jannat malik👑 Posted February 1, 2019 Posted February 1, 2019 سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں آئنے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں سب کے سب ہیں اپنے اپنے دائرے کی قید میں دائروں کی حد سے باہر سوچتا کوئی نہیں صرف ماتم اور زاری سے ہی جس کا حل ملے اس طرح کا تو کہیں بھی مسئلہ کوئی نہیں یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد چھو کے ان کو دیکھیے تو واہمہ کوئی نہیں جو ہوا یہ درج تھا پہلے ہی اپنے بخت میں اس کا مطلب تو ہوا کہ بے وفا کوئی نہیں تیرے رستے میں کھڑے ہیں صرف تجھ کو دیکھنے مدعا پوچھو تو اپنا مدعا کوئی نہیں کن فکاں کے بھید سے مولیٰ مجھے آگاہ کر کون ہوں میں گر یہاں پر دوسرا کوئی نہیں وقت ایسا ہم سفر ہے جس کی منزل ہے الگ وہ سرائے ہے کہ جس میں ٹھہرتا کوئی نہیں گاہے گاہے ہی سہی امجدؔ مگر یہ واقعہ یوں بھی لگتا ہے کہ دنیا کا خدا کوئی نہیں
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now