Jump to content

Rate this topic

Recommended Posts

 

لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے
عشق پِیتا ہے کڑک چاہتوں والی چائے 

کیتلی ہجر کی تھی , غم کی بنا لی چائے
وصل کی پی نہ سکے ,ایک پیالی چائے

میرے دالان کا منظر کبھی دیکھو آ کر 
درد میں ڈوبی ہوئی شام ,سوالی چائے

ہم نے مشروب سبھی مضر ِ صحت ترک کئے
ایک چھوڑی نہ گئی ہم سے یہ سالی , چائے

یہ پہیلی کوئی بُوجھے تو کہ اُس نے کیونکر
اپنے کپ سے مرے کپ میں بھلا ڈالی , چائے

میں یہی سوچ رہا تھا کہ اجازت چاہوں 
اُس نے پھر اپنے ملازم سے منگالی چائے

اس سے ملتا ہے محبت کے ملنگوں کو سکوں 
دل کے دربار پہ چلتی ہے دھمالی چائے

رنجشیں بھول کے بیٹھیں کہیں مل کر دونوں
اپنے ہاتھوں سے پِلا خیر سگالی ,چائے

عشق بھی رنگ بدل لیتا ہے جان ِ احمد !
ٹھنڈی ہو جائے تو پڑ جاتی ہے کالی, چائے

اعجاز احمد

 

FB_IMG_1531677613428.jpg

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,951
    Total Topics
    8,138
    Total Posts
×