Jump to content

Please Disable Your Adblocker. We have only advertisement way to pay our hosting and other expenses.  

Rate this topic

Recommended Posts

جون ایلیا

زمانے بھر کو اداس کر کے 
خوشی کا ستیا ناس کر کے 
میرے رقیبوں کو خاص کر کے 
بہت ہی دوری سے پاس کر کے 
تمہیں یہ لگتا تھا 
جانے دیں گے ؟ 
سبھی کو جا کے ہماری باتیں 
بتاؤ گے اور 
بتانے دیں گے ؟ 
تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں
مناؤ گے اور 
منانے دیں گے ؟ 
میری نظم کو نیلام کر کے 
کماؤ گے اور 
کمانے دیں گے ؟

تو جاناں سن لو 
اذیتوں کا ترانہ سن لو

کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم 
بھلے ہی دل سے نکال دو تم 
کمال دو یا زوال دو تم 
یا میری گندی مثال دو تم

میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔!
میں پھر بھی جاناں ۔۔۔
پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا 
گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گا 
اب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو 
میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گا

بتاؤں تم کو ؟
میں کیا کروں گا ؟

میں اب زخم کو زبان دوں گا 
میں اب اذیت کو شان دوں گا 
میں اب سنبھالوں گا ہجر والے
میں اب سبھی کو مکان دوں گا
میں اب بلاؤں گا سارے قاصد
میں اب جلاؤں گا سارے حاسد
میں اب تفرقے کو چیر کر پھر 
میں اب مٹاؤں گا سارے فاسد
میں اب نکالوں گا سارا غصہ 
میں اب اجاڑوں گا تیرا حصہ 
میں اب اٹھاؤں گا سارے پردے
میں اب بتاؤں گا تیرا قصہ

مزید سُن لو۔۔۔ 
او نفرتوں کے یزید سن لو

میں اب نظم کا سہارا لوں گا 
میں ہر ظلم کا کفارہ لوں گا 
اگر تو جلتا ہے شاعری سے
تو یہ مزہ میں دوبارہ لوں گا

میں اتنی سختی سے کھو گیا ہوں
کہ اب سبھی کا میں ہو گیا ہوں
کوئی بھی مجھ سا نہی ملا جب 
خود اپنے قدموں میں سو گیا ہوں

میں اب اذیت کا پیر ہوں جی 
میں عاشقوں کا فقیر ہوں جی 
کبھی میں حیدر کبھی علی ہوں 
جو بھی ہوں اب اخیر ہوں جی

 

FB_IMG_15396299094955585.jpg

Edited by Urooj Butt

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,872
    Total Topics
    8,326
    Total Posts
×