Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Rate this topic

Recommended Posts

تم اک گورکھ دهنده ہو

کھیل کیا تم نے اَزَل سے یہ رَچا رکھا ہے
رُوح کو جسم کے پِنجرے کا بنا کر قیدی
اُس پہ پھر موت کا پہرا بھی بٹھا رکھا ہے
دے کے تدبیر کے پنچھی کو اُڑانیں تم نے
دامِ تقدیر بھی ہر سَمْت بچھا رکھا ہے
کر کے آرائشیں کونین کی برسوں تم نے
ختم کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے
لامکانی کا بہرحال ہے دعویٰ بھی تمہیں
نَحْنُ اَقْرَبْ کا بھی پیغام سنا رکھا ہے
یہ بُرائی، وہ بھلائی، یہ جہنّم، وہ بہشت
اِس اُلْٹ پھیر میں فرماؤ تو کیا رکھا ہے؟
جُرم آدم نے کِیا اور سزا بیٹوں کو
! عدل و انصاف کا مِعیار بھی کیا رکھا ہے
دے کے انسان کو دنیا میں خلافت اپنی
اک تماشا سا زمانے میں بنا رکھا ہے
اپنی پہچان کی خاطر ہے بنایا سب کو
سب کی نظروں سے مگر خود کو چُھپا رکھا ہے
تم اک گورکھ دھندا ہو

نِت نئے نقش بناتے ہو، مٹا دیتے ہو
جانے کس جُرمِ تمنّا کی سزا دیتے ہو
کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کَنی
کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں مِلا دیتے ہو
زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے
وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو
خواہشِ دید جو کر بیٹھے سرِ طُور کوئی
طُور ہی برقِ تجلّی سے جلا دیتے ہو
نارِ نمرُود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلِیل
خود ہی پھر نار کو گُلزار بنا دیتے ہو
چاہِ کنعان میں پھینکو کبھی ماہِ کنعاں
نُور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو
بیچو یُوسُف کو کبھی مِصْر کے بازاروں میں
آخرِ کار شَہِ مِصْر بنا دیتے ہو
جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی
بیٹھ کر دل میں اَنا الْحَق کی صدا دیتے ہو
خود ہی لگواتے ہو پھر کُفْر کے فتوے اُس پر
خود ہی منصُور کو سُولی پہ چڑھا دیتے ہو
اپنی ہستی بھی وہ اِک روز گنوا بیٹھتا ہے
اپنے دَرْشَن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو
کوئی رانجھا جو کبھی کَھوج میں نکلے تیری
تم اسے جھنگ کے بیلے میں رُلا دیتے ہو
جستجو لے کے تمہاری جو چلے قَیس کوئی
اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو
جَوْت سَسّی کے اگر مَن مِیں تمہاری جاگے
تم اسے تپتے ہوئے تَھل میں جلا دیتے ہو
سوہنی گر تم کو مہینوال تصوُّر کر لے
اس کو بِپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو
خود جو چاہو تو سرِ عرش بُلا کر محبوب
ایک ہی رات میں مِعراج کرا دیتے ہو
تم اک گورکھ دھندا ہو

آپ ہی اپنا پردہ ہو
تم اک گورکھ دھندا ہو

جو کہتا ہوں، مانا، تمہیں لگتا ہے بُرا سا
پھر بھی ہے مجھے تم سے بہرحال گِلہ سا
چُپ چاپ رہے دیکھتے تم عرشِ بریں پر
تپتے ہوئے کَربَل میں مؐحمد کا نوا سا
کِس طرح پلاتا تھا لہو اپنا وفا کو
خود تین دنوں سے وہ اگرچہ تھا پیاسا
دُشمن تو بہر طور تھے دُشمن مگر افسوس
تم نے بھی فراہم نہ کِیا پانی ذرا سا
ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وِراثَت
مظلوم کے حصّے میں تسلّی نہ دلاسا
کل تاج سجا دیکھا تھا جس شخص کے سَر پر
ہے آج اُسی شخص کے ہاتھوں میں ہی کاسہ
یہ کیا ہے اگر پُوچُھوں تو کہتے ہو جواباً
اِس راز سے ہو سکتا نہیں کوئی شناسا
تم اک گورکھ دھندا ہو

حیرت کی اک دنیا ہو
تم اک گورکھ دھندا ہو

ہر ایک جا پہ ہو لیکن پَتا نہیں معلوم
تمہارا نام سُنا ہے، نِشاں نہیں معلوم
تم اک گورکھ دھندا ہو

دل سے اَرمان جو نکل جائے تو جُگنُو ہو جائے
اور آنکھوں میں سِمَٹ آئے تو آنسو ہو جائے
جاپ یا ہُو کا جو بے ہُو کرے ہُو میں کھو کر
اُس کو سُلطانیاں مِل جائیں، وہ باہُو ہو جائے
بال بِیکا نہ کسی کا ہو چُھری نیچے
حَلْقِ اَصغَر میں کبھی تِیر ترازُو ہو جائے
تم اک گورکھ دھندا ہو

کس قدر بے نیاز ہو تم بھی
داستانِ دراز ہو تم بھی

مرکزِ جستجوِ عالمِ رنگ و بُو
دَم بہ دَم جلوَہ گر تُو ہی تُو چار سُو
ہُو کے ماحول مِیں، کچھ نہیں اِلّا ہُو
تم بہت دِلرُبا، تم بہت خُوبرُو
عرش کی عظمتیں، فَرش کی آبرو
تم ہو کونین کا حاصلِ آرزو
آنکھ نے کر لیا آنسوؤں سے وُضو
اب تو کر دو عطا دید کا اِک سَبُو
آؤ پَردے سے تم آنکھ کے روبرو
چند لمحے مِلن، دو گھڑی گفتگو
نازؔ جَپتا پِھرے جا بجا کُو بہ کُو
...  وَحْدَہٗ، وَحْدَہٗ، لَا شَریک لَهٗ

 

130714_nn04s_bougie_mains_sn1250.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,861
    Total Topics
    7,955
    Total Posts
×