Jump to content

Recommended Posts

Posted

سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں

آئنے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں

سب کے سب ہیں اپنے اپنے دائرے کی قید میں

دائروں کی حد سے باہر سوچتا کوئی نہیں

صرف ماتم اور زاری سے ہی جس کا حل ملے

اس طرح کا تو کہیں بھی مسئلہ کوئی نہیں

یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد

چھو کے ان کو دیکھیے تو واہمہ کوئی نہیں

جو ہوا یہ درج تھا پہلے ہی اپنے بخت میں

اس کا مطلب تو ہوا کہ بے وفا کوئی نہیں

تیرے رستے میں کھڑے ہیں صرف تجھ کو دیکھنے

مدعا پوچھو تو اپنا مدعا کوئی نہیں

کن‌ فکاں کے بھید سے مولیٰ مجھے آگاہ کر

کون ہوں میں گر یہاں پر دوسرا کوئی نہیں

وقت ایسا ہم سفر ہے جس کی منزل ہے الگ

وہ سرائے ہے کہ جس میں ٹھہرتا کوئی نہیں

گاہے گاہے ہی سہی امجدؔ مگر یہ واقعہ

یوں بھی لگتا ہے کہ دنیا کا خدا کوئی نہیں

DnYyIZqW4AQnbrf.thumb.jpg.b2ce23dd0ef79f68f7373e03abfdaf68.jpg

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.