ticker

Rate this topic

Recommended Posts

ستارے کیا کہتے ہیں؟؟
 یہ سراسرایمان شکن باتیں ہیں ان پر یقین کرنا انسان کو شرک کی گمراہی تک لے جاسکتا ہے لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ نہ صرف ان باتوں کا انکارکریں بلکہ ان اخبارات اور رسائل کی حوصلہ شکنی بھی کریں اور اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ 
:اس پر کثرت سے احادیث موجود ہیں یہاں پر ستاروں سے متعلق صحیح مسلم کی چند احادیث پیش خدمت ہیں
 امام مسلم رحمہ الله نے "کتاب الایمان" میں ایک باب باندھا ہے جس کا نام "باب بَيَانِ كُفْرِ مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِالنَّوْءِ(اس شخص کے کفر کا بیان جو کہے کہ بارش ستاروں کی گردش ہوتی ہے)" رکھا ہے۔ اس باب سے چند احادیث یہاں نقل کی جاتی ہیں۔


حدیث: 231
 دَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَاءِ، كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: قَالَ: " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي، مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ

 

 سیدنا زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے، رسول الله ﷺ نے نماز پڑھائی صبح کی ہمیں حدیبیہ میں (جو ایک مقام کا نام ہے قریب مکہ کے) اور رات کو بارش ہو چکی تھی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا: ”تم جانتے ہو تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا؟“ انہوں نے کہا: الله اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے کہا: ”الله تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بعض کی صبح ایمان پر ہوئی اور بعض کی کفر پر، تو جس نے کہا: پانی برسا الله کے فضل اور رحمت سے وہ ایمان لایا مجھ پراورانکاری ہوا ستاروں سے اور جس نے کہا: پانی برسا ستاروں کی گردش سے وہ کافر ہوا میرے ساتھ اور ایمان لایا تاروں پر۔
 

حدیث: 232
 حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، ومحمد بن سلمة المرادي ، قَالَ الْمُرَادِيُّ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، وَقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالَ: " مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ، إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ الْكَوَاكِبُ وَبِالْكَوَاكِبِ


سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے، رسول الله  ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں دیکھتے جو فرمایا تمہارے رب نے، فرمایا اس نے، میں نے کوئی نعمت نہیں دی اپنے بندوں کو مگر ایک فرقے نے ان میں سے صبح کو اس کا انکار کیا اور کہنے لگے: تارے تارے۔


حدیث: 234
 وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ، وَمِنْهُمْ كَافِرٌ "، قَالُوا: هَذِهِ رَحْمَةُ اللَّهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فَلا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ حَتَّى بَلَغَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ
سورة الواقعة آية 75 - 82


 سیدنا ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے، پانی برسا رسول الله ﷺ کے زمانے میں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ” صبح کی لوگوں نے بعض نے شکر پر اور بعض نے کفر پر تو جنہوں نے شکر پر صبح کی۔ انہوں نے کہا: یہ الله کی رحمت ہے۔ اور جنہوں نے کفر کیا انہوں نے کہا کہ فلاں نوء فلاں نوء سچ ہوئے۔“ پھر یہ آیت اتری «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» اخیر «وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ» تک
 ان احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ ستاروں پر علم رکھنا جاہلیت کا کام ہے لیکن افسوس کہ آج کل ہمارا میڈیا ان باتوں سے بھرا پڑا ہے اور ان بدبختوں نے ان کوعقرب، ثور،سرطان، اسد، حمل اور سنبلہ وغیرہ نام دئیے ہیں تاکہ ہرآدمی اپنی قسمت وہاں تلاش کرے۔ یہ باتیں سرار قرآن وسنت کے خلاف ہیں کیونکہ غیب کا علم صرف الله کے پاس ہے اور کسی کو یہ نہیں پتہ کہ وہ کل کیا کرے گا۔
:الله عزوجل قرآن میں فرماتے ہیں


 {إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ


 بےشک الله تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا (یاد رکھو) الله تعالیٰ پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔( سورۃ لقمان:31 - آيت:34


 اور یہی وجہ ہے کہ جو نجومیوں اور غیب کا دعوی کرنے والوں کی باتوں پر یقین کرتے ہیں تووہ دراصل قرآن وسنت کا انکار کرتےہیں کیوں کہ قرآن کہتا ہے کہ غیب کا علم صرف الله کے پاس ہے اور جیسے اوپرذکر کی گئی آیت سے ہمیں معلوم ہوا کہ انسان تو یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا تو وہ یہ لوگ یہ دعوی کیسے کرتے ہیں کہ آپ کا ہفتہ کیسے گزرے گا۔
:نبی کریم ﷺ نے فرمایا
مَنْ أَتَى كَاهِنًا، أَوْ عَرَّافًا، فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ
جو کسی کاہن یا نجومی کے پاس گیا اور جو وہ کہتا ہے اس کی تصدیق کی تو اس نے محمدﷺ  پر جو نازل ہوا ہے اس کا کفر کیا.
(أخرجه أحمد والأربعة، وصححه الألباني في صحيح الترغيب والترهيب برقم (3047))
اسی طرح دوسری حدیث میں فرمایا:
مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً
جوشخص عراف(چھپی باتیں بتانے والا) کے پاس جائے اس سے کوئی بات پوچھے تو اس کی چالیس(400) دن کی نماز قبول نہ ہو گی
(أخرجه إمام مسلم في صحيح مسلم ، كتاب السلام برقم (5821))
 الله سبحانه وتعالى ہمیں شرک اور بدعت کی گمراہیوں سے بچائے اور جادوگروں، عاملوں اور علم نجوم کے نام پر لوگوں کے ایمان و دولت کے ساتھ کھیلنے والوں کے شر سے بچائے۔
 اس پیغام کو پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے لہذا جتنا ممکن ہو پہنچائیں ! کیا پتہ کسی کو اس کے ذریعہ ہدایت مل جائے
 ***

Silver-Lake-December-2014-Mountains-and-

Share this post


Link to post
Share on other sites

:jaza:   kafi informative topic hy thanks for sharing :) 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now


  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,831
    Total Topics
    7,881
    Total Posts
×